یوم عاشور ہر لمحہ تیار رہنے کا عزم

اسلام اور امت مسلمہ کو فلاح اور بقا کے لیے جتنی منظم اور متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی آج ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی

ملک کے مختلف شہروں میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہو گی، بعض شہروں میں موبائل فون سروس بھی معطل رہے گی، فوٹو : فائل

KARACHI:
یوم عاشور آج مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے، قوم شہیدان کربلا کے سربراہ اور اس بطل جلیل اور نواسہ رسول، امام عالی مقام حضرت حسینؓ کی قربانیوں کو یاد کر رہی ہے جس نے معرکہ کرب و بلا میں حق و باطل کے درمیان ایک تاریخی لکیر کھینچ دی، اور جسے جابرانہ و فاسقانہ شخصی حکمرانی کے ظلم و جبر پر مبنی تناظر میں حسینیت کے علمبردار تا قیامت اپنی لازوال انسانی جدوجہد میں مشعل راہ بنائیں گے۔

تاہم یہ روشن اور چشم کشا حقیقت ہے کہ اسلام اور امت مسلمہ کو فلاح اور بقا کے لیے جتنی منظم اور متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی آج ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ تمام علمائے کرام، مشائخ عظام، مذہبی اسکالرز، اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے بے لوث طریقے سے فکری و علمی شعبوں میں خدمت انسانیت میں عملی طور پر مصروف ہیں وہ عہد جدید کی بے پناہ سائنسی ترقی اور جدید ترین ٹیکنالوجیکل پیش رفت کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ نوع انسانی کے مسائل کا حتمی حل ایجادات سے زیادہ روح انسانی کی آسودگی، تسکین قلب اور تزکیہ نفس و طہارت عقلی کے پاس ہے۔

دنیا کو باالعموم اور مادر وطن کو باالخصوص کثیر جہتی چیلنجوں بلکہ تہہ در تہہ بحرانوں کا داخلی و خارجی محاذوں پر سامنا ہے مگر غیر متزلزل قومی استقامت، سیاسی و عسکری قیادت کی جرات مندی اور دور اندیشی کے باعث دہشت گردی کے خلاف پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکی ہے اور اسی جذبہ اور عزم کے ساتھ وہ عاشورہ محرم الحرام کے دوران ملک گیر سطح پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے شفاف اور فول پروف اقدامات میں مصروف ہیں۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد ہو رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے سیکیورٹی کے ٹھوس انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، ملک کے مختلف شہروں میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہو گی، بعض شہروں میں موبائل فون سروس بھی معطل رہے گی، سندھ و پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں نو اور دس محرم کو ڈبل سواری پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، دس محرم الحرام کو صبح آٹھ سے رات بارہ بجے تک موبائل فون سروس معطل رہے گی۔

امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج، رینجرز اور ایف سی کے دستے بھی پولیس کی معاونت کے لیے موجود ہوں گے، وزارت داخلہ میں قائم مرکزی کنٹرول روم سے پورے ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مانیٹر کیا جائیگا، حساس شہروں میں جلوسوں کی فضائی نگرانی جاری ہے، راولپنڈی اسلام آباد میں بھی نو اور دس محرم کو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہو گی۔


وفاقی و صوبائی سطح پر یوم عاشور پر امن و امان کے لیے اگرچہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مستعدی، چابکدستی، سرویلنس، اور گشت و مانیٹرنگ ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے مگر دہشتگردی کے واقعات کا تسلسل الارمنگ ہے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے اسلحہ سے لیس ہیں۔

ِ ان کی خون آشامی راز نہیں۔ جمعرات کو ضلع بولان کی تحصیل بھاگ کے علاقے گوٹھ چھلگری کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 6 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق اور 15 سے زائد زخمی ہو گئے، خودکُش حملہ آور اس وقت امام بارگاہ میں داخل ہوا جب وہاں خواتین داخل ہو رہی تھیں اور اس کے بعد اس نے خود کو اڑا لیا، صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے واقعہ میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، عمران خان، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق و دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے جب کہ مجلس و حدت مسلمین کے سر براہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ بولان نصیر آباد میں امام بارگاہ میں دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ملک اور اسلام دشمن طاقتیں اس صوبے میں کبھی قیام امن نہیں چاہتیں۔ لہٰذا ہر لمحہ قیمتی ہے، ان پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

قومی سلامتی پر مامور اداروں، قربانیوں کی قابل قدر مثالیں پیش کرنے والے پاک فوج کے جوانوں، پولیس، رینجرز اور ایف سی کے سرفروشوں سمیت تمام انٹیلی جنس اداروں کا اجتماعی فرض ہے کہ وہ مربوط کوششوں سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیں، دہشت گردوں کو کوئی موقع نہیں ملنا چاہیے، ان کے راستے پہلے سے بند کیے جا چکے ہیں تاہم انتہاپسندوں، فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والی قوتوں اور ملک دشمن عناصر کی بدنیتی سے خبردار رہنا لازم ہے۔

بلاشبہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب اور ملک کے دیگر حصوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کامیاب کارروائیوں کی وجہ سے لوگوں میں تحفظ کا احساس واضح طور پر بڑھ رہا ہے تاہم حکومت انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر مزید توجہ دے جب کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے مقدمے کے فیصلے نے روشن خیال طبقے میں یہ امید پیدا کر دی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مذہبی عدم برداشت کے خلاف عملاً تیار کھڑی ہے۔
Load Next Story