پاک امریکا مشترکہ اعلامیہ
نواز شریف کا یہ دورہ کتنا کامیاب ہوا اوراس سےمستقبل میں پاکستان کوکتنےفوائد حاصل ہوں گےیہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا
امریکا نے بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ کچھ دینے کے بجائے یہی کہا ہے کہ مزید کچھ کیا جائے۔ فوٹو : رائٹرز
امریکی صدر بارک اوباما اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے درمیان جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں باہمی تعلقات کے فروغ' خطے کے استحکام اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس ملاقات میں سائنس و ٹیکنالوجی' تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق تو ہو مگر عملی طور پر کوئی ایسا معاہدہ وجود میں نہیں آیا جس سے یہ واضح ہو سکے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔
جیسا کہ چین باقاعدہ ایک معاہدے کے تحت پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اوباما نے بھارت کے دورے کے موقع پر اس سے بڑے پیمانے پر دفاعی' تجارتی اور دیگر شعبوں میں معاہدے کیے ہیں۔ ایسا کوئی بڑا معاہدہ امریکا اور پاکستان کے درمیان وجود میں نہیں آیا۔ وزیراعظم نواز شریف کا یہ دورہ کتنا کامیاب ہوا اور اس سے مستقبل میں پاکستان کو کتنے فوائد حاصل ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا' ریاستوں کے درمیان ہونے والے معاہدے مستقبل میں ان کے تعلقات کی سمت کا تعین کرتے ہیں بہر حال ہم وزیراعظم کی اس بات پر من و عن یقین کرنے پر آمادہ ہیں کہ دورے کے تمام اہداف حاصل کر لیے اور امریکا سے دو سال میں تعلقات میں بہت بہتری آئی۔
امریکی صدر بارک اوباما اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے جاری 10صفحات پر مشتمل مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں دیرپا امن کے لیے مشترکہ کوششوں کا اعادہ کیا اور افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق صدر اوباما اور نواز شریف نے افغان طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ اب افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کریں۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات خطے میں امن' استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق بارک اوباما نے پاکستان کے ساتھ سائنس' ٹیکنالوجی' سستی توانائی' موسمیاتی تغیر' اقتصادی ترقی' علاقائی تعاون اور ثقافت میں اضافے کا اعادہ کیا۔
صدر اوباما نے امن' سیکیورٹی اور خطے کی ترقی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دیر پا شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا دورہ امریکا پاک بھارت تعلقات اور افغان صورت حال کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں شامل نکات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھی سارے جنوبی ایشیا کے انھی تین ممالک کے گرد گھومتے ہیں۔اس اعلامیے میں جو باتیں شامل ہیں، اگر سچ بیانی سے کام لیا جائے تو انھیں صرف بات برائے بات سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے عملی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بڑا تجارتی، سائنسی یا دفاعی معاہدہ سامنے نہیں آیا جہاں تک افغان طالبان سے بارک اوباما کی اس اپیل کا تعلق ہے کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات کریں،اس میں بھی بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں۔
امریکا افغان طالبان سے پہلے بھی یہی کہتا چلا آیا ہے کہ وہ افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کریںحالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں قیام امن کی راہ نکالنا انتہائی مشکل کام ہے۔پاکستان نے پچھلے دنوں کوشش کی تھی کہ افغان طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے لیکن یہ معاملات آگے کیوں نہ بڑھ سکے امریکیوں کو ان پہلوؤں پر ضرور غورکرنا چاہیے۔بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کے بھارت سے تعلقات میں جہاں کشیدگی آئی ہے وہاں افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت آنے کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان مثالی تعلقات قائم نہیں ہو سکے اور ابھی تک پاکستان کو مشرقی اور شمال مغربی سرحدوں پر تناؤ کا سامنا ہے۔
خطے میں دیرپا امن اور استحکام اسی وقت ہو گا جب پاکستان کے یہ دو ہمسایہ ممالک کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے حقیقی معنوں میں دوستانہ تعلقات کو فروغ دیں گے۔ افغانستان میں پس پردہ امریکا ہی کا راج ہے اس نے اس خطے سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کیے نہ ہی سرحدوں پر کوئی ایسا میکنزم بنایا جس سے دہشت گردوں کی آمد مستقل طور پر رک سکے، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دورہ امریکا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے اس کا پتہ آنے والے دنوں میں چل جائے گا ۔ امریکا نے بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ کچھ دینے کے بجائے یہی کہا ہے کہ مزید کچھ کیا جائے ۔
جیسا کہ چین باقاعدہ ایک معاہدے کے تحت پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اوباما نے بھارت کے دورے کے موقع پر اس سے بڑے پیمانے پر دفاعی' تجارتی اور دیگر شعبوں میں معاہدے کیے ہیں۔ ایسا کوئی بڑا معاہدہ امریکا اور پاکستان کے درمیان وجود میں نہیں آیا۔ وزیراعظم نواز شریف کا یہ دورہ کتنا کامیاب ہوا اور اس سے مستقبل میں پاکستان کو کتنے فوائد حاصل ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا' ریاستوں کے درمیان ہونے والے معاہدے مستقبل میں ان کے تعلقات کی سمت کا تعین کرتے ہیں بہر حال ہم وزیراعظم کی اس بات پر من و عن یقین کرنے پر آمادہ ہیں کہ دورے کے تمام اہداف حاصل کر لیے اور امریکا سے دو سال میں تعلقات میں بہت بہتری آئی۔
امریکی صدر بارک اوباما اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے جاری 10صفحات پر مشتمل مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں دیرپا امن کے لیے مشترکہ کوششوں کا اعادہ کیا اور افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق صدر اوباما اور نواز شریف نے افغان طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ اب افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کریں۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات خطے میں امن' استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق بارک اوباما نے پاکستان کے ساتھ سائنس' ٹیکنالوجی' سستی توانائی' موسمیاتی تغیر' اقتصادی ترقی' علاقائی تعاون اور ثقافت میں اضافے کا اعادہ کیا۔
صدر اوباما نے امن' سیکیورٹی اور خطے کی ترقی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دیر پا شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا دورہ امریکا پاک بھارت تعلقات اور افغان صورت حال کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں شامل نکات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھی سارے جنوبی ایشیا کے انھی تین ممالک کے گرد گھومتے ہیں۔اس اعلامیے میں جو باتیں شامل ہیں، اگر سچ بیانی سے کام لیا جائے تو انھیں صرف بات برائے بات سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے عملی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بڑا تجارتی، سائنسی یا دفاعی معاہدہ سامنے نہیں آیا جہاں تک افغان طالبان سے بارک اوباما کی اس اپیل کا تعلق ہے کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات کریں،اس میں بھی بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں۔
امریکا افغان طالبان سے پہلے بھی یہی کہتا چلا آیا ہے کہ وہ افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کریںحالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں قیام امن کی راہ نکالنا انتہائی مشکل کام ہے۔پاکستان نے پچھلے دنوں کوشش کی تھی کہ افغان طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے لیکن یہ معاملات آگے کیوں نہ بڑھ سکے امریکیوں کو ان پہلوؤں پر ضرور غورکرنا چاہیے۔بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کے بھارت سے تعلقات میں جہاں کشیدگی آئی ہے وہاں افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت آنے کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان مثالی تعلقات قائم نہیں ہو سکے اور ابھی تک پاکستان کو مشرقی اور شمال مغربی سرحدوں پر تناؤ کا سامنا ہے۔
خطے میں دیرپا امن اور استحکام اسی وقت ہو گا جب پاکستان کے یہ دو ہمسایہ ممالک کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے حقیقی معنوں میں دوستانہ تعلقات کو فروغ دیں گے۔ افغانستان میں پس پردہ امریکا ہی کا راج ہے اس نے اس خطے سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کیے نہ ہی سرحدوں پر کوئی ایسا میکنزم بنایا جس سے دہشت گردوں کی آمد مستقل طور پر رک سکے، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دورہ امریکا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے اس کا پتہ آنے والے دنوں میں چل جائے گا ۔ امریکا نے بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ کچھ دینے کے بجائے یہی کہا ہے کہ مزید کچھ کیا جائے ۔