سینئرڈائریکٹرایچ آرایم کودفتری اوقات میں دفتربلانے کیلیے کمشنرکا خط
آپ ساڑھے چار بجے دفتر آتے ہیں، دفتری اوقات میں دفتر آیا کریں، مندرجات۔
آپ ساڑھے چار بجے دفتر آتے ہیں، دفتری اوقات میں دفتر آیا کریں، مندرجات۔ فوٹو: عائشہ میر
بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود سینئر ڈائریکٹر ایچ آرایم کو دفتری اوقات میں دفتر آنے کا پابند بنانے میں ناکام ہوگئے۔
اس بات کا برملا انکشاف انھوں نے اپنی طرف سے تحریر کردہ خط میں کیا ہے، بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر متانت علی خان کی طرف سے سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم احسن مرزا کے نام لکھے جانے والے ایک خط میں کہا ہے کہ آپ کو متعدد بار زبانی طور پر اس بات کی تنبیہ کی گئی کہ آپ دفتری اوقات میں دفتر آیا کریں تاہم آپ اس بات کو کسی خاطر میں نہیں لائے آپ ساڑھے چار اور ساڑھے پانچ بجے روزانہ دفتر آتے ہیں اور رات ساڑھے نو بجے کے بعد اپنی فائلیں میرے پاس لے کر آتے ہیں جس سے میرا کام متاثر ہوتا ہے آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ سرکاری اوقات میں دفتر آکر اپنے فرائض انجام دیا کریں۔
بلدیہ عظمیٰ کے افسران کا کہنا ہے کہ میونسپل کمشنر نے یہ خط لکھ کر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک کمزور آفیسر ہیں اور نہ تو محکمے پر ان کی گرفت ہے اور نہ ہی محکمے کے افسران ان کی بات سنتے ہیں جس محکمے کے افسران ساڑھے چار بجے کے بعد اپنے دفتر آتے ہوں اس محکمے کی حالت کیا ہوگی اور اس محکمے میں شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے کیا کیا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
واضح رہے کہ اس وقت بلدیہ عظمیٰ بدترین انتظامی بحران کا شکار ہے ،بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمدحسین سید سمیت افسران کی اکثریتاپنے دفتر نہیں آتی ہے اور جو آفسران آتے بھی ہیں تو وہ اپنی مرضی سے آتے ہیں اور اپنی مرضی سے چلے جاتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا کہ کراچی میں کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہی نہیں ہے جو بلدیہ عظمیٰ کے معاملات کو دیکھتی ہو بلدیہ عظمیٰ کو ایک لاوارث ادارے کے طور پر چھوڑ دیا گیا اور بلدیہ عظمیٰ کام کرنے والے افسران اپنی مرضی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔
اس بات کا برملا انکشاف انھوں نے اپنی طرف سے تحریر کردہ خط میں کیا ہے، بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر متانت علی خان کی طرف سے سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم احسن مرزا کے نام لکھے جانے والے ایک خط میں کہا ہے کہ آپ کو متعدد بار زبانی طور پر اس بات کی تنبیہ کی گئی کہ آپ دفتری اوقات میں دفتر آیا کریں تاہم آپ اس بات کو کسی خاطر میں نہیں لائے آپ ساڑھے چار اور ساڑھے پانچ بجے روزانہ دفتر آتے ہیں اور رات ساڑھے نو بجے کے بعد اپنی فائلیں میرے پاس لے کر آتے ہیں جس سے میرا کام متاثر ہوتا ہے آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ سرکاری اوقات میں دفتر آکر اپنے فرائض انجام دیا کریں۔
بلدیہ عظمیٰ کے افسران کا کہنا ہے کہ میونسپل کمشنر نے یہ خط لکھ کر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک کمزور آفیسر ہیں اور نہ تو محکمے پر ان کی گرفت ہے اور نہ ہی محکمے کے افسران ان کی بات سنتے ہیں جس محکمے کے افسران ساڑھے چار بجے کے بعد اپنے دفتر آتے ہوں اس محکمے کی حالت کیا ہوگی اور اس محکمے میں شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے کیا کیا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
واضح رہے کہ اس وقت بلدیہ عظمیٰ بدترین انتظامی بحران کا شکار ہے ،بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمدحسین سید سمیت افسران کی اکثریتاپنے دفتر نہیں آتی ہے اور جو آفسران آتے بھی ہیں تو وہ اپنی مرضی سے آتے ہیں اور اپنی مرضی سے چلے جاتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا کہ کراچی میں کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہی نہیں ہے جو بلدیہ عظمیٰ کے معاملات کو دیکھتی ہو بلدیہ عظمیٰ کو ایک لاوارث ادارے کے طور پر چھوڑ دیا گیا اور بلدیہ عظمیٰ کام کرنے والے افسران اپنی مرضی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔