ایف آئی اے پر عدم اعتماد کی خبریں چھپ رہی ہیں نیب پر کسی کو اعتبار نہیں چیف جسٹس

کیا نیب نے یہاں نظام درست کرلیا جو انھیں دبئی کا نظام درست کرنے بھجوائیں، سپریم کورٹ کے ریمارکس

دبئی میں ڈیڑھ ارب کی جائیداد بتائے بغیرفروخت کی گئی، تحقیقات کرائیں، وکیل حارث اسٹیل ملز، اس سے بڑھ کر معصومیت کیا ہوگی، جسٹس جواد، عدالت نے منجمداثاثے بیچنے کاحکم دیدیا . فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے پنجاب بینک قرضہ کیس میں رقم کی وصولی کیلیے حارث اسٹیل ملزکے مالک کے منجمد اثاثے بیچنے کاحکم دیا ہے اور نیب کو ہدایت کی ہے کہ مل مالک شیخ افضل کے ساتھ تمام ممکنہ گاہکوں کی ملاقات کرائی جائے۔

تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرسکیں۔چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری اورجسٹس جوادایس خواجہ پرمشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔حارث اسٹیل ملزکے وکیل نے بتایا کہ دبئی میں ان کی ڈیڑھ ارب کی جائیداد ان کی لاعلمی میں فروخت کی جا چکی ہے اس پر عدالت نے حیرت کا اظہارکیا۔ جسٹس جواد نے کہا اس سے بڑھ کر معصومیت اورکیاہو سکتی ہے کہ ڈیڑھ ارب کی پراپرٹی بک جائے اور مالک کو علم نہ ہو۔ فاضل وکیل نے نیب کے کردار پر تحفظات کا اظہارکیا جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیے یہ سب ریاست کے ادارے ہیں اگران اداروں پر اعتماد نہ رہے تو عوام جائیں تو کہاں جائیں؟۔


چیف جسٹس نے کہا آج کے اخبارات ایف آئی اے پر اعتراضات سے بھرے ہوئے ہیں۔ این این آئی اورآن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ نیب سمیت تحقیقاتی اداروں پرکسی کو اعتماد نہیں،آج ایف آئی اے پرعدم اعتمادکی خبریںچھپی ہیں۔ نیب پر عدم اعتمادکے حوالے سے روزانہ اخباروں میں خبریں چھپتی ہیں۔عدالت نے نیب کو ملزمان شیخ افضل اور ہمیش خان کے مقدموںکے ٹرائل کے حوالے سے3دن میں تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے نیب کے وکیل فوزی ظفر سے استفسارکیا کہ شیخ افضل اور ہمیش خان کو جیل میںکیوں رکھا ہوا ہے؟اس پر بتایا گیا کہ ملزمان کی ضمانتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

شیخ افضل کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہماری جائیداد آدھی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کی جائیداد اس کی مرضی کیخلاف نہیں بیچی جاسکتی، آپ کے پاس زیادہ رقم کا خریدارہے تو آئندہ پیشی پر فہرست بھیجیں، معاملات افہام و تفہیم سے حل نہ ہوئے تو عدالتی حکم جاری کیا جائے گا۔وکیل نے کہاکہ دبئی میں انکی ڈیڑھ ارب کی جائیداد فروخت کرادی گئی ہے، عدالت اس کی نیب سے تحقیقات کرائے کہ یہ کیسے ہوا؟ چیف جسٹس نے کہاکہ کسی کی مرضی کے بغیر اس کا قلم نہیں بیچا جاسکتا، ڈیڑھ ارب کی جائیداد کیسے بک گئی،نیب والے تو یہاں تفتیش نہیںکرتے، باہر جاکرکیسے کریںگے؟

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ یہ ریاستی ادارے ہیں جن پرکسی کو اعتماد نہیں،کیا نیب نے یہاں نظام درست کرلیا جو انھیں دبئی کا نظام درست کرنے بھجوائیں ۔ملزمان کے وکیل نے بتایا کہ وہ نیب اور دیگر اداروںکے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاہم یہ ادارے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے ۔چیف جسٹس نے اس کیس میںملزمان کے اثاثوں کی تفصیلات3دن میں طے کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شیخ افضل اور ہمیش خان کو غیر معینہ عرصہ تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا،چیف جسٹس نے کہا نیب میں موجود مسائل کا علم ہے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں ان سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔عدالت نے مقدمہ کی سماعت25اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے پراسیکیوٹر سے پراگرس رپورٹ طلب کرلی۔شیخ افضل کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نصف سے زیادہ رقم ادا کرچکے ہیں نیب باقی رقم کا شیڈول دے۔

Recommended Stories

Load Next Story