کشمیر اور فلسطین
بھارتی فوجوں نے جہاں کشمیری مسلمانوں کے لیے کشمیر میں عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
بھارتی حکمران طبقے خصوصاً موجودہ حکمران طبقے کی احمقانہ اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ کشمیر میں حالات تیزی سے بدلتے نظر آ رہے ہیں، پچھلے ہفتے کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھ برادری بھی مظاہروں میں شامل ہو گئی اور کشمیر بنے گا پاکستان، پنجاب بنے گا خالصتان کے نعرے لگتے رہے۔ بھارتی فوجوں نے جہاں کشمیری مسلمانوں کے لیے کشمیر میں عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے وہیں مشرقی پنجاب میں سکھوں کے خلاف بھی مظالم میں اضافہ کر دیا ہے۔ تقسیم ہند کے دوران تحریک پاکستان کی قیادت نے بہت کوشش کی کہ پنجاب تقسیم نہ ہو اور متحدہ پنجاب میں سکھوں کو خصوصی مراعات دی جائیں لیکن اس وقت کی سکھ قیادت نے یہ پیشکش قبول نہ کی۔ ماسٹر تارا سنگھ سمجھ نہ سکے کہ اس پیشکش میں سکھوں کا زیادہ فائدہ ہے اگر ایسا ہو جاتا تو شاید اس خطے میں فرقہ وارانہ قوتیں کمزور پڑ جاتیں اور مذہبی یکجہتی میں استحکام آ جاتا۔ ہندو مذہب دنیا کا ایک منفرد مذہب ہے اس میں دوسری قوموں اور مذاہب کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت بہت کم ہے۔
تقسیم کے بعد سکھ برادری کے ہندو کمیونٹی کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہو سکے اس حوالے سے گولڈن ٹیمپل کے واقعے نے دونوں کمیونٹیز کے درمیان بے اعتمادی کی جو فضا ہموار ہوئی ،آج وہ بڑھتی ہوئی اس مقام پر آ گئی کہ کشمیری مسلمان اور سکھ برادری مشترکہ مظاہرے کر رہے ہیں اگرچہ پہلے بھی خالصتان کے نعرے لگتے رہے لیکن اب کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مل کر کشمیر بنے گا پاکستان، پنجاب بنے گا خالصتان کے نعرے لگانا ایک ایسا بامعنی مظاہرہ بن گیا ہے جس کے مضمرات کا غالباً نریندر مودی حکومت کو احساس نہیں ہے۔ مودی حکومت اپنے مزاج اپنی سیاست اپنی پالیسیوں میں مذہبی انتہا پسندی کے جو مظاہرے کر رہی ہے، اس سے بھارت کو متحد رکھنے والا عنصر سیکولرازم کمزور ہو رہا ہے۔
کشمیریوں کی تحریک اگرچہ 67 سالوں سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے لیکن اس تحریک میں اب جو بے باکی آرہی ہے اور جلسوں جلوسوں میں پاکستان زندہ باد کے علاوہ پاکستان کے پرچم لہرانے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے کیا بھارت کی 7 لاکھ فوج اسے روک پائے گی؟ اس سونے پر سہاگہ یہ ہو رہا ہے کہ سکھ برادری ان مظاہروں میں شریک ہو رہی ہے۔ پاکستان روز اول سے کشمیریوں کے اس مطالبے کی حمایت کر رہا ہے کہ کشمیر کا خطرناک مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے لیکن بھارت کا حکمران طبقہ بہ ضد ہے کہ کشمیر سے اپنا قبضہ نہیں چھوڑے گا۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے پاکستان کے روایتی موقف سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بعض انتہائی معقول تجاویز پیش کیں اور اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے یہ تجاویز قبول بھی کر لی تھیں اور خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اس حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے کہ بھارت کی متعصب بیوروکریسی نے اس ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کر دیا۔
پاکستان کی موجودہ حکومت بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے معقول پالیسی اپنا رہی ہے اور جنرل مشرف کی طرح فراخدلانہ پیشکش بھی کر رہی ہے لیکن مودی حکومت کی ''میں نہ مانوں'' کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا ہے۔ بھارتی دانشور اس حقیقت کو کھلے عام تسلیم کرتے ہیں کہ صرف سیکولرزم ہی بھارت کو متحد رکھ سکتا ہے لیکن مودی حکومت جس مذہبی انتہا پسندانہ پالیسیوں پر چل رہی ہے، اس کا منطقی نتیجہ بھارت میں سیکولرزم کی ناکامی اور مذہبی انتہا پسندی کی کامیابی کی شکل ہی میں نکل سکتا ہے اور غالباً بھارت اسی راستے پر جا رہا ہے۔ مسئلہ صرف بھارت کے متحد رہنے کے لیے سیکولرزم کے مضبوط ہونے کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو متحد رکھنے کے لیے سیکولرزم کی لازمی ضرورت کا ہے۔ بھارت کے اہل قلم اہل دانش مسلسل یاد دلا رہے ہیں کہ اگر بھارت میں سیکولر ازم کمزور یا ناکام ہو گیا تو بھارت کا متحد رہنا مشکل ہو جائے گا لیکن مودی حکومت کی پالیسیاں سیکولر ازم کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔
کشمیر میں آزادی کی تحریکوں میں شدت کے ساتھ ساتھ فلسطین کی تحریک آزادی میں بھی شدت آتی جا رہی ہے، اب فلسطینی عوام بے باکی کے ساتھ اسرائیلیوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی پولیس اور فوج پر بھی حملے کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں میڈیا میں ایک اسرائیلی پولیس وین کو نذرآتش کر دیا گیا جس کی تصاویر اخباروں میں شایع ہوئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطینی تحریک آزادی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اسے ہم اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ دنیا کے دونوں آتش فشاں مسئلوں کشمیر اور فلسطین کا تعلق مسلم کمیونٹیز سے ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ مسلم ملکوں میں مذہبی انتہا پسندی اب بے لگام دہشت گردی کا روپ دھارتی جا رہی ہے۔ مغربی ممالک مذہبی انتہا پسندی کے تو سخت مخالف ہی نہیں خوفزدہ بھی ہیں لیکن اس مذہبی انتہا پسندی کی فصل میں کھاد کا کام کرنے والے دونوں مسئلوں کشمیر اور فلسطین کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ہو سکتا ہے اسلحے کی صنعتوں کی مافیا ان دو سلگتے ہوئے مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہو لیکن ان دونوں مسائل کی وجہ سے دنیا خصوصاً مسلم دنیا مذہبی انتہا پسندی کے دلدل میں جس طرح دھنستی جا رہی ہے ۔کیا مغرب کے حکمراں اور اہل دانش کو اس کے مضمرات کا اندازہ نہیں؟ بے شک ان دو مسائل کی وجہ سے مغرب کی ہتھیاروں کی صنعت کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن ان دو مسائل کے حل نہ ہونے سے دنیا کے مستقبل اور ترقی یافتہ تہذیب کو جو خطرات لاحق ہو گئے ہیں غالباً مغربی حکومتیں اور مغربی دانشور اس کا اندازہ نہیں کر پا رہے ہیں ۔کشمیر میں کشمیر بنے گا پاکستان اور پنجاب بنے گا خالصتان کے بلند ہوتے ہوئے نعروں کے مضمرات پر مودی حکومت سنجیدگی سے غور نہ کر سکی تو بھارت آہستہ آہستہ ٹکڑوں میں بٹتا چلا جائے گا اور سیکولرازم جو اب تک بھارت کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے بھارت میں ناکام ہو جائے گا۔ کاش مودی حکومت اس کے مضمرات کا اندازہ کر کے مذہبی انتہا پسندی کی راہ ترک کر سکتی۔
تقسیم کے بعد سکھ برادری کے ہندو کمیونٹی کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہو سکے اس حوالے سے گولڈن ٹیمپل کے واقعے نے دونوں کمیونٹیز کے درمیان بے اعتمادی کی جو فضا ہموار ہوئی ،آج وہ بڑھتی ہوئی اس مقام پر آ گئی کہ کشمیری مسلمان اور سکھ برادری مشترکہ مظاہرے کر رہے ہیں اگرچہ پہلے بھی خالصتان کے نعرے لگتے رہے لیکن اب کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مل کر کشمیر بنے گا پاکستان، پنجاب بنے گا خالصتان کے نعرے لگانا ایک ایسا بامعنی مظاہرہ بن گیا ہے جس کے مضمرات کا غالباً نریندر مودی حکومت کو احساس نہیں ہے۔ مودی حکومت اپنے مزاج اپنی سیاست اپنی پالیسیوں میں مذہبی انتہا پسندی کے جو مظاہرے کر رہی ہے، اس سے بھارت کو متحد رکھنے والا عنصر سیکولرازم کمزور ہو رہا ہے۔
کشمیریوں کی تحریک اگرچہ 67 سالوں سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے لیکن اس تحریک میں اب جو بے باکی آرہی ہے اور جلسوں جلوسوں میں پاکستان زندہ باد کے علاوہ پاکستان کے پرچم لہرانے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے کیا بھارت کی 7 لاکھ فوج اسے روک پائے گی؟ اس سونے پر سہاگہ یہ ہو رہا ہے کہ سکھ برادری ان مظاہروں میں شریک ہو رہی ہے۔ پاکستان روز اول سے کشمیریوں کے اس مطالبے کی حمایت کر رہا ہے کہ کشمیر کا خطرناک مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے لیکن بھارت کا حکمران طبقہ بہ ضد ہے کہ کشمیر سے اپنا قبضہ نہیں چھوڑے گا۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے پاکستان کے روایتی موقف سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بعض انتہائی معقول تجاویز پیش کیں اور اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے یہ تجاویز قبول بھی کر لی تھیں اور خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اس حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے کہ بھارت کی متعصب بیوروکریسی نے اس ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کر دیا۔
پاکستان کی موجودہ حکومت بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے معقول پالیسی اپنا رہی ہے اور جنرل مشرف کی طرح فراخدلانہ پیشکش بھی کر رہی ہے لیکن مودی حکومت کی ''میں نہ مانوں'' کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا ہے۔ بھارتی دانشور اس حقیقت کو کھلے عام تسلیم کرتے ہیں کہ صرف سیکولرزم ہی بھارت کو متحد رکھ سکتا ہے لیکن مودی حکومت جس مذہبی انتہا پسندانہ پالیسیوں پر چل رہی ہے، اس کا منطقی نتیجہ بھارت میں سیکولرزم کی ناکامی اور مذہبی انتہا پسندی کی کامیابی کی شکل ہی میں نکل سکتا ہے اور غالباً بھارت اسی راستے پر جا رہا ہے۔ مسئلہ صرف بھارت کے متحد رہنے کے لیے سیکولرزم کے مضبوط ہونے کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو متحد رکھنے کے لیے سیکولرزم کی لازمی ضرورت کا ہے۔ بھارت کے اہل قلم اہل دانش مسلسل یاد دلا رہے ہیں کہ اگر بھارت میں سیکولر ازم کمزور یا ناکام ہو گیا تو بھارت کا متحد رہنا مشکل ہو جائے گا لیکن مودی حکومت کی پالیسیاں سیکولر ازم کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔
کشمیر میں آزادی کی تحریکوں میں شدت کے ساتھ ساتھ فلسطین کی تحریک آزادی میں بھی شدت آتی جا رہی ہے، اب فلسطینی عوام بے باکی کے ساتھ اسرائیلیوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی پولیس اور فوج پر بھی حملے کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں میڈیا میں ایک اسرائیلی پولیس وین کو نذرآتش کر دیا گیا جس کی تصاویر اخباروں میں شایع ہوئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطینی تحریک آزادی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اسے ہم اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ دنیا کے دونوں آتش فشاں مسئلوں کشمیر اور فلسطین کا تعلق مسلم کمیونٹیز سے ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ مسلم ملکوں میں مذہبی انتہا پسندی اب بے لگام دہشت گردی کا روپ دھارتی جا رہی ہے۔ مغربی ممالک مذہبی انتہا پسندی کے تو سخت مخالف ہی نہیں خوفزدہ بھی ہیں لیکن اس مذہبی انتہا پسندی کی فصل میں کھاد کا کام کرنے والے دونوں مسئلوں کشمیر اور فلسطین کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ہو سکتا ہے اسلحے کی صنعتوں کی مافیا ان دو سلگتے ہوئے مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہو لیکن ان دونوں مسائل کی وجہ سے دنیا خصوصاً مسلم دنیا مذہبی انتہا پسندی کے دلدل میں جس طرح دھنستی جا رہی ہے ۔کیا مغرب کے حکمراں اور اہل دانش کو اس کے مضمرات کا اندازہ نہیں؟ بے شک ان دو مسائل کی وجہ سے مغرب کی ہتھیاروں کی صنعت کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن ان دو مسائل کے حل نہ ہونے سے دنیا کے مستقبل اور ترقی یافتہ تہذیب کو جو خطرات لاحق ہو گئے ہیں غالباً مغربی حکومتیں اور مغربی دانشور اس کا اندازہ نہیں کر پا رہے ہیں ۔کشمیر میں کشمیر بنے گا پاکستان اور پنجاب بنے گا خالصتان کے بلند ہوتے ہوئے نعروں کے مضمرات پر مودی حکومت سنجیدگی سے غور نہ کر سکی تو بھارت آہستہ آہستہ ٹکڑوں میں بٹتا چلا جائے گا اور سیکولرازم جو اب تک بھارت کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے بھارت میں ناکام ہو جائے گا۔ کاش مودی حکومت اس کے مضمرات کا اندازہ کر کے مذہبی انتہا پسندی کی راہ ترک کر سکتی۔