بیگمات ڈپلومیسی شہریار نے نجم سیٹھی کا دعویٰ مسترد کردیا
بی سی سی آئی صدر کی اہلیہ نے پرانی واقفیت کی بنا پر صرف شاپنگ کی دعوت دی، بورڈ چیف
بی سی سی آئی صدر کی اہلیہ نے پرانی واقفیت کی بنا پر صرف شاپنگ کی دعوت دی، بورڈ چیف۔ فوٹو: فائل
شہریار خان نے بیگمات ڈپلومیسی پر نجم سیٹھی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بی سی سی آئی شیشانک منوہر کی اہلیہ نے میری بیوی کو پرانی واقفیت کی بنا پرصرف شاپنگ کی دعوت دی، دونوں نے کرکٹ معاملات میں پیغام رسانی کیلیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور ایگزیکٹیوکمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی اکھٹے بی سی سی آئی سے جواب لینے گئے تھے کہ ہمارے ساتھ یو اے ای میں سیریز کھیلو گے یا نہیں، بھارت میں تو انتہائی حوصلہ شکن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، شیوسینا کی ہنگامہ آرائی کے بعد واپس آنے پران کے بیانات ہی آپس میں نہیں مل رہے۔ وطن واپسی کے فوری بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہر یار نے کہا تھا کہ انھیں بات چیت کی منسوخی کے بارے میں بتایا گیا تواس کے بعد بی سی سی آئی کے صدر شیشانک منوہر نے ان سے رابطہ کرنا ضروری نہیں سمجھا اور اس واقعے پر معذرت تک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اس کی تردید نجم سیٹھی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کرتے ہوئے کہہ دیاکہ رابطہ توتھا، بھارتی بورڈ کے صدر اپنی بیگم کے ذریعے ہر بات شہریار خان کی اہلیہ کوبتارہے تھے اوروہ ہر بات اپنے شوہرکوبتارہی تھیں، شہریارخان نے اصل بات چھپائی ہے۔
دبئی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے نجم سیٹھی کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا کہ ان کی اہلیہ کسی بیک چینل ڈپلومیسی، کرکٹ تعلقات کی بحالی یا پیغام رسانی کے عمل میں شامل نہیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی بیگم کوشیشانک منوہر کی بیوی نے پرانی واقفیت اورمہمان نوازی کے طورپر صرف ممبئی میں شاپنگ کی دعوت دی تھی جس کوقبول کرتے ہوئے واقعے سے پہلے ہی بیگم جوتے خریدنے گئی تھیں، دونوں کے درمیان گفتگو ذاتی نوعیت کی تھی، اس کو بیک چینل نہیں کہا جاسکتا جس کے ذریعے کرکٹ کی بات کی جاتی۔ شہریارخان نے میڈیا کے سامنے اپنی قبل ازیں لاہور میں کی گئی بات کو دہرایاکہ بی سی سی آئی نے جب بات چیت کی منسوخی کے بارے میں بتایا تو اس کے بعد سے شیشانک منوہر نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور ایگزیکٹیوکمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی اکھٹے بی سی سی آئی سے جواب لینے گئے تھے کہ ہمارے ساتھ یو اے ای میں سیریز کھیلو گے یا نہیں، بھارت میں تو انتہائی حوصلہ شکن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، شیوسینا کی ہنگامہ آرائی کے بعد واپس آنے پران کے بیانات ہی آپس میں نہیں مل رہے۔ وطن واپسی کے فوری بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہر یار نے کہا تھا کہ انھیں بات چیت کی منسوخی کے بارے میں بتایا گیا تواس کے بعد بی سی سی آئی کے صدر شیشانک منوہر نے ان سے رابطہ کرنا ضروری نہیں سمجھا اور اس واقعے پر معذرت تک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اس کی تردید نجم سیٹھی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کرتے ہوئے کہہ دیاکہ رابطہ توتھا، بھارتی بورڈ کے صدر اپنی بیگم کے ذریعے ہر بات شہریار خان کی اہلیہ کوبتارہے تھے اوروہ ہر بات اپنے شوہرکوبتارہی تھیں، شہریارخان نے اصل بات چھپائی ہے۔
دبئی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے نجم سیٹھی کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا کہ ان کی اہلیہ کسی بیک چینل ڈپلومیسی، کرکٹ تعلقات کی بحالی یا پیغام رسانی کے عمل میں شامل نہیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی بیگم کوشیشانک منوہر کی بیوی نے پرانی واقفیت اورمہمان نوازی کے طورپر صرف ممبئی میں شاپنگ کی دعوت دی تھی جس کوقبول کرتے ہوئے واقعے سے پہلے ہی بیگم جوتے خریدنے گئی تھیں، دونوں کے درمیان گفتگو ذاتی نوعیت کی تھی، اس کو بیک چینل نہیں کہا جاسکتا جس کے ذریعے کرکٹ کی بات کی جاتی۔ شہریارخان نے میڈیا کے سامنے اپنی قبل ازیں لاہور میں کی گئی بات کو دہرایاکہ بی سی سی آئی نے جب بات چیت کی منسوخی کے بارے میں بتایا تو اس کے بعد سے شیشانک منوہر نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔