زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی

محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ مزید تین روز تک جاری رہنے کا امکان ہے

دنیا بھر میں شدید زلزلے آتے رہتے ہیں بالخصوص جاپان میں زلزلوں کی شدت اور تعداد دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے، فوٹو : فائل

ATTOCK:
پیر کو دوپہر 2.09 منٹ پر ملک بھر میں زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 8.1 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی گہرائی 193 کلو میٹر تھی جس کا مرکز کوہ ہندوکش کا علاقہ تھا۔ زلزلے سے خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے علاقے شدید متاثر ہوئے بالخصوص خیبرپختونخوا میں سوات، صوابی، مانسہرہ، جمرود،باجوڑ ایجنسی،لوئر دیر اور دیگر قبائلی علاقے شدید متاثر ہوئے، پشاور کا تاریخی قلعہ بالا حصار بھی متاثر ہوا جس کی ایک دیوار گر گئی۔

زلزلے سے صوبہ خیبرپختونخوا، چترال' میرپور آزاد کشمیر، راولپنڈی، ملتان، سرگودھا، وادی ہنزہ سمیت ملک بھر میں درجنوں عمارات گرنے سے بیسیوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔ خیبرپختونخوا میں شدید جانی و مالی نقصان کے باعث ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ زلزلے کے بعد فوج کے ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں کے لیے حرکت میں آ گئے اور امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔

زلزلے سے پورے ملک کے لوگ خوف و ہراس کا شکار ہو گئے، محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ مزید تین روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، اسلام آباد میں زلزلے کے آفٹر شاکس محسوس کیے گئے جن کی شدت 4.3 تھی۔ اکتوبر کا مہینہ پاکستان میں شدید زلزلوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے، یہ زلزلہ 26 اکتوبر 2015ء کو آیا جس کی شدت 8.1 ریکارڈ کی گئی جب کہ 8 اکتوبر 2005ء میں آنے والے زلزلے کی شدت 7.6 تھی جس نے بڑے پیمانے پر بالخصوص آزاد کشمیر میں تباہی مچائی تھی اور ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو گئے تھے۔

زلزلے، سیلاب ، طوفان اور دیگر قدرتی آفات پر انسان کا کوئی اختیار نہیں وہ ان کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ تاریخ انسانی کے اوراق اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ سیکڑوں قومیں ان قدرتی آفات کے ہاتھوں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان قدرتی آفات کو تو نہیں روک سکتا مگر موجودہ حالات میں ہونے والی ترقی اور انسانی افعال بھی زلزلوں اور سیلابوں کی شدت کا باعث بن رہے ہیں۔


عمارتوں، سڑکوں اور دیگر تعمیرات کے لیے دھڑا دھڑ پہاڑوں کو توڑا جا رہا ہے، درخت جو نہ صرف ماحول کی آلودگی کے خلاف بڑی مزاحمت ہیں بلکہ سیلابوں کی شدت کو بھی وہ کم کرتے ہیں مگر درختوں کی کٹائی بھی بے دریغ کی جا رہی ہے جس کے باعث نہ صرف قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ماحول میں بھی تبدیلی آنے سے انسان کی مشکلات بڑھی ہیں۔

اب کراچی میں گزشتہ برسوں کی نسبت گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت میں اضافہ ہونے سے بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتوں کے واقعات رونما ہونے لگے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے مگر ہماری حکومتوں اور انتظامی اداروں کے رویوں اور طرز عمل میں قطعاً کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ ابھی تک پرانی روش پر چل رہے ہیں۔

دنیا بھر کے ماہرین بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ پہاڑوں کی توڑ پھوڑ اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو روکا جائے اگر اس کا سلسلہ نہ روکا گیا اور یہ یونہی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب انسان اپنے ہاتھوں سے اپنی تباہی لے آئے گا۔ سب سے بڑا مرحلہ زلزلوں کے بعد ہونے والی تباہی سے نمٹنا ہے، ہمارے ہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ انفرااسٹرکچر کمزور ہونے کے باعث متاثرہ افراد کی بڑی تعداد کئی کئی سالوں تک بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں کہ 2005ء میں آزاد کشمیر میں ہونے والی تباہی کے سیکڑوں متاثرہ افراد ابھی تک حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں اور فلاحی اداروں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالیہ آنے والے زلزلہ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے پوری جانفشانی سے کام کریں تاکہ ان کی بحالی کا کام جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

دنیا بھر میں شدید زلزلے آتے رہتے ہیں بالخصوص جاپان میں زلزلوں کی شدت اور تعداد دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے لہٰذا جاپان نے زلزلہ پروف عمارتیں بنائی ہیں جس کے باعث اب وہاں زلزلے سے جانی اور مالی نقصانات نہیں ہوتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا سمیت پہاڑی علاقوں میں بھی زلزلہ پروف عمارتیں بنائی جائیں کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ زیادہ جانی نقصان عمارتیں گرنے سے ہوتا ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے پر کام کرے کیونکہ زلزلے تو آتے ہی رہتے ہیں مسئلہ ان سے ہونے والی تباہی سے بچنا ہے۔
Load Next Story