ڈومور کی امریکی تکرار

امریکا نےپاکستان سے’’ ڈو مور‘‘کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اٹھائے گئے اپنے اقدامات کو مزید بڑھائے

حقیقت میں خطے میں امن کے لیے پاکستان کو ڈو مور کا حکم دینا یا اس کی چٹکی لینا اوباما انتظامیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے،فوٹو: فائل

KARACHI:
امریکا نے پاکستان سے'' ڈو مور''کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اٹھائے گئے اپنے اقدامات کو مزید بڑھائے ۔ یہ مطالبہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا۔

ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور ماضی قریب میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات قابل تعریف ہیں ''لیکن'' ہم چاہتے ہیں اِن اقدامات کو وسعت دی جائے۔

ترجمان کے اس انداز بیان میں پوری امریکی ڈپلومیسی کا طلسم کدہ چھپا ہوا ہے جو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف تو کرتا ہے مگر اسے جب ڈو مور کی تکرار سے منسلک کرتا ہے تو درحقیقت بھارت نوازی اس کے پیر پکڑ لیتی ہے اور با بار پاکستان سے ان چیزوں کی فرمائش کی جاتی ہے جو بھارت کو خوش کرنے والی ہوں۔


دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی بحیثیت فرنٹ لائن نے کہا بھارت اور پاکستان کو مکالمے کی ضرورت ہے کیونکہ تمام خطے کی سلامتی کے لیے دوطرفہ بہتر مکالمہ اور زیادہ تعاون اہمیت کا حامل ہے، امریکا کا یہ واضح موقف ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہی بہترین حل ہے، دونوں ممالک کو اپنے ایشوز کے بارے میں بات چیت کرنی چاہیے، انھوں نے کہا کہ یہ دورہ بڑھتے ہوئے پاک امریکا تعلقات کا آئینہ دار ہے۔

بادی النظر میں امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور کے حل کے لیے بھارت پر پاکستان سے مذاکرات کے لیے دباؤبڑھائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ یقین دہانی وزیراعظم نوازشریف اور امریکی صدر بارک اوباما کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کرائی گئی ہے، اوباما انتظامیہ اس سلسلے میں پس پردہ ذرایع سے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو پیغام بھجوائے گی کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کا واحد راستہ صرف مذاکرات ہی ہے۔ تاہم مسئلہ بھارت کو بات چیت کی میز تک لانا ہے ، ثالثی درکنار ، کیا امریکا اس کار خیر سے بھی معذور ہے۔

حقیقت میں خطے میں امن کے لیے پاکستان کو ڈو مور کا حکم دینا یا اس کی چٹکی لینا اوباما انتظامیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے، امریکا احساس تشکر اور جذبہ تحسین کے ضمن میں کم از کم پاکستانیوں کی امنگوں سے تو نہ کھیلے۔
Load Next Story