زرعی معیشت زرعی اصلاحات

زرعی معیشت کے حامل ملکوں میں کسان اورہاری محنت کے مرکزی کردار ہوتے ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

زرعی معیشت کے حامل ملکوں میں کسان اورہاری محنت کے مرکزی کردار ہوتے ہیں اور زرعی معیشت کے حامل ملکوں میں کسانوں ہاریوں کی زندگی آسودہ حال ہونا چاہیے لیکن یہ کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں کسانوں اور ہاریوں کی زندگی دوسرے طبقات کے مقابلے میں بہت ابتر ہے، پاکستان میں چونکہ ابھی تک جاگیردارانہ نظام موجود ہے، لہٰذا یہاں کے کسانوں کی خستہ حالی تو منطقی ہے لیکن بھارت میں روزاول ہی سے جاگیردارانہ نظام ختم کردیا گیا، لیکن بھارت میں کسانوں کا حال انتہائی خستہ ہے، ابھی پچھلے دنوں بھارت میں کسانوں کی اجتماعی تحریک کی وجہ معیشت کا پہیہ جام ہوکر رہ گیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس بھارتی پنجاب میں کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے ایک ہفتہ بند رہی اور پاکستان سے ہندوستان جانے والے اور ہندوستان سے پاکستان آنے والے مسافروں کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت میں زرعی قرضوں کی واپسی میں ناکامی کی وجہ سیکڑوں کسان خودکشیاں کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت میں جاگیردارانہ نظام موجود نہیں ہے پھر کسانوں کی خودکشیوں کی وجہ کیا ہے؟

ہندوستان میں سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہو رہا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد سودی معیشت پر کھڑی ہوتی ہے۔ اس نظام میں بینک اور دوسرے مالیاتی ادارے ضرورت مند عوام کو بھاری سود پر قرضے فراہم کرتے ہیں لیکن سود اتنا تگڑا ہوتا ہے کہ قرض لینے والے قرض واپس کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ پاکستان میں بعض بینکوں نے عوام کو قرض فراہم کرنا شروع کیا تھا جس کا سود اتنا زیادہ تھا کہ قرض لینے والے قرض ادا کرنے سے معذور ہوگئے تھے۔

ایک اور کاروبار پاکستان میں پھیلا ہوا ہے اور وہ ہے قسطوں پر عوام کو الیکٹرانک کی اشیا اور موٹر سائیکلیں فراہم کرنا جس کا سود اتنا بھاری ہوتا ہے کہ خریدار وقت پر قسطیں ادا کرنے سے معذور رہتا ہے اور ریکوری کے لیے قرض پر دی ہوئی اشیا زور زبردستی سے واپس لے جاتے ہیں ان کا حال شیکسپیئر کے ڈرامے کے کردار شاہی لاک جیسا ہوتا ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں سے معاہدے کے مطابق ان کے جسم سے گوشت کاٹ لیتا ہے یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ جبر ہے جو ہر جگہ شاہی لاک پیدا کرتا رہتا ہے۔

پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 68 سال گزرنے کے باوجود جاگیردارانہ نظام نہ صرف موجود ہے بلکہ اس قدر مستحکم ہے کہ سیاست اور اقتدار پر اس کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ پاکستان کی سیاست کا مرکزی کردارجاگیردار بن گیا ہے۔ پاکستان میں آج کل ایک صنعتکار کی حکومت ہے اور کہا جاتا ہے کہ صنعتکار جاگیردارکا دشمن ہوتا ہے لیکن حیرت یہ ہے کہ پاکستان میں صنعتکار جاگیردار کا سب سے بڑا ساجھے دار ہے اور یہ دونوں ''ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔''


ہماری دیہی معیشت سے جو 60 فیصد آبادی جڑی ہوئی ہے وہ کسانوں اور ہاریوں پر مشتمل ہے قیام پاکستان کے بعد کسان اور ہاری وڈیروں اور جاگیرداروں کا سب سے بڑا ووٹ بینک بن گئے ہیں وڈیرے اور جاگیردار انتخابات کے موقعے پرکسانوں اور ہاریوں سے ووٹ لے کر قانون ساز اداروں میں پہنچتے ہیں لیکن کسانوں ہاریوں کی حالت زار بدلنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب میں ابھی تک جاگیردارانہ نظام موجود ہے اورکسانوں ہاریوں کا ان علاقوں میں استحصال جاری ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔

پاکستان میں پچھلے دنوں سے بورژوا سیاسی جماعتوں میں کسانوں سے ہمدردی کی ایک لہر اٹھی ہوئی ہے، ہر بڑی جماعت کسانوں سے ''اظہار محبت'' کے لیے کسان ریلیاں نکال رہی ہے ،کسان کنونشن منعقد کر رہی ہے، عوام حیران ہیں کہ بورژوا پارٹیوں کے دلوں میں اچانک محبت کا درد کیوں اٹھا ہے۔

68 سالوں سے کسانوں اور ہاریوں کے لیے ان کے دل کے دروازے کیوں بند تھے؟ اہل خرد کا خیال ہے کہ ہمارے حکمران ہمارے سیاستدان 68 سال سے عوام سے جس لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے مسائل میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام اب سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں سے مایوس ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال سے ہمارے اہل سیاست پریشان ہیں اور 2018 کے ممکنہ انتخابات میں عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ابھی سے کوششیں جاری ہیں ۔کسان پیکیج کسانوں کی ریلیاں اور کسان کنونشن ان ہی کوششوں کا حصہ ہیں۔

اگر حکومت کسانوں کی حالت بہتر بنانے یا کسانوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے یوریا کھاد کی قیمت کم کرتی ہے اور ان کے لیے اربوں روپوں کے پیکیج کا اعلان کرتی ہے تو کوئی شخص اس کی مخالفت نہیں کرسکتا کہ اس سے کسانوں کو مدد مل سکتی ہے لیکن ہماری روایت یہ رہی ہے کہ حکمران اربوں روپوں کے پیکیج کے اعلان توکرتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد برائے نام ہوتا ہے اور ان امدادی کاموں میں کرپشن اتنے بڑے پیمانے پر ہوتی ہے کہ امدادی پیکیج بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی پیکیج کسی ریلی کسی کسان کنونشن سے پاکستانی کسانوں ہاریوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ ساری دنیا میں کسانوں ہاریوں کے مسائل کے حل کے لیے جاگیردارانہ نظام ختم کردیا گیا، ہمارے ملک میں ایک بڑے صنعتکار کی حکومت ہے اگر حکومت بڑے بڑے پیکیج کے اعلانات کرنے کے بجائے زرعی اصلاحات کا اعلان کرتی ہے، تو اسے 2018 کے انتخابات میں عوام کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔
Load Next Story