ون ڈے رینکنگ بیٹنگ کے بعد پاکستانی بولنگ پربھی زوال آنے لگا
سعید اجمل بغیر کھیلے نویں نمبر پر پہنچ گئے،صرف محمد عرفان 20 بولرزمیں موجود
ٹاپ30بیٹسمینوںمیں کوئی شامل نہیں،ٹیم رینکنگ میں بدترین نویں پوزیشن برقرار فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
ون ڈے رینکنگ میں بیٹنگ کے بعد پاکستانی بولنگ پر بھی زوال آنے لگا، ٹاپ ٹین میں واحد پاکستانی بولر سعید اجمل بھی بغیر کھیلے نویں نمبر پر پہنچ گئے، حاضر سروس کھلاڑیوں میںصرف عرفان ٹاپ 20 میں موجود ہیں، ٹاپ 30 بیٹسمینوں میں کوئی ایک بھی پاکستانی شامل نہیں، ٹیم رینکنگ میں گرین شرٹس تاریخ کی بدترین نویں پوزیشن پر موجود ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ترین ون ڈے رینکنگ اس فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم کی بدحالی کی بھرپور عکاسی کررہی ہے۔ ٹاپ ٹین بولرز میں شامل واحد پلیئر سعید اجمل نویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں، ماضی میں نمایاں پوزیشنز پر قابض رہنے والے اسپنر بولنگ ایکشن میں ردوبدل کے بعد افادیت کھو کر ٹیم سے باہر ہوچکے ہیں۔
اس وقت اسکواڈ میں شامل بولر محمد عرفان 16 ویں نمبر پر ہیں،اگرچہ محمد حفیظ کا 18 واں نمبر ہے مگر ایکشن غیرقانونی ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کے بولنگ کرنے پر پابندی عائد ہے۔ اس طرح عرفان کے بعد دوسرے حاضر سروس پاکستانی بولر وہاب ریاض کا 48 واں نمبر اور باقی ان سے بھی کہیں نیچے ہیں۔ بولنگ چارٹ میں ایک ایک درجہ ترقی سے مچل اسٹارک، سنیل نارائن اور ٹرینٹ بولٹ بالترتیب پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن سنبھال چکے، 2 درجے بہتری سے شکیب الحسن چوتھے نمبر پر پہنچ گئے، پانچ درجے تنزلی نے عمران طاہر کو پانچویں پوزیشن پر بھیج دیا۔
بیٹنگ چارٹ پر بھی پاکستانی صورتحال کافی گھمبیر ہے، اس طرز میں دنیا کے 30 بہترین بیٹسمینوں میں کوئی ایک بھی پلیئر شامل نہیں، حفیظ 31 اور احمد شہزاد 32 ویں نمبر پر موجود جبکہ باقی ان سے بھی نیچے ہیں۔ ٹاپ پوزیشن ڈی ویلیئرز کے پاس ہے، ویرات کوہلی، کین ولیمسن اور دلشان ایک ایک درجہ ترقی سے بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر براجمان ہوچکے،3 درجے تنزلی نے ہاشم آملا کو پانچویں نمبر پر پہنچا دیا، فاف ڈو پلیسی 7 اور کوئنٹین ڈی کاک 13 درجے چھلانگ لگا کر دسویں پوزیشن پر مشترکہ طور پر قابض ہوچکے۔
آل راؤنڈرز میں شکیب پہلے نمبر پر ہیں۔ٹیم رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن نویں ہی ہے البتہ آٹھویں نمبر پر موجود ویسٹ انڈیز کے برابر ہی 88 پوائنٹس ہیں،اعشاریائی پوائنٹس کی وجہ سے گرین شرٹس ایک درجے نیچے ہیں۔ ٹاپ پر بدستور آسٹریلیا جبکہ جنوبی افریقہ سے شکست کے باوجود بھارت دوسرے نمبر پر برقرار رہا،البتہ تیسرے درجے پر موجود پروٹیز نے اس سے پوائنٹس کا فرق کم کرتے ہوئے صرف 2 کردیا ہے۔
ون ڈے رینکنگ میں بیٹنگ کے بعد پاکستانی بولنگ پر بھی زوال آنے لگا، ٹاپ ٹین میں واحد پاکستانی بولر سعید اجمل بھی بغیر کھیلے نویں نمبر پر پہنچ گئے، حاضر سروس کھلاڑیوں میںصرف عرفان ٹاپ 20 میں موجود ہیں، ٹاپ 30 بیٹسمینوں میں کوئی ایک بھی پاکستانی شامل نہیں، ٹیم رینکنگ میں گرین شرٹس تاریخ کی بدترین نویں پوزیشن پر موجود ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ترین ون ڈے رینکنگ اس فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم کی بدحالی کی بھرپور عکاسی کررہی ہے۔ ٹاپ ٹین بولرز میں شامل واحد پلیئر سعید اجمل نویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں، ماضی میں نمایاں پوزیشنز پر قابض رہنے والے اسپنر بولنگ ایکشن میں ردوبدل کے بعد افادیت کھو کر ٹیم سے باہر ہوچکے ہیں۔
اس وقت اسکواڈ میں شامل بولر محمد عرفان 16 ویں نمبر پر ہیں،اگرچہ محمد حفیظ کا 18 واں نمبر ہے مگر ایکشن غیرقانونی ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کے بولنگ کرنے پر پابندی عائد ہے۔ اس طرح عرفان کے بعد دوسرے حاضر سروس پاکستانی بولر وہاب ریاض کا 48 واں نمبر اور باقی ان سے بھی کہیں نیچے ہیں۔ بولنگ چارٹ میں ایک ایک درجہ ترقی سے مچل اسٹارک، سنیل نارائن اور ٹرینٹ بولٹ بالترتیب پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن سنبھال چکے، 2 درجے بہتری سے شکیب الحسن چوتھے نمبر پر پہنچ گئے، پانچ درجے تنزلی نے عمران طاہر کو پانچویں پوزیشن پر بھیج دیا۔
بیٹنگ چارٹ پر بھی پاکستانی صورتحال کافی گھمبیر ہے، اس طرز میں دنیا کے 30 بہترین بیٹسمینوں میں کوئی ایک بھی پلیئر شامل نہیں، حفیظ 31 اور احمد شہزاد 32 ویں نمبر پر موجود جبکہ باقی ان سے بھی نیچے ہیں۔ ٹاپ پوزیشن ڈی ویلیئرز کے پاس ہے، ویرات کوہلی، کین ولیمسن اور دلشان ایک ایک درجہ ترقی سے بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر براجمان ہوچکے،3 درجے تنزلی نے ہاشم آملا کو پانچویں نمبر پر پہنچا دیا، فاف ڈو پلیسی 7 اور کوئنٹین ڈی کاک 13 درجے چھلانگ لگا کر دسویں پوزیشن پر مشترکہ طور پر قابض ہوچکے۔
آل راؤنڈرز میں شکیب پہلے نمبر پر ہیں۔ٹیم رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن نویں ہی ہے البتہ آٹھویں نمبر پر موجود ویسٹ انڈیز کے برابر ہی 88 پوائنٹس ہیں،اعشاریائی پوائنٹس کی وجہ سے گرین شرٹس ایک درجے نیچے ہیں۔ ٹاپ پر بدستور آسٹریلیا جبکہ جنوبی افریقہ سے شکست کے باوجود بھارت دوسرے نمبر پر برقرار رہا،البتہ تیسرے درجے پر موجود پروٹیز نے اس سے پوائنٹس کا فرق کم کرتے ہوئے صرف 2 کردیا ہے۔