توڑ اس دست جفا کش کو یارب
کشمیری آج بھی دل دل پاکستان کہتےنہیں تھکتے مگرہمارے حکمران آلو پیازکی تجارت اورساڑھیوں کی ترسیل سے آگےنہیں بڑھ رہے۔
انگریزوں، ہندؤں اور ڈوگرہ حکمرانوں کی باہمی ساز باز نے کشمیریوں کو نہ ختم ہونے والے دور غلامی میں پہنچا دیا۔ فوٹو :فائل
بریکنگ نیوز اور ریٹنگ کے اس دور میں سوشل میڈیا کی چند سائٹس پر نگاہیں مرکوز کرتے ہوئے اچانک میری نگاہوں کے سامنے درگاہ حضرت بل کے سامنے انڈین افواج کی جانب سے کشمیری خواتین کی توہین کے مناظر کی ایک ویڈیو گذری۔ باپردہ اور کشمیر کے روایتی لباس میں ملبوس خواتین کو سرِ عام گھسیٹا اور پیٹا جا رہا تھا، ایک لمحے کو اپنی آنکھوں میں نمی محسوس ہوئی، دفعتاً ذہن میں خیال آیا کہ اس جدید دور میں جہاں پوری دنیا سمٹ کر انسان کے ہاتھوں میں آگئی ہے، مگر ہندوستان ابھی تک کشمیر پر اپنا جابرانہ تسلط قائم کئے ہوئے ہے۔
تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی کے بعد میں کشمیر کے پہلے مسلمان حکمران راجہ صدر الدین کے دربار میں جا پہنچی، میرا سفر بر صغیر میں انگریزوں کے دور میں پہنچا، پھر پنجاب کے شہر امرتسر میں تاریخی معاہدے کے منظر نامے نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا، جی ہاں وہی معاہدہ جس کے تحت کشمیری عوام کو 75 لاکھ روپے کے عوض سکھوں کے حوالے کردیا گیا، میں نے ڈوگرہ راج کا بھی جائزہ لیا، پھر میرے سامنے 27 اکتوبر کا سیاہ ترین دن آگیا جس دن انگریزوں، ہندؤں اور ڈوگرہ حکمرانوں کی باہمی ساز باز نے کشمیریوں کو نہ ختم ہونے والے دور غلامی میں پہنچا دیا۔
1947 ء میں جب ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام یقینی ہوگیا تو کانگریس اور مہا راجہ ہری سنگھ کو ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا خدشہ لاحق ہوگیا۔ مئی 1947ء میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنا اسلحہ چاہے وہ لائسنس یافتہ ہی کیوں نہ ہو، بحقِ سرکار جمع کروادیں۔ 2 ماہ بعد مہاراجہ کی ایما پر آر ایس ایس، ہندو مہاسبھا اور دیگر ہندو جنونی تنظیموں کے تقریباََ 50 ہزار رضا کار ریاست پہنچے، جنہوں نے جموں کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا کر پوری ریاست میں خفیہ شاخیں قائم کیں۔ مہاراجہ کی فوج کے افسر بڑے پیمانے پر ان بلوائیوں، قاتلوں اور حملہ آوروں کو ہتھیار بنانے، چلانے، مسلمانوں کے قتل عام، آبروریزی، آگ لگانے اور املاک لوٹنے کی تربیت دینے لگے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی سکھ اور ہندو بلوائیوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا، آبادیاں ویران کردیں، مسجدیں جلادیں، گھر لوٹ لئے، عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی اور بچے ذبح کئے۔
درجنوں دیہات ایسے بھی تھے جن کے تمام مرد و زن اور بچوں کو گولیوں سے اڑا دیا گیا۔ آج 27 اکتوبر ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ بھیانک، سیاہ دن ہے جس دن 1947 میں بھارت کی خونخوار فوج نے ریاست کی مقدس سرزمین میں اپنا ناپاک تسلط قائم کیا اور وادی گل پوش کو انگار وادی کے روپ میں بدل ڈالا۔ 68 سال بعد آج بھی بھارتی فوج بغیر کسی آئینی اور اخلاقی جواز کے جموں و کشمیر پر قابض ہوکر نہتے کشمیریوں کو قتل کررہی ہے، ان کے گھروں کو تباہ اور ان کی عزتوں کو پامال کررہی ہے۔
27 اکتوبر 1947 کا دن وہ منحوس دن ہے، جب کشمیری عوام کی آزادی کو زبردستی ان سے چھین لیا گیا اور بھارت نے ان کی مرضی کے خلاف یہاں اپنی افواج کو اْتارا، جب سے آج تک ایک اندازے کے مطابق 6 لاکھ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے، 10 ہزار کو حراست میں لیکر قتل اور 10 ہزار کو لاپتہ کردیا گیا ہے، 7 ہزار سے زائد شہریوں کو بے نام قبروں میں دفن کردیا گیا ہے اور ان کے نام وپتہ بتانے سے مسلسل انکار کیا جارہا ہے، ساڑھے 7 ہزار خواتین کی توہین کی گئی، ریاست میں افسپا، ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین نافذ کئے گئے جس کی وجہ سے فوج اور پولیس کو مظالم ڈھانے کی کھلی چھوٹ حاصل ہوگئی۔
ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے اس ناجائز قبضے اور اسکے نتیجے میں ایک سال تک جاری رہنے والی جنگ کو روکنے کیلئے اس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم جواہر لال نہرو خود ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیکر گئے تھے لیکن بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے استصواب رائے کے حق کو جواہر لال نہرو سمیت ابھی تک کسی بھی ہندوستانی حکمران نے پورا نہیں کیا۔ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف اپنی فوج سری نگر ایئرپورٹ پر اتاری اور کشمیر پر قابض ہوگیا۔ بھارت سرکار نے کہا کہ فوج کو ڈوگرا مہاراج ہری سنگھ کے مطالبے پر بھیجا گیا ہے اور حالات معمول پر آتے ہی فوج واپس چلی جائے گی۔ کئی دہائیاں گذر گئیں لیکن کشمیریوں کو حق خودارادیت نہ ملا، نہ ہی فوج مقبوضہ کشمیر سے نکلی۔
بھارت کا ظلم تشدد ابھی تک جاری ہے۔ کشمیریوں کی ذاتی جدوجہد اور قبائلی عوام کی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں ایک حصہ آزاد کرالیا گیا جسے اس وقت بیس کیمپ کا درجہ دیا گیا، جہاں سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے اقدامات کرنا تھے، مگر اپنوں کی عدم توجہی اور آزاد کشمیر کے اقتدار پر قابض روایتی اور وراثتی سیاستدانوں نے اس جانب نگاہ کرم نہ کی، اقتدار کے حصول اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ آزاد حکومت کو کشمیریوں کی آزادی کے خوابوں اور جدوجہد سے کوئی غرض نہیں، 90 کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا جو کہ بہت جلد اپنوں کی بے وفائی کے نتیجے میں ختم ہوگئی۔
2010ء میں پتھرمار تحریک کا آغاز ہوا جس کی قیادت بھارت مظالم کے شکار نوجوانوں نے کی جو کہ 90 کی دہائی میں شیر خوار بچے تھے، انہوں نے کھلونوں کی جگہ انڈین آرمی کی گنیں اور لوری کی جگہ فوجی بوٹوں اور گولیوں کی آوازیں سنی تھیں، مگر جلد ہی یہ تحریک بھی حوصلہ افزائی نہ ہونے اور بیس کیمپ کے حکمرانوں کی بے اعتنائی کا شکار ہوگئی۔ کشمیری آج بھی دل دل پاکستان، تیری آن میری آن پاکستان پاکستان کہتے نہیں تھکتے مگر ہمارے حکمران آلو پیاز کی تجارت اور ساڑھیوں کی ترسیل سے آگے نہیں بڑھ رہے، اگر آپ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں جائیں تو آپ کو ٹیٹوال سے آگے دریائے نیلم کے کنارے کنارے درجنوں ایسے مناظر نظر آئیں گے جن میں وادی کے دونوں اطراف اپنوں کے چہروں کو ترستے خاندان بستے ہیں۔
کشمیریوں کے مابین کھینچی گئی خونی لکیر نے 68 سالوں سے رشتہ داروں کو آپس میں ملنے نہیں دیا، بہنیں اپنے بھائیوں سے ملنے کو ترس رہی ہیں، آج کشمیری بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منا کر پوری دنیا کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب متوجہ کرا رہے ہیں، ہمیں بھی کم از کم اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے ان کی جدوجہد میں اخلاقی طور پر شامل ہونا چاہئیے۔ ربِ کائنات سے دعا ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو جلد آزادی کی دولت نصیب ہو اور ان کا پاکستان سے الحاق کا خواب شرمندہ تعبیر ہو،
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔
تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی کے بعد میں کشمیر کے پہلے مسلمان حکمران راجہ صدر الدین کے دربار میں جا پہنچی، میرا سفر بر صغیر میں انگریزوں کے دور میں پہنچا، پھر پنجاب کے شہر امرتسر میں تاریخی معاہدے کے منظر نامے نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا، جی ہاں وہی معاہدہ جس کے تحت کشمیری عوام کو 75 لاکھ روپے کے عوض سکھوں کے حوالے کردیا گیا، میں نے ڈوگرہ راج کا بھی جائزہ لیا، پھر میرے سامنے 27 اکتوبر کا سیاہ ترین دن آگیا جس دن انگریزوں، ہندؤں اور ڈوگرہ حکمرانوں کی باہمی ساز باز نے کشمیریوں کو نہ ختم ہونے والے دور غلامی میں پہنچا دیا۔
1947 ء میں جب ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام یقینی ہوگیا تو کانگریس اور مہا راجہ ہری سنگھ کو ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا خدشہ لاحق ہوگیا۔ مئی 1947ء میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنا اسلحہ چاہے وہ لائسنس یافتہ ہی کیوں نہ ہو، بحقِ سرکار جمع کروادیں۔ 2 ماہ بعد مہاراجہ کی ایما پر آر ایس ایس، ہندو مہاسبھا اور دیگر ہندو جنونی تنظیموں کے تقریباََ 50 ہزار رضا کار ریاست پہنچے، جنہوں نے جموں کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا کر پوری ریاست میں خفیہ شاخیں قائم کیں۔ مہاراجہ کی فوج کے افسر بڑے پیمانے پر ان بلوائیوں، قاتلوں اور حملہ آوروں کو ہتھیار بنانے، چلانے، مسلمانوں کے قتل عام، آبروریزی، آگ لگانے اور املاک لوٹنے کی تربیت دینے لگے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی سکھ اور ہندو بلوائیوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا، آبادیاں ویران کردیں، مسجدیں جلادیں، گھر لوٹ لئے، عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی اور بچے ذبح کئے۔
درجنوں دیہات ایسے بھی تھے جن کے تمام مرد و زن اور بچوں کو گولیوں سے اڑا دیا گیا۔ آج 27 اکتوبر ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ بھیانک، سیاہ دن ہے جس دن 1947 میں بھارت کی خونخوار فوج نے ریاست کی مقدس سرزمین میں اپنا ناپاک تسلط قائم کیا اور وادی گل پوش کو انگار وادی کے روپ میں بدل ڈالا۔ 68 سال بعد آج بھی بھارتی فوج بغیر کسی آئینی اور اخلاقی جواز کے جموں و کشمیر پر قابض ہوکر نہتے کشمیریوں کو قتل کررہی ہے، ان کے گھروں کو تباہ اور ان کی عزتوں کو پامال کررہی ہے۔
27 اکتوبر 1947 کا دن وہ منحوس دن ہے، جب کشمیری عوام کی آزادی کو زبردستی ان سے چھین لیا گیا اور بھارت نے ان کی مرضی کے خلاف یہاں اپنی افواج کو اْتارا، جب سے آج تک ایک اندازے کے مطابق 6 لاکھ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے، 10 ہزار کو حراست میں لیکر قتل اور 10 ہزار کو لاپتہ کردیا گیا ہے، 7 ہزار سے زائد شہریوں کو بے نام قبروں میں دفن کردیا گیا ہے اور ان کے نام وپتہ بتانے سے مسلسل انکار کیا جارہا ہے، ساڑھے 7 ہزار خواتین کی توہین کی گئی، ریاست میں افسپا، ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین نافذ کئے گئے جس کی وجہ سے فوج اور پولیس کو مظالم ڈھانے کی کھلی چھوٹ حاصل ہوگئی۔
ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے اس ناجائز قبضے اور اسکے نتیجے میں ایک سال تک جاری رہنے والی جنگ کو روکنے کیلئے اس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم جواہر لال نہرو خود ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیکر گئے تھے لیکن بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے استصواب رائے کے حق کو جواہر لال نہرو سمیت ابھی تک کسی بھی ہندوستانی حکمران نے پورا نہیں کیا۔ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف اپنی فوج سری نگر ایئرپورٹ پر اتاری اور کشمیر پر قابض ہوگیا۔ بھارت سرکار نے کہا کہ فوج کو ڈوگرا مہاراج ہری سنگھ کے مطالبے پر بھیجا گیا ہے اور حالات معمول پر آتے ہی فوج واپس چلی جائے گی۔ کئی دہائیاں گذر گئیں لیکن کشمیریوں کو حق خودارادیت نہ ملا، نہ ہی فوج مقبوضہ کشمیر سے نکلی۔
بھارت کا ظلم تشدد ابھی تک جاری ہے۔ کشمیریوں کی ذاتی جدوجہد اور قبائلی عوام کی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں ایک حصہ آزاد کرالیا گیا جسے اس وقت بیس کیمپ کا درجہ دیا گیا، جہاں سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے اقدامات کرنا تھے، مگر اپنوں کی عدم توجہی اور آزاد کشمیر کے اقتدار پر قابض روایتی اور وراثتی سیاستدانوں نے اس جانب نگاہ کرم نہ کی، اقتدار کے حصول اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ آزاد حکومت کو کشمیریوں کی آزادی کے خوابوں اور جدوجہد سے کوئی غرض نہیں، 90 کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا جو کہ بہت جلد اپنوں کی بے وفائی کے نتیجے میں ختم ہوگئی۔
2010ء میں پتھرمار تحریک کا آغاز ہوا جس کی قیادت بھارت مظالم کے شکار نوجوانوں نے کی جو کہ 90 کی دہائی میں شیر خوار بچے تھے، انہوں نے کھلونوں کی جگہ انڈین آرمی کی گنیں اور لوری کی جگہ فوجی بوٹوں اور گولیوں کی آوازیں سنی تھیں، مگر جلد ہی یہ تحریک بھی حوصلہ افزائی نہ ہونے اور بیس کیمپ کے حکمرانوں کی بے اعتنائی کا شکار ہوگئی۔ کشمیری آج بھی دل دل پاکستان، تیری آن میری آن پاکستان پاکستان کہتے نہیں تھکتے مگر ہمارے حکمران آلو پیاز کی تجارت اور ساڑھیوں کی ترسیل سے آگے نہیں بڑھ رہے، اگر آپ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں جائیں تو آپ کو ٹیٹوال سے آگے دریائے نیلم کے کنارے کنارے درجنوں ایسے مناظر نظر آئیں گے جن میں وادی کے دونوں اطراف اپنوں کے چہروں کو ترستے خاندان بستے ہیں۔
کشمیریوں کے مابین کھینچی گئی خونی لکیر نے 68 سالوں سے رشتہ داروں کو آپس میں ملنے نہیں دیا، بہنیں اپنے بھائیوں سے ملنے کو ترس رہی ہیں، آج کشمیری بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منا کر پوری دنیا کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب متوجہ کرا رہے ہیں، ہمیں بھی کم از کم اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے ان کی جدوجہد میں اخلاقی طور پر شامل ہونا چاہئیے۔ ربِ کائنات سے دعا ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو جلد آزادی کی دولت نصیب ہو اور ان کا پاکستان سے الحاق کا خواب شرمندہ تعبیر ہو،
توڑ اس دست جفا کش کو یارب
روحِ آزادیِ کشمیر کو جس نے پامال کیا
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔