زلزلہ آنے کے بعد پیش قدمی
شدید زلزلوں کا انتہائی ہلاکت خیز ہونا لازمی نہیں ، موجودہ تباہی سے 2005 کی بربادی بہت زیادہ اندوہ ناک تھی
اکتوبر کا مہینہ زلزلوں کے لحاظ سے پاکستان پر بھاری رہا ، 2005 کے بعد2008 میں اکتوبر میں بلوچستان ہی 6.4 شدت کے زلزلے کا نشانہ بنا اور اس سے300 افراد مارے گئے۔ فوٹو : فائل
پشاور سمیت ملک بھر میں شدید زلزلے میں 240 سے زائد افراد کے جاں بحق جب کہ ہزاروں کے زخمی ہونے کا ہمہ گیر غم ایسا نہیں جو بھلایا جاسکے لیکن جس بات کا صدمہ اہل وطن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے وہ آفات اور ناگہانی مصائب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے میں ہماری بار بار کی ناکامی ہے اور یہ کتنی بڑی ستم ظریفی اور فطرت کا جبر ہے کہ اس بار بھی سب سے زیادہ تباہی خیبرپختونخوا اور فاٹا میں ہوئی۔
گزشتہ 10برسوں میں خیبر پختونخوا کو 5 ویں بار آزمائش کی گھڑی کا سامنا ہوا ۔ رواں سال پاکستان اور دیگر ممالک میں ستمبر اور اکتوبر میں 234 زلزلے آئے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان اور کراچی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
ماہرین نے درست کہا کہ شدید زلزلوں کا انتہائی ہلاکت خیز ہونا لازمی نہیں ، موجودہ تباہی سے 2005 کی بربادی بہت زیادہ اندوہ ناک تھی، لہریں کم گہری تہہ سے گزریں تو ان سے گنجان آباد علاقوں میں بڑی تباہی آتی ہے ، بلاشبہ باتدبیر ارباب اختیار اور مستعد و عوام دوست حکومتیں قدرتی آفات کو ٹال نہیں سکتیں، انسان فطرت کے آگے بے بس ہے تاہم بروقت منصوبہ بندی، اور حسن تدبیر و انتظام سے نقصانات اور تباہ کاریوں کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔
جس کی طرف کسی حکومت نے یا ریاستی سطح پر سنجیدہ، مربوط ، ٹھوس اقدامات اور مستحکم انفراسٹرکچر اور ریسکیو میکنزم کے قیام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، سب کام اسی وقت گیئر اپ ہوتے ہیں جب کوئی آفت قوم پر نازل ہوتی ہے اور اہل وطن کی زندگی سیلاب، بارش ، برفباری، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے آگے سپر ڈال دیتی ہے، آبادیاں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیِں ۔
لیکن ایک بات کا کریڈٹ قوم کو جاتا ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں خدمت اور امدادی کاموں کے لیے ہر شخص گھر سے باہر نکل آتا ہے، اس بار بھی زلزلے کی آمد کے ساتھ ہی بساط بھر کوششوں کا فوری آغاز ہوا، اگرچہ اس میں مربوط طریقے سے صورتحال کو سنبھالنے میں دشواریوں کا ابھی مزید سامنا ہوگا، کیونکہ موسلا دھار بارشوں ، بے رحم سرد موسم، ژالہ باری سے امدادی کاموں میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں ، چنانچہ صائب اقدامات کیے گئے جن کے تحت اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ اور طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف نے کرائسز سیل حکام اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو فون کر کے زلزلہ متاثرین کی مکمل امداد کی ہدایت کی، پاک فوج اور دیگر اداروں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ آرمی چیف نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے احکامات کا انتظار کیے بغیر پہنچیں جب کہ جنرل راحیل شریف امدادی کاموں کا جائزہ لینے خود پشاور پہنچ گئے ۔
پاک فضائیہ نے این ڈی ایم اے کو معاونت کی پیشکش کر دی۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں امدادی سرگرمیوں کے لیے مشینری اور پاک فوج کے دستے تیار ہیں جنھیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی تیار ہیں۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان اور کراچی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ترجمان پاک فضائیہ نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن میں 193کلومیٹر گہرائی میں تھا۔این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز زیادہ گہرائی میں ہونے کے باعث اس کی شدت کے مطابق بہت بڑے نقصان کا امکان نہیں۔کراچی سمیت سندھ و بلوچستان کا ساحلی علاقہ خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر واقع ہے اور زلزلہ و سونامی کا خطرہ موجود ہے، بحیرہ عرب میں تین پلیٹس عربین پلیٹس، یوریشیئن پلیٹس اور انڈین آسٹریلین پلیٹس کا جنکشن موجود ہے ۔
جس کے ٹکرانے سے ان علاقوں میں سونامی اور زلزلہ آسکتا ہے، کراچی دیگر فالٹ لائنز کے بھی قریب واقع ہے تاہم اس سے ہلکے درجے کے زلزلے کا امکان ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شدید زلزلے کے بعد ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا۔ شہریوں کو آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
زلزلے سے افغانستان میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور 150 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جب کہ سیکڑوں زخمی ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق افغانستان میں زلزلے کی شدت7.5ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز افغان صوبہ بدخشاں کے علاقے میں تھا جب کہ اس کی گہرائی 213.5 کلومیٹر زیر زمین تھی۔
اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی امدادی اداروں نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں شدید زلزلے سے ہونیوالے جانی و مالی نقصان کے بعد وہ درخواست کی صورت میں پاکستان کے زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ٹیلیفون کر کے پاکستان میں آنے والے زلزلے پر اظہارافسوس کیا ہے جب کہ نریندر مودی نے زلزلے کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں امداد کی بھی پیش کش کی۔ دریں اثنا وزارت تحفظ خوراک نے صوبوں کو زراعت اور کسانوں کو زلزلے سے پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
وزارت تحفظ خوراک کے ترجمان نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمارے پاس خوراک کا ذخیرہ سر پلس ہے، ہمیں خوراک باہر سے منگوانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ، وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پوری قوم ایک ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ امدادی کاموں کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے، زلزلہ زدگان کے لیے فی الحال بین الاقوامی امداد کی ضرورت نہیں۔
تاہم موسمیاتی تبدیلیوں سے خبردار کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سنگین موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، آنے والے دنوں میں مزید ہولناک زلزلوں کا امکان ہے، ماہرین نے پچھلے دنوں بدین اور کراچی کے ساحلی علاقوں کے سمندر طوفانوں کے باعث ممکنہ غرقابی کی پشین گوئی بھی کی تھی، ان جائزہ رپورٹوں کو طاق نسیاں نہیں کرنا چاہیے۔
ڈائریکٹر موسمیات مشتاق شاہ نے خبردار کیا ہے کہ آیند ہ دو سے تین روز میں درمیانے اور ایک ماہ تک کم شدت کے آفٹر شاکس آسکتے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق شدید آفٹر شاکس آنے کا خدشہ ہے اس لیے شہریوں کو چاہیے کو وہ کمزور و مخدوش عمارتوں سے نکل جائیں جب کہ متاثرہ علاقوں کے شہریوں نے آفٹرشاکس کے خوف سے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق پیر کی دوپہر آنیوالے زلزلے نے پاکستانی تاریخ کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔
اکتوبر کا مہینہ زلزلوں کے لحاظ سے پاکستان پر بھاری رہا ، 2005 کے بعد2008 میں اکتوبر میں بلوچستان ہی 6.4 شدت کے زلزلے کا نشانہ بنا اور اس سے300 افراد مارے گئے۔ حالیہ خوفناک زلزلہ بھی اکتوبر کے مہینے میں ہی آیا۔ پاکستان میں زلزلے میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان بھی آٹھ اکتوبر2005کوہوا ۔
اس دن شمالی علاقوں اور کشمیر میں شدید زلزلے میں73ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور33لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے جب کہ اعداد وشمار بتلاتے ہیں کہ فطرت کے قوانین سخت اور صبر آزما ہیں، اس لیے زندہ قومیں قدرتی آفات کے سامنے سرنڈر بھی نہیں کرتیں ۔ حکمراں ادراک کریں کہ آفات سے بچاؤ و امداد کے مستقل نظام کے لیے پیش قدمی کا یہی وقت ہے۔ ایک دانشور کا امید افزا قول ہے کہ ''آپ اگر اب جنگ نہیں جیت سکتے تب بھی زلزلہ پر فتح پا سکتے ہیں۔''
گزشتہ 10برسوں میں خیبر پختونخوا کو 5 ویں بار آزمائش کی گھڑی کا سامنا ہوا ۔ رواں سال پاکستان اور دیگر ممالک میں ستمبر اور اکتوبر میں 234 زلزلے آئے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان اور کراچی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
ماہرین نے درست کہا کہ شدید زلزلوں کا انتہائی ہلاکت خیز ہونا لازمی نہیں ، موجودہ تباہی سے 2005 کی بربادی بہت زیادہ اندوہ ناک تھی، لہریں کم گہری تہہ سے گزریں تو ان سے گنجان آباد علاقوں میں بڑی تباہی آتی ہے ، بلاشبہ باتدبیر ارباب اختیار اور مستعد و عوام دوست حکومتیں قدرتی آفات کو ٹال نہیں سکتیں، انسان فطرت کے آگے بے بس ہے تاہم بروقت منصوبہ بندی، اور حسن تدبیر و انتظام سے نقصانات اور تباہ کاریوں کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔
جس کی طرف کسی حکومت نے یا ریاستی سطح پر سنجیدہ، مربوط ، ٹھوس اقدامات اور مستحکم انفراسٹرکچر اور ریسکیو میکنزم کے قیام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، سب کام اسی وقت گیئر اپ ہوتے ہیں جب کوئی آفت قوم پر نازل ہوتی ہے اور اہل وطن کی زندگی سیلاب، بارش ، برفباری، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے آگے سپر ڈال دیتی ہے، آبادیاں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیِں ۔
لیکن ایک بات کا کریڈٹ قوم کو جاتا ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں خدمت اور امدادی کاموں کے لیے ہر شخص گھر سے باہر نکل آتا ہے، اس بار بھی زلزلے کی آمد کے ساتھ ہی بساط بھر کوششوں کا فوری آغاز ہوا، اگرچہ اس میں مربوط طریقے سے صورتحال کو سنبھالنے میں دشواریوں کا ابھی مزید سامنا ہوگا، کیونکہ موسلا دھار بارشوں ، بے رحم سرد موسم، ژالہ باری سے امدادی کاموں میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں ، چنانچہ صائب اقدامات کیے گئے جن کے تحت اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ اور طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف نے کرائسز سیل حکام اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو فون کر کے زلزلہ متاثرین کی مکمل امداد کی ہدایت کی، پاک فوج اور دیگر اداروں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ آرمی چیف نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے احکامات کا انتظار کیے بغیر پہنچیں جب کہ جنرل راحیل شریف امدادی کاموں کا جائزہ لینے خود پشاور پہنچ گئے ۔
پاک فضائیہ نے این ڈی ایم اے کو معاونت کی پیشکش کر دی۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں امدادی سرگرمیوں کے لیے مشینری اور پاک فوج کے دستے تیار ہیں جنھیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی تیار ہیں۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان اور کراچی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ترجمان پاک فضائیہ نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن میں 193کلومیٹر گہرائی میں تھا۔این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز زیادہ گہرائی میں ہونے کے باعث اس کی شدت کے مطابق بہت بڑے نقصان کا امکان نہیں۔کراچی سمیت سندھ و بلوچستان کا ساحلی علاقہ خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر واقع ہے اور زلزلہ و سونامی کا خطرہ موجود ہے، بحیرہ عرب میں تین پلیٹس عربین پلیٹس، یوریشیئن پلیٹس اور انڈین آسٹریلین پلیٹس کا جنکشن موجود ہے ۔
جس کے ٹکرانے سے ان علاقوں میں سونامی اور زلزلہ آسکتا ہے، کراچی دیگر فالٹ لائنز کے بھی قریب واقع ہے تاہم اس سے ہلکے درجے کے زلزلے کا امکان ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شدید زلزلے کے بعد ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا۔ شہریوں کو آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
زلزلے سے افغانستان میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور 150 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جب کہ سیکڑوں زخمی ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق افغانستان میں زلزلے کی شدت7.5ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز افغان صوبہ بدخشاں کے علاقے میں تھا جب کہ اس کی گہرائی 213.5 کلومیٹر زیر زمین تھی۔
اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی امدادی اداروں نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں شدید زلزلے سے ہونیوالے جانی و مالی نقصان کے بعد وہ درخواست کی صورت میں پاکستان کے زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ٹیلیفون کر کے پاکستان میں آنے والے زلزلے پر اظہارافسوس کیا ہے جب کہ نریندر مودی نے زلزلے کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں امداد کی بھی پیش کش کی۔ دریں اثنا وزارت تحفظ خوراک نے صوبوں کو زراعت اور کسانوں کو زلزلے سے پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
وزارت تحفظ خوراک کے ترجمان نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمارے پاس خوراک کا ذخیرہ سر پلس ہے، ہمیں خوراک باہر سے منگوانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ، وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پوری قوم ایک ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ امدادی کاموں کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے، زلزلہ زدگان کے لیے فی الحال بین الاقوامی امداد کی ضرورت نہیں۔
تاہم موسمیاتی تبدیلیوں سے خبردار کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سنگین موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، آنے والے دنوں میں مزید ہولناک زلزلوں کا امکان ہے، ماہرین نے پچھلے دنوں بدین اور کراچی کے ساحلی علاقوں کے سمندر طوفانوں کے باعث ممکنہ غرقابی کی پشین گوئی بھی کی تھی، ان جائزہ رپورٹوں کو طاق نسیاں نہیں کرنا چاہیے۔
ڈائریکٹر موسمیات مشتاق شاہ نے خبردار کیا ہے کہ آیند ہ دو سے تین روز میں درمیانے اور ایک ماہ تک کم شدت کے آفٹر شاکس آسکتے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق شدید آفٹر شاکس آنے کا خدشہ ہے اس لیے شہریوں کو چاہیے کو وہ کمزور و مخدوش عمارتوں سے نکل جائیں جب کہ متاثرہ علاقوں کے شہریوں نے آفٹرشاکس کے خوف سے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق پیر کی دوپہر آنیوالے زلزلے نے پاکستانی تاریخ کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔
اکتوبر کا مہینہ زلزلوں کے لحاظ سے پاکستان پر بھاری رہا ، 2005 کے بعد2008 میں اکتوبر میں بلوچستان ہی 6.4 شدت کے زلزلے کا نشانہ بنا اور اس سے300 افراد مارے گئے۔ حالیہ خوفناک زلزلہ بھی اکتوبر کے مہینے میں ہی آیا۔ پاکستان میں زلزلے میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان بھی آٹھ اکتوبر2005کوہوا ۔
اس دن شمالی علاقوں اور کشمیر میں شدید زلزلے میں73ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور33لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے جب کہ اعداد وشمار بتلاتے ہیں کہ فطرت کے قوانین سخت اور صبر آزما ہیں، اس لیے زندہ قومیں قدرتی آفات کے سامنے سرنڈر بھی نہیں کرتیں ۔ حکمراں ادراک کریں کہ آفات سے بچاؤ و امداد کے مستقل نظام کے لیے پیش قدمی کا یہی وقت ہے۔ ایک دانشور کا امید افزا قول ہے کہ ''آپ اگر اب جنگ نہیں جیت سکتے تب بھی زلزلہ پر فتح پا سکتے ہیں۔''