بھارت کی ورکنگ باؤنڈری پر پھر اشتعال انگیزی
بھارت کا یہ طرز عمل دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
بھارت کی مودی سرکار کو امن کے لیے کام کرنا چاہیے نہ کہ جنگ کا ماحول بنائے۔ فوٹو:فائل
بھارتی فورسز نے ورکنگ باؤنڈری پر شکر گڑھ اور ظفروال سیکٹر کے سرحدی دیہات کو زبر دست گولہ باری کا نشانہ بنا رکھا ہے جہاں وقفے وقفے سے چوتھے روز بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، پاک رینجرز کی طرف سے دشمن کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ کچھ وقت کے لیے رک جاتا ہے تاہم دشمن موقع ملتے ہی سرحدی آبادیوں پر فائرنگ اور گولہ باری شروع کر دیتا ہے۔
بھارت کی جانب سے ورکنگ باونڈری پربلااشتعال فائرنگ پر گزشتہ روز پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکودفترخارجہ طلب کرکے شدیداحتجاج کیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو پیر کودفترخارجہ میں بھارت کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ورکنگ باؤنڈری کے شکر گڑھ اور ظفر وال سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔بھارتی سفارت کار کو بتایا گیا کہ بھارتی فوج نے 24 ,23اور 25اکتوبر کو لگاتار شکر گڑھ اور ظفر وال سیکٹر میں ورکنگ بانڈری پر بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کی۔ بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی نئی نہیں ہیں' جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں، بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر مسلسل جارحیت کر رہی ہے۔ یہی نہیں بھارت میں انتہا پسند تنظیمیں اور جماعتیں بھی پاکستان کے خلاف مسلسل نفرت انگیز اقدامات کر رہی ہیں' شیوسینا اس حوالے سے سب سے زیادہ بدنام ہے،بھارت کی ان سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کو دباؤ میں لانا ہے۔
پاکستان ہر بار بھارتی ہائی کمشنر یا ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کراتا ہے لیکن بھارتی رویے میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ بھارت کا یہ طرز عمل دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
بھارتی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اسے بلا آخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑے گا لہٰذا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ بھارتی حکومت ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر ہونے والی اشتعال انگیزی کو بند کرانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے،بھارتی فوج کو اس حوالے سے سرحدی ضابطوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ شیوسینا جیسی انتہا پسند تنظیموں کی اشتعال انگیزی کو بند کرانے کے لیے ٹھوس فیصلے کرنے کی ضرور ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سطح پر جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوسکے۔ بھارت کی مودی سرکار کو امن کے لیے کام کرنا چاہیے نہ کہ جنگ کا ماحول بنائے۔
بھارت کی جانب سے ورکنگ باونڈری پربلااشتعال فائرنگ پر گزشتہ روز پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکودفترخارجہ طلب کرکے شدیداحتجاج کیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو پیر کودفترخارجہ میں بھارت کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ورکنگ باؤنڈری کے شکر گڑھ اور ظفر وال سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔بھارتی سفارت کار کو بتایا گیا کہ بھارتی فوج نے 24 ,23اور 25اکتوبر کو لگاتار شکر گڑھ اور ظفر وال سیکٹر میں ورکنگ بانڈری پر بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کی۔ بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی نئی نہیں ہیں' جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں، بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر مسلسل جارحیت کر رہی ہے۔ یہی نہیں بھارت میں انتہا پسند تنظیمیں اور جماعتیں بھی پاکستان کے خلاف مسلسل نفرت انگیز اقدامات کر رہی ہیں' شیوسینا اس حوالے سے سب سے زیادہ بدنام ہے،بھارت کی ان سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کو دباؤ میں لانا ہے۔
پاکستان ہر بار بھارتی ہائی کمشنر یا ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کراتا ہے لیکن بھارتی رویے میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ بھارت کا یہ طرز عمل دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
بھارتی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اسے بلا آخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑے گا لہٰذا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ بھارتی حکومت ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر ہونے والی اشتعال انگیزی کو بند کرانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے،بھارتی فوج کو اس حوالے سے سرحدی ضابطوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ شیوسینا جیسی انتہا پسند تنظیموں کی اشتعال انگیزی کو بند کرانے کے لیے ٹھوس فیصلے کرنے کی ضرور ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سطح پر جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوسکے۔ بھارت کی مودی سرکار کو امن کے لیے کام کرنا چاہیے نہ کہ جنگ کا ماحول بنائے۔