ایک بورڈ 2 چیئرمین اور مسائل لاتعداد
اگر حکومت نے روکا تو ورلڈ ٹی 20کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں، شہریار خان
بھارت میں ناخوشگوار واقعے کے بعد میڈیا ڈپارٹمنٹ کا کردار بھی مایوس کن رہا۔ فوٹو: فائل
NEW YORK:
دبئی ٹیسٹ میں فتح پر یقیناً ہر پاکستانی کو خوشی ہوئی، البتہ سب سے زیادہ مسرور چیئرمین پی سی بی شہریارخان اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی ہی ہوں گے، ان کے خیال میں اس سے قوم کی توجہ بھارت میں رسوائی سے ہٹ جائے گی مگر یہ سوچ درست نہیں ہے، شائقین اب بھی اس جواب کے منتظر ہیں کہ بورڈ نے صرف ایک سیریز کیلیے ملکی وقار کوداؤ پر کیوں لگا دیا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تنازع کے بعد دونوں ''بڑوں'' نے بھی میڈیا میں آکر ایسی باتیں کیں جس سے لگتا ہے کہ ''دال میں کچھ کالا ضرور ہے''، ایک بورڈ کے جب 2 سربراہ ہوں تو ایسا ہی کچھ سامنے آتا ہے،شہریارخان عموماً محاذ آرائی سے گریز کرتے مگر بعض اوقات میڈیا میں ایسی باتیں کر جاتے ہیں جس سے نجم سیٹھی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے کچھ عرصے قبل وہ سپرلیگ کی کھلے عام مخالفت کر بیٹھے اور بعد میں دباؤ کے سبب بیان سے پھرنا پڑا،اب بھارت کے پاس سیریز کیلیے ہاتھ پھیلانے کی ایک وجہ بڑی دلچسپ ہے، نئے بی سی سی آئی چیف ششانک منوہر نے ہنس کر فون پر دو باتیں کیا کر لیں، پی سی بی کے دونوں بڑے سمجھے اب تو سیریز ہو کر رہے گی۔
شہریارخان چاہتے تھے کہ گذشتہ دور کی طرح اس بار بھی پاک بھارت سیریز کے انعقاد کا کریڈٹ انھیں ملے، دوسری جانب نجم سیٹھی بگ تھری کی حمایت میں ایم او یو سائن کر کے آئے تھے، ان کی خواہش تھی کہ وہ سیریز کرا کے ہیرو بن جائیں مگر ہوا اس کے بالکل الٹ، دونوں اب سخت مشکل کا شکار ہیں، ایسے میں وطن واپسی پر جب شہریارخان نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے دور میں دستخط شدہ ایم او یو اہمیت نہیں رکھتا تو وہ بھڑک اٹھے، انھوں نے میڈیا میں آ کر چیئرمین کو اچھے الفاظ کا استعمال کر کے غلط بیانی کا مرتکب قرار دے دیا، ان کا کہنا تھا کہ شہریارخان اور ششانک کا بیگمات کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ رہا،چیئرمین اپنی بات پر قائم رہے کہ کسی نے انھیں بھارت میں نہ پوچھا بیگمات کی بات صرف شاپنگ کی حد تک محدود تھی، اس معاملے سے بورڈ کی مزید جگ ہنسائی ہوئی۔
ویسے آپس کی بات ہے ٹی وی پر نجم سیٹھی صاحب کی وضاحتیں دیکھ کر میں کنفیوژ ہو گیا ہوں کہ وہ کس کی طرف ہیں، وہ بی سی سی آئی کی وضاحتیں پیش کرتے ہوئے اپنے چیئرمین کو غلط قرار دے رہے تھے،بھارت کے نزدیک ہماری کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ کئی روز گزرنے کے باوجود کسی کا ایک مذمتی بیان بھی سامنے نہیں آیا، البتہ انوراگ ٹھاکر نے سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ '' موجودہ حالات میں سیریز ہوتی نظر نہیں آتی'' ،یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے بورڈ کو اب کس انکار کا انتظار ہے، بھارتی بورڈ بے وقوف نہیں، وہ جانتا ہے کہ اگر یہ کہا کہ حکومت کھیلنے سے روک رہی ہے توپاکستان کو کھیل میں سیاسی مداخلت کا ثبوت مل جائے گا اور وہ یہ معاملہ آئی سی سی میں اٹھا سکتا ہے۔
دوسری جانب ہمارے بورڈ کا یہ حال ہے کہ چیئرمین صاحب کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ ''اگر حکومت نے روکا تو ورلڈ ٹی 20کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں؟ ، شہریارخان سفارت کار رہ چکے، کم از کم ان سے ایسی بات کی توقع نہ تھی، اگر ایسا کوئی قدم اٹھانا بھی ہے تو حکومت کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت تھی، سب جانتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے، سیکیورٹی کے حقیقی خدشات کو جواز بنا کر بی سی سی آئی کو دھمکی دی جا سکتی تھی،بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان نہیں آئی مگر انھوں نے عدالتی حکم کو جواز بنایا، وہ دماغ لڑا سکتے ہیں مگر ہم ایسی باتیں کر کے خود اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
ایک بات سب کو پتا ہے کہ اگر بھارتی حکومت کہے تو پاکستان سے سیریز 10دن کے نوٹس پر بھی ہو سکتی ہے، یہ کھیل نہیں بلکہ سیاسی معاملہ بن چکا، ایسے میں انتظار کرنا چاہیے، حالیہ بعض واقعات سے مودی سرکار کو بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، ممکن ہے اپنا ''سافٹ امیج'' سامنے لانے کیلیے وہ پاکستان سے میچز کی اجازت دیدے، بورڈ کے آگے ہاتھ جوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا۔
حالیہ تنازع سے ملک کی بڑی بدنامی ہوئی، حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، ایک جہاز کے دو پائلٹ اور دونوں اپنی اپنی سمت میں اسے لے جانا چاہتے ہیں اس سے وہ منزل پر پہنچنے کے بجائے کریش ہی ہو جائے گا، کسی ایک کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے کام کرنے دیا جائے، یا پھر دونوں کو ہٹاکر نئی ٹیم لائی جائے، تب ہی معاملات کچھ بہتر ہو سکیں گے۔ بھارت میں ناخوشگوار واقعے کے بعد میڈیا ڈپارٹمنٹ کا کردار بھی مایوس کن رہا، کسی نے بھی معاملات واضح کرنے کیلیے کوئی کوشش نہ کی جس کے سبب پی سی بی کا امیج مزید بگڑ گیا۔
آخر میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی فتح کا کچھ ذکر ہو جائے، یاسر شاہ، ذوالفقار بابر، وہاب ریاض، محمد حفیظ،اسد شفیق، یونس خان اور مصباح الحق سمیت تمام کھلاڑیوں نے اپنا کردار بخوبی نبھایا جس کی وجہ سے یہ کامیابی ممکن ہوئی، البتہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ گذشتہ سیریز کے میچزآسانی سے جیت رہے تھے اب بمشکل تمام فتح ملی، پہلا ٹیسٹ ہارتے ہارتے بچے تھے اب بھی جب حق میں فیصلہ ہوا تو 6.3 اوورز کا کھیل ہی باقی تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلش ٹیم سے ٹکر کا مقابلہ ہو رہا ہے، سیریز برابر ہونے سے بچانے کیلیے شارجہ ٹیسٹ میں جان لڑا دینا ہو گی۔
اوپننگ کا شعبہ کچھ کمزور دکھائی دیتا ہے، شان مسعود نے گوکہ ایک اچھی اننگز کھیلی مگر اب شاید الیون میں جگہ بنانے کیلیے اظہر علی کو ہی ون ڈے کی طرح ٹیسٹ میں اننگز کے آغازکا موقع فراہم کیا جائے، دوسرے ٹیسٹ میں یونس خان نے سنچری بنائی، ''دیرآئے درست آئے'' کے مصداق بورڈ نے جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے پر انھیں10لاکھ روپے دینے کا اچھا فیصلہ کیا ہے، اس سے سینئر بیٹسمین کو مستقبل میںبھی مزید عمدہ کھیل پیش کرنے کی ترغیب ملے گی، آج ان کے اعزاز میں دبئی میں تقریب بھی ہو رہی ہے، اس دعا کے ساتھ اختتام کرتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین کا اعزاز بھی حاصل کر لیں۔
دبئی ٹیسٹ میں فتح پر یقیناً ہر پاکستانی کو خوشی ہوئی، البتہ سب سے زیادہ مسرور چیئرمین پی سی بی شہریارخان اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی ہی ہوں گے، ان کے خیال میں اس سے قوم کی توجہ بھارت میں رسوائی سے ہٹ جائے گی مگر یہ سوچ درست نہیں ہے، شائقین اب بھی اس جواب کے منتظر ہیں کہ بورڈ نے صرف ایک سیریز کیلیے ملکی وقار کوداؤ پر کیوں لگا دیا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تنازع کے بعد دونوں ''بڑوں'' نے بھی میڈیا میں آکر ایسی باتیں کیں جس سے لگتا ہے کہ ''دال میں کچھ کالا ضرور ہے''، ایک بورڈ کے جب 2 سربراہ ہوں تو ایسا ہی کچھ سامنے آتا ہے،شہریارخان عموماً محاذ آرائی سے گریز کرتے مگر بعض اوقات میڈیا میں ایسی باتیں کر جاتے ہیں جس سے نجم سیٹھی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے کچھ عرصے قبل وہ سپرلیگ کی کھلے عام مخالفت کر بیٹھے اور بعد میں دباؤ کے سبب بیان سے پھرنا پڑا،اب بھارت کے پاس سیریز کیلیے ہاتھ پھیلانے کی ایک وجہ بڑی دلچسپ ہے، نئے بی سی سی آئی چیف ششانک منوہر نے ہنس کر فون پر دو باتیں کیا کر لیں، پی سی بی کے دونوں بڑے سمجھے اب تو سیریز ہو کر رہے گی۔
شہریارخان چاہتے تھے کہ گذشتہ دور کی طرح اس بار بھی پاک بھارت سیریز کے انعقاد کا کریڈٹ انھیں ملے، دوسری جانب نجم سیٹھی بگ تھری کی حمایت میں ایم او یو سائن کر کے آئے تھے، ان کی خواہش تھی کہ وہ سیریز کرا کے ہیرو بن جائیں مگر ہوا اس کے بالکل الٹ، دونوں اب سخت مشکل کا شکار ہیں، ایسے میں وطن واپسی پر جب شہریارخان نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے دور میں دستخط شدہ ایم او یو اہمیت نہیں رکھتا تو وہ بھڑک اٹھے، انھوں نے میڈیا میں آ کر چیئرمین کو اچھے الفاظ کا استعمال کر کے غلط بیانی کا مرتکب قرار دے دیا، ان کا کہنا تھا کہ شہریارخان اور ششانک کا بیگمات کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ رہا،چیئرمین اپنی بات پر قائم رہے کہ کسی نے انھیں بھارت میں نہ پوچھا بیگمات کی بات صرف شاپنگ کی حد تک محدود تھی، اس معاملے سے بورڈ کی مزید جگ ہنسائی ہوئی۔
ویسے آپس کی بات ہے ٹی وی پر نجم سیٹھی صاحب کی وضاحتیں دیکھ کر میں کنفیوژ ہو گیا ہوں کہ وہ کس کی طرف ہیں، وہ بی سی سی آئی کی وضاحتیں پیش کرتے ہوئے اپنے چیئرمین کو غلط قرار دے رہے تھے،بھارت کے نزدیک ہماری کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ کئی روز گزرنے کے باوجود کسی کا ایک مذمتی بیان بھی سامنے نہیں آیا، البتہ انوراگ ٹھاکر نے سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ '' موجودہ حالات میں سیریز ہوتی نظر نہیں آتی'' ،یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے بورڈ کو اب کس انکار کا انتظار ہے، بھارتی بورڈ بے وقوف نہیں، وہ جانتا ہے کہ اگر یہ کہا کہ حکومت کھیلنے سے روک رہی ہے توپاکستان کو کھیل میں سیاسی مداخلت کا ثبوت مل جائے گا اور وہ یہ معاملہ آئی سی سی میں اٹھا سکتا ہے۔
دوسری جانب ہمارے بورڈ کا یہ حال ہے کہ چیئرمین صاحب کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ ''اگر حکومت نے روکا تو ورلڈ ٹی 20کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں؟ ، شہریارخان سفارت کار رہ چکے، کم از کم ان سے ایسی بات کی توقع نہ تھی، اگر ایسا کوئی قدم اٹھانا بھی ہے تو حکومت کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت تھی، سب جانتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے، سیکیورٹی کے حقیقی خدشات کو جواز بنا کر بی سی سی آئی کو دھمکی دی جا سکتی تھی،بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان نہیں آئی مگر انھوں نے عدالتی حکم کو جواز بنایا، وہ دماغ لڑا سکتے ہیں مگر ہم ایسی باتیں کر کے خود اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
ایک بات سب کو پتا ہے کہ اگر بھارتی حکومت کہے تو پاکستان سے سیریز 10دن کے نوٹس پر بھی ہو سکتی ہے، یہ کھیل نہیں بلکہ سیاسی معاملہ بن چکا، ایسے میں انتظار کرنا چاہیے، حالیہ بعض واقعات سے مودی سرکار کو بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، ممکن ہے اپنا ''سافٹ امیج'' سامنے لانے کیلیے وہ پاکستان سے میچز کی اجازت دیدے، بورڈ کے آگے ہاتھ جوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا۔
حالیہ تنازع سے ملک کی بڑی بدنامی ہوئی، حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، ایک جہاز کے دو پائلٹ اور دونوں اپنی اپنی سمت میں اسے لے جانا چاہتے ہیں اس سے وہ منزل پر پہنچنے کے بجائے کریش ہی ہو جائے گا، کسی ایک کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے کام کرنے دیا جائے، یا پھر دونوں کو ہٹاکر نئی ٹیم لائی جائے، تب ہی معاملات کچھ بہتر ہو سکیں گے۔ بھارت میں ناخوشگوار واقعے کے بعد میڈیا ڈپارٹمنٹ کا کردار بھی مایوس کن رہا، کسی نے بھی معاملات واضح کرنے کیلیے کوئی کوشش نہ کی جس کے سبب پی سی بی کا امیج مزید بگڑ گیا۔
آخر میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی فتح کا کچھ ذکر ہو جائے، یاسر شاہ، ذوالفقار بابر، وہاب ریاض، محمد حفیظ،اسد شفیق، یونس خان اور مصباح الحق سمیت تمام کھلاڑیوں نے اپنا کردار بخوبی نبھایا جس کی وجہ سے یہ کامیابی ممکن ہوئی، البتہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ گذشتہ سیریز کے میچزآسانی سے جیت رہے تھے اب بمشکل تمام فتح ملی، پہلا ٹیسٹ ہارتے ہارتے بچے تھے اب بھی جب حق میں فیصلہ ہوا تو 6.3 اوورز کا کھیل ہی باقی تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلش ٹیم سے ٹکر کا مقابلہ ہو رہا ہے، سیریز برابر ہونے سے بچانے کیلیے شارجہ ٹیسٹ میں جان لڑا دینا ہو گی۔
اوپننگ کا شعبہ کچھ کمزور دکھائی دیتا ہے، شان مسعود نے گوکہ ایک اچھی اننگز کھیلی مگر اب شاید الیون میں جگہ بنانے کیلیے اظہر علی کو ہی ون ڈے کی طرح ٹیسٹ میں اننگز کے آغازکا موقع فراہم کیا جائے، دوسرے ٹیسٹ میں یونس خان نے سنچری بنائی، ''دیرآئے درست آئے'' کے مصداق بورڈ نے جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے پر انھیں10لاکھ روپے دینے کا اچھا فیصلہ کیا ہے، اس سے سینئر بیٹسمین کو مستقبل میںبھی مزید عمدہ کھیل پیش کرنے کی ترغیب ملے گی، آج ان کے اعزاز میں دبئی میں تقریب بھی ہو رہی ہے، اس دعا کے ساتھ اختتام کرتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین کا اعزاز بھی حاصل کر لیں۔