انگلینڈ نے جوز بٹلر کی قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا
شارجہ میں جونی بیئر اسٹو وکٹ کیپنگ کریں گے، جیمز ٹیلر کی 3 برس بعد واپسی ہو گی
جوز بٹلر کی وکٹ کیپنگ پوزیشن محفوظ نہیں اور انھیں رنز بنانے کی ضرورت ہے، انگلش کوچ۔ فوٹو: فائل
پاکستان سے ٹیسٹ سیریز میں شکست سے بچنے کیلیے انگلینڈ نے جوز بٹلر کی قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا، شارجہ میں وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری جونی بیئراسٹو نبھائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف دبئی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 178 رنز سے شکست ہوئی، سیریز میں 0-1 سے خسارے میں جانے کے بعد مینجمنٹ نے پلیئنگ الیون میں ردوبدل کا فیصلہ کرلیا، اس سلسلے میں براہ راست بجلی جوز بٹلر پر گرائی گئی جو وکٹ کیپنگ کے ساتھ بطور بیٹسمین بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔
انھوں نے گذشتہ 12 اننگز میں ایک بھی ففٹی نہیں بنائی، دبئی میں پہلی اننگز میں وہ صفر کی خفت سے دوچارہوئے جب کہ دوسری باری میں 7 رنز پر اننگز کا اختتام ہوگیا۔ وکٹوں کے عقب میں بھی پاکستان کی دوسری اننگز کے دوران انھوں نے چند مواقع ضائع کیے، اس وجہ سے انھیں شارجہ میں اتوار سے شروع ہونے والے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں باہر بٹھانے کا فیصلہ کرلیا گیا، بٹلرکی جگہ وکٹ کیپنگ جونی بیئر اسٹو کریں گے جب کہ نمبر پانچ پوزیشن پر جیمز ٹیلر کی واپسی ہوگی جنھوں نے آخری ٹیسٹ 3 برس قبل کھیلا تھا،انھیں ستمبر میں آسٹریلیا کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ کی ٹرننگ پچ پر ون ڈے سنچری اسکور کرنے کی وجہ سے گیری بیلنس پر ترجیح دیتے ہوئے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔
کوچ ٹریور بیلس نے کہاکہ جوز بٹلر کی وکٹ کیپنگ پوزیشن محفوظ نہیں، یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ وہ فارم میں نہیں ہیں، انھیں رنز بنانے کی ضرورت ہے، جہاں تک بات جیمز ٹیلر کی ہے وہ ہمارے اسپن کے بہترین پلیئرز میں سے ایک ہیں، وہ تیزی سے اپنے قدموں کا استعمال کرتے ہوئے باہر نکل کر اسٹروک کھیل سکتے ہیں۔ انھوں نے پریکٹس میچز میں بھی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے، اس لیے انھیں ہم مڈل آرڈر کے استحکام کیلیے میدان میں اتار سکتے ہیں، وہ ایک عمدہ فیلڈر اور ٹیم مین جب کہ فارم بھی اچھی ہے۔ بیلس نے کپتان کک کی فٹنس کے حوالے سے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں، گذشتہ دونوں ٹیسٹ کے دوران وہ 90 فیصد وقت فیلڈ میں ہی رہے، ابھی تیسرے اور آخری میچ میں کچھ وقت ہے تب تک تھکن دور کر لیں گے۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف دبئی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 178 رنز سے شکست ہوئی، سیریز میں 0-1 سے خسارے میں جانے کے بعد مینجمنٹ نے پلیئنگ الیون میں ردوبدل کا فیصلہ کرلیا، اس سلسلے میں براہ راست بجلی جوز بٹلر پر گرائی گئی جو وکٹ کیپنگ کے ساتھ بطور بیٹسمین بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔
انھوں نے گذشتہ 12 اننگز میں ایک بھی ففٹی نہیں بنائی، دبئی میں پہلی اننگز میں وہ صفر کی خفت سے دوچارہوئے جب کہ دوسری باری میں 7 رنز پر اننگز کا اختتام ہوگیا۔ وکٹوں کے عقب میں بھی پاکستان کی دوسری اننگز کے دوران انھوں نے چند مواقع ضائع کیے، اس وجہ سے انھیں شارجہ میں اتوار سے شروع ہونے والے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں باہر بٹھانے کا فیصلہ کرلیا گیا، بٹلرکی جگہ وکٹ کیپنگ جونی بیئر اسٹو کریں گے جب کہ نمبر پانچ پوزیشن پر جیمز ٹیلر کی واپسی ہوگی جنھوں نے آخری ٹیسٹ 3 برس قبل کھیلا تھا،انھیں ستمبر میں آسٹریلیا کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ کی ٹرننگ پچ پر ون ڈے سنچری اسکور کرنے کی وجہ سے گیری بیلنس پر ترجیح دیتے ہوئے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔
کوچ ٹریور بیلس نے کہاکہ جوز بٹلر کی وکٹ کیپنگ پوزیشن محفوظ نہیں، یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ وہ فارم میں نہیں ہیں، انھیں رنز بنانے کی ضرورت ہے، جہاں تک بات جیمز ٹیلر کی ہے وہ ہمارے اسپن کے بہترین پلیئرز میں سے ایک ہیں، وہ تیزی سے اپنے قدموں کا استعمال کرتے ہوئے باہر نکل کر اسٹروک کھیل سکتے ہیں۔ انھوں نے پریکٹس میچز میں بھی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے، اس لیے انھیں ہم مڈل آرڈر کے استحکام کیلیے میدان میں اتار سکتے ہیں، وہ ایک عمدہ فیلڈر اور ٹیم مین جب کہ فارم بھی اچھی ہے۔ بیلس نے کپتان کک کی فٹنس کے حوالے سے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں، گذشتہ دونوں ٹیسٹ کے دوران وہ 90 فیصد وقت فیلڈ میں ہی رہے، ابھی تیسرے اور آخری میچ میں کچھ وقت ہے تب تک تھکن دور کر لیں گے۔