کراچی میں خطرناک عمارتیں منہدم کرنے کیلیے لائحہ عمل تیار

شہربھر کی301 خطرناک مخدوش قراردی گئیں عمارتیں زلزلے کے معمولی جھٹکوں کوبھی برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں

شہربھر کی301 خطرناک مخدوش قراردی گئیں عمارتیں زلزلے کے معمولی جھٹکوں کوبھی برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ فوٹو: فائل

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹرجنرل ممتاز حیدر کی زیرصدارت ہونے والے ایک اجلاس میں پاکستان کے بڑے رقبے میں شدید زلزلے کے باعث تباہی کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات کا نوٹس لیتے ہوئے شہر میں واقع خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو منہدم کیے جانے کے حوالے سے کمشنر کی ہدایات کے مطابق لائحہ عمل طے کرلیا گیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق ایس بی سی اے کراچی ہیڈکوراٹرمیں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قائم مقام ڈائریکٹرجنرل ممتاز حیدر نے کہاہے کہ شہربھر کی 301 خطرناک مخدوش قراردی گئی عمارتیں اپنے خستہ وتباہ حال بنیادی ڈھانچے کے سبب زلزلے کے معمولی جھٹکوں کوبھی برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں اور حادثے کی صورت میں بڑے المیے کاسبب بن سکتی ہیں، اس سلسلے میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کئی سالوں سے مکینوںکونوٹسز اور بذریعہ میگافون اعلانات کے ساتھ ہی بارہا پرنٹ میڈیا میں شایع کرائے گئے اشتہارات میں خبردارکیا گیا ہے جب کہ ان عمارتوں کی نشاندہی کے حوالے سے فہرست کی اشاعت سے عوام الناس کوآگاہی فراہم کی جاتی رہی ہے، انھوں نے کہاکہ خطرناک قراردی گئی عمارتوں پر انہدامی کارروائی کے سلسلے میں ہمیںکمشنر کراچی کی واضح ہدایات اور ان کی سرپرستی میں ایس بی سی اے کوبلدیاتی وانتظامی اداروں کی مدد وتعاون درکارہے، انھوں نے کہاکہ اس ضمن متعلقہ اداروں و محکموں میں یوٹیلٹی کنکشن کو منقطع کرنے کے حوالے سے خطوط ارسال کیے جاچکے جبکہ قومی ورثہ کے ضمن میں شامل عمارتوں کے حوالے سے لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جاچکا ہے۔

اجلاس میں بتایاگیاکہ ایس بی سی اے کی جانب سے مذکورہ عمارتوں پر انہدامی عمل کے سلسلے میں انہدمی عملے سمیت بینرز، اشتہارات اورآگاہی کیمپ کی تیاریاں مکمل ہیں، اجلاس میں خطرناک عمارتوں کے حامل ٹاؤنز کے ڈائریکٹرزآف بلڈنگز شریک تھے، واضح رہے کہ ایس بی سی اے کی ماہرین تعمیرات وانجینئرز پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک عمارت کے مستقل جاری سروے رپورٹس کی بنیاد پر اب تک شہر کی 301 عمارتوں کوخطرناک ،انتہائی مخدوش اور ناقابل رہائش ودیگراستعمال قراردیاگیاہے، صدرٹاؤن میں 236 خطرناک عمارتیں واقع ہیں جب کہ بلترتیب جمشید ٹاؤن میں 11، لیاری کی 21، لیاقت آباد میں 18کیماڑی 3، بلدیہ ٹاؤن 3، ملیر ٹاؤن 2، شاہ فیصل ٹاؤن 2 جب کہ گلشن اقبال، گلبرگ، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور سائٹ ٹاؤن کی ایک ایک عمارتیں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ایس بی سی اے نے خطرناک عمارتوں کے مکینوں، دکانداروں اوراستعمال کنندہ کو خبردار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں اور مالی نقصانات سے تحفظ کی خاطر ان رہائشی عمارتوں کوفی الفورخالی کیاجائے۔
Load Next Story