بھارتی دھاگے پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کو4ڈالر9 سینٹ کی قیمت پر 25 ہزار 983 میٹرک ٹن کاٹن یارن برآمد کیا
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کو4ڈالر9 سینٹ کی قیمت پر 25 ہزار 983 میٹرک ٹن کاٹن یارن برآمد کیا۔ فوٹو: فائل
حکومت کی جانب سے نیشنل ٹیرف کمیشن سے مشاورت کیے بغیر بھارت سے دھاگے کی درآمد پر یکم نومبر2015سے ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 10 فیصد کرنے سے ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی چھوٹی ودرمیانی درجے کی صنعتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیں گی، پاکستان اپیرل فورم نے حکومت کے مذکورہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فی الفورواپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ حکومت نے بھارت سے دھاگے پرریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا کر ٹیکسٹائل اسپننگ ملز کومزید مراعات فراہم کردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی پالیسی 2012-15کے تحت بھارت سے کپڑے کی درآمد پر پہلے ہی پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نے یارن پر ریگولیٹری ڈیوٹی10 فیصد کردی ہے جواس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت نے اس فیصلے سے قبل کسی قسم کی کوئی تحقیق نہیں کی اور نہ ہی اس بات کا خیال رکھا کہ اس فیصلے کے کیا نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ اسپننگ ملز بھارتی کاٹن اور کاٹن یارن کی اسپننگ کی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے حوالے سے مطمئن نہیں کرسکیں، ساتھ ہی نیشنل ٹیرف کمیشن ابھی ان ٹیرف کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ حکومت نے یکم نومبر سے ریگولیٹری ڈیوٹی کو 10 فیصد کرنے کا یک طرفہ فیصلہ سنا دیا، اگرحکومت کو تمام فیصلے خود کرنے ہیں تو نیشنل ٹیرف کمیشن کو ختم کردیا جائے۔
چیئرمین پاکستان اپیرل فورم جاوید بلوانی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو سستا دھاگہ برآمد نہیں کر رہا ہے، اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کو4ڈالر9 سینٹ کی قیمت پر 25 ہزار 983 میٹرک ٹن کاٹن یارن برآمد کیا جبکہ اسی سال بھارت کی جانب سے چین کو 2 ڈالر 91 فی کلوکی قیمت پر 5 لاکھ 21 ہزار 831 میٹرک ٹن، بنگلہ دیش کو 3 ڈالر 52 سینٹ فی کلو کی قیمت پر 1 لاکھ 58 ہزار 466 میٹرک ٹن کاٹن یارن فروخت کیا، اسی طرح مصر، ویتنام اور ترکی سمیت دیگر ممالک کو بھی پاکستان سے زائد قیمت پر دھاگہ فروخت کیا گیا، 2013-14 میں بھارت سے یارن کی درآمد 33ملین کلو گرام رہی اور 2014-15 میں 22 ملین کلوگرام رہی جو گزشتہ سال کی درآمد سے 33 فیصد کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں بھی جب ٹیکسٹائل اسپننگ سیکٹر نے پاکستان کی تاریخ میںسب سے زیادہ ریکارڈ منافع حاصل کیا اس وقت بھی چند اسپننگ ملز نقصان ظاہر کررہی تھی اوران اسپننگ ملوں کی آج بھی صورتحال یہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بھارت سے دھاگے کی درآمد پر عائد 10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔
پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ حکومت نے بھارت سے دھاگے پرریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا کر ٹیکسٹائل اسپننگ ملز کومزید مراعات فراہم کردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی پالیسی 2012-15کے تحت بھارت سے کپڑے کی درآمد پر پہلے ہی پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نے یارن پر ریگولیٹری ڈیوٹی10 فیصد کردی ہے جواس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت نے اس فیصلے سے قبل کسی قسم کی کوئی تحقیق نہیں کی اور نہ ہی اس بات کا خیال رکھا کہ اس فیصلے کے کیا نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ اسپننگ ملز بھارتی کاٹن اور کاٹن یارن کی اسپننگ کی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے حوالے سے مطمئن نہیں کرسکیں، ساتھ ہی نیشنل ٹیرف کمیشن ابھی ان ٹیرف کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ حکومت نے یکم نومبر سے ریگولیٹری ڈیوٹی کو 10 فیصد کرنے کا یک طرفہ فیصلہ سنا دیا، اگرحکومت کو تمام فیصلے خود کرنے ہیں تو نیشنل ٹیرف کمیشن کو ختم کردیا جائے۔
چیئرمین پاکستان اپیرل فورم جاوید بلوانی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو سستا دھاگہ برآمد نہیں کر رہا ہے، اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کو4ڈالر9 سینٹ کی قیمت پر 25 ہزار 983 میٹرک ٹن کاٹن یارن برآمد کیا جبکہ اسی سال بھارت کی جانب سے چین کو 2 ڈالر 91 فی کلوکی قیمت پر 5 لاکھ 21 ہزار 831 میٹرک ٹن، بنگلہ دیش کو 3 ڈالر 52 سینٹ فی کلو کی قیمت پر 1 لاکھ 58 ہزار 466 میٹرک ٹن کاٹن یارن فروخت کیا، اسی طرح مصر، ویتنام اور ترکی سمیت دیگر ممالک کو بھی پاکستان سے زائد قیمت پر دھاگہ فروخت کیا گیا، 2013-14 میں بھارت سے یارن کی درآمد 33ملین کلو گرام رہی اور 2014-15 میں 22 ملین کلوگرام رہی جو گزشتہ سال کی درآمد سے 33 فیصد کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں بھی جب ٹیکسٹائل اسپننگ سیکٹر نے پاکستان کی تاریخ میںسب سے زیادہ ریکارڈ منافع حاصل کیا اس وقت بھی چند اسپننگ ملز نقصان ظاہر کررہی تھی اوران اسپننگ ملوں کی آج بھی صورتحال یہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بھارت سے دھاگے کی درآمد پر عائد 10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔