رانا ثنا کے کہنے پر لیگی رہنما بھولا گجر کو قتل کیا نوید کمانڈو کا اعترافی بیان
بھولا کے بارے میں صوبائی وزیرکو خدشہ تھاشیر علی گروپ میں جانے والا ہے، ڈیرے پر بلا کر قتل کا حکم دیا، نوید کمانڈو
ایس پی سطح کا افسر ایک ماہ میں تفتیش مکمل کرے، عدالت، اعترافی بیان سازش ہے، رانا ثنا اللہ۔ فوٹو: فائل
مسلم لیگی رہنما بھولاگجر کے قتل کیس میں4 مرتبہ سزائے موت پانے والے ٹارگٹ کلر نوید کمانڈو کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمع کرایا گیا بیان منظر عام پرآگیا ہے جس میں نوید کمانڈو نے الزام لگایا ہے کہ اس نے بھولا گجر کا قتل صوبائی وزیرقانون رانا ثنا اللہ خان کے کہنے پرکیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ خان کو خدشہ تھا کہ بھولا گجر شیرعلی گروپ یا پی ٹی آئی میں جانے والا ہے، ایک دن رانا ثنا اﷲ خان نے اس کیس کے مفرور ملزم سابق ایس ایچ او فرخ وحید کو اپنے ڈیرے پر بلا کر ان خدشات کا اظہارکیا تھا، رانا ثنا اﷲ نے اس موقع پر مجھے کہا کہ بھولا گجرکو قتل کردو، میں تمہارا ساتھ دونگا، میں نے عاتکہ ایڈووکیٹ کے گھر سے بھولا گجرکا پیچھاکیا اور سیتا مندر کے قریب جاکر ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ عدالت نے رانا ثنااﷲ خان سے ایک ماہ کے اندر تفتیش کا حکم دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس پی سطح سے کم افسر سے اس کی تفتیش نہ کرائی جائے۔ اس ضمن میں عدالتی حکم سی پی او کے پاس پہنچ گیا ہے۔
نوید کمانڈو نے اعترافی بیان میں مزید کہا کہ بھولاگجرکو کلاشنکوف سے قتل کرکے اسلحہ راناثنااﷲ کے ڈیرے پرجمع کرایا اور قتل کی اطلاع رانا ثنااﷲ کو وائبرکے ذریعے دی۔ اس نے مزید کہا کہ مجھ پر تشدد کرکے کہاگیا کہ رانا ثنا اﷲ کا نام نہیں لینا اور میں کچھ عرصہ روپوش رہا۔
دوسری جانب وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اﷲ کا کہنا ہے کہ بھولا گجر میرا بھائی تھا جسے 9 جنوری کوقتل کر دیا گیا، الزام لگانے والے سے ملاقات تو دورکی بات ہے کبھی فون پر بھی بات نہیں ہوئی۔ رانا ثنااﷲ نے نوید کے الزام کو بے بنیاد اور سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سارے شہرکو پتہ ہے کہ اس کیس کا مدعی راناثناءﷲ ہے اور یہ چال کیس خراب کرنے کیلیے چلی گئی، کرایے کے قاتل کے بیان کی بنیاد پر کیس کو خراب نہیں کیا جاسکتا، اگر تفتیش کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتاہے تو ضرور پہنچنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ خان کو خدشہ تھا کہ بھولا گجر شیرعلی گروپ یا پی ٹی آئی میں جانے والا ہے، ایک دن رانا ثنا اﷲ خان نے اس کیس کے مفرور ملزم سابق ایس ایچ او فرخ وحید کو اپنے ڈیرے پر بلا کر ان خدشات کا اظہارکیا تھا، رانا ثنا اﷲ نے اس موقع پر مجھے کہا کہ بھولا گجرکو قتل کردو، میں تمہارا ساتھ دونگا، میں نے عاتکہ ایڈووکیٹ کے گھر سے بھولا گجرکا پیچھاکیا اور سیتا مندر کے قریب جاکر ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ عدالت نے رانا ثنااﷲ خان سے ایک ماہ کے اندر تفتیش کا حکم دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس پی سطح سے کم افسر سے اس کی تفتیش نہ کرائی جائے۔ اس ضمن میں عدالتی حکم سی پی او کے پاس پہنچ گیا ہے۔
نوید کمانڈو نے اعترافی بیان میں مزید کہا کہ بھولاگجرکو کلاشنکوف سے قتل کرکے اسلحہ راناثنااﷲ کے ڈیرے پرجمع کرایا اور قتل کی اطلاع رانا ثنااﷲ کو وائبرکے ذریعے دی۔ اس نے مزید کہا کہ مجھ پر تشدد کرکے کہاگیا کہ رانا ثنا اﷲ کا نام نہیں لینا اور میں کچھ عرصہ روپوش رہا۔
دوسری جانب وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اﷲ کا کہنا ہے کہ بھولا گجر میرا بھائی تھا جسے 9 جنوری کوقتل کر دیا گیا، الزام لگانے والے سے ملاقات تو دورکی بات ہے کبھی فون پر بھی بات نہیں ہوئی۔ رانا ثنااﷲ نے نوید کے الزام کو بے بنیاد اور سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سارے شہرکو پتہ ہے کہ اس کیس کا مدعی راناثناءﷲ ہے اور یہ چال کیس خراب کرنے کیلیے چلی گئی، کرایے کے قاتل کے بیان کی بنیاد پر کیس کو خراب نہیں کیا جاسکتا، اگر تفتیش کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتاہے تو ضرور پہنچنا چاہیے۔