شعبہ صحت کی حالت زار
دنیا بھر میں عوام کی صحت کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے، بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے ایک معقول رقم رکھی جاتی ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
دنیا بھر میں عوام کی صحت کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے، بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے ایک معقول رقم رکھی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں شعبہ صحت کو ہمیشہ سے اس طرح نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ یہاں تعلیم اور صحت پر دو تین فیصد حصہ بجٹ میں رکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری شعبے کے اسپتالوں کی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ اسپتال یتیم خانوں میں بدل کر رہ گئے ہیں۔ کراچی جیسے ملک کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ صنعتی اور تجارتی شہر میں جس کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے صرف تین بڑے اسپتال ہیں۔ سرکاری شعبے میں اسپتالوں کے اس قحط کی وجہ سے پرائیویٹ شعبے کے اسپتال لوٹ مار کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
شہر کے غریب طبقات پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کا سوچ بھی نہیں سکتے، کراچی کی دو کروڑ آبادی کے لیے نہ ٹرانسپورٹ کا معقول انتظام ہے نہ ٹریفک قوانین پر پابندی کا اہتمام ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر روز ٹریفک حادثات میں درجنوں اموات ہوتی ہیں اور درجنوں افراد زخمی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف حوالوں سے ایمرجنسی میں مبتلا سیکڑوں لوگ ہر روز سرکاری اسپتالوں کے شعبہ حادثات کا رخ کرتے ہیں اگر کوئی بڑا حادثہ ہو جائے تو سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں جگہ یعنی بستروں کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں بستر نہ ہونے کی وجہ ایمرجنسی مریضوں کو ایمرجنسی وارڈز کے فرش پر لٹانا پڑتا ہے۔ دوسرے ملکوں میں عوام کو طبی سہولتیں سرکاری اسپتالوں میں اس طرح فراہم کی جاتی ہیں کہ ہمارے پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی اس قسم کی سہولتوں کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بیرونی ملکوں میں کام کرنے والوں کی شرائط ملازمت میں اگر طبی سہولتوں کی فراہمی شامل ہو تو بیرونی ملکوں کے ملازمین کو ملکی عوام جیسی طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، کیونکہ ان ملکوں میں تعلیم اور طبی سہولتوں کی عوام کو فراہمی حکومت کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہوتی ہے۔
پاکستان کے دوسرے کم یا غیر ترقی یافتہ شہروں میں طبی سہولتوں کا کیا حال ہو گا، اس کا اندازہ ملک کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر کراچی میں دستیاب طبی سہولتوں سے کیا جا سکتا ہے۔ دو کروڑ سے زیادہ انسانوں کے اس شہر میں سرکاری شعبے میں قائم اسپتالوں کی بدترین صورتحال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
کراچی شہر میں سرکاری شعبے میں تین بڑے اسپتال جناح، سول اور عباسی شہید اسپتال ہیں۔ اس کے علاوہ 9 اور چھوٹے سرکاری اسپتال ہیں جملہ بارہ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کا اندازہ اس ناگفتہ بہ صورتحال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان بارہ سرکاری اسپتالوں میں موجود مجموعی بستروں کی تعداد 6 ہزار ہے۔ کراچی کی آبادی کے لحاظ سے سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں بستروں کی تعداد مجموعی بستروں کی تعداد کے 5 فیصد سے بھی کم ہے۔ سرکاری شعبے میں موجود ایمرجنسی وارڈز کے بستروں کی مجموعی تعداد 293 ہے۔
جناح اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 1450 ہے جس میں ایمرجنسی وارڈ میں صرف 120 بستر ہیں۔ سول اسپتال میں کل بستروں کی تعداد 1842 ہے شعبہ حادثات میں صرف 30 بستر مختص ہیں۔
عباسی شہید اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 1000 ہے جس میں سے صرف 30 بستر ایمرجنسی وارڈ کے لیے مختص کیے گئے ہیں یہی حال کراچی کے دوسرے 9 سرکاری اسپتالوں کا ہے سندھ گورنمنٹ اسپتال ابراہیم حیدری میں کل 50 بستر ہیں، سعود آباد اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 150 ہے، کورنگی کے سرکاری اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 250 ہے۔ اربن ہیلتھ سینٹر نارتھ کراچی میں کل بستروں کی تعداد 50 ہے، کراچی کی 2 کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے طبی سہولتوں کا کیا حال ہے اس کا اندازہ اوپر دیے گئے اعداد و شمار سے ہو سکتا ہے جناح اور سول میں مریضوں کو ایڈمیشن کے لیے ہفتوں فٹ پاتھوں پر انتظار کرنا پڑتا ہے۔
تعلیم اور صحت دو انسانوں کی ایسی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہیں، جن کی فراہمی حکومتوں کی اولین ذمے داری ہوتی ہے لیکن ان دو شعبوں کو سرکاری سطح پر اس طرح نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ اس کا ازالہ لازماً پرائیویٹ سیکٹر ہی کر سکتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں چونکہ پرائیویٹ سیکٹر لوٹ مار کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی صحت کے حوالے سے پرائیویٹ اسپتال لوٹ مار کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، چونکہ ہمارے ملک میں ہر کام بلا روک ٹوک رشوت سے ہو جاتا ہے لہٰذا صحت کے شعبے میں بھی عطائی ازم عام ہے کسی بھی ڈاکٹر کے نام کی تختی لگا کر کمپاؤنڈر حضرات دھڑلے سے عوام کا بیڑہ غرق علاج کرتے نظر آتے ہیں جعلی اسپتالوں اور عطائی معالجوں کے خلاف بار بار آپریشن کیے جاتے ہیں لیکن صورتحال میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ 'مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی' والا معاملہ درپیش رہتا ہے۔
یہ بدترین صورتحال اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ قانون ساز ادارے عوام دشمن نمایندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ عوامی نمایندوں کے نام پر قانون ساز اداروں میں جو اکابرین موجود ہیں انھیں عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کا پرائیویٹ سیکٹر البتہ اس قدر بزی ہوتا ہے کہ پبلک سیکٹر کے لیے وقت نکالنا ان عوامی نمایندوں کے لیے ممکن ہی نہیں رہتا۔
اس صورتحال کا سرسری جائزہ لینے سے اصل بیماری کا پتہ نہیں چل سکتا۔ اس بیماری کی جڑیں ہمارے سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام میں ہر شعبے کی ترقی کے لیے نجکاری یعنی پرائیوٹائزیشن لازمی ہے اور جب کسی ادارے کو پرائیویٹ شعبے میں دے دیا جاتا ہے تو کارکردگی میں فرق تو آ جاتا ہے لیکن لوٹ مار کا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے اس کا مشاہدہ ہم شعبہ صحت سمیت تمام شعبوں میں کر سکتے ہیں۔
شہر کے غریب طبقات پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کا سوچ بھی نہیں سکتے، کراچی کی دو کروڑ آبادی کے لیے نہ ٹرانسپورٹ کا معقول انتظام ہے نہ ٹریفک قوانین پر پابندی کا اہتمام ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر روز ٹریفک حادثات میں درجنوں اموات ہوتی ہیں اور درجنوں افراد زخمی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف حوالوں سے ایمرجنسی میں مبتلا سیکڑوں لوگ ہر روز سرکاری اسپتالوں کے شعبہ حادثات کا رخ کرتے ہیں اگر کوئی بڑا حادثہ ہو جائے تو سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں جگہ یعنی بستروں کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں بستر نہ ہونے کی وجہ ایمرجنسی مریضوں کو ایمرجنسی وارڈز کے فرش پر لٹانا پڑتا ہے۔ دوسرے ملکوں میں عوام کو طبی سہولتیں سرکاری اسپتالوں میں اس طرح فراہم کی جاتی ہیں کہ ہمارے پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی اس قسم کی سہولتوں کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بیرونی ملکوں میں کام کرنے والوں کی شرائط ملازمت میں اگر طبی سہولتوں کی فراہمی شامل ہو تو بیرونی ملکوں کے ملازمین کو ملکی عوام جیسی طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، کیونکہ ان ملکوں میں تعلیم اور طبی سہولتوں کی عوام کو فراہمی حکومت کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہوتی ہے۔
پاکستان کے دوسرے کم یا غیر ترقی یافتہ شہروں میں طبی سہولتوں کا کیا حال ہو گا، اس کا اندازہ ملک کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر کراچی میں دستیاب طبی سہولتوں سے کیا جا سکتا ہے۔ دو کروڑ سے زیادہ انسانوں کے اس شہر میں سرکاری شعبے میں قائم اسپتالوں کی بدترین صورتحال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
کراچی شہر میں سرکاری شعبے میں تین بڑے اسپتال جناح، سول اور عباسی شہید اسپتال ہیں۔ اس کے علاوہ 9 اور چھوٹے سرکاری اسپتال ہیں جملہ بارہ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کا اندازہ اس ناگفتہ بہ صورتحال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان بارہ سرکاری اسپتالوں میں موجود مجموعی بستروں کی تعداد 6 ہزار ہے۔ کراچی کی آبادی کے لحاظ سے سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں بستروں کی تعداد مجموعی بستروں کی تعداد کے 5 فیصد سے بھی کم ہے۔ سرکاری شعبے میں موجود ایمرجنسی وارڈز کے بستروں کی مجموعی تعداد 293 ہے۔
جناح اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 1450 ہے جس میں ایمرجنسی وارڈ میں صرف 120 بستر ہیں۔ سول اسپتال میں کل بستروں کی تعداد 1842 ہے شعبہ حادثات میں صرف 30 بستر مختص ہیں۔
عباسی شہید اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 1000 ہے جس میں سے صرف 30 بستر ایمرجنسی وارڈ کے لیے مختص کیے گئے ہیں یہی حال کراچی کے دوسرے 9 سرکاری اسپتالوں کا ہے سندھ گورنمنٹ اسپتال ابراہیم حیدری میں کل 50 بستر ہیں، سعود آباد اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 150 ہے، کورنگی کے سرکاری اسپتال میں بستروں کی کل تعداد 250 ہے۔ اربن ہیلتھ سینٹر نارتھ کراچی میں کل بستروں کی تعداد 50 ہے، کراچی کی 2 کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے طبی سہولتوں کا کیا حال ہے اس کا اندازہ اوپر دیے گئے اعداد و شمار سے ہو سکتا ہے جناح اور سول میں مریضوں کو ایڈمیشن کے لیے ہفتوں فٹ پاتھوں پر انتظار کرنا پڑتا ہے۔
تعلیم اور صحت دو انسانوں کی ایسی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہیں، جن کی فراہمی حکومتوں کی اولین ذمے داری ہوتی ہے لیکن ان دو شعبوں کو سرکاری سطح پر اس طرح نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ اس کا ازالہ لازماً پرائیویٹ سیکٹر ہی کر سکتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں چونکہ پرائیویٹ سیکٹر لوٹ مار کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی صحت کے حوالے سے پرائیویٹ اسپتال لوٹ مار کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، چونکہ ہمارے ملک میں ہر کام بلا روک ٹوک رشوت سے ہو جاتا ہے لہٰذا صحت کے شعبے میں بھی عطائی ازم عام ہے کسی بھی ڈاکٹر کے نام کی تختی لگا کر کمپاؤنڈر حضرات دھڑلے سے عوام کا بیڑہ غرق علاج کرتے نظر آتے ہیں جعلی اسپتالوں اور عطائی معالجوں کے خلاف بار بار آپریشن کیے جاتے ہیں لیکن صورتحال میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ 'مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی' والا معاملہ درپیش رہتا ہے۔
یہ بدترین صورتحال اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ قانون ساز ادارے عوام دشمن نمایندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ عوامی نمایندوں کے نام پر قانون ساز اداروں میں جو اکابرین موجود ہیں انھیں عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کا پرائیویٹ سیکٹر البتہ اس قدر بزی ہوتا ہے کہ پبلک سیکٹر کے لیے وقت نکالنا ان عوامی نمایندوں کے لیے ممکن ہی نہیں رہتا۔
اس صورتحال کا سرسری جائزہ لینے سے اصل بیماری کا پتہ نہیں چل سکتا۔ اس بیماری کی جڑیں ہمارے سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام میں ہر شعبے کی ترقی کے لیے نجکاری یعنی پرائیوٹائزیشن لازمی ہے اور جب کسی ادارے کو پرائیویٹ شعبے میں دے دیا جاتا ہے تو کارکردگی میں فرق تو آ جاتا ہے لیکن لوٹ مار کا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے اس کا مشاہدہ ہم شعبہ صحت سمیت تمام شعبوں میں کر سکتے ہیں۔