بھارت کے تاخیری حربے پاکستانی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا
سیریز کی تصدیق کیلیے 6 نومبر کی حتمی ڈیڈلائن دے دی، جلد جواب نہ آیا تو سمجھیں گے کھیلنے کیلیے تیار نہیں ہیں، شہریار
مجھے اب یو اے ای میں باہمی مقابلوں کی زیادہ امید نہیں، شہریارخان۔ فوٹو: فائل
بھارت کے تاخیری حربوں پر پاکستانی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا، پی سی بی نے سیریز کی تصدیق کیلیے6 نومبر کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی۔
تفصیلات کے مطابق ایم او یو کے تحت پاکستان کو رواں سال دسمبر میں بھارت کی میزبانی کرنا ہے، پی سی بی نے نیوٹرل وینیو کے طور پر یو اے ای کا انتخاب کیا، دوسری جانب بی سی سی آئی کا یہ موقف رہاکہ معاہدہ گذشتہ دور حکومت میں ہوا تھا، اب مودی سرکار سے اجازت کے بعد باہمی سیریز کیلیے ''ہاں'' کی جا سکتی ہے، ٹال مٹول کے اس طویل سفر کے دوران ہی دونوں ملکوں میں سیاسی کشیدگی بڑھی تو بھارتی بورڈ کو جواز تراشنے کے نئے مواقع مل گئے۔
ممبئی میں 19 اکتوبر کو پی سی بی کے وفد کو مذاکرات کیلیے بلایا گیا تو ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا نے بی سی سی آئی ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بول دیا، بورڈ نے دباؤ میں آکر نہ صرف مذاکرات منسوخ کیے بلکہ عجیب بے مروتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان سے رسمی معذرت تک کرنا گوارا نہیں کی، میٹنگ کا کوئی نیا شیڈول بھی نہیں دیا گیا، 9روز گزرنے کے بعد اب ملاقات منسوخ ہونے پر افسوس کا اظہارسامنے آیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ بھارتی بورڈ کا خط آگیا، انھوں نے افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ یہ بھی بتایاکہ اب سیریز کے حوالے سے باضابطہ طور پر اپنی حکومت سے رابطہ کرلیا ہے، چیئرمین نے کہا کہ میرا سال بھر سے یہی موقف رہا ہے کہ کوئی جواب دیں، دبئی میں آئی سی سی اجلاس کے دوران سری نواسن سے کہا تھا کہ دسمبر میں زیادہ وقت باقی نہیں، کب بتائیں گے، انھوں نے کہاکہ میں اب بی سی سی آئی کا صدر نہیں، ششانک منوہر سے بات کرلیں۔
سری نواسن کا رویہ مثبت تھا، مجھے ممبئی آنے کی دعوت بھی دی لیکن افسوس شیوسینا کے دھاوے کے بعد کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور حکام خاموش بیٹھے رہے، بھارتی کرکٹ حلقوں میں موجود دیگر دوستوں نے کہا کہ دہلی میں ملاقات ہوسکتی ہے لیکن بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی، اس حوالے سے خط لکھا تھا جس کا جواب آگیا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا بھارتی بورڈ کا اظہار افسوس کافی ہے شہریار خان نے کہاکہ کافی ہے یا نہیں ہمیں یہ بات چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا، ششانک منوہر نے تو بطور میزبان ہمارے لییہوٹل، گاڑیوں، پروٹوکول افسر سب کا انتظام کیا تھا، ان کی طرف سے مذاکرات کیلیے اچھی کوشش ہوئی لیکن انتہا پسندوں کی وجہ سے ہاتھ بندھ گئے، اب انھوں نے حکومت سے پوچھ لیا تو جواب بھی آہی جائے گا۔ بار بار 8یا 10روز میں حتمی فیصلے کی آس لگانے اور نومبر کے وسط تک جواب ملنے کی اطلاعات کے سوالات پر چیئرمین نے کہاکہ میرے خیال میں کوئی جواب جلد آجائے گا۔
شہریار خان نے کہا کہ 5 یا 6 نومبر تک انتظار کریں گے، ورنہ سمجھیں گے کہ وہ نہیں آرہے، ویسے مجھے اب یو اے ای میں باہمی مقابلوں کی زیادہ امید نہیں، سیریز کو 3 ون ڈے اور 2ٹی ٹوئنٹی تک محدود کرنے کے بارے میں شہریار خان نے کہا کہ فل سیریز کھیلنے کے حق میں ہوں، محدود اوورز کے میچز میں تفریح ضرور موجود لیکن کھیل کے معیار کی جانچ کا اصل پیمانہ ٹیسٹ کرکٹ ہے، پاکستان اور انگلینڈ کے مابین حال ہی میں یو اے ای میں ہونے والے دونوں میچز اس بات کا ثبوت ہیں تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، بھارت کی جانب سے صرف محدود اوورز کے میچز کی کوئی پیشکش ہوئی تو معاملے پر غور کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق ایم او یو کے تحت پاکستان کو رواں سال دسمبر میں بھارت کی میزبانی کرنا ہے، پی سی بی نے نیوٹرل وینیو کے طور پر یو اے ای کا انتخاب کیا، دوسری جانب بی سی سی آئی کا یہ موقف رہاکہ معاہدہ گذشتہ دور حکومت میں ہوا تھا، اب مودی سرکار سے اجازت کے بعد باہمی سیریز کیلیے ''ہاں'' کی جا سکتی ہے، ٹال مٹول کے اس طویل سفر کے دوران ہی دونوں ملکوں میں سیاسی کشیدگی بڑھی تو بھارتی بورڈ کو جواز تراشنے کے نئے مواقع مل گئے۔
ممبئی میں 19 اکتوبر کو پی سی بی کے وفد کو مذاکرات کیلیے بلایا گیا تو ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا نے بی سی سی آئی ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بول دیا، بورڈ نے دباؤ میں آکر نہ صرف مذاکرات منسوخ کیے بلکہ عجیب بے مروتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان سے رسمی معذرت تک کرنا گوارا نہیں کی، میٹنگ کا کوئی نیا شیڈول بھی نہیں دیا گیا، 9روز گزرنے کے بعد اب ملاقات منسوخ ہونے پر افسوس کا اظہارسامنے آیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ بھارتی بورڈ کا خط آگیا، انھوں نے افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ یہ بھی بتایاکہ اب سیریز کے حوالے سے باضابطہ طور پر اپنی حکومت سے رابطہ کرلیا ہے، چیئرمین نے کہا کہ میرا سال بھر سے یہی موقف رہا ہے کہ کوئی جواب دیں، دبئی میں آئی سی سی اجلاس کے دوران سری نواسن سے کہا تھا کہ دسمبر میں زیادہ وقت باقی نہیں، کب بتائیں گے، انھوں نے کہاکہ میں اب بی سی سی آئی کا صدر نہیں، ششانک منوہر سے بات کرلیں۔
سری نواسن کا رویہ مثبت تھا، مجھے ممبئی آنے کی دعوت بھی دی لیکن افسوس شیوسینا کے دھاوے کے بعد کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور حکام خاموش بیٹھے رہے، بھارتی کرکٹ حلقوں میں موجود دیگر دوستوں نے کہا کہ دہلی میں ملاقات ہوسکتی ہے لیکن بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی، اس حوالے سے خط لکھا تھا جس کا جواب آگیا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا بھارتی بورڈ کا اظہار افسوس کافی ہے شہریار خان نے کہاکہ کافی ہے یا نہیں ہمیں یہ بات چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا، ششانک منوہر نے تو بطور میزبان ہمارے لییہوٹل، گاڑیوں، پروٹوکول افسر سب کا انتظام کیا تھا، ان کی طرف سے مذاکرات کیلیے اچھی کوشش ہوئی لیکن انتہا پسندوں کی وجہ سے ہاتھ بندھ گئے، اب انھوں نے حکومت سے پوچھ لیا تو جواب بھی آہی جائے گا۔ بار بار 8یا 10روز میں حتمی فیصلے کی آس لگانے اور نومبر کے وسط تک جواب ملنے کی اطلاعات کے سوالات پر چیئرمین نے کہاکہ میرے خیال میں کوئی جواب جلد آجائے گا۔
شہریار خان نے کہا کہ 5 یا 6 نومبر تک انتظار کریں گے، ورنہ سمجھیں گے کہ وہ نہیں آرہے، ویسے مجھے اب یو اے ای میں باہمی مقابلوں کی زیادہ امید نہیں، سیریز کو 3 ون ڈے اور 2ٹی ٹوئنٹی تک محدود کرنے کے بارے میں شہریار خان نے کہا کہ فل سیریز کھیلنے کے حق میں ہوں، محدود اوورز کے میچز میں تفریح ضرور موجود لیکن کھیل کے معیار کی جانچ کا اصل پیمانہ ٹیسٹ کرکٹ ہے، پاکستان اور انگلینڈ کے مابین حال ہی میں یو اے ای میں ہونے والے دونوں میچز اس بات کا ثبوت ہیں تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، بھارت کی جانب سے صرف محدود اوورز کے میچز کی کوئی پیشکش ہوئی تو معاملے پر غور کریں گے۔