یونس کی ون ڈے میں واپسی کوچ نے گیند سلیکٹرز کے کورٹ میں ڈال دی
تجربہ کار بیٹسمین بلاشبہ اچھی فارم میں ہیں لیکن میری رائے زیادہ وزن نہیں رکھتی، وقار یونس
کسی بھی کھلاڑی کی شمولیت کیلئے سلیکٹرز کی سوچ سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، کوچ قومی ٹیم۔ ۔ فوٹو : اے ایف پی/فائل
یونس خان کی ون ڈے اسکواڈ میں شمولیت کے معاملے میں ہیڈ کوچ وقار یونس نے گیند سلیکٹرز کے کورٹ میں ڈال دی۔
تفصیلات کے مطابق مڈل آرڈر میں مصباح الحق کا خلا پُر کرنے کے لیے یونس خان کو ون ڈے ٹیم کا حصہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے، یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ سلیکٹرز تجربہ کار بیٹسمین کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں آزمانے کے حق میں ہیں لیکن ٹیم مینجمنٹ خاص طور پر ہیڈ کوچ وقار یونس مخالفت کررہے ہیں، البتہ انھوں نے بڑی آسانی سے کسی مثبت یا منفی بات کا ملبہ اپنی ذات پر پڑنے کے امکانات مسترد کر دیئے۔
کوچ نے کہا کہ کسی معاملے پر سلیکٹرز اور مینجمنٹ میں اختلافات نہیں، ٹیم فتوحات کی راہ پر گامزن تو اس کا مطلب ہوا کہ سب میں افہمام وتفہیم کی اچھی فضا موجود ہے، یہ نہیں ہوتا کہ سلیکٹرز ایک کپتان دوسرے اور کوچ چوتھے صفحے پر ہو، سب کا اچھا تال میل ہی اچھے نتائج کے لیے راہ ہموار کرتا ہے، 11 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم میں بھی ہر کسی کا کردار اپنی جگہ اہم ہوتا ہے، سلیکٹرز، کوچز اور کپتان اپنا رول ادا کرتے ہیں۔
ہارون رشید کی یواے ای آمد کے سوال پر وقار یونس نے کہا کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اب چیف سلیکٹر ہیں، انگلینڈ کیخلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے بعد ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی شیڈول ہیں۔ وہ بات چیت کرنے کیلیے آرہے ہیں،ان کا نقطہ نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ہم بھی ضرور اپنی رائے سے آگاہ کرینگے کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں،یونس خان کو شامل کرنے کے سوال پر کوچ نے کہا کہ ان سمیت ٹیم کے ہر کھلاڑی پر بات ہوگی،ہم نے زمبابوے اور سری لنکا کیخلاف سیریز میں کئی نوجوان کھلاڑیوں کو آزمایا،ان سب کی کارکردگی اور امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یونس خان بلاشبہ اچھی فارم میں ہیں لیکن ان کے معاملے میں میری یا آپ کی رائے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، سلیکٹرز کی سوچ سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے،کپتان کا بھی متفق ہونا اہم ہوتا ہے، میں نہیں جانتا کہ وہ تجربہ کار بیٹسمین کے معاملے کو کس انداز میں دیکھتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مڈل آرڈر میں مصباح الحق کا خلا پُر کرنے کے لیے یونس خان کو ون ڈے ٹیم کا حصہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے، یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ سلیکٹرز تجربہ کار بیٹسمین کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں آزمانے کے حق میں ہیں لیکن ٹیم مینجمنٹ خاص طور پر ہیڈ کوچ وقار یونس مخالفت کررہے ہیں، البتہ انھوں نے بڑی آسانی سے کسی مثبت یا منفی بات کا ملبہ اپنی ذات پر پڑنے کے امکانات مسترد کر دیئے۔
کوچ نے کہا کہ کسی معاملے پر سلیکٹرز اور مینجمنٹ میں اختلافات نہیں، ٹیم فتوحات کی راہ پر گامزن تو اس کا مطلب ہوا کہ سب میں افہمام وتفہیم کی اچھی فضا موجود ہے، یہ نہیں ہوتا کہ سلیکٹرز ایک کپتان دوسرے اور کوچ چوتھے صفحے پر ہو، سب کا اچھا تال میل ہی اچھے نتائج کے لیے راہ ہموار کرتا ہے، 11 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم میں بھی ہر کسی کا کردار اپنی جگہ اہم ہوتا ہے، سلیکٹرز، کوچز اور کپتان اپنا رول ادا کرتے ہیں۔
ہارون رشید کی یواے ای آمد کے سوال پر وقار یونس نے کہا کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اب چیف سلیکٹر ہیں، انگلینڈ کیخلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے بعد ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی شیڈول ہیں۔ وہ بات چیت کرنے کیلیے آرہے ہیں،ان کا نقطہ نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ہم بھی ضرور اپنی رائے سے آگاہ کرینگے کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں،یونس خان کو شامل کرنے کے سوال پر کوچ نے کہا کہ ان سمیت ٹیم کے ہر کھلاڑی پر بات ہوگی،ہم نے زمبابوے اور سری لنکا کیخلاف سیریز میں کئی نوجوان کھلاڑیوں کو آزمایا،ان سب کی کارکردگی اور امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یونس خان بلاشبہ اچھی فارم میں ہیں لیکن ان کے معاملے میں میری یا آپ کی رائے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، سلیکٹرز کی سوچ سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے،کپتان کا بھی متفق ہونا اہم ہوتا ہے، میں نہیں جانتا کہ وہ تجربہ کار بیٹسمین کے معاملے کو کس انداز میں دیکھتے ہیں۔