زلزلہ متاثرین کی بحالی ماحولیات پر بھی توجہ دیں

پاکستان کے شمال مغربی علاقے اور جنوبی مغربی علاقے زلزلے کی فالٹ لائن کے دائرے میں آتے ہیں۔

مستقبل میں پاکستان کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ فوٹو: فائل

لاہور:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کی تحصیل داسو میں زلزلہ متاثرین سے خطاب کیا۔ انھوں نے داسو میں زرعی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 4 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں سیاحت کے فروغ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں مل کر ایک فنڈ قائم کریں گی، وفاقی و صوبائی حکومت کے ریلیف پیکیج سے متاثرین کی مشکلات میں کمی آئے گی، پیکیج پر کام شروع ہو چکاہے، تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد پیر سے چیکوں کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔

داسو میں ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کا معاملہ جلد حل کرلیا جائے گا،قراقرم ہائی وے کو موٹروے کی طرز پرکشادہ کیا جائے گا، علاقے میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں میں بھرتیاں صرف مقامی لوگوں سے کی جائیں گی،علاقے کے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے اسکول قائم کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ تین چار دن میں سب کو چیک مل جائیں جب کہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو امدادی رقم پہلے ہی پہنچائی جا رہی ہے۔ انھوں نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ہدایت کی کہ دور دراز اور دشوار علاقوں کے متاثرین کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سامان فراہم کیا جائے تاکہ شدید سردی میں متاثرین کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا زلزلہ زدہ علاقوں کا دورہ کرنا اور متاثرین کی بحالی کے کاموں کی نگرانی کرنا اچھی بات ہے۔ وزیراعظم نے داسو میں زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے جن اقدامات کا اعلان کیا، وہ درست اور بروقت ہیں۔ اگر متاثرین کو امدادی چیکوں کی بروقت فراہمی ہو جاتی ہے تو اس سے بحالی کا کام بہتر طریقے سے ہو سکے گا۔ خیبرپختونخوا کے شمالی علاقوں اور گلگت بلتستان میں شدید سردی پڑ رہی ہے اور آیندہ دنوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا اور برفباری بھی بڑھے گی جس کی وجہ سے امدادی کام سر انجام دینا خاصا مشکل ہو جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بحالی کے کاموں کی رفتار کو بڑھایا جائے۔ وزیراعظم نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر کا بھی ذکر کیا اور سیاحتی حوالے سے بھی بات کی۔ بلاشبہ پہاڑی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دے کرعلاقے میں خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔ان علاقوں میں ڈیم تعمیرکر کے بھی معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے لیکن یہ سارے منصوبے شروع کرنے اور انھیں تکمیل تک پہنچانے سے پہلے ماحولیات کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے شمال مغربی علاقے اور جنوبی مغربی علاقے زلزلے کی فالٹ لائن کے دائرے میں آتے ہیں۔ 8 اکتوبر2005 کو خوفناک زلزلہ آ چکا ہے اور اب 26 اکتوبر 2015ء کو شدید زلزلہ آیا، اس عرصے کے دوران ہلکے زلزلے بھی آتے رہے ہیں، 26 اکتوبر کے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس بھی آرہے ہیں۔


میڈیا کی اطلاع کے مطابق گزشتہ روز سوات اور گردونواح میں ایک مرتبہ پھر 3.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لہٰذا ضروری یہ ہے کہ ان علاقوں میں کوئی بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ خصوصاً بڑا ڈیم وغیرہ تعمیر کرنے سے پہلے جیالوجیکل سروے رپورٹس کو مدنظر رکھا جائے۔ یہاں تعمیر ہونے والے کثیر المنزلہ ہوٹلز اور دیگر عمارتوں کے ڈیزائن وغیرہ کو پرکھا جانا چاہیے تاکہ کسی ناگہانی صورت میں بھاری جانی و مالی نقصانات سے محفوظ رہا جا سکے۔

پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں کسی بھی حکومت نے ضروری اور ناگزیر معاملات پر توجہ نہیں دی۔ شاہراہوں کی تعمیر ہو یا ڈیمز کا معاملہ، کسی قسم کی کوئی فیکٹری لگانے کے معاملات ہوں، ماحولیاتی پہلوؤں پر کم ہی توجہ دی گئی ہے۔ اب بھی یہی طرز عمل جاری ہے۔ سڑکیں چوڑی کرتے وقت درختوں کا بے دریغ قتل کیا جاتا ہے۔

ہر شہر میں ہاؤسنگ پروجیکٹس کے نام پر زراعی اراضی ختم کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ درخت بھی بری طرح کاٹے جا رہے ہیں۔پاکستان کے شمال مغربی علاقوں، بلوچستان اور سندھ میں جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں جنگلات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ایک دو بڑے ذخیروں کے سوا پنجاب میں کہیں جنگل نظر نہیں آرہا۔زیر زمین پانی کو بری طرح استعمال کیا گیا،اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر سے پنجاب میں آنے والے تین دریاؤں میں پانی تقریباً ختم ہو گیا ہے جب کہ دریائے جہلم، چناب اور دریائے سندھ میں بھی پانی کم ہو رہا ہے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے پانی کی کمی بھی ایک بہت بڑا بحران ثابت ہو گا۔کسی حکومت نے ان پہلوؤں پر حقیقی معنوں میں توجہ نہیں دی۔ حکومتوں کی زیادہ توجہ اقتدار کو بچانے پر مرکوز رہی ۔ ماحولیات اس وقت پوری دنیا کے اہم ترین مسئلہ بن چکا ہے لیکن پاکستان میں ماحولیات کو اب بھی حکومتی ترجیحات میں اولیت حاصل نہیں ہے۔پاکستان میں آنے والے زلزلے ایک وارننگ ہے، حکومت کو ان پہلوؤں کا سائنسی انداز میں سامنا کرنا چاہیے۔

زلزلہ متاثرین کو امداد پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور اسی طرح زلزلہ متاثرین کی بحالی بھی پہلی ترجیح ہونی چاہیے لیکن اس کے بعد دوسری بڑی ترجیح ماحولیات کو دینی چاہیے ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے ، جنگلات کی کٹائی روکنے اور پانی کی کمی کو دورکرنے کی پیش بندی جیسے اقدامات کرنے چاہئیں۔اسی طرح زلزلوں کی انفارمیشن کا نظام زیادہ بہتر بنایا جانا چاہیے۔ مستقبل میں پاکستان کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
Load Next Story