آتشزدگی کے واقعات احتیاط برتی جائے

ملک بھر میں جہاں کچی آبادیاں یا عارضی جھگیاں دالی جاتی ہیں وہاں آتشزدگی کے واقعات اکثر ہوتے ہیں

سال گزشتہ بھی کراچی، لاہور سمیت دیگر شہروں میں گیس ہیٹر اور جلتی انگیٹھی کے باعث آتشزدگی کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جمعرات کی دوپہر جھگیوں میں آتشزدگی کے باعث تین بچوں سمیت 5 افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے، نیز دو مزید مقامات پر 50 سے زائد جھگیاں جل کر خاکستر ہوگئیں۔ فائر بریگیڈ عملے کے کہنا ہے کہ فی الحال آگ لگنے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کہا جارہا ہے کہ مذکورہ واقعہ کھانا پکاتے ہوئے گیس سیلنڈر پھٹنے کے باعث پیش آیا لیکن تخریب کاری کا پہلو بھی زیر غور ہے۔

کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں ملک بھر سے آنے والے رہائش پذیر ہیں، پوش علاقوں کے ساتھ ہی پسماندہ بستیاں بھی قائم ہیں، کچی آبادی اور جھگیوں میں بسیرا کرنے والے افراد زیادہ تر آتشزدگی کے ان واقعات میں متاثر ہوتے ہیں۔ ان حادثات کے پیچھے جہاں انسانی غلطیاں کارفرما ہوتی ہیں وہیں شہر کی قیمتی زمین کو وا گزار کرانے اور اپنے قبضے میں لینے کے لیے شرپسند قبضہ و لینڈ مافیا کے کارندوں کی سازشیں بھی ماضی میں طشت از بام ہوتی رہی ہیں۔


آتشزدگی کا مذکورہ حالیہ واقعہ اپنی نوع کے گزشتہ واقعات سے مختلف نہیں، آتشزدگی میں ہلاکتیں افسوسناک ہیں، لیکن اسے صرف ایک حادثہ سمجھ کر بھلا نہیں دینا چاہیے بلکہ آتشزدگی کے ان واقعات پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔ نیز احتیاط لازم ہے، دیکھا گیا ہے کہ سردی کا موسم شدت پکڑتے ہی ملک بھر میں جہاں کچی آبادیاں یا عارضی جھگیاں دالی جاتی ہیں وہاں آتشزدگی کے واقعات اکثر ہوتے ہیں جس کا محرک گرمائش کے حصول کے لیے گیس ہیٹر اور آتش دان کے استعمال میں بے احتیاطی ہوتا ہے۔

اس سانحہ میں ایک ضعیف خاتون اور تین بچوںکا جھلس کر ہلاک ہوجانا سخت اندوہ ناک ہے۔سال گزشتہ بھی کراچی، لاہور سمیت دیگر شہروں میں گیس ہیٹر اور جلتی انگیٹھی کے باعث آتشزدگی کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔ مناسب ہوگا کہ شہری خود بھی احتیاط سے کام لیں نیز حکومتی سطح پر عوام میں آتشزدگی کے محرکات سے آگاہی کے لیے مہم چلائی جانی چاہیے۔ فائر بریگیڈ کے محکمے کو فعال اور تمام سہولیات بہم پہنچانے کے علاوہ آتشزدگی کے واقعات کا سدباب کیا جانا چاہیے۔
Load Next Story