اسٹیل ملزملازمین کاتنخواہیں نہ ملنے پراحتجاج
ادارے کوملازمین کے حوالے کرنے اورعدالت عظمیٰ سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
ادارے کوملازمین کے حوالے کرنے اورعدالت عظمیٰ سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ فوٹو: فائل
پاکستان اسٹیل ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کی گئیں اور ادارے کی تباہی کے ذمے داروں کا احتساب نہ کیا گیا تو ملازمین شدید احتجاج کریں گے۔
یہ بات پاکستان اسٹیل ملازمین کے احتجاجی مظاہرے سے پاسلو کے جنرل سیکریٹری ظفر خان، حاجی خان لاشاری، اکبر ناریجو، تنویر ایوب، شوکت کورائی، طارق اعوان ودیگر نے خطاب کے دوران کیا۔ ظفر خان نے کہاکہ پاکستان اسٹیل کو چلانے کے لیے فوری سنجیدہ اقدامات، کرپشن و تباہی کے ذمے داروں کا احتساب اور ملازمین کو 3ماہ کی تنخواہیں جاری نہ کی گئیں تو ملازمین شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ احتجاج کے دوران تنخواہیں نہ ملنے اور ادارے کو تالا بندی کی جانب لے جانے پر ملازمین میں شدید رد عمل پایا جاتا ہے اور وہ اپنے مطالبات کی حمایت میں بھرپور انداز میں نعرے بازی کررہے تھے۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ادارے کی تباہی اور کرپشن و بد انتظامی کے ذمے داروں کے خلاف تو آج تک کوئی کارروائی نہ کی گئی مگر اس کی سزا ملازمین کو دیتے ہوئے انہیں تنخواہ، میڈیکل سہولتوں، گریجویٹی اور پی ایف و دیگر مراعات سے محروم کردیا گیا، جون سے گیس پریشر بند ہے جس کی وجہ سے عملاً پلانٹ بند ہے، جمعرات کو ای سی سی کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ایجنڈے پر ہی نہیں تھا، وفاقی اور صوبائی حکومت بھی اسٹیل مل کے حوالے سے سنجیدگی کے بجائے وقت ضائع کررہی ہیں۔
اگر حکومت نے تنخواہیں ادا نہ کیں اور احتساب کے ذریعے لوٹی گئی دولت واپس نہ لی گئی تو ملازمین شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے اورہم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسٹیک ہولڈر کی حیثیت سے اسٹیل مل ملازمین کے حوالے کرے اور عدالت عظمیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے اور لوٹی گئی دولت واپس دلائی جائے۔
یہ بات پاکستان اسٹیل ملازمین کے احتجاجی مظاہرے سے پاسلو کے جنرل سیکریٹری ظفر خان، حاجی خان لاشاری، اکبر ناریجو، تنویر ایوب، شوکت کورائی، طارق اعوان ودیگر نے خطاب کے دوران کیا۔ ظفر خان نے کہاکہ پاکستان اسٹیل کو چلانے کے لیے فوری سنجیدہ اقدامات، کرپشن و تباہی کے ذمے داروں کا احتساب اور ملازمین کو 3ماہ کی تنخواہیں جاری نہ کی گئیں تو ملازمین شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ احتجاج کے دوران تنخواہیں نہ ملنے اور ادارے کو تالا بندی کی جانب لے جانے پر ملازمین میں شدید رد عمل پایا جاتا ہے اور وہ اپنے مطالبات کی حمایت میں بھرپور انداز میں نعرے بازی کررہے تھے۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ادارے کی تباہی اور کرپشن و بد انتظامی کے ذمے داروں کے خلاف تو آج تک کوئی کارروائی نہ کی گئی مگر اس کی سزا ملازمین کو دیتے ہوئے انہیں تنخواہ، میڈیکل سہولتوں، گریجویٹی اور پی ایف و دیگر مراعات سے محروم کردیا گیا، جون سے گیس پریشر بند ہے جس کی وجہ سے عملاً پلانٹ بند ہے، جمعرات کو ای سی سی کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ایجنڈے پر ہی نہیں تھا، وفاقی اور صوبائی حکومت بھی اسٹیل مل کے حوالے سے سنجیدگی کے بجائے وقت ضائع کررہی ہیں۔
اگر حکومت نے تنخواہیں ادا نہ کیں اور احتساب کے ذریعے لوٹی گئی دولت واپس نہ لی گئی تو ملازمین شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے اورہم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسٹیک ہولڈر کی حیثیت سے اسٹیل مل ملازمین کے حوالے کرے اور عدالت عظمیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے اور لوٹی گئی دولت واپس دلائی جائے۔