ہندوستانی دانشور قابلِ رشک مزاحمت
میرے لیے یہ بات باعثِ عزت و افتخار ہے کہ میرا خمیر ایک ایسی مٹی سے اٹھا،
zahedahina@gmail.com
میرے لیے یہ بات باعثِ عزت و افتخار ہے کہ میرا خمیر ایک ایسی مٹی سے اٹھا، جس نے یونان کی طرح عظیم عالم، دانشور، رشی، منی، شاعر اور ادیب پیدا کیے۔ ان لوگوں کی دھوم سارے جہان میں ہے۔ تحریک آزادی کے دوران کیسے کیسے رہنما، مدبر، دانشور، ادیب اور شاعر یہاں کے آسمان پرستاروں کی طرح چمکے۔ انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا عظیم الشان کام کیا اور جب، آزادی مل گئی تو آزاد انسانوں کے لیے جمہوریت، مساوات اور رواداری کے خواب دیکھے۔ انھوں نے ایک ایسے سماج کی تعمیر چاہی جہاں کا جمہوری نظام ذات، پات، مذہب، مسلک، رنگ اور نسل کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ جانے اور ریاست سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے۔
آزاد ہو جانے والے پاکستان اور ہندوستان میں ہم جن خوابوں کی تعبیر چاہتے تھے، وہ آہستہ آہستہ امید موہوم کا رنگ اختیار کر گئے۔ پاکستان میں جمہوریت کا جو حشر ہوا، اس سے ہم سب اجتماعی اور انفرادی طور پر گزرے ہیں لیکن ہمیں ہندوستان سے بہت سی امیدیں تھیں۔ وہاں جمہوریت پر مسز گاندھی کے زیر اقتدار 'ایمرجنسی' کی آفت ٹوٹی تھی لیکن اس وقت بھی وہاں کے ادیبوں، صحافیوں اور فنکاروں نے جبر کے اس حبس زدہ موسم کا مقابلہ اپنے قلم سے کیا تھا اور آج مذہب کے نام پر اقلیتوں کے ساتھ کچھ کٹر پنتھی اور تنگ نظر جو سلوک کر رہے ہیں، اس کے خلاف ہندوستانی ادیبوں، فنکاروں، تاریخ دانوں، سائنس دانوں اور فلمی اداکاروں حد تو یہ ہے کہ ریٹائر ہو جانے والے بعض اعلیٰ فوجی افسروں نے بھی جس طرح مورچہ لگایا ہے، اس کی ہم انھیں جس قدر بھی داد دیں وہ کم ہے۔
یہ معاملہ اگست میں اس وقت گرم ہونا شروع ہوا جب گووند پنساری، نریندر دھولکر اور کنٹر کے ایک سکیولر اسکالر جناب ایم ایم کل بُرگی اور بعض دوسرے لکھنے والوں کو ان کی روادار تحریروں اور ان کی وسیع المشربی کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا اور پھر داد ری میں ایک مسلمان کو گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں ظالمانہ طور پر ہلاک کیا گیا۔
نین تارا سہگل ایک مشہور ادیب ہیں۔ وہ چند مہینوں پہلے پاکستان آ چکی ہیں اور انھوں نے کراچی لٹریچر فیسٹول میں شرکت کی ہے۔ کراچی والوں نے ان کی شیریں بیانی سنی ہے اور انکساری دیکھی ہے۔ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال کی سگی بھانجی اور مسز وجے لکشمی پنڈت کی بیٹی ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے خاندانی پس منظر کے سبب وہ بھی کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتیں لیکن انھوں نے اپنے لیے ایک آزاد ادیب کا کردار منتخب کیا۔ یہ وہ تھیں جنھوں نے 6 اکتوبر 2015ء کو ساہتیہ اکیڈمی کا ایوارڈ احتجاجاً واپس کر دیا اور کہا کہ ''میں ملک میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے خلاف اور ملک میں اختلاف کرنے والوں کے حق کے لیے ساہتیہ اکیڈمی کا دیا ہوا اعزاز احتجاجاً واپس کر رہی ہوں''۔ ان کا یہ احتجاج بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا۔ اب تک اشوک واجپائی، کرشنا سوبتی، اودے پر کاش اور 500 سے زیادہ ادیب، شاعر مصور اور سائنس دان اپنے اپنے سرکاری اعزاز واپس کر چکے ہیں۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی سماج میں ادیبوں کا کیا کردار ہے۔ ان کا یہ رویہ صرف ان ہی ملکوں میں نہیں ہوتا جہاں آمرانہ حکومتیں ہوتی ہیں، جمہوری حکومتیں جب غاصبانہ قوت بن کر کسی دوسرے ملک پر یا اپنے ملک کی آزادیوں پر حملہ آور ہوتی ہیں تب بھی ادیبوں کی ذمے داری یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کریں اور حقوق انسانی کی پامالی کے راستے میں چٹان کی طرح کھڑے ہو جائیں۔ اس کی ایک بڑی مثال 2004ء میں امریکی شاعروں اور ادیبوں نے پیش کی۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکی فوجیں عراق پر قبضہ کر رہی تھیں اور نہتے شہریوں پر بمباری ہو رہی تھی۔
اس حوالے سے جب ہم اپنی طرف نظر کرتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں انسانوں پر ستم کے کوہ گراں ٹوٹے تو ہمارے ادیبوں کی اکثریت خاموش رہی بلکہ کچھ تو ایسے بھی تھے جو خون بہانے والوں کو داد و تحسین سے نوازتے رہے۔ ہم نے 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صرف چند دن بعد جنرل ضیاء الحق کی اس ضیافت کے مناظر دیکھے جس میں ملک بھر کے ادیب، شاعر اور نقاد مدعو کیے گئے تھے اور گنتی کے چند ادیبوں کو چھوڑ کر بیشتر سر کے بل اس تقریب میں گئے تھے، یہ لوگ اس وقت کے آمر کی قربت کے نشے میں سرشار تھے اور سولی کے سائے میں بچھنے والے دسترخوان سے فیض یاب ہوئے تھے۔ اس کے برعکس ہم نے دیکھا کہ عراق پر غاصبانہ امریکی قبضے کے دنوں میں امریکی خاتون اول مسز لارا بش نے وہائیٹ ہاؤس میں ایک شعری نشست کا اہتمام کیا اور اس کے دعوت نامے جاری ہوئے۔
اس دعوت نے امریکی ادیبوں اور شاعروں کو برافروختہ کر دیا۔ ہزاروں میل دور لاکھوں عراقیوں کے ہر انسانی حق کو چھینا جا رہا تھا اور امریکی شاعرو ں اور ادیبوں سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اپنی خاتون اول کی دعوت پر شاداں و فرحاں وہائٹ ہاؤس جائیں گے اور اپنے قلم کی آزادی وہائٹ ہاؤس کے طعام خانے میں گروی رکھ دیں گے۔ اس دعوت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اہم امریکی دانشوروں اور ادیبوں نے ای میل کے ذریعے ایک دوسرے کو یہ پیغام دیا کہ اس روز کوئی وہائٹ ہاؤس کا رخ نہیں کرے گا اور اس روز جنگ کے خلاف احتجاج کا دن منایا جائے گا۔
اس بات پر ہندوستانیوں کو ناز کرنا چاہیے کہ ان کے ادیب اور دانشور جمہوری روایات کے لیے استقامت سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 23 اکتوبر کو مشہور و معروف ادیبوں نے ساہتیہ اکیڈمی کا گھیراؤ کیا۔ ان میں خواتین بھاری تعداد میں تھیں۔ انھوں نے منہ پر سیاہ کپڑے باندھ رکھے تھے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ ہماری زباں بندی کی جا رہی ہے جسے ہم تسلیم نہیں کریں گے۔
کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ عدم برداشت اور نفرت پھیلانے والے یہ لوگ شاید ایم ایس گول والکر کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جنھوں نے تقسیم سے کچھ پہلے ہندو مسلم تضاد کو ختم کرنے کے لیے یہ نسخہ تجویز کیا تھا کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ وہی کرنا چاہیے جو ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ ان کے اس جملے پر اس وقت بہت احتجاج ہوا تھا لیکن کسی نے بھی اسے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔
اس وقت ہندوستانی ادیبوں اور فنکاروں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ لکھنا چھوڑ دیں؟ جیسا مشورہ انھیں ایک وزیر نے دیا ہے۔ 53 اہم اور مشہور تاریخ دانوں نے عدم رواداری اور زبان بندی کے موجودہ ماحول کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ ان میں رومیلا تھاپر، عرفان حبیب، کے این پانیکر اور مردولا مکھرجی جیسے نامی گرامی مورخین شامل ہیں۔ 5 ادیب جو ساہتیہ اکیڈمی میں مختلف عہدوں پر تھے انھوں نے اس صورت حال پر احتجاج کرتے ہوئے استعفے دے دیے ہیں کہ ملک میں آزاد آوازوں کا جس طرح گلا گھونٹا جا رہا ہے اور عدم برداشت کا غلبہ ہو رہا ہے، اس کے بعد ساہتیہ اکیڈمی سے وابستہ رہنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ میگسیے جیسا باوقار ایوارڈ لینے والے سابق ہندوستانی نیول چیف ایڈمرل لکشمی نرائن رام داس نے اس بارے میں ہندوستانی صدر اور وزیر اعظم کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جو ہندوستان کے تمام اہم اخباروں میں شایع ہوا۔
انھوں نے جہاں بہت سی کھری کھری باتیں لکھی ہیں، وہیں یہ بھی لکھا ہے کہ میں جس ہندو ازم کو جانتا ہوں اس کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ میں 45 برس تک ہندوستانی فوج سے وابستہ رہا ہوں جس میں تمام مذاہب اور مسالک کے ماننے والے کام کرتے ہیں۔ وہاں مجھے ایک جان ہو کر لڑنے، ایک ساتھ کھانے، ایک ساتھ زندہ رہنے اور ایک ساتھ مر جانے کی تربیت دی گئی تھی۔ آج ہندوستان میں جس طرح کا تشدد روا رکھا جا رہا ہے اقلیتوں کو جس طرح ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی جان پر بن آئی ہے، اسے دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا ہے''۔
رام داس جی کا یہ خط، شرمیلا ٹیگور کا تفصیلی انٹرویو ، ڈوگری کی مشہور ادیب پدما سچدیو کا بیان ہمیں یاد لاتا ہے کہ جنگ، فسادات اور تنازعات کے زمانے میں ادیب حُب وطن یا مذہبی وابستگی کا نعرہ مارتے ہوئے کسی ایک فریق کے نہیں، انسان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
ہندوستانی سماج اس وقت ایک ہیجانی صورت حال سے گزر رہا ہے۔ ایک عام ہندوستانی اس سے گھبرایا ہوا ہے۔ اس مرحلے پر ہندوستانی ادیبوں، تاریخ دانوں، دانشوروں، فن کاروں اور اداکاروں نے جس استقامت سے انتہا پسندی اور عدم رواداری کے خلاف آواز بلند کی ہے، وہ ہمیں رشک میں مبتلا کرتی ہے۔
آزاد ہو جانے والے پاکستان اور ہندوستان میں ہم جن خوابوں کی تعبیر چاہتے تھے، وہ آہستہ آہستہ امید موہوم کا رنگ اختیار کر گئے۔ پاکستان میں جمہوریت کا جو حشر ہوا، اس سے ہم سب اجتماعی اور انفرادی طور پر گزرے ہیں لیکن ہمیں ہندوستان سے بہت سی امیدیں تھیں۔ وہاں جمہوریت پر مسز گاندھی کے زیر اقتدار 'ایمرجنسی' کی آفت ٹوٹی تھی لیکن اس وقت بھی وہاں کے ادیبوں، صحافیوں اور فنکاروں نے جبر کے اس حبس زدہ موسم کا مقابلہ اپنے قلم سے کیا تھا اور آج مذہب کے نام پر اقلیتوں کے ساتھ کچھ کٹر پنتھی اور تنگ نظر جو سلوک کر رہے ہیں، اس کے خلاف ہندوستانی ادیبوں، فنکاروں، تاریخ دانوں، سائنس دانوں اور فلمی اداکاروں حد تو یہ ہے کہ ریٹائر ہو جانے والے بعض اعلیٰ فوجی افسروں نے بھی جس طرح مورچہ لگایا ہے، اس کی ہم انھیں جس قدر بھی داد دیں وہ کم ہے۔
یہ معاملہ اگست میں اس وقت گرم ہونا شروع ہوا جب گووند پنساری، نریندر دھولکر اور کنٹر کے ایک سکیولر اسکالر جناب ایم ایم کل بُرگی اور بعض دوسرے لکھنے والوں کو ان کی روادار تحریروں اور ان کی وسیع المشربی کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا اور پھر داد ری میں ایک مسلمان کو گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں ظالمانہ طور پر ہلاک کیا گیا۔
نین تارا سہگل ایک مشہور ادیب ہیں۔ وہ چند مہینوں پہلے پاکستان آ چکی ہیں اور انھوں نے کراچی لٹریچر فیسٹول میں شرکت کی ہے۔ کراچی والوں نے ان کی شیریں بیانی سنی ہے اور انکساری دیکھی ہے۔ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال کی سگی بھانجی اور مسز وجے لکشمی پنڈت کی بیٹی ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے خاندانی پس منظر کے سبب وہ بھی کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتیں لیکن انھوں نے اپنے لیے ایک آزاد ادیب کا کردار منتخب کیا۔ یہ وہ تھیں جنھوں نے 6 اکتوبر 2015ء کو ساہتیہ اکیڈمی کا ایوارڈ احتجاجاً واپس کر دیا اور کہا کہ ''میں ملک میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے خلاف اور ملک میں اختلاف کرنے والوں کے حق کے لیے ساہتیہ اکیڈمی کا دیا ہوا اعزاز احتجاجاً واپس کر رہی ہوں''۔ ان کا یہ احتجاج بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا۔ اب تک اشوک واجپائی، کرشنا سوبتی، اودے پر کاش اور 500 سے زیادہ ادیب، شاعر مصور اور سائنس دان اپنے اپنے سرکاری اعزاز واپس کر چکے ہیں۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی سماج میں ادیبوں کا کیا کردار ہے۔ ان کا یہ رویہ صرف ان ہی ملکوں میں نہیں ہوتا جہاں آمرانہ حکومتیں ہوتی ہیں، جمہوری حکومتیں جب غاصبانہ قوت بن کر کسی دوسرے ملک پر یا اپنے ملک کی آزادیوں پر حملہ آور ہوتی ہیں تب بھی ادیبوں کی ذمے داری یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کریں اور حقوق انسانی کی پامالی کے راستے میں چٹان کی طرح کھڑے ہو جائیں۔ اس کی ایک بڑی مثال 2004ء میں امریکی شاعروں اور ادیبوں نے پیش کی۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکی فوجیں عراق پر قبضہ کر رہی تھیں اور نہتے شہریوں پر بمباری ہو رہی تھی۔
اس حوالے سے جب ہم اپنی طرف نظر کرتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں انسانوں پر ستم کے کوہ گراں ٹوٹے تو ہمارے ادیبوں کی اکثریت خاموش رہی بلکہ کچھ تو ایسے بھی تھے جو خون بہانے والوں کو داد و تحسین سے نوازتے رہے۔ ہم نے 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صرف چند دن بعد جنرل ضیاء الحق کی اس ضیافت کے مناظر دیکھے جس میں ملک بھر کے ادیب، شاعر اور نقاد مدعو کیے گئے تھے اور گنتی کے چند ادیبوں کو چھوڑ کر بیشتر سر کے بل اس تقریب میں گئے تھے، یہ لوگ اس وقت کے آمر کی قربت کے نشے میں سرشار تھے اور سولی کے سائے میں بچھنے والے دسترخوان سے فیض یاب ہوئے تھے۔ اس کے برعکس ہم نے دیکھا کہ عراق پر غاصبانہ امریکی قبضے کے دنوں میں امریکی خاتون اول مسز لارا بش نے وہائیٹ ہاؤس میں ایک شعری نشست کا اہتمام کیا اور اس کے دعوت نامے جاری ہوئے۔
اس دعوت نے امریکی ادیبوں اور شاعروں کو برافروختہ کر دیا۔ ہزاروں میل دور لاکھوں عراقیوں کے ہر انسانی حق کو چھینا جا رہا تھا اور امریکی شاعرو ں اور ادیبوں سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اپنی خاتون اول کی دعوت پر شاداں و فرحاں وہائٹ ہاؤس جائیں گے اور اپنے قلم کی آزادی وہائٹ ہاؤس کے طعام خانے میں گروی رکھ دیں گے۔ اس دعوت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اہم امریکی دانشوروں اور ادیبوں نے ای میل کے ذریعے ایک دوسرے کو یہ پیغام دیا کہ اس روز کوئی وہائٹ ہاؤس کا رخ نہیں کرے گا اور اس روز جنگ کے خلاف احتجاج کا دن منایا جائے گا۔
اس بات پر ہندوستانیوں کو ناز کرنا چاہیے کہ ان کے ادیب اور دانشور جمہوری روایات کے لیے استقامت سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 23 اکتوبر کو مشہور و معروف ادیبوں نے ساہتیہ اکیڈمی کا گھیراؤ کیا۔ ان میں خواتین بھاری تعداد میں تھیں۔ انھوں نے منہ پر سیاہ کپڑے باندھ رکھے تھے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ ہماری زباں بندی کی جا رہی ہے جسے ہم تسلیم نہیں کریں گے۔
کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ عدم برداشت اور نفرت پھیلانے والے یہ لوگ شاید ایم ایس گول والکر کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جنھوں نے تقسیم سے کچھ پہلے ہندو مسلم تضاد کو ختم کرنے کے لیے یہ نسخہ تجویز کیا تھا کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ وہی کرنا چاہیے جو ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ ان کے اس جملے پر اس وقت بہت احتجاج ہوا تھا لیکن کسی نے بھی اسے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔
اس وقت ہندوستانی ادیبوں اور فنکاروں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ لکھنا چھوڑ دیں؟ جیسا مشورہ انھیں ایک وزیر نے دیا ہے۔ 53 اہم اور مشہور تاریخ دانوں نے عدم رواداری اور زبان بندی کے موجودہ ماحول کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ ان میں رومیلا تھاپر، عرفان حبیب، کے این پانیکر اور مردولا مکھرجی جیسے نامی گرامی مورخین شامل ہیں۔ 5 ادیب جو ساہتیہ اکیڈمی میں مختلف عہدوں پر تھے انھوں نے اس صورت حال پر احتجاج کرتے ہوئے استعفے دے دیے ہیں کہ ملک میں آزاد آوازوں کا جس طرح گلا گھونٹا جا رہا ہے اور عدم برداشت کا غلبہ ہو رہا ہے، اس کے بعد ساہتیہ اکیڈمی سے وابستہ رہنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ میگسیے جیسا باوقار ایوارڈ لینے والے سابق ہندوستانی نیول چیف ایڈمرل لکشمی نرائن رام داس نے اس بارے میں ہندوستانی صدر اور وزیر اعظم کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جو ہندوستان کے تمام اہم اخباروں میں شایع ہوا۔
انھوں نے جہاں بہت سی کھری کھری باتیں لکھی ہیں، وہیں یہ بھی لکھا ہے کہ میں جس ہندو ازم کو جانتا ہوں اس کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ میں 45 برس تک ہندوستانی فوج سے وابستہ رہا ہوں جس میں تمام مذاہب اور مسالک کے ماننے والے کام کرتے ہیں۔ وہاں مجھے ایک جان ہو کر لڑنے، ایک ساتھ کھانے، ایک ساتھ زندہ رہنے اور ایک ساتھ مر جانے کی تربیت دی گئی تھی۔ آج ہندوستان میں جس طرح کا تشدد روا رکھا جا رہا ہے اقلیتوں کو جس طرح ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی جان پر بن آئی ہے، اسے دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا ہے''۔
رام داس جی کا یہ خط، شرمیلا ٹیگور کا تفصیلی انٹرویو ، ڈوگری کی مشہور ادیب پدما سچدیو کا بیان ہمیں یاد لاتا ہے کہ جنگ، فسادات اور تنازعات کے زمانے میں ادیب حُب وطن یا مذہبی وابستگی کا نعرہ مارتے ہوئے کسی ایک فریق کے نہیں، انسان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
ہندوستانی سماج اس وقت ایک ہیجانی صورت حال سے گزر رہا ہے۔ ایک عام ہندوستانی اس سے گھبرایا ہوا ہے۔ اس مرحلے پر ہندوستانی ادیبوں، تاریخ دانوں، دانشوروں، فن کاروں اور اداکاروں نے جس استقامت سے انتہا پسندی اور عدم رواداری کے خلاف آواز بلند کی ہے، وہ ہمیں رشک میں مبتلا کرتی ہے۔