بلدیاتی الیکشن ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی کامیابی
پنجاب اور سندھ میں ان انتخابات کے پہلے مرحلے کے انعقاد سے جمہوری نظام کا بنیادی مرحلہ مکمل ہوا ہے۔
پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو عوامی خواہشات پر پورا اترنا چاہیے تاکہ جمہوری نظام حقیقی معنوں میں مضبوط ہو سکے۔ فوٹو: فائل
ہفتہ کوپنجاب کے 12 اضلاع اور سندھ کے 8 اضلاع میں پہلے مرحلے کے ابتدائی بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلزپارٹی نے بھاری اکثریت سے میدان مار کر اپنی برتری ایک بار پھر ثابت کر دی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) پہلے، آزاد امیدوار دوسرے، تحریک انصاف تیسرے اور پیپلزپارٹی چوتھے نمبر پر رہی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی پہلے، آزاد امیدوار دوسرے اور فنکشنل لیگ تیسرے نمبر پر رہی۔ اس طرح دونوں صوبوں میں آزاد امیدوار دوسری بڑی قوت بن کر سامنے آئے جو میئرشپ کے چناؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تحریک انصاف جو پنجاب میں حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی رہی ہے، ان انتخابات میں اس بڑی تعداد میں نشستیں حاصل نہیں کر سکی جس کی اس سے امیدیں وابستہ تھیں مگر حکمران جماعت نے غیرمعمولی اکثریت حاصل کی ہے۔ تحریک انصاف کے قائدین کو ان وجوہات پر غور کرنا چاہیے جو ان کی شکست کا باعث بنی ہیں۔ جذباتی ماحول پیدا کرنے کے بجائے تکنیکی اور حقیقی بنیادوں پر اپنا احتساب کرتے ہوئے ان خامیوں اور غلطیوں کی اصلاح کی جائے جو اس جماعت کے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہیں۔ طاقتور اپوزیشن جمہوریت کا حسن ہوتی ہے جو حکمران جماعت کو عوامی فلاح کے لیے زیادہ سے زیادہ متحرک رکھتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 19 نومبر اور تیسرے مرحلے کے لیے 5 دسمبر کو ہو گی۔
پنجاب اور سندھ میں ان انتخابات کے پہلے مرحلے کے انعقاد سے جمہوری نظام کا بنیادی مرحلہ مکمل ہوا ہے۔ اب منتخب نمائندوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل پر بھرپور توجہ دیں جس کے لیے ان کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عوام اپنے مسائل حل نہ کرنے والے سیاست دانوں کو ووٹ کی طاقت اور پرامن طریقے سے اقتدار سے باہر کر دیتے ہیں۔ ان انتخابات میں بعض حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحریک انصاف لاہور میں اپنے چیئرمین عمران خان کی یونین کونسل زمان پارک سے بھی شکست کھا گئی، ایم این اے شفقت محمود کے حلقے سے بھی پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ فیصل آباد میں چوہدری شیر علی کو اپنے بیٹے عامر شیر علی کی شکست سے بڑا دھچکا لگا جو رانا ثناء اللہ گروپ کے کارکن عاشق رحمانی سے ہار گئے۔ اسی طرح فیصل آباد کے سابق میئر ملک اشرف جنھیں چوہدری شیر علی کی حمایت حاصل تھی، رانا ثناء اللہ گروپ کے امین بٹ سے شکست کھا گئے۔ دوسری طرف سکھر میں 2 مرتبہ ایم پی اے رہنے والے پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر نصراللہ بلوچ بھی ہار گئے۔
ضلع وہاڑی میں (ن) لیگ کے ایم پی اے یوسف کسیلیہ کے تینوں بھائیوں نے گگومنڈی سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا وہ بھی ہار گئے۔ ضلع لودھراں کے حلقہ این اے 154 سے (ن) لیگی امیدواروں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں ووٹ ڈالا اور بلاول بھٹو نے نوڈیرو سندھ میں اپنی زندگی کا پہلا ووٹ ڈالا، اس حلقے سے پیپلزپارٹی نے تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ فریال تالپور کے ہوم اسٹیشن سے پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ فنکشنل کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ لاہور میں جماعت اسلامی اپنے گڑھ منصورہ میں کوئی بھی سیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی جہاں جماعت کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کا بیٹا پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر بھی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ ان انتخابات میں لڑائی جھگڑے کے ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے۔ سندھ کے ضلع خیرپور میں پیپلزپارٹی اور فنکشنل لیگ کے کارکنوں میں فائرنگ سے 12 افراد جاں بحق ہو گئے جب کہ ننکانہ صاحب میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے تصادم کے نتیجے میں ٹی پی آئی کے دو کارکن اور فیصل آباد میں ہوائی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ انتخابات میں لڑائی جھگڑوں اور تصادم کے واقعات روکنے کے لیے سیکیورٹی کے معقول انتظامات کیے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ ناخوشگوار واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت بھی کرنا چاہیے تاکہ وہ انتخابات کے موقع پر پرامن رہتے ہوئے دنگافساد سے گریز کریں اور انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ انتخابات کے حوالے سے بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ دھاندلی کے الزامات روکنے کے لیے حکومت کو بائیومیٹرک سسٹم اپنانے پر توجہ دینا چاہیے تاکہ شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب انتخابی بے ضابطگیوں پر بھی قابو پانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ فتح اور شکست انتخابات کا حصہ ہوتی ہے ،ہارنے والے امیدوار کو بلاجواز دھاندلی کے الزامات عائد کرنے کے بجائے شکست کو تسلیم کر لینا چاہیے تاکہ جمہوریت کا حسن برقرار رہے۔ اب پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلزپارٹی نچلی سطح سے اوپر کی سطح تک اقتدار کی مالک ہیں۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتیں کہ انھیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو عوامی خواہشات پر پورا اترنا چاہیے تاکہ جمہوری نظام حقیقی معنوں میں مضبوط ہو سکے۔
تحریک انصاف جو پنجاب میں حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی رہی ہے، ان انتخابات میں اس بڑی تعداد میں نشستیں حاصل نہیں کر سکی جس کی اس سے امیدیں وابستہ تھیں مگر حکمران جماعت نے غیرمعمولی اکثریت حاصل کی ہے۔ تحریک انصاف کے قائدین کو ان وجوہات پر غور کرنا چاہیے جو ان کی شکست کا باعث بنی ہیں۔ جذباتی ماحول پیدا کرنے کے بجائے تکنیکی اور حقیقی بنیادوں پر اپنا احتساب کرتے ہوئے ان خامیوں اور غلطیوں کی اصلاح کی جائے جو اس جماعت کے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہیں۔ طاقتور اپوزیشن جمہوریت کا حسن ہوتی ہے جو حکمران جماعت کو عوامی فلاح کے لیے زیادہ سے زیادہ متحرک رکھتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 19 نومبر اور تیسرے مرحلے کے لیے 5 دسمبر کو ہو گی۔
پنجاب اور سندھ میں ان انتخابات کے پہلے مرحلے کے انعقاد سے جمہوری نظام کا بنیادی مرحلہ مکمل ہوا ہے۔ اب منتخب نمائندوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل پر بھرپور توجہ دیں جس کے لیے ان کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عوام اپنے مسائل حل نہ کرنے والے سیاست دانوں کو ووٹ کی طاقت اور پرامن طریقے سے اقتدار سے باہر کر دیتے ہیں۔ ان انتخابات میں بعض حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحریک انصاف لاہور میں اپنے چیئرمین عمران خان کی یونین کونسل زمان پارک سے بھی شکست کھا گئی، ایم این اے شفقت محمود کے حلقے سے بھی پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ فیصل آباد میں چوہدری شیر علی کو اپنے بیٹے عامر شیر علی کی شکست سے بڑا دھچکا لگا جو رانا ثناء اللہ گروپ کے کارکن عاشق رحمانی سے ہار گئے۔ اسی طرح فیصل آباد کے سابق میئر ملک اشرف جنھیں چوہدری شیر علی کی حمایت حاصل تھی، رانا ثناء اللہ گروپ کے امین بٹ سے شکست کھا گئے۔ دوسری طرف سکھر میں 2 مرتبہ ایم پی اے رہنے والے پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر نصراللہ بلوچ بھی ہار گئے۔
ضلع وہاڑی میں (ن) لیگ کے ایم پی اے یوسف کسیلیہ کے تینوں بھائیوں نے گگومنڈی سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا وہ بھی ہار گئے۔ ضلع لودھراں کے حلقہ این اے 154 سے (ن) لیگی امیدواروں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں ووٹ ڈالا اور بلاول بھٹو نے نوڈیرو سندھ میں اپنی زندگی کا پہلا ووٹ ڈالا، اس حلقے سے پیپلزپارٹی نے تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ فریال تالپور کے ہوم اسٹیشن سے پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ فنکشنل کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ لاہور میں جماعت اسلامی اپنے گڑھ منصورہ میں کوئی بھی سیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی جہاں جماعت کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کا بیٹا پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر بھی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ ان انتخابات میں لڑائی جھگڑے کے ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے۔ سندھ کے ضلع خیرپور میں پیپلزپارٹی اور فنکشنل لیگ کے کارکنوں میں فائرنگ سے 12 افراد جاں بحق ہو گئے جب کہ ننکانہ صاحب میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے تصادم کے نتیجے میں ٹی پی آئی کے دو کارکن اور فیصل آباد میں ہوائی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ انتخابات میں لڑائی جھگڑوں اور تصادم کے واقعات روکنے کے لیے سیکیورٹی کے معقول انتظامات کیے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ ناخوشگوار واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت بھی کرنا چاہیے تاکہ وہ انتخابات کے موقع پر پرامن رہتے ہوئے دنگافساد سے گریز کریں اور انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ انتخابات کے حوالے سے بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ دھاندلی کے الزامات روکنے کے لیے حکومت کو بائیومیٹرک سسٹم اپنانے پر توجہ دینا چاہیے تاکہ شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب انتخابی بے ضابطگیوں پر بھی قابو پانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ فتح اور شکست انتخابات کا حصہ ہوتی ہے ،ہارنے والے امیدوار کو بلاجواز دھاندلی کے الزامات عائد کرنے کے بجائے شکست کو تسلیم کر لینا چاہیے تاکہ جمہوریت کا حسن برقرار رہے۔ اب پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلزپارٹی نچلی سطح سے اوپر کی سطح تک اقتدار کی مالک ہیں۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتیں کہ انھیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو عوامی خواہشات پر پورا اترنا چاہیے تاکہ جمہوری نظام حقیقی معنوں میں مضبوط ہو سکے۔