میڈیا کارکنوں کا تحفظ اور ریاست
میڈیا کو ریاست، نان اسٹیٹ ایکٹرز اور پولیٹیکل گروپس کی طرف سے خاصے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ملک میں آئین وقانون اور جمہوریت کی حکمرانی اس وقت تسلیم کی جاتی ہے جب عوام تک اطلاعات پہنچانے والے آزادی سے کام کر سکیں۔ فوٹو : فائل
گزشتہ ایک عشرے کے دوران پاکستان کے میڈیا نے بہت نمایاں ترقی اور وسعت اختیار کی ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں اس حوالے سے میڈیا کو بہت سی رکاوٹیں بھی پیش آئیں اس کے باوجود پاکستان میں میڈیا بہت آزاد اور موثر طور پر خدمات انجام دیتا رہا۔ 2002ء میں نجی ٹی وی چینلز کے میدان میں آنے کے بعد پاکستانی میڈیا کے ماحول میں انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ اب ملکی سیاست سے لے کر سماجی اور ثقافتی پہلوؤں پر کھل کر بحث کی جاتی ہے جس سے سول سوسائٹی اور جمہوری عمل کو ملک میں تقویت حاصل ہوئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود بعض پہلو ایسے ہیں جن میں میڈیا کی آزادی کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔
میڈیا کو ریاست، نان اسٹیٹ ایکٹرز اور پولیٹیکل گروپس کی طرف سے خاصے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میڈیا کارکنوں کا تحفظ اور ان کی سلامتی ایک ایسا معاملہ ہے جس میں میڈیا تنظیموں اور کارکنوں کو گمبھیر صورت حال کا سامنا ہے۔ اس بناء پر پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کا ایک خطرناک ترین ملک قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان تقریباً چار عشروں تک ایک ''فرنٹ لائن اسٹیٹ'' رہا جس کے نتیجے میں معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہو گیا اور لوگوں کا احساس تحفظ خاصا مجروح ہوا۔ افغان جنگ کی وجہ سے افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملنے والے علاقے جن میں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور فاٹا شامل ہیں، وہ اخبار نویسوں کے لیے بے حد خطرناک علاقے بن گئے۔ پاکستان میں صحافیوں کی ہلاکتیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اس ملک میں میڈیا کو کس قسم کے خطرات درپیش ہیں۔
صحافی قتل ہی نہیں ہوئے بلکہ کئی صحافیوں کو خفیہ ایجنسیوں، عسکریت پسندوں، قبائلی اور فیوڈل لارڈز بلکہ بعض ایسی سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتی ہیں۔ پی پی ایف کے مطابق 2001ء سے لے کر اب تک 71 صحافی اور میڈیا کارکن اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوئے۔ ان میں سے 47 کو باقاعدہ ہدف بنا کر قتل کیا گیا لیکن ان میں سے صرف دو مجرموں کو عدالت سے سزا مل سکی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان معاملات پر غور کرے۔ ملک میں آئین وقانون اور جمہوریت کی حکمرانی اس وقت تسلیم کی جاتی ہے جب عوام تک اطلاعات پہنچانے والے آزادی سے کام کر سکیں۔
میڈیا کو ریاست، نان اسٹیٹ ایکٹرز اور پولیٹیکل گروپس کی طرف سے خاصے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میڈیا کارکنوں کا تحفظ اور ان کی سلامتی ایک ایسا معاملہ ہے جس میں میڈیا تنظیموں اور کارکنوں کو گمبھیر صورت حال کا سامنا ہے۔ اس بناء پر پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کا ایک خطرناک ترین ملک قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان تقریباً چار عشروں تک ایک ''فرنٹ لائن اسٹیٹ'' رہا جس کے نتیجے میں معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہو گیا اور لوگوں کا احساس تحفظ خاصا مجروح ہوا۔ افغان جنگ کی وجہ سے افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملنے والے علاقے جن میں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور فاٹا شامل ہیں، وہ اخبار نویسوں کے لیے بے حد خطرناک علاقے بن گئے۔ پاکستان میں صحافیوں کی ہلاکتیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اس ملک میں میڈیا کو کس قسم کے خطرات درپیش ہیں۔
صحافی قتل ہی نہیں ہوئے بلکہ کئی صحافیوں کو خفیہ ایجنسیوں، عسکریت پسندوں، قبائلی اور فیوڈل لارڈز بلکہ بعض ایسی سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتی ہیں۔ پی پی ایف کے مطابق 2001ء سے لے کر اب تک 71 صحافی اور میڈیا کارکن اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوئے۔ ان میں سے 47 کو باقاعدہ ہدف بنا کر قتل کیا گیا لیکن ان میں سے صرف دو مجرموں کو عدالت سے سزا مل سکی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان معاملات پر غور کرے۔ ملک میں آئین وقانون اور جمہوریت کی حکمرانی اس وقت تسلیم کی جاتی ہے جب عوام تک اطلاعات پہنچانے والے آزادی سے کام کر سکیں۔