سپریم کورٹ کا فیصلہ پیغام بھی انتباہ بھی

سپریم کورٹ نے خود اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ رقوم کی تقسیم کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے خود اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ رقوم کی تقسیم کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کیا جائے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم پر اصغر خان کیس کا تاریخی فیصلہ بادی النظر میں ملکی سیاسی صورتحال میں مثبت تبدیلیوں کی نوید بن کر سامنے آیا ہے ۔

مختلف الخیال مبصرین کے موافق ومخالفانہ تبصرے بھی جاری ہیں جب کہ بعض آئینی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ ایک پینڈورا باکس ہے جس کے ملکی جمہوری نظام پر پڑنے والے اثرات و مضمرات غیر معمولی ہوسکتے ہیں اورسیاسی ، سماجی اور اقتصادی شعبوںمیںقوم کے لیے اس کے دوررس نتائج 'شہود و شاہد و مشہود' جیسے ہوں گے، یعنی وطن عزیز کو پہلی بار شفاف و منصفانہ انتخابات ، جمہوری عمل کا تسلسل،آزاد عدلیہ، بدعنوانی سے پاک انتظامی مشینری اور حب وطن سے سرشار سیاسی رہنمائوں کی نئی کھیپ میسر ہوسکے گی۔بہتوں کو توقع یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں کے استحکام اور جمہوری نظام کی ایک نئی تشکیل کا چیلنج قبول کرتے ہوئے گھنٹی حکومت کے گلے میں باندھ دی ہے کہ وہ اب اپنی آئینی،اخلاقی، اور جمہوری ذمے داریاں پوری کرے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سماجی اور سیاسی انتشار کی کوکھ سے انقلاب جنم لیتے رہے۔ ہماری قوم بھی تاریخ کے نازک دوراہے پرناممکن کو ممکن کرکے دکھا سکتی ہے۔ ضرورت صرف تدبر و حکمت کی ہے جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ کے سنگ میل جیسے فیصلہ کی مثبت یا تہلکہ خیزتبدیلیوں کی دھمک خود اس نظام سے منسلک اداروں کے سربراہوں نے بھی محسوس کی ہے۔چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ الیکشن قریب ہیں،اصغر خان کیس کے فیصلے سیسیاسی پارٹیوں میں محاذ آرائی شروع ہوجائیگی اور انتشار پھیلے گا جو خود الیکشن کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔

انھوں نے صدر آصف زرداری سے درخواست کی کہ وہ ایوان صدر میں بیٹھ کر کوئی سیاسی سرگرمی نہ کریں کیونکہ وہ کسی ایک طبقے کے نہیں بلکہ سب کے صدر ہیں، ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کی کہ آیندہ الیکشن میں ٹرن آئوٹ ساٹھ فیصد ہوگا،گزشتہ روز بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے کم و بیش یہی باتیں دہرائیں کہ عدالت نے مقدمہ 16سال تک التوأ میں رکھنے کے بعد انتخابات کے قریب اس کا فیصلہ سنادیا ہے۔اس فیصلے سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے خود کو بھی متنازعہ بنالیا ہے اور الیکشن سے پہلے ملک میں ایک اور تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ ہر کسی سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان سب سے بھی ماضی میں غلطیاں ہوئی ہوں گی۔ ماضی میں سپریم کورٹ نے فوجی حکمرانوں کے اقتدار کو جائز قرار دیا اور ججوں نے بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھائے۔ یہ وقت پرانی باتوں کو بھول کر نیا دور شروع کرنے کا ہے۔الیکشن کمیشن کسی ایسے سیاستدان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا جس پر رقم لینے کا الزام ہے۔


سپریم کورٹ نے خود اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ رقوم کی تقسیم کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کیا جائے۔ چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت میں ان کی ذاتی رائے بھی اہمیت کی حامل ہے اور ملکی تاریخ کے نشیب وفراز پر نظر رکھنے والوں کو بھی اس انتباہ میں پوشیدہ پیغام کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اس شخصیت کا انداز نظر ہے جس کی ذمے داری آیندہ چند ماہ میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانا ہے ۔

بہر کیف سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مضمرات جو بھی ہوں مگر یہ بات طے ہے کہ 1990 کے انتخابات اگر چرالیے گئے تھے تو اس بار الیکشن کمیشن نے ہر قیمت پر شفاف انتخابات کا مصمم ارادہ اورعہد کر رکھا ہے اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ اس انتخابی شجر سے پیوستہ رہتے ہوئے قوم کو امید جمہوریت رکھنے میں قطعی مایوسی نہیں ہوگی ۔ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر' اُسے تسلیم کرتے ہیں مگر زرداری کی ایف آئی اے کے ہاتھوں انکوائری منظور نہیں۔

ایسے ادارے کی تحقیقات کو نہیں مانیں گے جس کا سربراہ جھوٹوں کا آئی جی ہو، نیک اور دیانت دار افراد پر مشتمل آزاد کمیشن بنایا جائے ۔ن لیگ نے ایف آئی کی تحقیقات کے خلاف اپیل کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے جب کہ چیف الیکشن کمشنر یہ امر واضح کرچکے ہیں کہ ان کے پاس سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کا آئینی اختیار ہے اور نہ عدالت نے انھیں کوئی ہدایات جاری کی ہیں۔چنانچہ چیف الیکشن کمشنر کی اس رائے کے بعدفیصلہ پر عملدرآمد اور سیاست دانوں کے خلاف تحقیقات کا معاملہ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کے قیام تک بھی جاسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین و قانون سے انحراف ریاست کی جڑوں کو کمزور کر دیتا ہے۔

ماضی میں آئین سے مسلسل انحراف نے ہمیں انتہا پسندی اور دہشتگردی سے دو چار کر دیا۔ بھارتی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا سماجی، عدالتی ، روایتی پس منظر اورقانون کا ماخذ ایک ہے جب کہ عوامی نمایندگی اور جمہوریت بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے اصولوں پر قائم ہے،اس لیے دونوں ملک ایک دوسرے کے عدالتی نظام سے استفادہ کر سکتے ہیں۔پاکستان نے طویل قربانیوں کے بعد کامیابی کے ساتھ خود کو قانون کی عملداری کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔

اس امر میں کسی کو شبہ نہیں کہ ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے اور اسی کے ذریعے ہی خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے۔زندہ قومیں ماضی سے سبق سیکھتی ہیں،اس لیے مقتدر رہنمائوں کو معاشرے میں پھیلی بے چینی اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ملک کی جمہوری تقدیر بدلنے کا ایک سنہری موقع سمجھنا چاہیے ،جو اگر ضایع ہوا تو سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
Load Next Story