ڈرائیونگ لائسنس کی لازمی شرط
دنیا کے کسی بھی حصے میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ کا کلچر نہیں ہے
ضرورت اس احسن ہدایت پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کی ہے ، تاکہ کسی شہری کو شکایت نہ ہو۔ فوٹو: فائل
دنیا کے کسی بھی حصے میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ کا کلچر نہیں ہے اور نہ مہذب دنیا اپنے ٹریفک اور ٹرانسپورٹ نظام میں لاقانونیت کی ایسی کسی مثال کی متحمل ہوسکتی ہے مگر ہمارے ملک میں ٹریفک نظام کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں جو تساہل برتا گیا اس نے حادثات کے باعث دردناک ہلاکتوں کی گھمبیر صورتحال پیدا کی ہے، اکثر تشدد و دہشت گردی سے اتنی ہلاکتیں نہیں ہوتیں جتنی بین الصوبائی شاہراہوں یا ملک کے مختلف بڑے شہروں اور دور افتادہ دیہی علاقوں کی نیم پختہ اور تنگ سڑکوں پر لوگ روڈ ایکسیڈنٹس میں ہلاک ہوتے ہیں، بیگناہ شہری سفر کی حالت میں، سڑک پار کرتے یا بس سے اترتے ہوئے پہیوں کے نیچے کچلے جاتے ہیں، ڈرائیور موقع سے فرار ہوجاتے ہیں پھر ٹرانسپورت مافیا انھیں قانون کے شکنجہ سے چھڑا لاتی ہے۔
حادثات اور غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ کے اسی بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے کراچی میں ٹریفک پولیس نے پیر سے بغیر ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھنے والے ڈرائیوروں کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے، ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے عام شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ 15روز میں اپنے لائسنس بنوا لیں اور مقررہ مدت ختم ہونے پر ان کے لائسنس چیک کیے جائیں گے ، خلاف ورزی کرنے پر عام شہریوں کو بھی جیل بھیج دیا جائے گا۔
بلاشبہ شہری اچانک شروع ہونے والی اس مہم میں بجا طور پر مہلت مانگ رہے ہیں تاہم وہ اس اقدام کو احسن قراردیتے ہیں جس سے ٹریفک نظام میں باقاعدگی لائی جاسکے گی کیونکہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کیے بغیر ملکی ٹریفک نظام کبھی بہتر نہیں ہوسکے گا، ان ہائی ویزکی مانیٹرنگ خاص طور پر ضروری ہے جہاں اوور ٹیکنگ اور اپنے لین سے نکلنے کی وجہ سے ہولناک حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ نیزاس قانون کا اطلا ق مہلت دیے جانے کے بعد پورے ملکی ٹرانسپورٹ اور ٹریفک نظام پر بھی ہونا چاہیے ۔
ترجمان کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس کی بذریعہ ایس ایم ایس تصدیق کرنے کے لیے ٹریفک پولیس کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق پہلے مرحلے میں کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے لائسنس چیک کیے جائیں گے اور خلاف ورزی پر انھیں جیل بھیج دیا جائے گا ۔
ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس سے درخواست کی گئی ہے کہ شہریوں کے لیے ڈرائیونگ لائسنس برانچز میں اسپیشل ڈیسک قائم ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آسانی سے اپنا لائسنس حاصل کر سکیں، واضح رہے کہ ٹریفک پولیس نے ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق کے لیے نجی سیلولرکمپنی سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ٹریفک پولیس کو 657 موبائل سمز فراہم کی گئیں ہیں ۔ تاہم ضرورت اس احسن ہدایت پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کی ہے ، تاکہ کسی شہری کو شکایت نہ ہو۔
حادثات اور غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ کے اسی بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے کراچی میں ٹریفک پولیس نے پیر سے بغیر ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھنے والے ڈرائیوروں کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے، ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے عام شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ 15روز میں اپنے لائسنس بنوا لیں اور مقررہ مدت ختم ہونے پر ان کے لائسنس چیک کیے جائیں گے ، خلاف ورزی کرنے پر عام شہریوں کو بھی جیل بھیج دیا جائے گا۔
بلاشبہ شہری اچانک شروع ہونے والی اس مہم میں بجا طور پر مہلت مانگ رہے ہیں تاہم وہ اس اقدام کو احسن قراردیتے ہیں جس سے ٹریفک نظام میں باقاعدگی لائی جاسکے گی کیونکہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کیے بغیر ملکی ٹریفک نظام کبھی بہتر نہیں ہوسکے گا، ان ہائی ویزکی مانیٹرنگ خاص طور پر ضروری ہے جہاں اوور ٹیکنگ اور اپنے لین سے نکلنے کی وجہ سے ہولناک حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ نیزاس قانون کا اطلا ق مہلت دیے جانے کے بعد پورے ملکی ٹرانسپورٹ اور ٹریفک نظام پر بھی ہونا چاہیے ۔
ترجمان کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس کی بذریعہ ایس ایم ایس تصدیق کرنے کے لیے ٹریفک پولیس کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق پہلے مرحلے میں کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے لائسنس چیک کیے جائیں گے اور خلاف ورزی پر انھیں جیل بھیج دیا جائے گا ۔
ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس سے درخواست کی گئی ہے کہ شہریوں کے لیے ڈرائیونگ لائسنس برانچز میں اسپیشل ڈیسک قائم ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آسانی سے اپنا لائسنس حاصل کر سکیں، واضح رہے کہ ٹریفک پولیس نے ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق کے لیے نجی سیلولرکمپنی سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ٹریفک پولیس کو 657 موبائل سمز فراہم کی گئیں ہیں ۔ تاہم ضرورت اس احسن ہدایت پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کی ہے ، تاکہ کسی شہری کو شکایت نہ ہو۔