ٹرین ٹریک پر دھماکا انتہا پسند پھر سرگرم

گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ریلوے ٹریک پر دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے،

دہشت گرد عوام کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن قوم کا مورال بلند ہے، فوٹو؛ فائل

گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ریلوے ٹریک پر دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے، دشت کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک پر دھماکا خیز مواد نصب کر رکھا تھا، کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس ٹریک سے گزر رہی تھی کہ دھماکا ہوگیا، جس سے ایک بوگی زد میں آگئی۔ لیویز ذرایع کے مطابق دھماکے سے دہشتگرد بھی زخمی ہوا تاہم وہ زخمی حالت میں فرار ہوگیا۔

ٹریک کے 2فٹ سے زائد حصے اور ایک ڈبے کو نقصان پہنچا، حفظ ماتقدم کے طور پر دھماکے کے بعد اکبر بگٹی ایکسپریس اور بولان میل کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہی روک لیا گیا تاہم کئی گھنٹوں کے بعد ٹریک کی مرمت کر کے ٹرینوں کو سخت سیکیورٹی میں روانہ کیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ کالعدم تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے ٹرین پر حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔


وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک نے اگرچہ دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے لیکن محض رپورٹ پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ موثر تحقیقات اور کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی ریلوے ٹریک پر دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ دوسری جانب تشدد پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں، ایف سی اور حساس اداروں کے قلات کے علاقے جوہان میں آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 6 شرپسند ہلاک ہوگئے، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے ژوب اور پشین میں آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کے 4 دہشت گرد گرفتار کرلیے ہیں۔

علاوہ ازیں سبی کے علاقے تلی میں بھی حساس اداروں اور ایف سی کی مشترکہ کارروائی میں کالعدم تنظیم کے 2 کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے ہمارے سیکیورٹی ادارے مکمل فعال ہیں لیکن پھر بھی ذرا سی چوک شرپسندوں کو اپنا ہدف مکمل کرنے میں آسانی فراہم کردیتی ہے۔

مناسب ہوگا کہ اداروں کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ کا مربوط نظام قائم کیا جائے۔ دہشت گرد عوام کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن قوم کا مورال بلند ہے، عوام سمجھ چکے ہیں کہ یہ شب آخر کے بھڑکتے چراغ ہیں جنھیں ہماری پاک افواج مکمل بجھا دے گی، لیکن اطمینان سے نہیں بیٹھ جانا چاہیے، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام کو بھی اپنی نگاہیں کھلی رکھنا ہوں گی۔
Load Next Story