سیاسی منظرنامہ
پاکستانی سیاست میں عرصے سے دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی اقتداری پارٹیاں رہی ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
پاکستانی سیاست میں عرصے سے دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی اقتداری پارٹیاں رہی ہیں، اس سیٹ اپ کو تحریک انصاف کے چیئرمین باری باری کا نام دیتے ہیں، تحریک انصاف اگرچہ 15 سال تک سیاست کرتی رہی لیکن اس کا حال ان پندرہ سال میں ''پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں'' جیسا ہی رہا۔
اگست 2014 میں جب عمران خان نے طاہر القادری کے ساتھ مل کر دھرنا تحریک شروع کی تو پہلی بار تحریک انصاف عوام کی توجہ کا مرکز بنی اور عمران خان پاکستانی سیاست میں فعال نظر آئے۔ اگرچہ دھرنا تحریک دھرنوں کی قیادت کرنے والوں کے ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتی تھی کیوں کہ نہ اس میں کوئی منصوبہ بندی نظر آتی تھی نہ نظم و ضبط، البتہ منہاج القرآن کے تربیت یافتہ کارکنوں میں نظم و ضبط موجود تھا لیکن ان کے ٹارگٹ درست نہ تھے اور پھر اتنے طویل عرصے تک سخت موسم میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ اسلام آباد کے کھلے ''Dچوک'' پر بیٹھے رہنے سے شرکا میں منطقی طور پر جو ردعمل ہونا تھا وہ ہوا اور یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی، لیکن اس کا تحریک انصاف کو جو بڑا اور مثبت فائدہ ہوا وہ یہ تھا کہ تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی پارٹی بن گئی اور عمران خان ملک کے صف اول کے سیاست دانوں میں شامل ہوگئے۔
پیپلزپارٹی کو بوجوہ 2008 میں ایک بہترین موقع ملا تھا، اگر پیپلزپارٹی کی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے متروکہ منشور کے مطابق عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی تو بلاشبہ پیپلزپارٹی ملک کی سب سے زیادہ مضبوط اور مقبول پارٹی بن جاتی لیکن افسوس کہ پیپلزپارٹی نے نہ صرف یہ کہ اپنے منشور پر عمل نہیں کیا بلکہ کرپشن کے حوالے سے اس قدر بدنام ہوئی کہ 2013 کے الیکشن میں اسے اس قدر سیٹ بیک ملا کہ وہ بیک فٹ پر چلی گئی، اب اس کا مسئلہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں ''ہر چند کہ ہیں نہیں ہیں'' والا بن گیا، پنجاب میں پارٹی کا گراف کس قدر نیچے آگیا اس کا اندازہ لاہور کے ضمنی الیکشن کے نتائج سے ہوسکتا ہے، پاکستان کی چالباز یا چالو سیاست میں بلاول جیسے ناتجربہ کار نوجوان کو آگے لایا گیا جن سے کوئی بڑی توقع نہیں کی جاسکتی۔
مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کی ناکامی کی وجہ سے اس وقت عوام کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے لیکن ملک کو جو مسائل درپیش ہیں اور جن میں بجلی، گیس کی لوڈ شیڈنگ بے لگام، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری شامل ہے ان سے نمٹنا مسلم لیگ (ن) کے بس میں نظر نہیں آتا۔ عوام سخت مایوسی کا شکار ہیں، میاں برادران اس صورت حال سے پوری طرح واقف ہیں، انھیں اندازہ ہے کہ اگر وہ تیزی سے عوامی مسائل حل نہ کرسکے، خاص طور پر بجلی، گیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری پر قابو نہ پاسکے تو 2018 کے الیکشن میں ان کا حال ویسا ہی ہوگا جیسا 2013 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کا ہوا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ نہ بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ان کے بس میں ہے نہ سرمایہ دارانہ نظام کی عطا کردہ مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کرنا یا کم کرنا ان کے بس کی بات ہے۔ اس مجبوری پر پردہ ڈالنے کے لیے شریف برادران چین کی مدد سے تعمیر ہونے والی اقتصادی راہداری موٹر وے جیسے منصوبوں کا سہارا لینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن چونکہ عوام کو ان منصوبوں سے نہ براہ راست کوئی فائدہ حاصل ہوگا نہ یہ منصوبے انھیں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی بے روزگاری سے نجات دلارہے ہیں لہٰذا ان منصوبوں کے نام پر حکومت کی عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔
اس سونے پر سہاگہ یہ ہورہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اندرونی اختلافات کا شکار ہے، فیصل آباد اس کی مثال ہے جہاں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااﷲ اور چوہدری شیر علی کے اختلافات میڈیا کی زینت بنے ہیں۔ میاں صاحبان اس مسئلے سے کس طرح نمٹتے ہیں دیکھنا ہے۔
ہمارے کپتان شومئی قسمت سے دھرنا تحریک کے نتیجے میں صف اول کے لیڈر تو بن گئے ہیں لیکن موصوف کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ زبان کو نہ قابو میں رکھ سکتے ہیں نہ نپی تلی سوچی سمجھی بات کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ارشادات عالیہ عام طور پر غلط ثابت ہوتے ہیں، موصوف بڑے وثوق اور تسلسل کے ساتھ 2015 کو الیکشن کا سال کہہ رہے تھے اب انھیں تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ 2015 نہیں بلکہ 2018 ہی الیکشن کا سال ہوگا۔
پاکستانی سیاست میں کوئی سال بھی الیکشن کا سال ہوسکتا ہے لیکن برسوں سے 2015 کو الیکشن کا سال کہنے کے بعد اچانک 2018 کو ہی الیکشن کا سال ماننے سے کپتان صاحب کی جو بھد اڑ رہی ہے اس کا ازالہ ممکن نہیں، عوام اب کپتان کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ عوام کی کسی صف اول کے لیڈر پر اس قسم کی بے اعتمادی ایک بڑی بد شگونی ہے، غالباً اسی طرز سیاست کی وجہ سے عمران عوام کی وہ حمایت حاصل نہ کرسکے جس کی توقع کی جارہی تھی لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں عمران کی تحریک انصاف ہی عوام کی امیدوں کا مرکز بن سکتی ہے۔
عمران کی طرف سے 2018 کو الیکشن کا سال تسلیم کرنے سے عمران کو جو نقصان ہوا اس سے زیادہ فائدہ نواز شریف کو ہوا۔ 2015 کو الیکشن کا سال کہنے سے میاں صاحبان پر جو خوف سوار تھا اب انھیں اس خوف سے نجات مل گئی ہے، نواز حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کوئی بڑے کام کرکے مسلم لیگ (ن) کو 2018 کے الیکشن کے لیے تیار کرے لیکن جو مسائل درپیش ہیں وہ دو ڈھائی سال میں حل ہوتے نظر نہیں آتے۔
تحریک انصاف 2018 کے الیکشن کی فیوریٹ پارٹی بن سکتی ہے لیکن اس کے لیے عمران کو پہلے پارٹی کے اندر کے خلفشار پر قابو پانا پڑے گا اور پرانے پالیسیوں سے نجات کے ساتھ ساتھ نئے پاکستان کے مبہم نعرے کے بجائے ایک واضح ایجنڈے کے ذریعے عوام میں آنا ہوگا اور اس ممکنہ ایجنڈے کا پہلا مرحلہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ ہونا چاہیے،اس کے بغیر کی جانے والی سیاست ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی۔
اگست 2014 میں جب عمران خان نے طاہر القادری کے ساتھ مل کر دھرنا تحریک شروع کی تو پہلی بار تحریک انصاف عوام کی توجہ کا مرکز بنی اور عمران خان پاکستانی سیاست میں فعال نظر آئے۔ اگرچہ دھرنا تحریک دھرنوں کی قیادت کرنے والوں کے ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتی تھی کیوں کہ نہ اس میں کوئی منصوبہ بندی نظر آتی تھی نہ نظم و ضبط، البتہ منہاج القرآن کے تربیت یافتہ کارکنوں میں نظم و ضبط موجود تھا لیکن ان کے ٹارگٹ درست نہ تھے اور پھر اتنے طویل عرصے تک سخت موسم میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ اسلام آباد کے کھلے ''Dچوک'' پر بیٹھے رہنے سے شرکا میں منطقی طور پر جو ردعمل ہونا تھا وہ ہوا اور یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی، لیکن اس کا تحریک انصاف کو جو بڑا اور مثبت فائدہ ہوا وہ یہ تھا کہ تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی پارٹی بن گئی اور عمران خان ملک کے صف اول کے سیاست دانوں میں شامل ہوگئے۔
پیپلزپارٹی کو بوجوہ 2008 میں ایک بہترین موقع ملا تھا، اگر پیپلزپارٹی کی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے متروکہ منشور کے مطابق عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی تو بلاشبہ پیپلزپارٹی ملک کی سب سے زیادہ مضبوط اور مقبول پارٹی بن جاتی لیکن افسوس کہ پیپلزپارٹی نے نہ صرف یہ کہ اپنے منشور پر عمل نہیں کیا بلکہ کرپشن کے حوالے سے اس قدر بدنام ہوئی کہ 2013 کے الیکشن میں اسے اس قدر سیٹ بیک ملا کہ وہ بیک فٹ پر چلی گئی، اب اس کا مسئلہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں ''ہر چند کہ ہیں نہیں ہیں'' والا بن گیا، پنجاب میں پارٹی کا گراف کس قدر نیچے آگیا اس کا اندازہ لاہور کے ضمنی الیکشن کے نتائج سے ہوسکتا ہے، پاکستان کی چالباز یا چالو سیاست میں بلاول جیسے ناتجربہ کار نوجوان کو آگے لایا گیا جن سے کوئی بڑی توقع نہیں کی جاسکتی۔
مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کی ناکامی کی وجہ سے اس وقت عوام کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے لیکن ملک کو جو مسائل درپیش ہیں اور جن میں بجلی، گیس کی لوڈ شیڈنگ بے لگام، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری شامل ہے ان سے نمٹنا مسلم لیگ (ن) کے بس میں نظر نہیں آتا۔ عوام سخت مایوسی کا شکار ہیں، میاں برادران اس صورت حال سے پوری طرح واقف ہیں، انھیں اندازہ ہے کہ اگر وہ تیزی سے عوامی مسائل حل نہ کرسکے، خاص طور پر بجلی، گیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری پر قابو نہ پاسکے تو 2018 کے الیکشن میں ان کا حال ویسا ہی ہوگا جیسا 2013 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کا ہوا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ نہ بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ان کے بس میں ہے نہ سرمایہ دارانہ نظام کی عطا کردہ مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کرنا یا کم کرنا ان کے بس کی بات ہے۔ اس مجبوری پر پردہ ڈالنے کے لیے شریف برادران چین کی مدد سے تعمیر ہونے والی اقتصادی راہداری موٹر وے جیسے منصوبوں کا سہارا لینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن چونکہ عوام کو ان منصوبوں سے نہ براہ راست کوئی فائدہ حاصل ہوگا نہ یہ منصوبے انھیں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی بے روزگاری سے نجات دلارہے ہیں لہٰذا ان منصوبوں کے نام پر حکومت کی عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔
اس سونے پر سہاگہ یہ ہورہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اندرونی اختلافات کا شکار ہے، فیصل آباد اس کی مثال ہے جہاں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااﷲ اور چوہدری شیر علی کے اختلافات میڈیا کی زینت بنے ہیں۔ میاں صاحبان اس مسئلے سے کس طرح نمٹتے ہیں دیکھنا ہے۔
ہمارے کپتان شومئی قسمت سے دھرنا تحریک کے نتیجے میں صف اول کے لیڈر تو بن گئے ہیں لیکن موصوف کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ زبان کو نہ قابو میں رکھ سکتے ہیں نہ نپی تلی سوچی سمجھی بات کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ارشادات عالیہ عام طور پر غلط ثابت ہوتے ہیں، موصوف بڑے وثوق اور تسلسل کے ساتھ 2015 کو الیکشن کا سال کہہ رہے تھے اب انھیں تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ 2015 نہیں بلکہ 2018 ہی الیکشن کا سال ہوگا۔
پاکستانی سیاست میں کوئی سال بھی الیکشن کا سال ہوسکتا ہے لیکن برسوں سے 2015 کو الیکشن کا سال کہنے کے بعد اچانک 2018 کو ہی الیکشن کا سال ماننے سے کپتان صاحب کی جو بھد اڑ رہی ہے اس کا ازالہ ممکن نہیں، عوام اب کپتان کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ عوام کی کسی صف اول کے لیڈر پر اس قسم کی بے اعتمادی ایک بڑی بد شگونی ہے، غالباً اسی طرز سیاست کی وجہ سے عمران عوام کی وہ حمایت حاصل نہ کرسکے جس کی توقع کی جارہی تھی لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں عمران کی تحریک انصاف ہی عوام کی امیدوں کا مرکز بن سکتی ہے۔
عمران کی طرف سے 2018 کو الیکشن کا سال تسلیم کرنے سے عمران کو جو نقصان ہوا اس سے زیادہ فائدہ نواز شریف کو ہوا۔ 2015 کو الیکشن کا سال کہنے سے میاں صاحبان پر جو خوف سوار تھا اب انھیں اس خوف سے نجات مل گئی ہے، نواز حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کوئی بڑے کام کرکے مسلم لیگ (ن) کو 2018 کے الیکشن کے لیے تیار کرے لیکن جو مسائل درپیش ہیں وہ دو ڈھائی سال میں حل ہوتے نظر نہیں آتے۔
تحریک انصاف 2018 کے الیکشن کی فیوریٹ پارٹی بن سکتی ہے لیکن اس کے لیے عمران کو پہلے پارٹی کے اندر کے خلفشار پر قابو پانا پڑے گا اور پرانے پالیسیوں سے نجات کے ساتھ ساتھ نئے پاکستان کے مبہم نعرے کے بجائے ایک واضح ایجنڈے کے ذریعے عوام میں آنا ہوگا اور اس ممکنہ ایجنڈے کا پہلا مرحلہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ ہونا چاہیے،اس کے بغیر کی جانے والی سیاست ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی۔