یہ پاکستانی جیالے

ملک میں نیک و پاک لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن دوسرے سب لوگ اکثریت میں ہیں اور ہم سب اب پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔

Abdulqhasan@hotmail.com

مجھ میں اپنا ٹی وی دیکھنے کی ہمت بمشکل دن ڈھلے جا کر پیدا ہوتی ہے۔

صبح ٹی وی دیکھنا اور پھر چین کے ساتھ دن کرنا، بڑے دل گردے والے لوگوں کا کام ہے۔ کوئی سا چینل بھی لگا لیں اس پر پاکستانیوں کی لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ پاکستانی کچھ تو وہ ہیں جنھیں امریکی ڈرون طیارے ان کے گھروں کے اندر مار دیتے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو بھارت افغانستان وغیرہ کے طالبان مار دیتے ہیں، ان میں پاکستانی نام کے طالبان بھی شامل ہو چکے ہیں اور جو ان سے بچ جاتے ہیں انھیں ملک کے اندر ایک دوسرے کے مخالف مار دیتے ہیں۔ آگ میں جلنے والے اور حادثوں میں مرنے والے الگ ہیں، ان سب کو ہمارا ٹی وی شوق کے ساتھ دکھاتا ہے یا اس فضا میں اسے دکھانا پڑتا ہے۔

بہر کیف ہم پاکستانی اگر کوئی سیاسی خبر دیکھنا چاہیں تو ہمیں یہ سب کچھ بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ امریکی 9-11 کے بعد ہمارا ملک ایک نارمل ملک نہیں رہا۔ میں اپنے ایک مرحوم عزیز کی یہ بات کئی بار عرض کر چکا ہوں جس نے اس امریکی حادثے کی شام کو ایک دعوت میں مجھ سے کہا کہ اب دیکھ لینا آج کے بعد نہ امریکا وہ امریکا رہے گا جو آج تک تھا اور نہ وہ پوری دنیا کو وہ دنیا رہنے دے گا جو اب تک تھی اور پھر بالکل یہی ہوا اور میں اعجاز حسین بٹالوی کو ان کی زندگی میں اس سیاسی دور بینی اور پیش گوئی کی داد نہ دے سکا۔

امریکا بھی اس کے بعد پہلے والا امریکا نہیں رہا اور باہر کی دنیا کا امن اور سکون بھی اس نے چھین لیا۔ امریکا کو پیش آنے والے اس سانحہ کے پیچھے چونکہ یہودی تھے اس لیے امریکا نے پہلا وار مسلمان ملکوں پر کیا اور باری آنے پر پاکستان بھی اس کی زد میں آ گیا۔ بعض عرب ملکوں میں شاید اتنی جان اور غیرت باقی تھی کہ انھوں نے کچھ وقت بعد اس سے بغاوت کر دی، 'عرب بہار' کے نام سے ایک حرکت پیدا ہوئی جو کہیں کامیاب اور کہیں اب تک جاری ہے لیکن پاکستان میں ایسا کچھ نہ ہوا۔

عربوں کے پاس عام سی بندوقیں تھیں مگر دلوں میں ایک ولولہ تھا جو کسی اسلحہ سے زیادہ طاقت ور تھا مگر پاکستان جس کے پاس سچ مچ کا ایٹم بم تھا وہ ان 'نہتے' عربوں سے زیادہ کمزور نکلا کیونکہ اس قوم کی غیر اسلامی حکومتوں نے اس سے اس کا اسلامی جذبہ چھین لیا تھا۔ ایسا صرف پاکستان میں ہوا کہ اس کے ایک حکمران نے اس کے شہریوں کو امریکا کے ہاتھوں بیچنا شروع کر دیا اور یہ بے غیرتی اس کے لیے عام سی بات تھی کہ اس نے اپنی واحد کتاب میں بھی اس کا ذکر کر دیا جو لعنت ملامت کے بعد کتاب سے نکالنا پڑا۔


یہ ایسی تلخ اور نہ ختم ہونے والی داستان ہے کہ بار بار ذہن میں آ جاتی ہے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ اس کے مکروہ نتائج ہمارے ٹی وی پر آ گئے ہیں اور ہم تفریح سے محروم ہو گئے البتہ کبھی کبھار اس میں وقفہ بھی آجاتا ہے اور اس کی وجہ ہے ہماری برسوں کی با رونق پیپلز پارٹی۔ گزشتہ پیر کو پنجاب کے پارٹی کے نئے لیڈر لاہور آ رہے تھے ،کرائے کے ایک جہاز سے کسی عام جہاز سے نہیں یعنی ایک چارٹرڈ جہاز سے۔

ان کے استقبال کے لیے پارٹی کے جیالے ائر پورٹ پر جمع ہو گئے اور اپنے مخصوص اسٹائل میں جمع ہوئے۔ پہلے تو وہ صرف نعرے لگاتے رہے لیکن ان کے مخالفانہ نعرے لگانے والا کوئی نہ تھا اس لیے ان کا جوش مدھم پڑنے لگا چنانچہ ائر پورٹ کے لائونج میں جو سامان پڑا ہوتا ہے استقبالی ہجوم نے اسے خراب کرنا شروع کر دیا اور پھر ائر پورٹ کے اندر جانے کی کوشش کی جو ایک بڑی خلاف ورزی ہے چنانچہ اس پر جیالوں کا اصلی پروگرام شروع ہو گیا۔ ایک طرف ائر پورٹ بچانے والے حفاظتی دستے تھے دوسری طرف ائر پورٹ تباہ کرنے والے جیالے تھے، لڑائی شروع ہو گئی۔

جیالوں نے اپنے پرچموں کے ڈنڈوں کو ہتھیار بنا لیا اور حفاظتی دستوں پر پل پڑے، جواب میں ادھر سے بھی کارروائی ہوئی اور میں ان تمام واقعات کو یاد کرنے لگا جو جیالوں کے اس اسٹائل سے تعلق رکھتے تھے۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمی میں یہی ہنگامہ ہوا کرتا ہے، اس پارٹی کا خمیر اسی ہنگامے سے اٹھا ہے۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دل ڈرتا ہے کہ لاہور کے پرانے ائر پورٹ پر پارٹی کا لیڈر لاہور پہنچا جہاں پارٹی کے جیالے استقبال کے لیے موجود تھے، رفتہ رفتہ ان میں بہت اضافہ ہو گیا اور یہ جلوس ائر پورٹ سے لاہور کی طرف ایک ٹرک سے روانہ ہوا، راستے میں تعداد بہت بڑھتی گئی، لاہور کے مرکزی مقام ریگل چوک پر جو ائر پورٹ سے چند کلو میٹر دور تھا، لیڈر نے اپنے ٹرک کے گرد جیالوں کو ناچتے دیکھا جو ائر پورٹ سے ناچتے آ رہے تھے تو اس نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ اگر ان پر ''تشدد'' ہو جائے تو تحریک چل نکلے۔

لاہور کے ایک بڑے خاندان کا نوجوان بھی اس قت اس ٹرک پر موجود تھا، وہ چپکے سے اترا اور توبہ توبہ کرتے ہوئے قریب ہی اپنے گھر کو چلا گیا۔ اپنے کارکنوں کے خون اور جسمانی مشکلات پر پلنے والی یہ پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ کئی برس ہوئے کہ پارٹی کے جیالوں کی مذمت میں کالموں کے جواب میں رحیم یار خان سے ایک خط موصول ہوا کہ آپ جب تک پارٹی کی طاقت پر غور نہیں کریں گے، آپ جیالوں کو نہیں سمجھ سکتے۔

اس ملک میں نیک و پاک لوگ سنجیدہ اور مہذب لوگ یا جنھیں آپ شریف کہتے ہیں، آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن دوسرے سب لوگ اکثریت میں ہیں اور ہم سب اب پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ کیا یہ ملک ان کا نہیں ہے، صرف شرفاء کا ہے۔ ان غیر شرفاء نے بھی اسی ملک میں رہنا ہے اور اپنے شہری حقوق حاصل کرنے ہیں جو شرفاء سے نہیں مل سکتے۔ اس لیے یہ سب پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں اور سیاست میں ان کا ایک اپنا مخصوص اسٹائل ہے۔ یہ اسٹائل ان کی عام زندگی میں بھی ہے جسے دیکھ کر انھیں گاما ماجا کہا جاتا ہے، یہ جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں یہی ہیں، سب پاکستانی ہیں، مسلم لیگ میں ہوں یا جماعت اسلامی میں یہ اپنا مزاح نہیں بدل سکتے ،کوئی انھیں ان کی تمام عادات کے ساتھ ہی قبول کرے گا، اس وقت ان کے لیے موزوں ترین پیپلز پارٹی ہے اور یہ اس میں کامیاب جا رہے ہیں۔

اس لیے آپ ان کے خلاف غصہ تھوک دیں اور ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں کہ یہ کہاں جائیں۔ یہ ایک تفصیلی خط تھا جو مجھے آج تک یاد ہے اور یہ ایک حقیقت پسندانہ جائزہ تھا۔ جہاں تک شریفانہ انداز زندگی کا تعلق ہے، اسے خود شریفوں نے بدنام کیا ہے۔ عوام کے ساتھ محبت نہ کر کے بلکہ ان کو دبا کر رکھنے کی عادت نے پیپلز پارٹی کو جنم دیا ہے اور یاد رکھیں اس پہلے الیکشن کو جس میں ان گاموں ماجوں نے شرفاء کو ہرا دیا تھا۔ یہ اشارہ کافی تھا مگر ہمارے شرفاء نے اسے سمجھنے سے انکار کر دیا تھا اور اب تک بضد ہیں۔
Load Next Story