حقیقی مسائل پر توجہ دی جائے
ہمیں دہشت گردی کے خلاف بھی لڑنا ہے اور ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا ہے۔
اگر حکومت صدق دل سے کام کرے تو تمام مسائل پر قابو پانا کچھ مشکل نہیں ہے۔ فوٹو : پی آئی ڈی
وزیراعظم میاں نوازشریف نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا میں دیرلوئر میں تیمرگرہ اور باجوڑ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز خار میں زلزلہ متاثرین میں امدادی چیکوں کی تقسیم کے موقع پر متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زلزلہ متاثرین جلد سے جلد اپنے گھروں میں دوبارہ آباد ہوں، مشکل کی اس گھڑی میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہیں۔
آج ان کے دکھوں کے ازالے اور مشکلات میں کمی لانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں، حکومت کی جانب سے کوئی بھی معاوضہ زلزلے میں جاں بحق افراد کی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا تاہم یہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں کمی کے لیے ایک تعاون ہے، انھوں نے کہاکہ خود ان کی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی خواہش ہے کہ امدادی رقوم جلداز جلد متاثرین تک پہنچیں کیونکہ سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہاہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ شدید سردی شروع ہونے سے پہلے متاثرین تک امدادی رقوم پہنچا دی جائیں اسی صورت وہ مکمل اور جزوی طور پر تباہ ہونے والے مکانات کی بروقت تعمیر و مرمت کے قابل ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے زلزلہ متاثرین سے خطاب میں جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے۔ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں سردی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اس میں دن بدن شدت آ رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرین برفباری سے پہلے پہلے اپنے تباہ شدہ گھر تعمیر کر لیں۔گڈگورننس اسی کو کہتے ہیں کہ جو بھی کام کرنا ہے وہ بروقت کیا جائے۔
بلاشبہ حالیہ زلزلے کے دوران وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قدرتی آفات پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر مناسب توجہ دی جائے تو قدرتی آفات میں ہونے والے نقصانات کو خاصا کم کیا جا سکتا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سائنس پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا ادراک ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر ہمیں ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا علم ہو گا تو اس کی بہتر منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتما م ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ دہشت گردی سے بھی بڑا خطرہ ہے خدشہ ہے کہ 2050ء تک دنیا کے کئی گلیشیئر غائب ہو جائیں گے۔
انھوں نے واضح کیا کہ 2010ء اور 2011ء کے سیلاب اور سندھ میں خشک سالی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر تھا۔ جس تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اس سے مستقبل میں پانی کمیاب ہو جائے گا اور جغرافیائی مسائل پیدا ہوں گے۔ موسمی اثرات کے حوالے سے دنیا کے سب سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ پاکستان موسمی تبدیلیوں کا شکار بن سکتا ہے، پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے،یہ سب باتیں ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات کا رقبہ انتہائی کم ہے۔پاکستان میں زیر زمین پانی بھی کم ہو رہا ہے۔ حکومت کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت اس حوالے سے خاصا کام بھی کر رہی ہے لیکن اس کے لیے کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مستقبل میں بھی زلزلے آتے رہیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کواس حوالے سے ریسرچ کے کام پر توجہ دینے کے لیے فنڈز مختص کرنے چاہئیں۔ جن علاقوں میں ڈیم تعمیر ہونے ہیں، وہاں ماحولیات کا جائزہ لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ زلزلوں کی صورت حال کو بھی سامنے رکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ایک طرف ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کا سامنا ہے۔پاکستان کے لیے دونوں مسئلے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف بھی لڑنا ہے اور ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا ہے۔
ماضی میں پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں انھوں نے کبھی بھی حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دی۔ سب حکومتوں کی توجہ سیاسی اور اسٹرٹیجک مسائل پر رہی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نہ جنگل بچے ہیں اور نہ پانی پر توجہ دی گئی ہے۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر ذخائر پر قبضہ برقراررکھنے کے لیے ہوں گی۔ پاکستان میں اس وقت نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک جمہوری نظام قائم ہے۔ عوام کے منتخب نمایندوں کی اولین ذمے داری یہ ہے کہ وہ پاکستان کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں اور انھیں حل کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیں۔اگر حکومت صدق دل سے کام کرے تو تمام مسائل پر قابو پانا کچھ مشکل نہیں ہے۔
آج ان کے دکھوں کے ازالے اور مشکلات میں کمی لانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں، حکومت کی جانب سے کوئی بھی معاوضہ زلزلے میں جاں بحق افراد کی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا تاہم یہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں کمی کے لیے ایک تعاون ہے، انھوں نے کہاکہ خود ان کی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی خواہش ہے کہ امدادی رقوم جلداز جلد متاثرین تک پہنچیں کیونکہ سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہاہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ شدید سردی شروع ہونے سے پہلے متاثرین تک امدادی رقوم پہنچا دی جائیں اسی صورت وہ مکمل اور جزوی طور پر تباہ ہونے والے مکانات کی بروقت تعمیر و مرمت کے قابل ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے زلزلہ متاثرین سے خطاب میں جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے۔ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں سردی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اس میں دن بدن شدت آ رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرین برفباری سے پہلے پہلے اپنے تباہ شدہ گھر تعمیر کر لیں۔گڈگورننس اسی کو کہتے ہیں کہ جو بھی کام کرنا ہے وہ بروقت کیا جائے۔
بلاشبہ حالیہ زلزلے کے دوران وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قدرتی آفات پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر مناسب توجہ دی جائے تو قدرتی آفات میں ہونے والے نقصانات کو خاصا کم کیا جا سکتا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سائنس پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا ادراک ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر ہمیں ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا علم ہو گا تو اس کی بہتر منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتما م ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ دہشت گردی سے بھی بڑا خطرہ ہے خدشہ ہے کہ 2050ء تک دنیا کے کئی گلیشیئر غائب ہو جائیں گے۔
انھوں نے واضح کیا کہ 2010ء اور 2011ء کے سیلاب اور سندھ میں خشک سالی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر تھا۔ جس تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اس سے مستقبل میں پانی کمیاب ہو جائے گا اور جغرافیائی مسائل پیدا ہوں گے۔ موسمی اثرات کے حوالے سے دنیا کے سب سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ پاکستان موسمی تبدیلیوں کا شکار بن سکتا ہے، پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے،یہ سب باتیں ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات کا رقبہ انتہائی کم ہے۔پاکستان میں زیر زمین پانی بھی کم ہو رہا ہے۔ حکومت کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت اس حوالے سے خاصا کام بھی کر رہی ہے لیکن اس کے لیے کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مستقبل میں بھی زلزلے آتے رہیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کواس حوالے سے ریسرچ کے کام پر توجہ دینے کے لیے فنڈز مختص کرنے چاہئیں۔ جن علاقوں میں ڈیم تعمیر ہونے ہیں، وہاں ماحولیات کا جائزہ لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ زلزلوں کی صورت حال کو بھی سامنے رکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ایک طرف ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کا سامنا ہے۔پاکستان کے لیے دونوں مسئلے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف بھی لڑنا ہے اور ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا ہے۔
ماضی میں پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں انھوں نے کبھی بھی حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دی۔ سب حکومتوں کی توجہ سیاسی اور اسٹرٹیجک مسائل پر رہی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نہ جنگل بچے ہیں اور نہ پانی پر توجہ دی گئی ہے۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر ذخائر پر قبضہ برقراررکھنے کے لیے ہوں گی۔ پاکستان میں اس وقت نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک جمہوری نظام قائم ہے۔ عوام کے منتخب نمایندوں کی اولین ذمے داری یہ ہے کہ وہ پاکستان کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں اور انھیں حل کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیں۔اگر حکومت صدق دل سے کام کرے تو تمام مسائل پر قابو پانا کچھ مشکل نہیں ہے۔