بلدیاتی انتخابات کا پہلا نکتہ
گورنر سندھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک ماہ میں گرین اور اورنج لائن منصوبے ایک سال کی مدت میں مکمل ہوں گے۔
tauceeph@gmail.com
بلدیاتی اداروں کے قیام کا خواب پورا ہونے کو ہے۔ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے یہ خوش خبری سنائی ہے کہ کراچی میں آیندہ ماہ سے گرین اور اورنج لائن منصوبے پر کام شروع ہوجائے گا۔ گورنر سندھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک ماہ میں گرین اور اورنج لائن منصوبے ایک سال کی مدت میں مکمل ہوں گے۔
گرین اور اورنج لائن منصوبوں کے تحت سرجانی سے ٹاور تک بسوں کے لیے مخصوص کوریڈور بنے گا۔ اس طرح کراچی میں ایک دفعہ پھر بڑی بسیں چلنے لگیں گی۔ جب عشرت العباد سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سندھ کے گورنر کے عہدے پر تعینات ہوئے تھے تو انھوں نے شہریوں کو خوش خبری سنائی تھی کہ اب سرکلر ریلوے پھر فعال ہوگی۔
کراچی کے مضافاتی علاقوں کے مکینوں کو شہر میں آنے کے لیے جدید ٹرانسپورٹ مہیا ہوگی۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی کوششوں سے چنیسر ہالٹ سے سٹی اسٹیشن تک لوکل ریل گاڑیاں چلیں، اس طرح یہ سرکلر ریلوے اپنے اصل راستے سے آدھے راستے تک محدود ہوگئی۔ شہریوں نے گورنر صاحب کی بات پر اعتبار کیا کہ سرکلر ریلوے اپنے پرانے راستے پر چلنے لگے گی مگر چند ماہ بعد آدھی سرکلر ریلوے بھی بند ہوگئی۔
کراچی نہ صرف ملک کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ آبادی کے اعتبار سے کراچی کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے، مگر کراچی اپنے انفرااسٹرکچر اور اہم سہولتیں نہ ہونے کے اعتبار سے دنیا کے چند بڑے شہروں میں اولین نمبر پر ہے۔ کراچی کے شہری اس شہر کی بدقسمتی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کراچی شہر پبلک ٹرانسپورٹ کے تناظر میں ماضی کی طرف گامزن ہے۔
جب 1947 میں پاکستان آزاد ہوا تھا تو کراچی ہی نئی ریاست کا دارالحکومت بنا۔ اس وقت کراچی کی آبادی چند لاکھ تھی مگر یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی ویسی سہولتیں موجود نہیں تھیں جیسی ہندوستان کے بڑے شہروں میں تھیں۔ کراچی شہر میں ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں، شہر بھر میں ٹرام سروس اپنی رفتار پر سفر کرتی تھی، گھوڑوں سے کھینچنے والی بگھیاں اور تانگے دستیاب تھے۔ شہر کی آبادی بڑھنے کے ساتھ سندھ پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔
50 اور 60 کی دہائی میں نئی بستیوں کے آباد ہونے کے ساتھ بسوں کی تعداد بڑھی۔ اس زمانے کی ٹرام کراچی شہر میں لوگوں کی سفر کی ضرورتوں کو پورا کرتی تھی۔ جب جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو کراچی کے مضافاتی علاقوں سائٹ اور لانڈھی میں صنعتی زون قائم ہوئے اور ان علاقوں میں مزدوروں کی کالونیاں آباد ہوئیں تو کراچی میں سرکلر ریلوے چلنے لگی۔ سرکلر ریلوے کیماڑی سے سٹی اسٹیشن سے ہوتی ہوئی ایک طرف پپری اسٹیشن پر ختم ہوتی، دوسری طرف وزیر مینشن سے سائٹ، ناظم آباد، لیاقت آباد، گلشن اقبال سے گزرتی ہوئی ناتھا خان گوٹھ پر ریل کی مرکزی پٹری سے منسلک ہوجاتی۔
حکومت نے شہر سے دور آباد ہونے والی بستیوں کے مکینوں کو سفری سہولتوں کی فراہمی کے لیے سرکاری شعبے میں بسیں چلانا شروع کی تھیں۔ اس مقصد کے لیے کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن KTC قائم ہوئی۔ سوئیڈن نے فری ائیرکنڈیشن بسوں کا ایک فلیٹ کراچی والوں کو تحفہ کے طور پر دیا تھا۔ ان بسوں میں پبلک آٹومیٹک سسٹم بھی تھا۔ یہ بسیں بہت عرصے تک کراچی یونیورسٹی کے طلبا کے پوائنٹس کے لیے استعمال ہوئیں مگر پھر ٹرانسپورٹ کی مافیا وجود میں آگئی۔
سرکلر ریلوے کے معیار کو خراب کیا گیا۔ ریل کے انجن راستے میں خراب ہونے لگے۔ ریلوے کے پورے نظام اور اوقات کی پابندی چھوڑ دی۔ مسافروں کے ڈبوں میں صفائی کا انتظام بگڑ گیا، عوام کا اعتماد کمزور ہونے لگا۔ ریلوے کی انتظامیہ نے ان انتظامات پر توجہ نہیں دی، اس کے ساتھ ہی منی بسوں اور کوچوں میں مسافروں کو بٹھانے کے لیے پرمٹ جاری کیے گئے۔
ٹرام کے خلاف مافیا نے مہم شروع کی۔ کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں بدعنوانیاں عروج کو پہنچیں۔ ڈیزل، اسپیئر پارٹس کی چوری، بسوں کے خراب ہونے، بیوروکریسی کی لوٹ مار، عملے کے کام نہ کرنے کی عادت، اختیارات کا نظام نہ ہونے سے کے ٹی سی مالیاتی خسارہ بڑھتا چلا گیا۔ پہلے ٹرام سروس بند ہوئی، پھر کے ٹی سی بند ہو گئی، اس کے ساتھ سرکلر ریلوے اپنے اختتام کو پہنچی۔ کراچی کے شہریوں کے لیے منی بسیں چلائی گئیں، جس میں مرغا بن کر سفر کیا جاتا اور ان منی بسوں کی تیز رفتاری سے حادثات کی شرح بڑھ گئی۔
کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے پر ایوب خان کے دور میں سوچ بچار شروع ہوئی۔ کے ڈی اے میں بھی اس کی ڈیسک قائم ہوگئی مگر ایوب خان کے دور سے جنرل ضیاء الحق کے دور تک یہ معاملہ صرف کاغذات تک محدود رہا۔ اس دوران جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور پھر جنرل ضیاء الحق اقتدار میں آئے مگر ملک کے سب سے بڑے شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دینے کے لیے کچھ نہیں ہوا۔
ان حکومتوں نے محدود نوعیت کے اقدامات کیے جس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ 80 کی دہائی کے آخرے عشرے میں صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ شہر فسادات کا شکار ہوا اور اس کی نوعیت لسانی ہوگئی۔ کراچی شہر میں ہونے والے ان فسادات نے شہر کی روشنیوں کو نگل لیا اور شہر کی ترقی رک گئی۔
پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں اور فہیم الزماں کو بلدیہ کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تو ان کے دور میں ماس ٹرانزٹ منصوبے پر کام شروع ہوا، مگر فہیم الزماں کے رخصت ہوتے ہی یہ معاملہ پھر فائلوں میں دب گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں دو ناظمین نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال نے شہر کی ہیئت کو تبدیل کردیا مگر پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے وہ اقدامات نہیں ہوئے جو بین الاقوامی معیار پر پورے اترتے۔ ہنگاموں کے دوران کراچی میں بسوں کو نذر آتش کرنا نہایت آسان بات ہوگئی، بھتہ مافیا کے پھیلاؤ، ڈیزل، فاضل پرزہ جات کے مہنگے ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری رک گئی۔
نعمت اللہ خان کے دور میں بینکوں نے قرضے فراہم کیے، خوبصورت ائیر کنڈیشن بسیں سڑکوں پر چلائی گئیں، پھر یہ بسیں غائب بھی ہوگئیں۔ مصطفیٰ کمال نے اپنے اقتدار کے آخری دور میںگرین بسیں چلائیں جو بہت کم تعداد میں تھیں۔ اس شہر کی بدقسمتی پر کیا ماتم کیا جائے کہ مصطفیٰ کمال کے دور میںچنگ جی مافیا ابھری، موٹر سائیکل رکشہ چنگ چی کو پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یہ رکشہ مال برداری کے لیے تیار ہوا ہے۔
یہ سڑک پر الٹ جاتا ہے اور اس کی نشستیں محدود ہوتی ہیں، کراچی میں چوری کی موٹر سائیکلیں ان رکشوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ نوعمر لڑکوں کو روزگار کا نیا سلسلہ ملا مگر یہ چنگ چی رکشہ بڑی بسوں کی عدم موجودگی سے غریبوں کے لیے نعمت بن گئے۔ پہلے تو پولیس نے چنگ چی رکشوں کی سرپرستی کی۔
اس طرح ایک نئی مافیا وجود میں آگئی، پھر ان پر پابندی عائد کردی۔ اس پابندی نے غریبوں کی مشکلات مزید بڑھادیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے ان رکشوں پر پابندی کو قانونی قرار دیا۔ اب سپریم کورٹ اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ اخبارات میں شایع ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی انتظامیہ نے چنگ چی رکشہ والوں کی انجمن اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی مشاورت سے کوئی منصوبہ بنایا ہے جس پر عمل درآمد سے ان رکشوں کو قانونی تحفظ ملے گا، مگر کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا حل بین الاقوامی معیار کے مطابق ماس ٹرانزٹ منصوبے پر عمل درآمد ہے۔ اس منصوبے میں بڑی بسیں، ٹرام سروس، زیر زمین ریل وغیرہ شامل ہونا چاہیے۔
کراچی میں اگلے ماہ بلدیاتی انتخابات منعقد ہوں گے۔ ایم کیوایم، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف کراچی کے میئر کے عہدے کے طلب گار ہیں۔ یہ جماعتیں واقعی کراچی شہر کے مسائل حل کرنا چاہتی ہیں تو ان کی صرف ایک ترجیح ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہونا چاہیے۔ امریکا اور پوری دنیا کا ذکر چھوڑدیں، صرف پڑوسی ممالک کے ٹرانسپورٹ نظام کا جائزہ لیا جائے تو ایران، وسطی ایشیائی ممالک اور بھارت میں یہ نظام موجود ہے۔ ممبئی، کلکتہ کے بعد نئی دہلی میں ٹیوب سروس شروع ہوئے برسوں ہوگئے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ لاہور میں میٹرو بس منصوبے کے بعد اورنج ٹرین منصوبے پر عمل درآمد کررہے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ سال ٹریفک حادثات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔
ان ہلاکتوں کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کا نہ ہونا ہے۔ اگر بسیں، ریل اور ٹرام چلے گی تو موٹر سائیکلوںکے استعمال کی شرح کم ہوگی۔ کاروں کی خریداری میں فرق پڑے گا، ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی شرح کم ہوجائے گی۔ جدید پبلک ٹرانسپورٹ ہر شہری کا حق ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں یہ پہلا نکتہ ہونا چاہیے۔
گرین اور اورنج لائن منصوبوں کے تحت سرجانی سے ٹاور تک بسوں کے لیے مخصوص کوریڈور بنے گا۔ اس طرح کراچی میں ایک دفعہ پھر بڑی بسیں چلنے لگیں گی۔ جب عشرت العباد سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سندھ کے گورنر کے عہدے پر تعینات ہوئے تھے تو انھوں نے شہریوں کو خوش خبری سنائی تھی کہ اب سرکلر ریلوے پھر فعال ہوگی۔
کراچی کے مضافاتی علاقوں کے مکینوں کو شہر میں آنے کے لیے جدید ٹرانسپورٹ مہیا ہوگی۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی کوششوں سے چنیسر ہالٹ سے سٹی اسٹیشن تک لوکل ریل گاڑیاں چلیں، اس طرح یہ سرکلر ریلوے اپنے اصل راستے سے آدھے راستے تک محدود ہوگئی۔ شہریوں نے گورنر صاحب کی بات پر اعتبار کیا کہ سرکلر ریلوے اپنے پرانے راستے پر چلنے لگے گی مگر چند ماہ بعد آدھی سرکلر ریلوے بھی بند ہوگئی۔
کراچی نہ صرف ملک کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ آبادی کے اعتبار سے کراچی کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے، مگر کراچی اپنے انفرااسٹرکچر اور اہم سہولتیں نہ ہونے کے اعتبار سے دنیا کے چند بڑے شہروں میں اولین نمبر پر ہے۔ کراچی کے شہری اس شہر کی بدقسمتی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کراچی شہر پبلک ٹرانسپورٹ کے تناظر میں ماضی کی طرف گامزن ہے۔
جب 1947 میں پاکستان آزاد ہوا تھا تو کراچی ہی نئی ریاست کا دارالحکومت بنا۔ اس وقت کراچی کی آبادی چند لاکھ تھی مگر یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی ویسی سہولتیں موجود نہیں تھیں جیسی ہندوستان کے بڑے شہروں میں تھیں۔ کراچی شہر میں ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں، شہر بھر میں ٹرام سروس اپنی رفتار پر سفر کرتی تھی، گھوڑوں سے کھینچنے والی بگھیاں اور تانگے دستیاب تھے۔ شہر کی آبادی بڑھنے کے ساتھ سندھ پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔
50 اور 60 کی دہائی میں نئی بستیوں کے آباد ہونے کے ساتھ بسوں کی تعداد بڑھی۔ اس زمانے کی ٹرام کراچی شہر میں لوگوں کی سفر کی ضرورتوں کو پورا کرتی تھی۔ جب جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو کراچی کے مضافاتی علاقوں سائٹ اور لانڈھی میں صنعتی زون قائم ہوئے اور ان علاقوں میں مزدوروں کی کالونیاں آباد ہوئیں تو کراچی میں سرکلر ریلوے چلنے لگی۔ سرکلر ریلوے کیماڑی سے سٹی اسٹیشن سے ہوتی ہوئی ایک طرف پپری اسٹیشن پر ختم ہوتی، دوسری طرف وزیر مینشن سے سائٹ، ناظم آباد، لیاقت آباد، گلشن اقبال سے گزرتی ہوئی ناتھا خان گوٹھ پر ریل کی مرکزی پٹری سے منسلک ہوجاتی۔
حکومت نے شہر سے دور آباد ہونے والی بستیوں کے مکینوں کو سفری سہولتوں کی فراہمی کے لیے سرکاری شعبے میں بسیں چلانا شروع کی تھیں۔ اس مقصد کے لیے کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن KTC قائم ہوئی۔ سوئیڈن نے فری ائیرکنڈیشن بسوں کا ایک فلیٹ کراچی والوں کو تحفہ کے طور پر دیا تھا۔ ان بسوں میں پبلک آٹومیٹک سسٹم بھی تھا۔ یہ بسیں بہت عرصے تک کراچی یونیورسٹی کے طلبا کے پوائنٹس کے لیے استعمال ہوئیں مگر پھر ٹرانسپورٹ کی مافیا وجود میں آگئی۔
سرکلر ریلوے کے معیار کو خراب کیا گیا۔ ریل کے انجن راستے میں خراب ہونے لگے۔ ریلوے کے پورے نظام اور اوقات کی پابندی چھوڑ دی۔ مسافروں کے ڈبوں میں صفائی کا انتظام بگڑ گیا، عوام کا اعتماد کمزور ہونے لگا۔ ریلوے کی انتظامیہ نے ان انتظامات پر توجہ نہیں دی، اس کے ساتھ ہی منی بسوں اور کوچوں میں مسافروں کو بٹھانے کے لیے پرمٹ جاری کیے گئے۔
ٹرام کے خلاف مافیا نے مہم شروع کی۔ کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں بدعنوانیاں عروج کو پہنچیں۔ ڈیزل، اسپیئر پارٹس کی چوری، بسوں کے خراب ہونے، بیوروکریسی کی لوٹ مار، عملے کے کام نہ کرنے کی عادت، اختیارات کا نظام نہ ہونے سے کے ٹی سی مالیاتی خسارہ بڑھتا چلا گیا۔ پہلے ٹرام سروس بند ہوئی، پھر کے ٹی سی بند ہو گئی، اس کے ساتھ سرکلر ریلوے اپنے اختتام کو پہنچی۔ کراچی کے شہریوں کے لیے منی بسیں چلائی گئیں، جس میں مرغا بن کر سفر کیا جاتا اور ان منی بسوں کی تیز رفتاری سے حادثات کی شرح بڑھ گئی۔
کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے پر ایوب خان کے دور میں سوچ بچار شروع ہوئی۔ کے ڈی اے میں بھی اس کی ڈیسک قائم ہوگئی مگر ایوب خان کے دور سے جنرل ضیاء الحق کے دور تک یہ معاملہ صرف کاغذات تک محدود رہا۔ اس دوران جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور پھر جنرل ضیاء الحق اقتدار میں آئے مگر ملک کے سب سے بڑے شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دینے کے لیے کچھ نہیں ہوا۔
ان حکومتوں نے محدود نوعیت کے اقدامات کیے جس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ 80 کی دہائی کے آخرے عشرے میں صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ شہر فسادات کا شکار ہوا اور اس کی نوعیت لسانی ہوگئی۔ کراچی شہر میں ہونے والے ان فسادات نے شہر کی روشنیوں کو نگل لیا اور شہر کی ترقی رک گئی۔
پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں اور فہیم الزماں کو بلدیہ کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تو ان کے دور میں ماس ٹرانزٹ منصوبے پر کام شروع ہوا، مگر فہیم الزماں کے رخصت ہوتے ہی یہ معاملہ پھر فائلوں میں دب گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں دو ناظمین نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال نے شہر کی ہیئت کو تبدیل کردیا مگر پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے وہ اقدامات نہیں ہوئے جو بین الاقوامی معیار پر پورے اترتے۔ ہنگاموں کے دوران کراچی میں بسوں کو نذر آتش کرنا نہایت آسان بات ہوگئی، بھتہ مافیا کے پھیلاؤ، ڈیزل، فاضل پرزہ جات کے مہنگے ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری رک گئی۔
نعمت اللہ خان کے دور میں بینکوں نے قرضے فراہم کیے، خوبصورت ائیر کنڈیشن بسیں سڑکوں پر چلائی گئیں، پھر یہ بسیں غائب بھی ہوگئیں۔ مصطفیٰ کمال نے اپنے اقتدار کے آخری دور میںگرین بسیں چلائیں جو بہت کم تعداد میں تھیں۔ اس شہر کی بدقسمتی پر کیا ماتم کیا جائے کہ مصطفیٰ کمال کے دور میںچنگ جی مافیا ابھری، موٹر سائیکل رکشہ چنگ چی کو پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یہ رکشہ مال برداری کے لیے تیار ہوا ہے۔
یہ سڑک پر الٹ جاتا ہے اور اس کی نشستیں محدود ہوتی ہیں، کراچی میں چوری کی موٹر سائیکلیں ان رکشوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ نوعمر لڑکوں کو روزگار کا نیا سلسلہ ملا مگر یہ چنگ چی رکشہ بڑی بسوں کی عدم موجودگی سے غریبوں کے لیے نعمت بن گئے۔ پہلے تو پولیس نے چنگ چی رکشوں کی سرپرستی کی۔
اس طرح ایک نئی مافیا وجود میں آگئی، پھر ان پر پابندی عائد کردی۔ اس پابندی نے غریبوں کی مشکلات مزید بڑھادیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے ان رکشوں پر پابندی کو قانونی قرار دیا۔ اب سپریم کورٹ اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ اخبارات میں شایع ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی انتظامیہ نے چنگ چی رکشہ والوں کی انجمن اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی مشاورت سے کوئی منصوبہ بنایا ہے جس پر عمل درآمد سے ان رکشوں کو قانونی تحفظ ملے گا، مگر کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا حل بین الاقوامی معیار کے مطابق ماس ٹرانزٹ منصوبے پر عمل درآمد ہے۔ اس منصوبے میں بڑی بسیں، ٹرام سروس، زیر زمین ریل وغیرہ شامل ہونا چاہیے۔
کراچی میں اگلے ماہ بلدیاتی انتخابات منعقد ہوں گے۔ ایم کیوایم، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف کراچی کے میئر کے عہدے کے طلب گار ہیں۔ یہ جماعتیں واقعی کراچی شہر کے مسائل حل کرنا چاہتی ہیں تو ان کی صرف ایک ترجیح ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہونا چاہیے۔ امریکا اور پوری دنیا کا ذکر چھوڑدیں، صرف پڑوسی ممالک کے ٹرانسپورٹ نظام کا جائزہ لیا جائے تو ایران، وسطی ایشیائی ممالک اور بھارت میں یہ نظام موجود ہے۔ ممبئی، کلکتہ کے بعد نئی دہلی میں ٹیوب سروس شروع ہوئے برسوں ہوگئے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ لاہور میں میٹرو بس منصوبے کے بعد اورنج ٹرین منصوبے پر عمل درآمد کررہے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ سال ٹریفک حادثات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔
ان ہلاکتوں کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کا نہ ہونا ہے۔ اگر بسیں، ریل اور ٹرام چلے گی تو موٹر سائیکلوںکے استعمال کی شرح کم ہوگی۔ کاروں کی خریداری میں فرق پڑے گا، ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی شرح کم ہوجائے گی۔ جدید پبلک ٹرانسپورٹ ہر شہری کا حق ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں یہ پہلا نکتہ ہونا چاہیے۔