بے اختیار اور کمزور بلدیاتی نظام
جو ضلعی حکومتوں میں اندرون ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تسلیم کیے جاتے تھے۔
ISLAMABAD:
سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو مجبوراً اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانا ہی پڑے اور پہلے مرحلے میں پنجاب کے 12 اور سندھ کے 18 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکا اور باقی اضلاع میں آنے والے دو مرحلوں میں امید ہے کہ بلدیاتی انتخابات مکمل ہو جائیں گے اور آئینی ضرورت پوری ہو جائے گی کیونکہ چاروں صوبائی حکومتوں نے آئین کی پاسداری نہیں کی اور خود 6 سال قبل بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے اور مسلسل آئین کی خلاف ورزی کی جاتی رہی اور سپریم کورٹ نے صبر و تحمل سے چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کے طرز عمل کو برداشت کیا، وگرنہ عدالت عظمیٰ ان کے خلاف آئین کی مسلسل خلاف ورزی پر سخت کارروائی کر سکتی تھی۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری و دیگر جج صاحبان اگر 2013ء میں اس سلسلے میں دلچسپی نہ لیتے تو کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات نہ کراتی۔ بلوچستان کے خراب حالات اور غیر یقینی صورتحال میں بھی بلوچستان حکومت نے دو سال قبل اپنے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروا کر باقی صوبوں کے لیے مثال قائم کی تھی مگر جمہوری کہلانے والی مسلم لیگ (ن) کی وفاق اور پنجاب کی حکومتوں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور تحریک انصاف کی کے پی کے کی حکومت نے اپنی آئینی ذمے داریوں سے انحراف کیا۔
کسی بھی وفاقی حکومت نے ملک کے کنٹونمنٹ بورڈز اور اسلام آباد میں کئی عشرے گزر جانے کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔ جنرل ضیا کے دور میں پنجاب میں (ن) لیگ کی حکومت نے ایک بار بلدیاتی انتخابات ضرور کروائے تھے مگر پیپلز پارٹی کا یہ ریکارڈ ہے کہ جس کی ملک میں چار بار حکومت قائم ہوئی صدر بھٹو سے صدر زرداری تک پی پی کی کسی بھی حکومت نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔
ملک میں جمہوری حکومتوں کے مقابلے میں سابق فوجی صدور جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کو یہ اعزاز حاصل رہے گا کہ انھوں نے اپنی فوجی حکومتوں میں ایک نہیں بلکہ دو دو اور تین بار بلدیاتی انتخابات کروائے اور 1958ء کے بعد قائم ہونے والی کوئی بھی جمہوری حکومت ایک بار بھی ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرا سکی یہ شرمناک ریکارڈ ہمیشہ قائم رہے گا۔
دنیا بھر میں بااختیار بلدیاتی نظام موجود ہے جہاں میئر با اختیار ہی نہیں ہوتے بلکہ وہاں کی پولیس بھی بلدیاتی اداروں کے کنٹرول میں ہوتی ہے اور وہاں کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے آنے جانے کا وہاں کی مقامی حکومتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا وہ اپنے حاصل اختیارات کے تحت کام کرتی رہتی ہیں۔
پاکستان میں افسوسناک مقام یہ ہے کہ یہاں کے قومی اور صوبائی حکومتوں میں ارکان اسمبلی نہیں چاہتے کہ ملک میں بلدیاتی الیکشن ہوں اور بلدیاتی نمایندے با اختیار ہوں۔ ارکان اسمبلی کو سیاسی حکومتیں سیاسی رشوت کے طور پر جو سالانہ فنڈ مختص کرتی ہیں وہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔ ارکان اسمبلی کے ان غیر قانونی فنڈز کا عوام کو فائدہ کم اور ارکان اسمبلی کو زیادہ ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر کرپشن کی جاتی ہے۔
ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی ہے بلدیاتی کام کرانا نہیں ہوتا مگر وہ بلدیاتی معاملات میں نہ صرف مداخلت کرتے ہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کے کام بھی خود کرنا چاہتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا یہ فنڈ صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں بند کر دیا تھا تو ارکان اسمبلی اور سینیٹر چیخ اٹھے تھے اور (ق) لیگ کی حکومت میں ارکان اسمبلی کے فنڈ بحال کر دیے گئے تھے جو بلدیاتی اداروں کا قانونی حق ہے مگر ارکان اسمبلی یہ فنڈ غیر قانونی طور پر حاصل کرتے آ رہے ہیں۔
ارکان اسمبلی چاہتے ہیں کہ نچلی سطح پر منتخب بلدیاتی عہدیدار نہ ہوں اور عام لوگ ان کے پاس جانے کی بجائے ان کے پاس آیا کریں۔ ارکان اسمبلی کی اکثریت منتخب ہونے کے بعد اپنے حلقوں سے غائب ہو جاتی ہے اور کسی تہوار، وی وی آئی پیز کے دورے یا الیکشن کے قریب اپنے حلقوں میں واپس آتی ہے اور ان کے ووٹر مہینوں بعد اپنے منتخب نمایندوں کی شکل دیکھ پاتے ہیں۔
جب کہ بلدیاتی عہدیداروں اور کونسلروں کا تعلق متوسط طبقے اور عوام میں رہنے والوں ہی سے ہوتا ہے جو اپنے حلقوں میں اپنے ووٹروں کو باآسانی دستیاب رہتے ہیں اور عوام کا زیادہ واسطہ بھی بلدیاتی عہدیداروں ہی سے پڑتا ہے اور لوگ ان سے باآسانی مل بھی لیتے ہیں کیونکہ ان سے ملنا آسان بھی ہوتا ہے اور لوگوں کے کام بھی با آسانی ہو جاتے ہیں جب کہ ارکان اسمبلی سے ملنا آسان نہیں ہوتا اور اگر مل بھی جائیں تو وہ ٹال مٹول کرتے ہیں اور لوگوں کے کام بھی نہیں ہوتے۔
جنرل پرویز مشرف کا ضلعی نظام ملک کا سب سے بااختیار بلدیاتی نظام تھا جس کے ارکان اسمبلی اور بیوروکریٹس سخت مخالف اور بڑے دشمن تھے کیونکہ انھیں بلدیاتی عہدیداروں کے انتظامی اور مالی اختیارات پسند نہیں تھے۔ بڑے بڑے بیوروکریٹ ضلعی حکومتوں میں منتخب ناظمین کے ماتحت تھے اور بلدیات کا محکمہ بھی قانونی کام کرنے والے ناظمین کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا اور ارکان اسمبلی ضلعی حکومتوں میں مداخلت نہیں کر سکتے تھے اور لوگوں نے بھی ارکان اسمبلی پر ناظمین کو فوقیت دینا شروع کر دی تھی۔ صدر پرویز مشرف کی موجودگی تک ضلعی نظام بااختیار اور برقرار رہا اور 2008ء میں منتخب ہونے والی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کی حکومتوں نے بااختیار ضلعی نظام ختم کر دیا ۔
اب ملک میں 1979ء کے جنرل ضیا الحق کے بلدیاتی نظام میں بعض ترامیم کے بعد موجودہ بلدیاتی نظام چاروں صوبوں میں نافذ کیا گیا ہے جس میں بلدیاتی ادارے اور ان کے فنڈ سرکاری کنٹرول میں ہوں گے اور بیوروکریٹس بلدیاتی عہدیداروں کو اپنا ماتحت بنا کر اپنا حکم چلا یا کریں گے اور سیاسی بھرتیوں کے باعث تباہ حال بلدیاتی اداروں کے پاس فنڈ محدود ہوں گے اور وہ حکومت کی مالی امداد کے محتاج رہیں گے اور وہ تعمیری و ترقیاتی کام کہیں نہیں ہوں گے جو ضلعی حکومتوں میں اندرون ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تسلیم کیے جاتے تھے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو مجبوراً اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانا ہی پڑے اور پہلے مرحلے میں پنجاب کے 12 اور سندھ کے 18 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکا اور باقی اضلاع میں آنے والے دو مرحلوں میں امید ہے کہ بلدیاتی انتخابات مکمل ہو جائیں گے اور آئینی ضرورت پوری ہو جائے گی کیونکہ چاروں صوبائی حکومتوں نے آئین کی پاسداری نہیں کی اور خود 6 سال قبل بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے اور مسلسل آئین کی خلاف ورزی کی جاتی رہی اور سپریم کورٹ نے صبر و تحمل سے چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کے طرز عمل کو برداشت کیا، وگرنہ عدالت عظمیٰ ان کے خلاف آئین کی مسلسل خلاف ورزی پر سخت کارروائی کر سکتی تھی۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری و دیگر جج صاحبان اگر 2013ء میں اس سلسلے میں دلچسپی نہ لیتے تو کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات نہ کراتی۔ بلوچستان کے خراب حالات اور غیر یقینی صورتحال میں بھی بلوچستان حکومت نے دو سال قبل اپنے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروا کر باقی صوبوں کے لیے مثال قائم کی تھی مگر جمہوری کہلانے والی مسلم لیگ (ن) کی وفاق اور پنجاب کی حکومتوں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور تحریک انصاف کی کے پی کے کی حکومت نے اپنی آئینی ذمے داریوں سے انحراف کیا۔
کسی بھی وفاقی حکومت نے ملک کے کنٹونمنٹ بورڈز اور اسلام آباد میں کئی عشرے گزر جانے کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔ جنرل ضیا کے دور میں پنجاب میں (ن) لیگ کی حکومت نے ایک بار بلدیاتی انتخابات ضرور کروائے تھے مگر پیپلز پارٹی کا یہ ریکارڈ ہے کہ جس کی ملک میں چار بار حکومت قائم ہوئی صدر بھٹو سے صدر زرداری تک پی پی کی کسی بھی حکومت نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔
ملک میں جمہوری حکومتوں کے مقابلے میں سابق فوجی صدور جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کو یہ اعزاز حاصل رہے گا کہ انھوں نے اپنی فوجی حکومتوں میں ایک نہیں بلکہ دو دو اور تین بار بلدیاتی انتخابات کروائے اور 1958ء کے بعد قائم ہونے والی کوئی بھی جمہوری حکومت ایک بار بھی ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرا سکی یہ شرمناک ریکارڈ ہمیشہ قائم رہے گا۔
دنیا بھر میں بااختیار بلدیاتی نظام موجود ہے جہاں میئر با اختیار ہی نہیں ہوتے بلکہ وہاں کی پولیس بھی بلدیاتی اداروں کے کنٹرول میں ہوتی ہے اور وہاں کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے آنے جانے کا وہاں کی مقامی حکومتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا وہ اپنے حاصل اختیارات کے تحت کام کرتی رہتی ہیں۔
پاکستان میں افسوسناک مقام یہ ہے کہ یہاں کے قومی اور صوبائی حکومتوں میں ارکان اسمبلی نہیں چاہتے کہ ملک میں بلدیاتی الیکشن ہوں اور بلدیاتی نمایندے با اختیار ہوں۔ ارکان اسمبلی کو سیاسی حکومتیں سیاسی رشوت کے طور پر جو سالانہ فنڈ مختص کرتی ہیں وہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔ ارکان اسمبلی کے ان غیر قانونی فنڈز کا عوام کو فائدہ کم اور ارکان اسمبلی کو زیادہ ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر کرپشن کی جاتی ہے۔
ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی ہے بلدیاتی کام کرانا نہیں ہوتا مگر وہ بلدیاتی معاملات میں نہ صرف مداخلت کرتے ہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کے کام بھی خود کرنا چاہتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا یہ فنڈ صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں بند کر دیا تھا تو ارکان اسمبلی اور سینیٹر چیخ اٹھے تھے اور (ق) لیگ کی حکومت میں ارکان اسمبلی کے فنڈ بحال کر دیے گئے تھے جو بلدیاتی اداروں کا قانونی حق ہے مگر ارکان اسمبلی یہ فنڈ غیر قانونی طور پر حاصل کرتے آ رہے ہیں۔
ارکان اسمبلی چاہتے ہیں کہ نچلی سطح پر منتخب بلدیاتی عہدیدار نہ ہوں اور عام لوگ ان کے پاس جانے کی بجائے ان کے پاس آیا کریں۔ ارکان اسمبلی کی اکثریت منتخب ہونے کے بعد اپنے حلقوں سے غائب ہو جاتی ہے اور کسی تہوار، وی وی آئی پیز کے دورے یا الیکشن کے قریب اپنے حلقوں میں واپس آتی ہے اور ان کے ووٹر مہینوں بعد اپنے منتخب نمایندوں کی شکل دیکھ پاتے ہیں۔
جب کہ بلدیاتی عہدیداروں اور کونسلروں کا تعلق متوسط طبقے اور عوام میں رہنے والوں ہی سے ہوتا ہے جو اپنے حلقوں میں اپنے ووٹروں کو باآسانی دستیاب رہتے ہیں اور عوام کا زیادہ واسطہ بھی بلدیاتی عہدیداروں ہی سے پڑتا ہے اور لوگ ان سے باآسانی مل بھی لیتے ہیں کیونکہ ان سے ملنا آسان بھی ہوتا ہے اور لوگوں کے کام بھی با آسانی ہو جاتے ہیں جب کہ ارکان اسمبلی سے ملنا آسان نہیں ہوتا اور اگر مل بھی جائیں تو وہ ٹال مٹول کرتے ہیں اور لوگوں کے کام بھی نہیں ہوتے۔
جنرل پرویز مشرف کا ضلعی نظام ملک کا سب سے بااختیار بلدیاتی نظام تھا جس کے ارکان اسمبلی اور بیوروکریٹس سخت مخالف اور بڑے دشمن تھے کیونکہ انھیں بلدیاتی عہدیداروں کے انتظامی اور مالی اختیارات پسند نہیں تھے۔ بڑے بڑے بیوروکریٹ ضلعی حکومتوں میں منتخب ناظمین کے ماتحت تھے اور بلدیات کا محکمہ بھی قانونی کام کرنے والے ناظمین کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا اور ارکان اسمبلی ضلعی حکومتوں میں مداخلت نہیں کر سکتے تھے اور لوگوں نے بھی ارکان اسمبلی پر ناظمین کو فوقیت دینا شروع کر دی تھی۔ صدر پرویز مشرف کی موجودگی تک ضلعی نظام بااختیار اور برقرار رہا اور 2008ء میں منتخب ہونے والی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کی حکومتوں نے بااختیار ضلعی نظام ختم کر دیا ۔
اب ملک میں 1979ء کے جنرل ضیا الحق کے بلدیاتی نظام میں بعض ترامیم کے بعد موجودہ بلدیاتی نظام چاروں صوبوں میں نافذ کیا گیا ہے جس میں بلدیاتی ادارے اور ان کے فنڈ سرکاری کنٹرول میں ہوں گے اور بیوروکریٹس بلدیاتی عہدیداروں کو اپنا ماتحت بنا کر اپنا حکم چلا یا کریں گے اور سیاسی بھرتیوں کے باعث تباہ حال بلدیاتی اداروں کے پاس فنڈ محدود ہوں گے اور وہ حکومت کی مالی امداد کے محتاج رہیں گے اور وہ تعمیری و ترقیاتی کام کہیں نہیں ہوں گے جو ضلعی حکومتوں میں اندرون ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تسلیم کیے جاتے تھے۔