واٹربورڈ میں بدترین انتظامی بے قاعدگیاں ہورہی ہیں سیکریٹری بورڈ

ترقیوں اور بھرتیوں کے عمل میں قطعی طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے،اعلیٰ حکام کو خط .

ترقیوں اور بھرتیوں کے عمل میں قطعی طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے،اعلیٰ حکام کو خط . فوٹو: فائل

کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے سیکریٹری نے ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید کو تحریری طور پر واٹربورڈ میں ہونے والی بدترین انتظامی بے۔

قاعدگیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں ترقیوں اور بھرتیوں کے عمل میں سیکریٹری کے دفتر کو قطعی طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے جس کے باعث ترقیوں اور بھرتیوں کا عمل غیرقانونی ہے، انھوں نے اس خط کی کاپیاں چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ، صوبائی سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی ، صوبائی سیکریٹری قانون اور چیئرمین سیکریٹریٹ کو ارسال کی ہیں۔


جبکہ اس خط کی ایک کاپی نیب کو بھی مل گئی ہے اور اس خط کی بنیاد پر نیب نے اپنی تحقیقات بھی شروع کردیں اور اس حوالے سے واٹربورڈ کے اعلیٰ ترین افسران کو زیر تفتیش لیے جانے کا امکان ہے، باخبر زرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے سیکریٹری خلیق احمدخان نے واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدینفرید کے نام تحریر کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ واٹربورڈ میں قائم کی گئی شعبہ جاتی ترقیوں کی کمیٹی میں ادارے کے سیکریٹری کے دفتر کو قطعی طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے جو کہ سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 اور واٹربورڈ ایکٹ 1996 کی خلاف ورزی ہے جبکہ اس سلسلے میں کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ ایمپلائز رولز 1987کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے.

جس کے باعث دو سال کے دوران ہونے والی ترقیوں اور بھرتیوں کے عمل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ ادارے کے سیکریٹری کی طرف سے لکھے جانے والے خط سے واٹربورڈ میں ایک بھونچال کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کی انتظامیہ کی کوشش تھی کہ یہ خط باہر نہ آئے تاہم متعدد اعلیٰ افسران کو کاپیاں بھیجے جانے کے باعث واٹربورڈ کی انتظامیہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہوگئی ہے.

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ خط کے مندرجات مکمل طور پر درست ہیں موجودہ انتظامیہ بدترین انتظامی بے ضابطگیوں کی نہ صرف مرتکب ہورہی ہے اور بلکہ مختلف جگہوں سے نشاندھی کے باوجود وہ اپنے رویے کو درست کرنے پر تیار نہیں ہے جو کہ ادارے کے افسران کے لیے ناقابل فہم ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جس کی بنیاد پر واٹربورڈ کی موجودہ انتظامیہ یہ سب کچھ کررہی ہے۔
Load Next Story