اقتصادی راہداری کی تکمیل روشن مستقبل کی ضمانت
دوست ہو تو چین جیسا جس نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا
وزیراعظم نے اراضی کے حصول کا عمل تیز کرنے کے لیے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ رابطے کی بھی ہدایت کی۔ فوٹو: فائل
دوست ہو تو چین جیسا ، جس نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور اب اقتصادی راہداری کی صورت میں ہمیں ایک ایسا عظیم منصوبہ دیا ہے،جو ہماری آنے والی نسلوں کی تقدیر وقسمت بدل سکتا ہے، اس لیے حکومت پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی جلد ازجلد تکمیل چاہتی ہے تاکہ ملک ترقی وخوشحالی کی راہ پرگامزن ہوسکے۔
اسی تناظر میں گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کوجلد مکمل کر کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا یقین دلایا اور بلوچستان میں جاری ترقیاقی منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئیاس کے معیار پرکسی صورت سمجھوتہ نہ کرنے پر زوردیا ۔
دراصل اقتصادی راہداری منصوبہ گوادر پورٹ کی سمندری جغرافیائی اہمیت کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے،کیونکہ اس بندرگاہ پر مال بردارجہازوں کی آمدورفت سے اور پھر ملک کے طول وعرض سے گزرتے ہوئے وسط ایشیائی ریاستوں تک سامان کی نقل وحمل سے سب کو اقتصادی ومعاشی فائدہ پہنچے گا، اس پر بعض پڑوسی ممالک اورعالمی قوتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں کہ اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تو پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا۔
بلاشبہ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کا وژن ہے کہ وہ ملک کو اقتصادی اور معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے اس منصوبے کی جلد ازجلد تکمیل کے لیے خلوص نیت سے کوشاں ہیں ۔ وزیراعظم نے لاہور سے عبدالحکیم موٹر وے اور ژوب سے مشاکوٹ موٹر وے کا رواں ماہ میں سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا جب کہ انھیں رپورٹ پیش کی گئی کہ موٹر وے کے خانیوال سے ملتان سیکشن پر کام مکمل کرلیا گیا ہے اور یہ نومبر میں افتتاح کے لیے تیار ہے،وزیراعظم نے اراضی کے حصول کا عمل تیز کرنے کے لیے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ رابطے کی بھی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں بے مثال سرمایہ کاری کی ہے۔ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کو پی ایس ڈی پی کے سوفیصد فنڈز جاری کیے ہیں۔دوسری جانب اقتصادی راہداری کے تحت چین نے پشاور سے کراچی تک ایم ایل ون ٹریک کی اپ گریڈیشن ،ڈبلنگ اورحویلیاں کے مقام پر ڈرائی پورٹ کے قیام کے لیے 3.7بلین ڈالر مختص کیے ہیں۔حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات پرکاربند ہے، اسی ضمن میں جنرل الیکٹرک کے سی ای او نے وزیراعظم سے ملاقات میں حکومتی پالیسیوں پر اعتمادکا اظہارکیا ہے۔
بس اتنا لازم ہے حکومت پر کہ وہ منصوبوں کو قومی اتفاق رائے کے ساتھ شفافیت کے معیارکو سامنے رکھے، تاکہ پاکستان ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پرگامزن رہے اورعوام کا معیار زندگی بلند ہوسکے ۔
اسی تناظر میں گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کوجلد مکمل کر کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا یقین دلایا اور بلوچستان میں جاری ترقیاقی منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئیاس کے معیار پرکسی صورت سمجھوتہ نہ کرنے پر زوردیا ۔
دراصل اقتصادی راہداری منصوبہ گوادر پورٹ کی سمندری جغرافیائی اہمیت کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے،کیونکہ اس بندرگاہ پر مال بردارجہازوں کی آمدورفت سے اور پھر ملک کے طول وعرض سے گزرتے ہوئے وسط ایشیائی ریاستوں تک سامان کی نقل وحمل سے سب کو اقتصادی ومعاشی فائدہ پہنچے گا، اس پر بعض پڑوسی ممالک اورعالمی قوتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں کہ اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تو پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا۔
بلاشبہ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کا وژن ہے کہ وہ ملک کو اقتصادی اور معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے اس منصوبے کی جلد ازجلد تکمیل کے لیے خلوص نیت سے کوشاں ہیں ۔ وزیراعظم نے لاہور سے عبدالحکیم موٹر وے اور ژوب سے مشاکوٹ موٹر وے کا رواں ماہ میں سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا جب کہ انھیں رپورٹ پیش کی گئی کہ موٹر وے کے خانیوال سے ملتان سیکشن پر کام مکمل کرلیا گیا ہے اور یہ نومبر میں افتتاح کے لیے تیار ہے،وزیراعظم نے اراضی کے حصول کا عمل تیز کرنے کے لیے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ رابطے کی بھی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں بے مثال سرمایہ کاری کی ہے۔ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کو پی ایس ڈی پی کے سوفیصد فنڈز جاری کیے ہیں۔دوسری جانب اقتصادی راہداری کے تحت چین نے پشاور سے کراچی تک ایم ایل ون ٹریک کی اپ گریڈیشن ،ڈبلنگ اورحویلیاں کے مقام پر ڈرائی پورٹ کے قیام کے لیے 3.7بلین ڈالر مختص کیے ہیں۔حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات پرکاربند ہے، اسی ضمن میں جنرل الیکٹرک کے سی ای او نے وزیراعظم سے ملاقات میں حکومتی پالیسیوں پر اعتمادکا اظہارکیا ہے۔
بس اتنا لازم ہے حکومت پر کہ وہ منصوبوں کو قومی اتفاق رائے کے ساتھ شفافیت کے معیارکو سامنے رکھے، تاکہ پاکستان ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پرگامزن رہے اورعوام کا معیار زندگی بلند ہوسکے ۔