بچوں سے زیادتی عبرت نگاہ سزا کا صائب فیصلہ

ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہیں،

زیادتی کیسوں میں نفسانی ہوس کے علاوہ خاندانی دشمنی اور بلیک میلنگ کے محرکات بھی سامنے آئے ہیں، فوٹو:فائل

ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، نوعمر بچوں کی معصومیت کچلنے والے درندوں کو سخت سزا دینا ازحد ضروری ہے تاکہ ان واقعات کی روک تھام اور دیگر کو عبرت حاصل ہوسکے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل منظور کرتے ہوئے بالکل صائب فیصلہ کیا ہے کہ بچوں سے زیادتی کی سزا عمر قید یا موت ہوگی۔ قائمہ کمیٹی سے منظور کردہ فوجداری قوانین میں ترمیمی بل میں ہے کہ زیادتی کے شکار بچے کی شناخت ظاہر کرنے پر 2 سال قید اور بچے کا علاج نہ کرنے والے کو 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، نیز ایسے کیس میں کارروائی نہ کرنے والے پولیس افسر کو 6 ماہ سے 2 سال قید ہوگی۔


بلاشبہ سخت قوانین کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے لیکن زیادتی کے واقعات کی روک تھام اور اس کے محرکات کا سدباب کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے منظرعام پر آنے والے قصور اسکینڈل نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرہ کس تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہورہا ہے۔

زیادتی کیسوں میں نفسانی ہوس کے علاوہ خاندانی دشمنی اور بلیک میلنگ کے محرکات بھی سامنے آئے ہیں، نیز انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر فحش ویڈیو کلپ کی مانگ نے اسے ایک کاروبار کی شکل بھی دے دی ہے جس کا ادراک قصور اسکینڈل سے بھی ہوتا ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جہاں معاشرتی خرابیاں قصوروار ہیں وہیں والدین اور سرپرستوں کی لاپرواہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چھوٹے بچوں پر نظر نہ رکھنے اور رات گئے گھر سے باہر جانے کی اجازت دینا بھی مناسب نہیں۔ فوجداری قوانین بل میں زیادتی کیس میں کارروائی نہ کرنے والے پولیس افسر کو 6 ماہ سے 2 سال تک قید کا نکتہ بھی خوش آیند ہے کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے ایسے واقعات میں پولیس بااثر ملزمان کے دباؤ کے تحت کارروائی سے گریز کرتی ہے۔

لڑکیوں کے ساتھ ریپ کیس میں پولیس ناروا رویہ اختیار کرتی ہے، گزشتہ دنوں پنجاب میں زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی نے کیس درج نہ ہونے پر تھانے کے سامنے خود سوزی کرلی تھی۔ ریپ کے کیسوں میں ریاست کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے اور متاثرہ خاتون کو جان اور عزت و وقار کا تحفظ فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمے داری ہے، بین الاقوامی انسانی حقوق کی روشنی میں بھی ان ترامیم کی ضرورت ہے۔
Load Next Story