شارجہ ٹیسٹ حفیظ کوفتح کے سہانے خواب دکھائی دینے لگے
چوتھی اننگزمیں بیٹنگ آسان نہیں،سیریز2-0 سے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے
اس وکٹ پر 200 سے زیادہ کا کوئی بھی اسکور آخری اننگز میں بنانا بہت مشکل ہو گا، محمد حفیظ۔ فوٹو: فائل
SILVERSTONE:
محمد حفیظ کو شارجہ ٹیسٹ میں فتح کے سہانے خواب دکھائی دینے لگے، انھیں قوی امید ہے کہ پاکستان آخری دن انگلینڈ کی 8وکٹیں حاصل کرکے سیریز کو 2-0 سے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں حفیظ نے کہاکہ اس وکٹ پر چوتھی اننگز میں بیٹنگ آسان نہیں، شعیب ملک نے 2 وکٹیں حاصل کر لیں جب کہ یاسر اور ذوالفقاربابر بھی انگلش بیٹسمینوں پر دباؤ ڈالے ہوئے ہیں، اسپنرز پچ میں اپنے لیے موجود مدد کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ ہم آخری دن حریف کو آؤٹ کر لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پچ کو دیکھتے ہوئے ہمیں انگلینڈ کو جو ہدف دینا چاہیے تھا وہی دیا، ٹیم کو وقت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا، ہم اچھی کرکٹ کھیلنا چاہتے اور یہی ذہن میں تھا کہ اس وکٹ پر 200 سے زیادہ کا کوئی بھی اسکور آخری اننگز میں بنانا بہت مشکل ہو گا۔ محمد حفیظ نے اپنے 151 رنز کے بارے میں کہا کہ میں اسے ایک اچھی اننگز سمجھتا ہوں کیونکہ اس وکٹ پر بیٹنگ آسان نہیں جب کہ آؤٹ فیلڈ بھی سست ہے۔ ایسے میں چانس لینے پڑتے ہیں۔
حفیظ نے کہا کہ اظہر نے میرا بہت ساتھ دیا اور ان کی وجہ سے مجھے بہت اعتماد ملا، اسد اور سرفراز نے بھی اچھی بیٹنگ کی۔ حفیظ نے تسلیم کیا کہ سنچری کے قریب آنے پر نروس تھا کیونکہ انگلینڈ کے خلاف ماضی میں متعدد بار نروس نائنٹیز کا شکار ہو چکا ہوں لہٰذا اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں پہلے بیٹسمین پھر بولر ہوں، میری بولنگ نے ٹیم کا کمبی نیشن بنانے میں بڑی مدد دی، بولنگ نہ کرنے کا دکھ ضرور ہے لیکن ضرور واپس آئوں گا، فی الحال تمام تر توجہ بیٹنگ پر ہے۔
محمد حفیظ کو شارجہ ٹیسٹ میں فتح کے سہانے خواب دکھائی دینے لگے، انھیں قوی امید ہے کہ پاکستان آخری دن انگلینڈ کی 8وکٹیں حاصل کرکے سیریز کو 2-0 سے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں حفیظ نے کہاکہ اس وکٹ پر چوتھی اننگز میں بیٹنگ آسان نہیں، شعیب ملک نے 2 وکٹیں حاصل کر لیں جب کہ یاسر اور ذوالفقاربابر بھی انگلش بیٹسمینوں پر دباؤ ڈالے ہوئے ہیں، اسپنرز پچ میں اپنے لیے موجود مدد کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ ہم آخری دن حریف کو آؤٹ کر لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پچ کو دیکھتے ہوئے ہمیں انگلینڈ کو جو ہدف دینا چاہیے تھا وہی دیا، ٹیم کو وقت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا، ہم اچھی کرکٹ کھیلنا چاہتے اور یہی ذہن میں تھا کہ اس وکٹ پر 200 سے زیادہ کا کوئی بھی اسکور آخری اننگز میں بنانا بہت مشکل ہو گا۔ محمد حفیظ نے اپنے 151 رنز کے بارے میں کہا کہ میں اسے ایک اچھی اننگز سمجھتا ہوں کیونکہ اس وکٹ پر بیٹنگ آسان نہیں جب کہ آؤٹ فیلڈ بھی سست ہے۔ ایسے میں چانس لینے پڑتے ہیں۔
حفیظ نے کہا کہ اظہر نے میرا بہت ساتھ دیا اور ان کی وجہ سے مجھے بہت اعتماد ملا، اسد اور سرفراز نے بھی اچھی بیٹنگ کی۔ حفیظ نے تسلیم کیا کہ سنچری کے قریب آنے پر نروس تھا کیونکہ انگلینڈ کے خلاف ماضی میں متعدد بار نروس نائنٹیز کا شکار ہو چکا ہوں لہٰذا اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں پہلے بیٹسمین پھر بولر ہوں، میری بولنگ نے ٹیم کا کمبی نیشن بنانے میں بڑی مدد دی، بولنگ نہ کرنے کا دکھ ضرور ہے لیکن ضرور واپس آئوں گا، فی الحال تمام تر توجہ بیٹنگ پر ہے۔