فیکٹری کا زمیں بوس ہونا المیہ ہے

لاہور میں بدھ کو سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک پولی پیک فیکٹری کی4منزلہ عمارت کا انہدام ایک افسوسناک سانحہ ہے

لاہور میں بدھ کو سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک پولی پیک فیکٹری کی4منزلہ عمارت کا انہدام ایک افسوسناک سانحہ ہے، فوٹو: فائل

لاہور میں بدھ کو سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک پولی پیک فیکٹری کی4منزلہ عمارت کا انہدام ایک افسوسناک سانحہ ہے جس میں مالک سمیت23افراد جاں بحق جب کہ 95 زخمی ہوگئے۔ان سطور کے لکھے جانے تک اطلاعات یہ تھیں کہ 70کے قریب افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تعمیرات کی صنعت ضابطوں اور تخلیقی ہنر مندی سے آراستہ انڈسٹری کہلاتی تھی اور ماضی کی شاندار تاریخی عمارتوں سے قطع نظر نجی مکانات اور تجارتی مراکز تک اپنے حسن تعمیر کے حوالہ سے آج بھی عہد رفتہ کی شاندار تعمیراتی قدروں اور فن تعمیر کے بنیادی اصولوں پر عملدرآمد کرانے کی روایات کی مظہر ہیں۔

لیکن ملک کے مختلف شہروں میں جہاں کئی شعبے بدانتظامی، اور بدعنوانی کا شکار ہوئے وہاں راتوں رات تعمیراتی زوال نے بھی عمارتوں کے منہدم ہونے کے سانحات کا صدمہ دیا جب کہ ایسے ٹھیکیدار میدان میں آئے جن کو تعمیرات کا نہ کوئی بنیادی علم تھا نہ تجربہ، چنانچہ اندھا دھند فیکٹریاں، پلازے، ہوٹلز اور رہائشی فلیٹس بنانے کی جو اندھی دوڑ شروع ہوئی اس میں تعمیراتی ضابطے دم توڑتے گئے، بلڈنگ کنٹرول کے پہلے تو محکمے کمزور ثابت ہوئے پھر کرپشن نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔

شہر سارے کنکریٹ کے جنگل بن گئے، پنجاب سے لے کر کراچی ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک بلڈنگ کنٹرول کے قوانین کی نگرانی پر مامور محکمے غیر موثر رہے، کسی نے انجینئرنگ، تعمیراتی مٹیریل مثلا ً سیمنٹ، ریتی ، بجری اور سریے کے پہلے سے طے شدہ ڈیزائن سے انحراف کی حوصلہ شکنی نہیں کی پیسہ بولتا رہا ۔ عمارتیں گرتی رہیں، فیکٹریوں اور رہائشی فلیٹس ناقص تعمیر کے باعث زمین بوس ہوئے، کراچی کے کئی معروف تعمیراتی اداروں کی بنی ہوئی عمارتیں دوران تعمیر سقوط پزیر ہوئیں، ان سب کی تحقیقات اکثر منظر عام پر نہیں آئیں۔

1976ء میں کراچی کی بسم اللہ بلڈنگ اور اس کے بعد متعدد تعمیراتی منصوبوں کے منہدم ہونے کی خبریں آتی رہیں لیکن ایسا کوئی منظم اور مربوط تعمیراتی نظام ملک گیر سطح پر قائم نہیں ہوا جو زلزلہ سے متاثرہ یا کمزور بنیادوں پر خاموشی اور ملی بھگت سے تعمیر ہونے والی کسی بلڈنگ میں ہونے والے مہلک اور مجرمانہ تساہل اور جعل سازی کو بروقت روک لیتا۔ سندر اندسٹریل اسٹیٹ کا سانحہ اسی غفلت اور غیر ذمے داری کا شاخسانہ ہے جس میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ تعمیراتی ضابطوں اور قوانین کے باوجود تعمیراتی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ نہیں ہوتی جب کہ اسی ملک میں دوسری جانب شاندار تعمیرات سے بھی ملک کے کئی شہر جگمگاتے ہیں۔


معروف بلڈرز نے خوبصورت رہائشی و تجارتی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ کیونکہ وہاں ضابطوں پر موثر عمل کرایا جاتا ہے۔ چنانچہ جب تک تعمیرات کے شعبہ میں کرپشن اور مجرمانہ غفلت کا خاتمہ نہیں ہوتا، ایسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گزشتہ روز سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں منہدم ہونے والی عمارت اور ملبے تلے آکر زخمی ہونیوالے افراد کی خیریت دریافت کرنے کے لیے شریف میڈیکل سٹی کا ہنگامی دورہ کیا اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ۔

زمین بوس ہونے والی فیکٹری میں کام کرنیوالے مزدوروں کا کہنا ہے کہ 26 اکتوبر کو آنیوالے شدید ترین زلزلے سے فیکٹری کی عمارت بھی متاثر ہوئی تھی اور فیکٹری مالکان اس سے آگاہ تھے، مگر بالائی منزل پر خاموشی سے تعمیراتی کام جاری تھا کہ پوری عمارت زور دار دھماکے سے زمین بو س ہو گئی ۔

ادھر ایک اطلاع کے مطابق پنجاب میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز عمارتیں گرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور اس ضمن میں انسانی جانوں کا ضیاع دن بدن بڑھ رہا ہے، اس وقت 140رہائشی و انڈسٹریل ایریاز میں عمارتیں خطرے کی گھنٹیاں ہیں جن کو تاحال محفوظ نہیں بنایا جا سکا۔ کچھ عرصہ قبل ایک اور فیکٹری میں آگ لگنے اور کھاڑک میں چار منزلہ عمارت گرنے سے پچاس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جس پر پنجاب حکومت نے تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دیں جن کی جانب سے رہائشی اور انڈسٹریل ایریاز کی 267 عمارتوں کو خطرناک قراردیا گیا ۔

جس کے بعد52فیکٹریوں کو انڈسٹریل ایریاز میں شفٹ کردیا گیا 57فیکٹریوں نے وسائل نہ ہونے پر کام بند کردیا جب کہ اس وقت139فیکٹریاں ایسی ہیں جو رہائشی و انڈسٹریل ایریاز میں کام کر رہی ہیں جہاں حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔ یہ بنیادی سوال ہے کہ انتظامات کے بغیر کس طرح ان فیکٹریوں کو فنکشنل ہونے کا اجازت نامہ ملا۔ کراچی میں غیر ملکی ملبوسات تیار کرنے والی بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری اسی قسم کی تعمیراتی بے ضابطگی کے باعث ڈھائی سو افراد کو زندہ نگل گئی۔ اس بدنصیب فیکٹری کے سوختہ جانوں کے لواحقین آج بھی حکومتی معاوضے اور اپنے قانونی واجبات کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ برصغیر کی قدیم ترین تعمیرات کا تخلیقی اور فنی ہنر مندی سے معمور اثاثہ مثل آئینہ ہے ۔ کنکریٹ عمارتوں اور کمرشل بلڈنگز کے گرنے کی خبریں دلوں کو چیر دیتی ہیں، مزدور اور ان عمارتوں میں موجود افراد کی زندگی کے چراغ گل جب کہ خاندانوں کے کفیل لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں تعمیراتی ضابطوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ ایسے سانحات دوبارہ جنم نہ لیں۔
Load Next Story