بلدیاتی انتخابات پیش منظر و پس منظر

سندھ اور پنجاب میں باقی رہ جانے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آچکے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

سندھ اور پنجاب میں باقی رہ جانے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آچکے ہیں جو عمومی اندازوں کے برخلاف ہیں۔

عمران خان کا نتیجہ امید کے بالکل برعکس نکلا۔ نواز حکومت چوں کہ ڈھائی تین سال میں عوام کا ایک بھی بڑا مسئلہ حل نہیں کرسکی خاص طور پر بجلی، گیس کی جان لیوا لوڈ شیڈنگ سے عوام کو نجات نہیں دلاسکی جس کا فائدہ تحریک انصاف کو ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

پنجاب ہماری سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا آرہا ہے اگر اس حوالے سے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ نواز حکومت اپنی تمام ترکمزوریوں کے باوجود پنجاب میں پہلے نمبر پر رہی اور آزاد امیدوار اتنی بھاری تعداد میں کامیاب ہوئے کہ ان کا نمبر دوسرا رہا، تحریک انصاف جس کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ وہ پہلے نہ سہی دوسرے نمبر پر آجائے گی، ان عام اندازوں کے برخلاف تحریک انصاف پنجاب میں تیسرے نمبر پر آئی اور امید کے مطابق پیپلزپارٹی پنجاب میں چوتھے نمبر پر آئی۔

سندھ میں یہ امید کی جارہی تھی کہ 2013 کے الیکشن کے تناظر میں پیپلزپارٹی بہت پیچھے چلی جائے گی لیکن یہ بات واقعی حیرت انگیز ہے کہ سندھ دیہی میں پیپلزپارٹی نے سندھ کی کل 766 نشستوں میں سے 564 نشستیں لینے میں کامیاب رہی، یہاں بھی آزاد امیدوار 130 نشستوں پر کامیاب ہوکر ایک نئے سیاسی کلچر کو متعارف کرایا ہے، متحدہ شہری سندھ کی سب سے بڑی پارٹی رہی ہے ۔

ان کے علاوہ دیہی سندھ میں بھی ان کا حلقہ اثر نمایاں تھا لیکن توقع کے مطابق دیہی سندھ میں متحدہ بہت پیچھے چلی گئی ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں جو آپریشن ہورہاہے اس کا اثر متحدہ کے ووٹ بینک پر پڑا ہے، اس کے ووٹ بٹ کر پی پی پی اور آزاد امیدواروں کی طرف چلے گئے ہیں۔ فنکشنل لیگ 50 نشستیں لینے میں کامیاب رہی ہے، امید کی جارہی تھی کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ کے کافی ووٹ تحریک انصاف کو ملیں گے لیکن ایسا نہ ہوا، پیپلزپارٹی اور آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب میں اور پیپلزپارٹی سندھ میں جس طرح کامیاب رہے ہیں ،کیا اس میں عوام کی آزاد مرضی کا دخل ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب پاکستانی سیاست اور پاکستانی معاشرتی سیٹ اپ کے پس منظر میں ڈھونڈنا پڑے گا۔ ہماری سیاست 68 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک شخصیتوں اور خاندانوں کے گرد گھوم رہی ہے نہ کوئی سیاسی پارٹی اپنے منشورکو اہمیت دیتی ہے نہ عوام کی پارٹی کی حمایت یا مخالفت اس کے منشور کے حوالے سے کرتے ہیں۔


شخصیت پرستی، خاندان پرستی، ذات پات ہمارے انتخابی نظام میں اہم رول ادا کرتے ہیں اس پس منظر میں ہمارے ملک میں جمہوریت اپنے روایتی معنوں میں کہیں نظر نہیں آتی۔ بلاشبہ عوام میں تعلیم کی کمی ان کمزوریوں کی بڑی وجہ ہے لیکن اس کی ذمے داری ہماری اشرافیائی حکومتوں پر اس لیے آتی ہے کہ انھوں نے روایتی تعلیم کی ترقی پر کبھی دھیان دینے کی کوشش کی نہ اپنے اپنے منشورکے حوالے سے عوام میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی کیوں کہ تعلیم اور منشور سے عوام کی آگہی کا مطلب اشرافیائی خاندانی موروثی سیاست، موروثی حکمرانی کی تباہی ہے۔

موجودہ انتخابی نتائج کے پس منظر میں کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ بلدیاتی نظام وہ امیدیں پوری کرسکے گا جو عرصے سے اس نظام سے وابستہ کرلی گئی تھیں؟ بلاشبہ بلدیاتی نظام نہ صرف علاقائی مسائل کے حل کی راہ فراہم کرتا ہے بلکہ نچلی سطح سے سیاسی قیادت کے ابھرنے کے مواقعے بھی فراہم کرتا ہے لیکن ہمارے ملک میں بڑی ہوشیاری کے ساتھ اشرافیہ کی جانب سے اس نظام پر قبضے کی جو منصوبہ بندانہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کے پیش نظر ان توقعات کا پورا ہونا بہت مشکل لگتا ہے جو اس نظام سے وابستہ کرلی گئی ہیں۔

ابھی دوسرے مرحلے کے انتخابات باقی ہیں جن کے عمومی حلقے شہری ہیں لیکن دوسرے مرحلے کے انتخابات میں کسی بڑی تبدیلی کی امید کرنا خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔ اسی پس منظر میں فہمیدہ حلقوں کی جانب سے بار بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ 68 سال سے عوام پر مسلط اس Statusq کو توڑے بغیر بہتر نتائج کی امید نہیں کی جاسکتی۔

ہماری 68 سالہ سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مڈل کلاس کی سیاست کو پروان چڑھنے نہیں دیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد مڈل کلاس پر مشتمل فعال سیاسی جماعتوں کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے کی پوری پوری کوشش کی گئی، اس اتفاق کو کیا کہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مڈل کلاس کی جو سیاسی پارٹیاں مضبوط تھیں وہ نظریاتی طور پر روشن خیال تھیں اور ان کا جھکاؤ مغربی ملکوں کے بجائے سوشلسٹ ملکوں کی طرف تھا۔ جسے امریکا اپنے لیے سنگین خطرہ سمجھتا تھا۔

سو اس نے اپنے میڈیا کی توپوں کا رخ ان کی طرف چلادیا، نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں مڈل کلاس سیاست مستحکم نہ ہوسکی اور آج تک یہی صورت حال ہے۔ قومی سطح پر پہلی بار ایک مڈل کلاس سیاسی جماعت تحریک انصاف کو آگے آنے کا موقع ملا لیکن اس جماعت کی بد قسمتی یہ رہی کہ وہ نظریاتی حوالے سے He رہی نہ She اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اس سے بد گمان ہوتے گئے، یہ صورتحال تحریک کی قیادت کی بچکانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہے اور اشرافیائی سازش بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے۔

بلدیاتی نظام ہمارے ملک کی ناگزیر ضرورت ہے کیوں کہ اس کے ذریعے نہ صرف علاقائی مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے بلکہ یہ نظام اگر صحیح معنوں میں کام کرنے لگے، تو مڈل کلاس کی راہ میں اشرافیہ کی طرف سے کھڑی کی گئی دیواروں کو بھی گراسکتا ہے، بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جو نئی بات سامنے آئی ہے وہ ہے آزاد امیدواروں کی بھاری تعداد میں کامیاب ہونا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عوام روایتی بڑی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہوگئے ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 5 دسمبرکو بھی نتائج زیادہ مختلف نہیں ہوں گے، آزاد امیدواروں کی کوئی نظریاتی اپروچ نہیں ہوتی نہ یہ کسی واحد تنظیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کی سیاست عموماً ان کے ذاتی مفادات سے وابستہ رہتی ہے۔

اس حقیقت کے پیش نظر آزاد نمایندوں سے کسی خیر کی توقع مشکل ہے لیکن بحیثیت مجموعی بلدیاتی نظام کا متحرک ہونا ایک اچھی اور پر امید پیش رفت ہے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
Load Next Story