ٹراٹسکی کا قاتل کون؟

ایم اسلم کھوکھر  جمعـء 6 نومبر 2015

یہ حقیقت تمام تر شکوک سے بالاتر ہے کہ اسٹالن لینن کا انتہائی وفادار ساتھی و فرماں بردار شاگرد تھا۔ جوزف اسٹالن کوئی کتابی دانشور نہ تھا بلکہ میدان جنگ میں عملی جدوجہد کرنے والا سپہ سالار تھا، اپنی جرأت و بہادری کے جوہر وہ 1917ء میں روس میں برپا ہونے والے انقلاب کی جدوجہد میں لینن کی قیادت میں دکھا چکا تھا، جب کہ 21 جنوری 1924ء میں جب لینن کی وفات ہوئی تو روسی کمیونسٹ پارٹی نے متفقہ طور پر جوزف اسٹالن کو لینن کا جانشین چن لیا۔

اس وقت روس یا دوسرے الفاظ میں سوویت یونین کا صدر بننا سو فیصد اپنے سر پرکانٹوں کا تاج رکھنے کے مترادف تھا کیونکہ اس وقت کا روس خوراک، تعلیم، علاج کی سہولیات و دفاع وغیرہ کسی بھی شعبے میں خود کفیل نہ تھا، جب کہ روس کے مدمقابل اس وقت کی سپر پاور انگلینڈ تھا جو کسی بھی صورت میں پرولتاری آمریت والی روسی ریاست کو برداشت کرنے کو تیار نہ تھا مگر یہ جوزف اسٹالن کی اعلیٰ قیادت و بہترین حکمت عملی کے باعث روس تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے ملک میں تمام مسائل پر قابو پانے کی جانب رواں دواں ہو چکا تھا۔

ان حالات میں جوزف اسٹالن ایک حکمران کی بجائے روسی عوام کی نظروں میں ایک لیڈر کا درجہ حاصل کر چکا تھا، یہ تمام چیزیں کانٹا بن کر جس کی نظروں میں کھٹک رہی تھیں، وہ شخص ٹراٹسکی تھا جو کہ ایک باصلاحیت دانشور ضرور تھا مگر کتابوں میں دبکا بیٹھا رہنے والا نا کہ میدان عمل کا شہسوار جب کہ نا تو ٹراٹسکی اپنے استاد لینن سے کبھی متفق ہوا تھا اور نہ ہی وہ کبھی اپنے استاد کا وفادار تھا۔ یہی سبب تھا کہ ٹراٹسکی تواتر کے ساتھ انقلاب مخالف سرگرمیوں میں پیش پیش تھا۔

اگر جوزف اسٹالن چاہتا تو ان تمام باتوں کو جواز بنا کر ٹراٹسکی کو قانونی طریقے سے سزائے موت دلا دیتا یا طویل عرصے تک اس کو جیل میں ڈلوا دیتا مگر اسٹالن نے ٹراٹسکی کو جلا وطنی کی سزا دی، مگر میکسیکو میں جلاوطنی کی زندگی کے دوران ٹراٹسکی مکمل طور پر سامراجی ایجنٹ بن گیا اور جوزف اسٹالن و روس مخالف جب کہ امریکی، جرمنی و جاپانی مفادات کے لیے سرگرم ہو گیا۔ میکسیکو میں ٹراٹسکی کو جو رہائش دی گئی وہ ایک قلعہ تھا جس کا نام کویوکان تھا۔ اس حصار بند رہائش کی سیکیورٹی پر مامور مسلح گارڈز کے تمام قسم کے اخراجات ٹراٹسکی کی سرپرست امریکی حکومت ادا کرتی تھی، یہ حقیقت ٹراٹسکی کی سامراجی ایجنٹ ہونے کی کھلی دلیل تھی، یہاں تک ٹراٹسکی نے انقلاب مخالف منشویکوں کی قیادت بھی کی۔

ذکر اگر ٹراٹسکی کے قتل کا ہو تو خلاصہ یہ ہے کہ ٹراٹسکی پر ایک قاتلانہ حملہ مئی 1940ء میں ہوا مگر ٹراٹسکی کی جان بچ گئی مگر جب 20 اگست 1940ء کو 5 بج کر 30 منٹ پر ٹراٹسکی پر رامون مرکیڈور نے ایک بھرپور ارادہ قتل کے ساتھ قاتلانہ حملہ کیا تو ٹراٹسکی شدید زخمی ہو گیا اور اگلے روز یعنی 21 اگست 1940ء کو جاں بحق ہو گیا جب کہ قاتلانہ حملے کے وقت سے دم آخر تک وہ مسلسل بے ہوش ہی رہا۔  ٹراٹسکی کے قاتل کی گرفتاری کے بعد اس کی جیب سے ایک طویل خط ملا جس میں اس نے ٹراٹسکی کو قتل کرنے کی تفصیلات میں بڑے واضح انداز میں تحریر کیا، چنانچہ اس نے لکھا کہ اس کا تعلق بلجیم سے ہے جب کہ اس نے صحافت کی تعلیم فرانس کے خوبصورت شہر پیرس سے حاصل کی تھی۔

رامون مرکیڈور صحافت ہی کو ذریعہ روزگار بنانا چاہتا تھا جب کہ پیرس ہی میں حصول تعلیم کے دوران رامون مرکیڈورکی ملاقات چند کمیونسٹ نوجوانوں سے ہوئی، یہ نوجوان ٹراٹسکی کے نظریاتی پیروکار تھے جن کے باعث رامون مرکیڈور کو ٹراٹسکی کے ترقی پسند نظریات جاننے کا موقع ملا اور وہ بھی ٹراٹسکی کا پیروکار بن گیا اور میکسیکو چلا گیا۔ رامون مرکیڈور کے تمام سفری اخراجات اس کے ایک قریبی دوست نے ادا کیے۔ پیرس سے رامون مرکیڈور کو میکسیکو روانہ کرتے وقت اس کے دوست نے اسے تاکید کی کہ کوشش کرنا کہ خود کو ٹراٹسکی سے دور رکھ سکو تا کہ ٹراٹسکی کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہو مگر رامون مرکیڈور میکسیکو جا کر خود کو ٹراٹسکی سے دور نہ رکھ پایا اور جلد ہی وہ ٹراٹسکی کا بااعتماد ساتھی بن گیا۔

یہاں تک کہ اس کی رسائی ٹراٹسکی کے قلعہ نما گھر تک ہوگئی۔ مگر اس موقعے پر ٹراٹسکی نجانے کس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس نے رامون مرکیڈور کے سامنے اپنے اندر کا وہ زہر اگلنا شروع کر دیا جو جوزف اسٹالن کے لیے تھا۔ یہاں رامون مرکیڈور پر یہ عقدہ کھلا کہ ٹراٹسکی نہ صرف محنت کشوں کو لڑا رہا تھا بلکہ وہ مزدور تحریکوں میں بھی دراڑیں ڈال رہا تھا، مگر جب ٹراٹسکی نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ تم یعنی رامون مرکیڈور سوویت یونین جاؤ اور جوزف اسٹالن اور ان کے تمام قریبی ساتھیوں کو قتل کر دو، اس سلسلے میں تمہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی یہاں تک امریکی سامراج کی بھی مکمل حمایت تمہیں حاصل ہو گی۔ ٹراٹسکی کے یہ خیالات جان کر رامون مرکیڈور بہت مایوس ہوا اور اس کے اندرکا وہ بت پاش پاش ہو گیا جو اس نے ٹراٹسکی کے لیے اپنے اندر سجا رکھا تھا۔

اس نے ٹراٹسکی کے لیے اپنے اندر حد درجہ نفرت و حقارت محسوس کی چنانچہ اس نے خود کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے بازو پر ایک بڑا سا کوٹ ڈالا اور کوٹ کے اندر ایک چھوٹا سا کلہاڑا چھپایا اور ٹراٹسکی کے قلعہ نما گھر میں داخل ہو گیا کسی بھی گارڈز نے رامون مرکیڈور کو روکنے کی کوشش نہیں کی چنانچہ اس نے ٹراٹسکی پر کلہاڑے سے حملہ کر دیا جس سے ٹراٹسکی شدید زخمی ہو گیا۔ ٹراٹسکی کی چیخ کی آواز سن کر اس کے گارڈز اور اس کی بیوی بھی آ گئے ایک گارڈ نے رامون مرکیڈور کو زخمی کر کے اسے اپنی گرفت میں لے لیا چنانچہ رامون مرکیڈور کو بھی ٹراٹسکی کے ساتھ ہی اسپتال لے جایا گیا۔

جہاں اگلے روز ٹراٹسکی جاں بحق ہو گیا جب کہ صحت یاب ہونے کے بعد رامون مرکیڈور کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے 20 برس قید کی سزا سنا دی گئی۔ اس تمام گفتگو سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ ٹراٹسکی کے قتل کے پس پردہ جوزف اسٹالن یا اس کی حکومت کا کوئی دخل تھا۔ آج ٹراٹسکی کے قتل کو 75 برس جب کہ کامریڈ جوزف اسٹالن کو بھی دنیا سے کوچ کیے 62 برس ہو چکے مگر ٹراٹسکی کے پیروکار اپنے اس الزام سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں کہ ٹراٹسکی کو جوزف اسٹالن نے قتل کروایا۔ ٹراٹسکی کے پیروکار آج تک جوزف اسٹالن کی کردار کشی کر رہے ہیں۔

یہ لوگ ذاتیات کی اس حد تک جاتے ہیں کہ جوزف اسٹالن کو موچی زادہ تک کہہ دیتے ہیں گویا ان لوگوں کی نظر میں کسی محنت کش کی اولاد ہونا بھی کوئی جرم ہے۔ ہاں ایسا ہونا جرم ہی تو ہے جبھی تو آج ایک ٹراٹسکی کے پیروکار کو محنت کشوں کا روس پسند نہ تھا آج بھی محنت کشوں کے روس پر تنقید کرتے ہیں اور آج کا روس ان صاحب کی نظروں میں ایک پھلتا پھولتا روس ہے جو شبانہ روز ترقی کر رہا ہے جب کہ حقیقی ترقی وہ ہوتی ہے جس کے ثمرات ریاست کے ہر ایک فرد تک پہنچیں۔ ایسا فقط اشتراکی نظام میں ہوتا ہے جب کہ روس میں تو سرمایہ داری نظام ہے جس کی ترقی کے ثمرات فقط چند سرمایہ دار ہی سمیٹ رہے ہیں۔ یہ ترقی نہیں بلکہ بدترین پستی ہے روسی سماج کی ترقی وہ تھی جو کامریڈ جوزف اسٹالن کے دور حکومت میں ہوئی کیونکہ اس ترقی سے ریاست کا ایک ایک شہری فیض یاب ہو رہا تھا نا کہ چند سرمایہ دار۔

آخر میں فقط اتنا عرض کروں گا کہ کسی کے کام پر تنقید کرنا سب کا حق ہے مگر وہ تنقید تمام تر حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جائے یوں بھی تنقید دو دھاری تلوار ہے، چنانچہ اس ہتھیار کا استعمال بلا سوچے بلا جانے نہ کیا جائے اور ہاں عصر حاضر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے انسان کو جن گمبھیر مسائل کا سامنا ہے ہم سب مل کر ان مسائل کا حل تلاش کریں نا کہ 75 برس قبل ٹراٹسکی کے قتل پر بے مقصد بحث میں الجھے رہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔