اقبال جدیدیت کے نکتہ چیں بھی تھے اور مداح بھی
وہ اسلامی ثقافتی نہاد برقرار رکھتے ہوئے مغربی جدیدیت سے استفا دہ کے قائل تھے
علامہ اقبال نے مشرقی ادبیات کی روایت کو کھو جا ہی نہیں، اسے مرتب بھی کیا۔ فوٹو: فائل
ماڈرن ازم اقبال کی معاصر یورپی ادبی تحریک تھی۔ اس کا زمانہ 1910ء تا 1930ء قرار دیا جاتا ہے۔ معاصر تحریک ہونے کے باوجود اس کے براہ راست اثرات اقبال کی شاعری پر نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا اقبال اس تحریک سے آگاہ نہیں تھے اور اگر آگاہ تھے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی انتخابی نظر اس تحریک کو اپنے شعری مقاصد سے ہم آہنگ محسوس نہیں کرتی تھی؟
اقبال مغربی ادبیات سے پور ے طور پر آگاہ تھے۔ انہوں نے ''بانگ درا'' میں درجن بھر امریکی اور برطانوی شعرا: جیسے لانگ فیلو' ایمرسن' ولیم کوپر' ٹینی سن' براؤننگ' سیموئیل راجرز اور دوسروں کی نظموں سے اخذ و ترجمہ کیا ہے۔ ورڈز ورتھ کا انہوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا اور 1910ء میں اپنی انگریزی بیاض میں لکھا تھا کہ ورڈز ورتھ نے انھیں الحاد سے بچایا۔ اسی طرح ملٹن کا بھی ذوق و شوق سے مطالعہ کیا۔ اپنے ایک مکتوب محررہ مارچ 1911ء میں یہ بات درج کی کہ ''ملٹن کی تقلید میں کچھ لکھنے کا ارادہ مدت سے ہے اور اب وہ وقت قریب معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ان دنوں وقت کا کوئی لحظہ خالی نہیں جاتا جس میں اس کی فکر نہ ہو۔'' شیکسپیئر کو انہوں نے منظوم خراج تحسین پیش کیا ہے۔ گوئٹے سے بھی اقبال کا گہرا تعلق ہے۔
کیا مغربی ادبیات کے اس حصے سے آگاہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اقبال پر مغربی جدیدیت کے اثرات تھے؟ جواب نفی میں ہو گا۔ اس لئے کہ ان تمام شعرا کو ماڈرن کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا تعلق ( زیادہ کا تعلق انیسویں صدی سے ہے) ماڈر ینٹی (ہمہ گیر جدیدیت) کے عہد سے ہے... مگر ماڈرن اسٹ نہیں کہہ سکتے۔ ماڈرن اور ماڈرن اسٹ میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ٹینی سن اور ایلیٹ میں یا تھیکر ے اور جیمز جوائس میں ہے۔ دراصل اقبال نے مغربی ادبیات سے اخذ و استفادے کا عمل اپنے ابتدائی دور میں شروع کیا اور 1910ء تک ان کا شعری مائنڈ سیٹ متشکل ہو چکا تھا۔ اپنے ابتدائی دور میں اقبال کا مغربی ادیبات سے تعلق تقلیدی ہے' انہوں نے کئی مغربی نظموں کو پورے کا پورا اور کہیں مغربی نظموں کے کچھ مصرعوں کو ترجمہ کیا ہے۔ جیسے ''کوپر'' کے اس مصرعے:
And, while the wings of fancy still are free
کو نظم ''مرزا غالب'' کا یہ مصرع بنا دیا ہے:
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
مگر 1910ء کے بعد ان کی نظر انتخابی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے شعری مائنڈ سیٹ کی راہ نمائی میں معاصر مغربی ادبیات اور تحریکوں سے ربط ضبط قائم کرتے ہیں۔ جو ادبی تحریکیں اور رجحانات انہیں اپنے مائنڈ سیٹ سے متصادم یا مختلف محسوس ہوتی ہیں انہیں وہ خاطر میں نہیں لاتے ۔ یوں بھی جن دنوں ماڈرن ازم کی تحریک زور شور سے جاری تھی' اقبال مغربی تہذیب پر تنقید کا آغاز کر چکے تھے۔ اور ماڈرن ازم مغربی تہذیب ہی کا جمالیاتی مظہر ہے۔ چنانچہ جن دنوں مغرب میں ''ویسٹ لینڈ'' اور ''یولی سس'' چھپتے ہیں ' انہی دنوں اقبال اردو میں نظم ''طلوع اسلام'' (1922ء) اور فارسی میں ''پیام مشرق'' (1923ء) منظرعام پر لاتے ہیں۔ ان کا فرق ظاہر ہے۔ اقبال' ایلیٹ اور جوائس کے نہ صرف موضوعات' ہیئتیں اور اسالیب مختلف تھے بلکہ جمالیاتی مقاصد بھی مختلف تھے۔
ہر چند اقبال نے ماڈرن ازم سے راست ربط ضبط نہیں رکھا اور اس لئے نہیں رکھا کہ وہ ایک مختلف تصور کائنات اور مائنڈ سیٹ کے علم بردار تھے' مگر ماڈرن ازم کے بعض تصورات اور اقبال کی شاعری کے بعض پہلو وں سے تقابل و تماثل دلچسپی سے خالی نہیں ۔ ماڈرن ازم کی تجربہ پسندی' روایت شکنی' انفرادیت پسندی' تاریخی و جمالیاتی عدم تسلسل اقبال کے یہاں اپنے مغربی سیاق کے ساتھ موجود نہیں۔ مثلاً یہی دیکھئے کہ اقبال نے نئی ہیتؤں کی تلاش کے بجائے روایتی ہیتٔوں کو اپنے ہی لئے موزوں سمجھا ہے۔ اس طرح روایت سے اپنا تعلق قائم رکھاہے' جسے توڑنے میںجدیدیت افتخار اور لذت ہی محسوس نہیں کرتی' اپنے شعریات کے اظہار کے لئے لازم بھی سمجھتی ہے۔ جدیدیت کی نظر میں ہر فن پارہ مواد اور ہیئت پر مشتمل تو ہوتا ہے' مگر دونوں میں رشتہ ناخن اور گوشت کا ہوتا ہے۔ نئے مواد کو پرانی ہیئت میں پیش کرنے کا مطلب ' نئے مواد کو روایت سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ہیئت روایت کے وسیع منطقے کا ایک جزہے۔ تاہم اسلوبی سطح پر اقبال نے تجربہ پسندی اور روایت شکنی کا مظاہرہ ایک خاص مفہوم میں بہ ہر حال کیا ہے۔ اقبال نے اردو شاعری میں قطعی منفرد ڈکشن ہی متعارف نہیں کروایا بلکہ اسے بے مثال تخلیقی شان کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کچھ اس طور کہ یہ ناقابل تقلید ہے۔ اتنی شدید اور فقید المثال انفرادیت شاید ہی کسی دوسرے اردو شاعر کے یہاں موجود ہو' جس کا مظاہرہ اقبال نے کیا ہے۔ ماڈرن ازم میں بھی انفرادیت پر زور ملتا ہے۔ کیا اقبال کی انفرادیت کاوہی مفہوم ہے جو مغربی جدیدیت میں ہے؟ بالکل نہیں' اقبال کی انفرادیت اس کی اپنی انفرادیت ہے' تاہم ایک سطح پر یہ انفرادیت مشرقی شعریات میں قابل فہم ہے اور دوسری سطح پر اقبال کے شعری وژن میں۔
مشرق شعریات میں انفرادیت کے مظاہرے کو جدت کا نام دیا گیا ہے۔ جدت کے ضمن میں حسن ادا' اپج' معنی آفرینی' مضمون آفرینی' نکتہ سنجی' نازک خیالی ایسی اصطلاحات کا بھی ذکر ہوا ہے۔ جدت ان سب کو محیط ہے۔ یہ سب جدت کی فروع ہیں' اس طور جدت کا تعلق معنی اور اسلوب ہر دو سے ہے۔ جدت بہ قول ڈاکٹر عنوان چشتی' ''مانوس اشیا کے مخفی امکانات کی دریافت کا عمل ہے... جدت روایت کے بطن سے نمودار ہوتی ہے' مگر روایت پرستی سے انحراف کرتی ہے۔'' گویا جدت انحراف ہے مگر جدیدیت کاانحراف نہیں۔ جدیدیت کا انحراف کلی ہوتا' جب کہ جدت کاجزوی ہوتا ہے۔ جدت کاانحراف روایت کے حدود کے اندر ہوتاہے اور اس محتاط انداز میں ہوتا ہے کہ روایت کی بنیاد کو اس انحراف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔
دوسرے لفظوں میں جدت کے انحراف اس وقت ممکن ہے جب روایت کا علم موجود ہو۔ اس علم کی سطح اور درجے کی مناسبت سے ہی انحراف کی سطح اور درجہ متعین ہوتا ہے۔ لہٰذا جس تخلیق کار کا روایت کا تصور وسیع ' گہرا اور سرایت گیر ہوتا ہے اس سے انحراف بھی اتنا ہی بڑا ہوتاہے۔ اقبال کی انفرادیت دراصل جدت ہے۔ جدت کا مظاہرہ ہر چند اور بھی کئی اردو شعرا نے کیا ہے مگر روایت کا جتنا وسیع اور گہرا تصور اقبال کا تھا' اتنا کسی دوسرے اردو شاعر کا مشکل سے ہو گا۔ اقبال کی انفرادیت ناقابل تقلید تو ہے مگر اپنی مشرقی روایت میں قابل فہم بہرحال ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اقبال نے مشرقی ادبیات کی روایت کو کھو جا ہی نہیں تھا اسے مرتب بھی کیا۔ اقبال نے فارسی' عربی ' اردو ' سنسکرت ' ادبیات کو ایک روایت ٹھہرایا اور اسے اپنی شاعری کی روح رواں بنایا۔ان کے یہاں فارسی شعرا ملا عرشی' ابو طالب کلیم' فیضی' صائب' مرزا بیدل' عرفی' خاقانی' انوری' سنائی' حافظ' سعدی اور سب سے بڑھ کر فکر رومی کے اثرات بالواسطہ اور بطور تضمین ملتے ہیں۔ عربی ادبیات سے انہوںنے ہر چند کسی مخصوص شاعر کے اثرات نہیں لئے مگر عربی شعریات کے اصول سادہ بیانی اور صحرائیت پسندی ضروری قبول کئے۔ مولانا غلام رسول مہر نے جب طلوع اسلام پر تنقید کی تو اقبال نے جواب دیا کہ ''میں عربی شاعری کی روش پر بالکل صاف صاف اور سیدھی سیدھی باتیں کہہ رہا ہوں۔''
اسی طرح انہوںنے متعدد قرآنی آیات کو راست یا ان کے ترجمے کو اپنی شاعری میں پیش کیا۔ اقبال کا تصور روایت اگرچہ ایلیٹ کے تصور روایت سے مختلف ہے مگر دونوں میں یہ مماثلت موجود ہے کہ ایلیٹ نے تمام مغربی ادب: ہومر سے بائرن تک کو ایک روایت قرار دیا۔ اقبال نے روایت کی تنقید ی تھیوری پیش نہیں کی ' مگر ادبی روایت کو مسلسل جاری روایت کی صورت میں اپنی شاعری میں مرتب' دریافت اور پیش کیا ہے۔ اقبال کی روایت مشرقی اسلامی روایت ہے۔ عبدالمغنی کا یہ کہنا وزن رکھتا ہے کہ ''اقبال کی شاعری درحقیقت مشرقی ادبیات کی تمام شاعرانہ روایات کا نقطۂ عروج ہے۔''
اقبال کا تصور روایت' مابعد جدید تنقیدی اصطلاح میں بین المتونی (Intertextual) ہے۔ فارسی' عربی' اردو اور سنسکرت ادبیات مختلف متون ہیں' جنہیں اقبال نے باہم ممزوج کیا ہے۔ اقبال نے مختلف مشرقی روایات کو ایک نئے متن میں منقلب کر دیا ہے۔ یعنی یہ روایات اقبال کے شعری متن کے میکانکی اجزا نہیں' نامیاتی عناصر ہیں۔ اقبال کا شعری متن ایک زندہ متن ہے اور ایک زندہ وجود کی طرح ہی نہ صرف حسی تحریک کا حامل ہے بلکہ مخصوص زاویۂ نظر اور آئیڈیالوجی بھی رکھتاہے۔
اقبال کے اسلوب کو جو بات ناقابل تقلید بناتی ہے' وہ ان کا شعری وژن ہے۔ ان کا اسلوب ان کے وژن کی تجسیم ہے۔ کسی تخلیق کار کے وژن کی تفہیم کی جا سکتی ہے' تقلید نہیں۔ اس لئے کہ وژن 'ایک مسلسل نموئی عمل سے وجود میں آنے والی باطنی حقیقت ' ہے۔
جدید ادب کا فرد ایلی نیشن کا شکار ہے۔ ایلی نیشن کا تصور مارکسیت میں بھی ملتا ہے مگر جدیدیت اور مارکسیت کی ایلی نیشن ایک جیسی نہیں ہیں۔ مارکسی ایلی نیشن یہ ہے کہ فرد اپنی محنت کے وسائل اور ثمرات سے بوجوہ اجنبی ہو جاتا ہے۔ جب کہ جدید فرد کی ایلی نیشن ایک خاص فلسفیانہ تصور کی پیدا کردہ ہے۔ اس فلسفے (وجودی) کی رو سے فرد تنہا ہے۔ وہ دوسروں سے اور کائنات سے علاحدہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال کے یہاں بھی فرد موجود ہے۔ یہاں اشارہ اقبال کے مرد مومن کی طرف نہیں۔ مرد مومن ایک آدرش ہے' جس میں وہ تمام بہترین خصوصیات یک جا ہو گئی ہیں جنہیں اسلامی تاریخ میں پیش کیا گیا ہے۔ مرد مومن ایک ''غیر شخصی'' تصور ہے۔ یہ بشری تقاضوں سے بلند اور اعلیٰ انسانی مقاصد کا علمبردار ہے۔ اقبال کی شاعری میں' بالخصوص بال جبریل کی غزلوں میں ایک اور فرد ظاہر ہوا ہے۔ یہ ایک شخصی وجود ہے۔ اس کا اپنا نقطۂ نظر اور اپنے سوالات ہیں۔ ہر چند اس کا لہجہ پرتمکین اور کہیں جلالی ہے' مگر یہ ایک حقیقی فرد ہے اور اسی لئے تنہا بھی ہے۔ یہ چند اشعار اسی فرد کا اظہار ذات ہیں:
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدہ صفات میں
تو نے یہ کیا غضب کیا' مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں
اگر گج رو ہیں انجم' آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو' جہاں تیرا ہے یا میرا؟
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟
تو ہے محیط بے کراں میں ہوں ذرا سی آب جو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
یہ مشت خاک' یہ صرصر' یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد د!
مذکورہ بالا اشعار میںایک ایسا فرد آشکار ہے جو تنہا ہے مگر ایک اور ہستی کے روبرو بھی ہے۔ بہ ظاہر یہ پیراڈاکس ہے کہ 'اقبال کافرد تنہا' مگر ایک اور ہستی کے روبرو بھی' کیا وہ اس ہستی سے ایلی نیشن کا شکار ہے؟ اصل یہ ہے کہ اقبال کے فرد کی تنہائی ہی اسے اس ہستی کے روبرو لے جاتی ہے کہ وہ اپنے وجود کی معنویت دریافت کر سکے۔ حقیقتاً اس فرد کو اپنی بے معنویت کا نہیں' اپنی معنویت کے از سر نو تعین کے سوال کا سامنا ہے۔ چنانچہ یہ اس بے چارگی اور لغویت کا شکار نہیں جو جدیدیت کے فرد کو اس کی تقدیر کی صورت درپیش ہے۔ حالانکہ اقبال کا فرد بھی زندگی کا مستند اور حقیقی تجربہ کر رہا ہے جسے جدیدیت کا فرد اپنے لئے لازم ٹھہراتا ہے۔ اقبال کے بعض ناقدین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اقبال کی شاعری میں جدید فرد کہیں موجود نہیں۔ اقبال نے فرد کا پرعظمت تصور پیش کیا مگر جدید انسان جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ' جس بے چارگی میں مبتلا اور جس تنہائی کے کرب سے دو چار ہے' اقبال نے اسے اپنی شاعری میں کہیں پیش نہیں کیا۔ ان ناقدین کے نزدیک اقبال نے حقیقی فرد کو نہیں فرد کے مثالی اور Glorified تصور کو پیش کیا ہے۔
ان نقادوں نے غالباً مرد مومن کے تصور کو سامنے رکھا ہے اور اس فرد کی آواز نہیں سنی جس کی زبانی چند اشعار اوپر درج کئے گئے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اقبال کا فرد اپنے وجود کے باطنی سرچشمے سے منقطع نہیں ہوا' تاہم اس سے ایک ایسے فاصلے پر ضرور ہوا ہے' جس میں وہ اپنی معنویت کے سوال کو تشکیل دے سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے وجود کی معنویت کا تعین نئے سرے سے اور مستند طریقے سے چاہتا ہے مگر معنویت کے گم ہو چکنے یا ''بے معنی'' ہونے کے بحران کا اسے سامنا نہیں ہے۔ نئے سرے سے معنویت کی طلب پر ماڈرینٹی کی عقلیت پسندی کی پیدا کردہ تشکیل کا ہلکا سا سایہ موجود ہے مگر یہ طلب باطنی اور مابعد الطبیعیاتی سرچشمے پر سوالیہ نشان نہیں لگاتی۔ جدیدیت میں یہ سوالیہ نشان جلی طور پر موجود ہے۔
لہٰذا جدیدیت اور اقبال کے فرد میں جو بنیادی فرق پیدا ہوا ہے وہ دونوں کے جدا گانہ ''ورلڈویو'' کی وجہ سے ہے۔ جدیدیت کے فرد کا ''ورلڈویو'' روایت اور مابعد الطبیعیات کی نفی پر استوار ہے' مگر اقبال کے فرد کا ''ورلڈ ویو'' ان دونوںکے اثبات پر مبنی ہے۔ ایک کی محرومی دوسرے کی قوت ہے۔
یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جدید فرد نے بیسویں صدی کے عظیم سانحات ( عالمی جنگیں' اقتصادی بدحالی وغیرہ) کو جھیلا' اس لئے وہ بے بسی اور بے معنویت کے احساس میں مبتلا ہوا۔ کیا اقبال کے یہاں ان سانحات کی گونج موجود ہے؟ یہ موضوع الگ تفصیلی مطالعے کا متقاضی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ کسی سانحے کو جھیلنے میں فرد کا ''ورلڈ ویو'' (worldview) اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک مذہبی آدمی کسی المیے کا سامنا جس طور کرتا ہے' مذہب بے زار فرد اسی المیے کو کسی اور طریقے سے محسوس کرتا ہے۔
ماڈرن ازم کا تعلق اگر اقبال کی شاعری سے ہے تو ماڈرینٹی اور ماڈرنائزیشن (جدید کاری) کا تعلق اقبال کی فکر سے ہے۔ واضح رہے کہ اقبال کی فکر بہ یک وقت ان کی نثر اور شاعری میں ظاہر ہوئی ہے۔ سلیم احمد نے اقبال کی شاعری کا امتیاز ہی فکر کو قرار دیا ہے۔ اور اس فکر کو اقبال کی انفرادی فکر بھی قرار دیا ہے۔ سلیم احمد نے جذبے' تصور اورجبلت سے تو فکر کو ممیز کیا ہے مگر فکر کی قسموں اور سطحوں میں فرق نہیں کیا اور نہ یہ بتایا کہ کہاں ان کی شاعری خالص فکر کو اور کہاں شاعرانہ فکر کو پیش کرتی ہے۔ مثلاًاقبال کے یہاں متعدد اشعار ایسے موجود ہیں جو خالص فکر کو پیش کرتے ہیں۔' فقط دو شعر دیکھئے:
عشق اب پیروی عقل خداداد کرے
آبرو کوچہ جاناں میں نہ برباد کرے
کہنہ پیکر میں نئی روح کو آباد کرے
یا کہن روح کو تقلید سے آزاد کرے
ان اشعار کو اقبال کے فکری مؤقف کا ترجمان سمجھا جا سکتا ہے اور یہی خالص فکر کی نشانی ہے۔ جب کہ اس قسم کے اشعار ان کی شاعرانہ فکر کی علمبردار ہیں:
پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے
جو مشکل اب ہے یارب! پھر وہی مشکل نہ بن جائے
مذکورہ بالا شعار جو اقبال کے فکری مؤقف کے ترجمان کے طور پر پیش کئے گئے ہیں' ماڈرینٹی سے متعلق اقبال کے تصور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماڈرینٹی کا اہم داعیہ عقلیت ہے اور اقبال نے بھی عشق کو عقل کی برتری تسلیم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس شعر کو اقبال کے عشق و عقل کے تصورات کے تناظر میں بھی اگرچہ دیکھا جا سکتا ہے مگر اقبال نے ان اشعار کو ''ادبیات'' کے عنوان کے تحت لکھا ہے اور ''ضرب کلیم'' میں انہیں درج کیا ہے جو عہد جدید کے خلاف اقبال کے اعلان جنگ یعنی اقبال کے فکری مؤقف کی علم بردار ہے۔ عقل کی اہمیت کا دوسرا مطلب عقلی وسائل کی مدد سے مذہبی و معاشرتی تجدید ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ اقبال تجدید یا ماڈرنائزیشن کے قائل تھے' جو عشق سے نہیں عقل سے ہی ممکن ہے۔
اقبال کے اس تصور جدیدیت کا سرچشمہ ایک طرف سرسید کا اصول تطبیق ہے(سرسید نے کہا تھا کہ ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو حکمت جدیدہ کا بطلان کر دیا جائے یا اس سے ہم آہنگ ہوا جائے۔ سرسید نے ہم آہنگ ہونے کو ترجیح دی) اور دوسری طرف اقبال کے عہد کا سماجی اور علمیاتی تناظر ہے۔ ڈاکٹر منظور احمد کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ اقبال کی فکر کو ان کے عہد کے تناظر میں دیکھا جائے کہ اقبال نے ماڈرینٹی کے ضمن میں جو مؤقف اختیار کیا وہ اسی تناظر میںانہیں سوجھا اور اسی تناظر میں وہ موزوں اور Validبھی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اقبال کا مؤقف اپنی اصل میں 'تاریخی' ہے' حتمی اور آفاقی کلیہ نہیں ہے۔ اب جب کہ دنیا پوسٹ ماڈرینٹی میں داخل ہو چکی ہے۔ اقبال کے 'تاریخی مؤقف' پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
حقیقتاً ماڈرینٹی اور ماڈرنائزیشن تمام غیر مغربی اقوام اور بالخصوص اسلامی ممالک کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا مستقل اور ہر سطح پر قابل قبول حل اب تک پیش نہیں ہو سکا۔ اور مختلف ممالک میں جو حل تجویز کئے گئے ہیں وہ ان ممالک کے سماجی' تاریخی تناظر کے زائیدہ ہیں۔ نیز ایک ہی ملک میں مختلف اوقات میں مختلف حل سامنے آئے ہیں۔ مثلاً ترکی اور مصر میں ابتدا میں ماڈرنائزیشن سے مراد مغرب کی عسکری تکنیک کا حصول تھا اور ہندوستان میں ابتداً ماڈرنائزیشن کا مطلب جدید مغربی انگریزی تعلیم سے بہرہ مند ہونا تھا۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ محکوم ممالک میں ماڈرنائزیشن بڑی حد تک ویسٹرنائزیشن کے مترادف سمجھی گئی ہے۔ اس لئے کہ مغرب نے غیر مغربی اقوام کو اپنی تہذیب کے جس پہلو سے زیادہ متاثر یا مغلوب کیا وہی پہلو محکوموں کا آدرش بنا۔ غالباً اسی لئے اقبال نے کہا تھا:
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا
چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ غلام اقوام نے ماڈرینٹی کا بالعموم سطحی تصور قائم کیا ہے۔ انہوں نے ماڈرینٹی کو اس کے ہمہ گیر تناظر میں نہیں دیکھا' اس پراسس کو سمجھنے کی سعی نہیں کی' جس نے ماڈرینٹی کو ممکن بنایا۔ ٹیکنالوجی یا علوم تو ماڈرینٹی کے آئس برگ کا وہ معمولی سا حصہ ہیں جو سمندری پانی سے باہر ہوتا ہے۔ ماڈرینٹی کے پورے پراسس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی بیش تر مسلم ممالک میں ماڈرینٹی ممکن نہیں ہوئی۔ یہ ایک تلخ مگر نا قابل تردید حقیقت ہے کہ مسلم ممالک مغربی ماڈرینٹی کے ''صارف'' بن کر رہ گئے ہیں۔ کسی شے کی خالق اور صارف میں جو فرق ہوتا ہے' اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں۔ اقبال کو اس امر کا آرزومندانہ احساس تھا' انہوں نسے سید سلیمان ندوی کے نام خط میں لکھا کہ ''مسلمان ذہنی انقلاب کے اسی مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں جس سے یورپ لوتھر کے زمانے میں گزرا تھا۔'' ( مگر کیا واقعی؟) اقبال اس نوع کا ذہنی انقلاب لانے کی غرض سے ہی اسلامی فقہ کی تدوین نو کرنا چاہتے تھے۔ صوفی تبسم اور غلام السیدین کے نام مکاتیب میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے۔
اب ایک نظر اقبال کے تصور جدیدیت کے حدود اور امکانات پر!
اقبال عقلیت اور جمہوریت کے مخصوص تصورکے قائل تھے۔ آمریت' شہنشاہیت اور ملائیت کے خلاف تھے۔ اس ضمن میں ان کے یہاں درجنوں فارسی اور اردو اشعار موجود ہیں۔ اسی طرح ذہنی جمود کے نکتہ چیں اور متحرک نظام فکر میں یقین رکھتے تھے ۔
ہر چند اقبال نے شاعری میں معاشی سماجی عوامل کا ذکر کیا ہے' تاہم ایک تھیوری کے طور پر اقبال نے اسے پیش بہ ہر حال نہیں کیا۔ اس لئے کہ اقبال کا مطمح نظر مذہب و سائنس کے مطابق تھا۔ اصولی طور پر جب دو چیزوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو ایک کو لازماً برتر اور دوسرے کو ثانوی اور اس پر منحصر قرار دیا جاتا ہے۔ اقبال نے مذہب' سائنس یا عقل ووجدان کے ضمن میں جو درجہ بندی کی' اس میں اولیت مذہب اور وجدان کو دی' اورعقل اور سائنس کو مذہب کی تعبیر نو کا وسیلہ بنایا۔ دوسرے لفظوں میں عقل اور سائنس کو ان کی آزاد حیثیت میں قبول کرنے کے بجائے انہیں مذہبی صداقتوں کے تابع رکھا۔ انہیں مقصد نہیں' وسیلہ قرار دیا' جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انہوں نے آزادانہ سائنسی تحقیقات کے حق میں آواز بلند کرنے کے برعکس ''ہو چکی سائنس تحقیقات'' سے (ایک خاص مقصد کے تحت) استفادے پر زور دیا۔ہر چند بعض مقامات پر اقبال نے عقل کی برتری کا دعویٰ کیا ہے مگر بالعموم عشق کے مخصوص و محدود و تصور کے مقابلے میں ایسا کیا ہے۔
سائنس کی برتری کو تسلیم کرنا شاید اقبال کے لئے ممکن نہ تھا کہ سائنس نے جس ماڈرینٹی سے جنم لیا ہے' وہ اپنی اصل میں ''بشر مرکزیت'' ہے۔ اقبال عالم گردوں کو بشریت کی زد میں ٹھہرانے کے باوجود بشر مرکز فلسفے کو قبول نہیں کر سکتے تھے کہ اسے قبول کرنے کا مطلب ماڈرینٹی کو پورے کا پورا قبول کرنا تھا۔ صاف لفظوں میں یہ کہ علم کا سرچشمہ وحی کے بجائے انسانی عقل کوتسلیم کرنا تھا۔ اقبال ماڈرینٹی کو تنقیدی اور انتخابی طور پر قبول کرنے کے حق میں تھے۔ اقبال ماڈرینٹی کے نکتہ چیں بھی تھے اور مداح بھی۔ اقبال دراصل اپنی اسلامی ثقافتی نہاد کو قائم و برقرار رکھتے ہوئے مغربی جدیدیت سے اخذ و استفادے کے قائل نظر آتے ہیں۔ ایک خاص مفہوم میں یہ ایک جدید اور ترقی پسندانہ نقطہ نظر تھا۔
نئی نسل کے جوانوں سے باتیں
جاویداقبال کے قلم سے اقبال کی تخلیق خطاب بہ جاوید کا نثری ترجمہ
منظر: مسند پر زندہ رود کے روبرو اس کا فرزند جاوید ادب سے دوزانو بیٹھا ہے۔ تاریکی کے عالم میں صرف باپ اور بیٹے پر روشنی پڑ رہی ہے۔
زندہ رُود: (افسردگی سے) میری تمام نصیحتیں تیرے لیے بیکار ہیں۔ کیونکہ جو میرے دل کی گہرائیوں میں چھپا ہے، میری زبان پر نہیں آرہا۔ میں نے کئی مشکل نکتے سلجھا دیئے لیکن ایک نکتہ ایسا ہے جو تجھے کسی کتاب میں نہ ملے گا۔ اسے بیان کرنے کی کوشش کروں تو وہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ میری آواز یا الفاظ کی وسعتوں میں گم ہوجاتا ہے۔ پھر بھی تو اس کی تپش کو میری نگاہ یا میری آہ صبح گاہ میں محسوس کر۔
ماں کی آغوش میں تجھے توحید کا پہلا سبق ملا۔ اس کی باد نسیم ہی سے تیرا غنچہ کھلا۔ تیرا رنگ روپ، سرمایہ، قدرو قیمت اسی کے دم سے ہے۔ کیونکہ ماں نے تجھ سے لاالٰہ کہلواکر تیرے دامن کو ایسی دولت سے بھر دیا جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ لیکن اسے پسر! لاالٰہ کے معانی جاننے کا ذوق ہے تو میری نگاہ سے جان۔ لاالٰہ کی آگ میں جلنے کا شوق ہے تو میرے دل کی دھڑکن سن۔ لاالٰہ کہنا ہے تو دل و جان سے کہہ تاکہ تیرا سارا جسم اس کی خوشبو سے مہک اٹھے۔ سورج اور چاند کی گردش لاالٰہ ہی کے سوز کی مرہون منت ہے بلکہ میں تو اسی کے سوز کی بدولت کاہ و کہسار کو قائم دیکھتا ہوں۔ یہ دو حرف محض کہہ دینا کافی نہیں۔ لاالٰہ کی حیثیت تیری حیات میں ایک تیغ بے زنہار کی سی ہے۔ لاالٰہ کے سوز ہی کے سبب تیری زندگی میں قہاری ہے۔ یاد رکھ! لاالٰہ کی ضرب قوی ہے اور کاری بھی ہے۔
افسوس ہے، مومن ہو اور غیروں کے روبرو کمر میں ٹپکا باندھے کھڑا ہو؟ ارے، مومن کبھی غلام، بھکاری، ایک دوسرے سے نفرت کرنے والا یا اپنی ملت کا غدارنہیں ہوسکتا۔ مگر ہم نے اپنا ایمان کوڑیوں کے مول بیچ ڈالا اپنے گھر اور اس کے سازوسامان کو آگ لگادی۔ اسی سبب اب ہماری نماز لاالٰہ کے سوز سے بے نصیب ہے۔ اس کے ناز کے انداز میں نیاز نہیں رہا۔ مسلمان کی نمازیں اور روزے سب بے نور ہیں۔ اس کی کائنات تجلیوں سے محروم ہے۔ اس کے پاس اللہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن اب دولت سے محبت اور موت کے خوف ایسے فتنوں پر حاوی ہوسکنا اس کے بس میں نہیں رہا۔ ذوق و شوق، مستی و سرور سب اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ خود تو زندہ درگور ہوا۔ اس کا دین بھی کتابوں میں بند کردیا گیا۔
عصر حاظر کی دنیاداری کے زیر اثر وہ دو نئے پیغمبروں پر ایمان لے آیا۔ جن میں سے ایک کا تعلق تو ایران سے ہے اور دوسرا ہندی نژاد ہے۔ ایک حج کا منکر ہے اور دوسرا جہاد کا۔ اگر حج اور جہاد دین اسلام کے واجبات نہ رہے تو اسلام کے صوم و صلوات کے پیکر سے جان نکل جائے گی۔ نتیجہ میں فرد ناہموار ہوجائے گا اور معاشرہ بے نظام۔ پس اگر مسلمان کے سینے میں قرآن کی گرمی نہ رہے تو اس سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟ ہائے افسوس! مرد مسلمان نے اپنی خودی کو الوداع کہی اور دیدہ دانستہ گم کردہ راہ ہوگیا۔ اے بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھانے والے خضر!! ہماری دست گیری کرکہ اب پانی سر سے گزرچکا ہے۔
ایک وہ زمانہ تھا جب مسلمان کے سجدہ سے زمین لرزہ براندام ہوتی تھی۔ گردش ایام اس کی منشا کے مطابق ہوتی تھی۔ اگر کسی پتھر پر بھی اس کے سجدہ کا نقش پڑتا تھا تو وہ دھویں کی مانند فضا میں دیوانہ وار جھومتے لگتا۔ لیکن عصر نو میں اس کے نصیب میں ذلت و خواری یا ضعف پیری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اے خداوند!! اب ربی الاعلیٰ کی شان و شوکت کہاں گئی؟ اس تنزل کا ذمہ دار کون ہے؟ قدما قصور وار ہیں یا یہ ہماری کوتاہی کا نتیجہ ہے؟ ہر کوئی اپنے اپنے متعین راستے پر رواں دواں ہے۔ لیکن ہماری اونٹنی بے لگام اور سست رو کیوں ہے؟ اے وائے، اگر صاحب قرآن بے ذوق طلب ہوجائے تو اس سے زیادہ حیرت کی بات اور کیا ہوسکتی ہے!!
اے پسر! اگر خدا تجھے صاحب نظر بن سکنے کی توفیق عطا کرے تو آنے والے دور کو سمجھنے کی کوشش کر۔ جب عقل بے خوف اور دل بے گداز ہوجائیں جب نگاہیں شرم و حیا کو طاق پر رکھ کر مجاز کے اندر ڈوب جائیں۔ تو علم و فن، دین و سیاست، عقل و دل سب کے سب آب و گل کا طواف کرنے لگتے ہیں۔ ایشیا کی پہچان طلوع آفتاب سے تھی۔ مگر اب غیر اس پر حاوی ہیں اور وہ بجائے خود اندر حجاب ہے۔ اس کا دل نت نئی وارداتوں سے محروم ہے۔ اس کے حاصل کی اب کوئی قدرومنزلت نہیں۔ مرہون غیر ہونے کے سبب وہ ساکن یخ بستہ اور بے حس ہے۔ یہاں کا مسلمان ملاؤں کا شکار ہے یا بادشاہوں کا نخچیر۔ وہ اس بدحواس ہرن کی مانند ہے جس کے سب اندیشے خلط ملط ہوچکے ہیں۔ اسے اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں رہی۔ اس کی عقل، دین، دانش، ناموس اور نام سب کے سب لردان افرنگی کے قابو میں ہیں۔ میں ان غاصبوں کے ارادوں کو خوب سمجھتا ہوں۔ اسی بنا پر ان کے اسرار کا پردہ چاک کرنے کے درپے ہوں۔ میں نے سینے میں اپنے دل کا خون ان کے جہان کو دگرگوں کرنے کی خاطر کیا ہے۔
اے پسر! میری طرف متوجہ ہو!! میں موجودہ زمانے کی طبیعت کے مطابق دو باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ دراصل میں نے دو دریاؤں کو دو کوزوں میں بند کررکھا ہے۔ ایک بات تو پیچیدہ ہے اور دوسری نوک دار۔ مقصد ہر ایک کے عقل و دل کو مرعوب کرنا ہے۔ ایک دلیل تو افرنگ کے انداز کے مطابق تہہ دار ہے۔ اور دوسری اس نالہ مستانہ کی طرح ہے جو کسی ساز میں پنہاں ہو۔ ایک کا تعلق فکر سے ہے اور دوسری کا ذکر سے میری دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دونوں یعنی فکر و ذکر کی نعمتوں سے نوازے۔ میں چونکہ بہتی ہوئی آبجو کی مانند ہوں، میری وابستگی دونوں دریاؤں سے ہے۔ فراق کا تصور میرے یہاں بیک وقت فراق بھی ہے اور وصال بھی۔ بہرحال چونکہ عصر حاضر کا مزاج مختلف ہے لہٰذا میں نے ہنگامہ برپا کرنے کا نیا انداز اپنایا ہے۔
میں نوجوانوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے روشن دماغ ہونے کے باوجود تشنہ لب، خالی ایاغ، شستہ رو اور تاریک جان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی کم نگاہی، بے یقینی اور ناامیدی سے مجھے یوں لگتا ہے گویا انہوں نے اس جہان میں کچھ بھی نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے وہ منکر خود، ناکس اور غیر کے ممنون ہیں۔ یعنی ان کی خاک سے دیر کے معمار اینٹیں بناتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ مکتب ان کی منزل مقصود سے شناسا نہیں۔ اہل مدرسہ کی جانوں میں فطرت کا نور موجود نہیں۔ ایسی صورت میں جذب اندروں کا راستہ کیونکر مل سکتا ہے؟! یہی سبب ہے کہ مکتب و مدرسہ کی شاخوں سے ایک بھی گل رعنا نہیں پھوٹا۔ جب کوئی معمار اینٹ ٹیڑھی رکھ کر دیوار علم اٹھائے تو سمجھ لو! وہ شاہین بچوں کو بطخ بننے کے آداب سکھا رہا ہے۔ علم اگر حیات کے سوز سے بیگانہ رہے تو طالب علم میں ذوق واردات پیدا نہیں ہوتا۔ علم تجھ پر تمہارے بلند مقامات ظاہر کرتا ہے۔ تمہاری پوشیدہ آیات، رجحانات، خصوصیات تم پر آشکار کرتا ہے۔ اپنے احساس کی آگ میں جلنا جب تم سیکھوگے تو تبھی اپنے بھلے اور برے میں تمیز کرسکو گے۔ حقیقی علم کی ابتدا تو حواس سے ہوتی ہے لیکن آخر تک پہنچنے کے لیے حضوری کی کیفیت لازمی ہے کیونکہ شعور کی وہاں تک رسائی نہیں۔
اہل ہنر سے تم سینکڑوں کتب کا علم حاصل کرسکتے ہو لیکن یقین رکھو! خوب تر سبق وہی ہے جو نظر سے ملے۔ جو شراب نظر سے حاصل ہوتی ہے وہ ہر کسی کو اور ہی انداز میں مست کرتی ہے۔ یاد رکھو! صبح کی ہوا کا جھونکا جو جلتا چراغ بجھاتا ہے اسی سے لالہ کھل کر سرخ صہبا کا ایاغ بنتا ہے۔ میری نصیحت یہی ہے زندگی میں کم کھایا کرو، کم سویا کرو اور کم باتیں کیا کرو لیکن اپنی ذات کے گرد پرکار کی طرح ہر لمحہ گردش کرتے رہو تاکہ تم اپنے آپ کو جان سکو۔
یاد رکھو! مُلاّ کے نزدیک منکر حق کافر ہے۔ مگر میرے نزدیک منکر خود کافر سے بھی بڑا کافر ہے۔ جو وجود حق سے انکار کرے وہ تو صرف عاجل ہے۔ لیکن جو اپنے آپ کو نہ جانے وہ عاجل بھی ہے۔ ظالم بھی ہے اور جاہل بھی ہے۔ بس تم ہر کسی کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤ اوراپنے آپ کو سلطانوں اور حکمرانوں کے خوف سے محفوظ رکھو۔ قہر و رضا کے اوقات میں عدل کو ملحوظ خاطر رکھو اور فقر و غنا کی صورتوں میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ حکم الٰہی اگر مشکل دکھائی دے تو اپنے مطلب کی تاویل سے چھٹکارہ حاصل مت کرو۔ بلکہ اپنے ضمیر کی روشنی میں اس کی تعبیر کرو۔ اس کے علاوہ کسی اور قندیل کی تلاش مت کرو۔
یاد رکھو! ذکر و فکر جاری رکھنے سے جان اسی طرح پائیدار ہوتی ہے جیسے جوانی میں ضبط نفس سے بدن توانا رہتا ہے۔ اس جہان پست و بالا میں جان و تن صحت مند ہوں تب ہی حاکمیت ملتی ہے۔ اگر سیر کی لذت حاصل کرنا تمہارا مقصد ہے تو بے شک سفر کا ارادہ کرو۔ لیکن اگر گھر پر بیٹھے رہنا پسند ہے تو اڑنے کی خاطر اپنے پر مت کھولو۔ جس طرح چاند گردش کے باعث صاحب مقام ہے اسی طرح آدمی کی سیر مسلسل میں کوئی منزل نہیں، یعنی تغیر میں ہی اس کی ثبات ہے۔ زندگی لذت پرواز کے سوا کوئی معانی نہیں رکھتی۔ کسی ایک مقام پر ٹھہرجانا اس کی فطرت کے خلاف ہے۔ کوے اور گدھ قبروں کی خاک میں خوراک تلاش کرتے ہیں لیکن شاہینوں کو رزق تو افلاک کی وسعتوں میں ہی ملتا ہے۔
دین کا راز سچ بولنا اور حلال کھانا ہے۔ اس کے ساتھ خلوت اور جلوت میں محسوس کرنا ہے کہ رب ذوالجلال کے سامنے ہو۔ پس دین کے معاملہ میں ہیرے کی طرح سخت رہو۔ اور اللہ سے دل لگا کر بے خوف و خطر زندگی بسر کرو۔
دین کا مطلب دراصل طلب کی آگ میں سدا جلتے رہنا ہے۔ اس کی ابتدا تو ادب سے ہوتی ہے لیکن انتہا عشق ہے۔ پھول کی قدرو قیمت اس کے رنگ و بو کی بدولت ہے۔ پس دنیا بھر میں جو رنگ و بو سے عاری ہے بے ادب اور بے آبروہی سمجھا جائے گا۔میں جب بھی کسی بے ادب نوجوان کو دیکھتا ہوں تو افسردگی سے میرا دن رات کی طرح تاریک ہوجاتا ہے۔ مجھے عہد مصطفیﷺ کی یاد آنے لگتی ہے اور میری بے قراری اور اضطراب بڑھ جاتے ہیں۔ میں جب بھی اپنے عہد پر نگاہ ڈال کر پریشان ہوتا ہوں تو قرون رفتہ کی یادوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہوں۔ مسلم خاتون کا پردہ، اس کا شوہر ہے یا قبر کی خاک۔ لیکن مرد کا پردہ برے دوست سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ اپنے لبوں کو الفاظ بد سے آلودہ کرنا غلط ہے۔ یاد رکھو! کافر اور مومن سب اللہ ہی کے بندے ہیں۔ انسانیت سے مراد دراصل احترام انسان ہے۔ اس لیے جان لو! کہ دنیا میں انسان کا کیا مقام ہے۔ دراصل ربط باہم رکھنے ہی میں آدمیت کی بقا ہے۔ اس لیے انسان دوستی کا اصول اپنانا ضروری ہے۔ بندہ عشق کو اپنے رب کا طریق اختیار کرنا چاہیے جو کافر و مومن دونوں کے حق میں شفیق ہے۔ کافر یا مومن ہونے کا تعلق دل سے ہے جو سراپا محبت و شفقت ہے۔
دل اگر دل ہی سے بیزار ہوجائے تو دل کے لیے افسوس کا مقام ہے۔ دل اگرچہ آب و گل کا قیدی ہے لیکن اس کے باوجود آفاق کی وسعتیں اس میں سماجاتی ہیں۔ اگر بستی میں تو زمینداروں کا سرغنہ ہے تو فقر اور غریب نوازی کو کبھی اپنے ہاتھ سے جانے نہ دینا۔ دراصل ابھی تیری روح میں وہ سوز خوابیدہ ہے جو تجھے اپنے اسلاف سے ملا۔ پس اس جہاں میں اپنے درد دل کے ماسوا کوئی سامان تلاش نہ کر۔ نعمتیں مانگنی ہیں تو اللہ سے مانگ، سلطان کے دروازے پر مت جا۔ میں نے ایسے بہت سے روشن دماغ اور بصیر لوگ دیکھے ہیں جو نعمتیں جمع کرتے اندھے ہوگئے۔ کثرت نعمت دلوں سے گداز چھین لیتی ہے۔ اس شوق سے رعونت آتی ہے اور عجز چلا جاتا ہے۔ میں نے سالہا سال جہاں گردی میں گزارے لیکن اہل دولت کی آنکھوں میں کبھی نم نہیں دیکھا۔ میں فدا ہوتا ہوں اس پر جو درویشانہ طریق اپنائے۔ مگر حیف ہے ان پر جو اپنے رب سے دور رہ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔
آج کا مسلمان ذوق و شوق کی دولت سے محروم ہے اس میں نہ جذبہ عشق ہے، نہ یقین، نہ حسن کردار۔ علما علم قرآن سے بے نیاز ہیں اور صوفیا بے رحم بھیڑیوں کی طرح خون کے پیاسے ہیں۔ اگرچہ خانقاہوں میں ہاؤ ہوکا شور ہے لیکن ایسا کوئی جواں مرد نظر نہیںآتا جس کا سبو مئے عرفان سے لبریز ہو۔ ہمیں مغرب کی نقالی نے خراب کر ڈالا۔ اسی سبب چشمۂ کوثر کو سراب میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ دین کے راز سے ہر کوئی بے خبر ہے۔ ہم اہل دین کہلانے کے لائق نہیں۔ ہم سب تو اہل کیں ہیں اہل کیں! ہمارے خواص میں کوئی خیرو خوبی موجود نہیں۔ البتہ صدق و صفا کہیں نظر آتی ہے تو عوام میں۔ تو اہل دین اور اہل کیں میں جو امتیاز ہے اسے ہمیشہ پیش نظر رکھ۔ اور اسی کو اپنا دوست بنا جو مرد حق ہو۔ آخر گدوں کے رسوم و دستور کا مقابلہ پرواز شاہین کی شان و شوکت سے کیونکر کیا جاسکتا ہے؟
مرد حق آسمان سے بجلی کی مانند کوندتا ہے اور شہر و صحرا، مشرق و غرب کو جلا کر راکھ کردیتا ہے۔ ہم کائنات کے ساکن اور تاریک حصہ میں ہیں۔ مگر وہ کائنات کو متحرک و متغیر رکھنے کے اہتمام میں شریک ہے۔ وہی اہل دل کے افلاک کا آفتاب ہے۔ اسی کی شعاؤں کی آب و تاب سے اہل دل زندہ ہیں۔ پہلے تو تجھے وہ اپنی آگ میں جلاتا ہے۔ پھر حکمرانی کے اُسلوب میں طاق کردیتا ہے۔ اسی کے سوز کا فیض ہے کہ کچھ اہل دل باقی ہیں۔ ورنہ ہماری خاک و خون تو محض نقش باطل ہے۔ حیف ہے اس زمانے پر جس میں تم پیدا ہوئے، کیونکہ یہ زمانہ جان سے غافل، بدن میں ڈوباہے۔ مگر جان کے قحط اور بدن کی ارزانی کی کیفیت ہو تو مرد حق نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔
تم اسے ڈھونڈ نہیں سکتے حالانکہ وہ تمہارے سامنے ہوتا ہے۔ بہرحال تم اس کی تلاش جاری رکھو خواہ تمہیں کتنی ہی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اگر ساری تگ و دو کے باوجود تجھے کسی مرد خبیر کی صحبت میسر نہیں آتی۔ تو میں تجھے وہ سکھانے کی کوشش کرتا ہوں جو میراث کے طور پر مجھے اپنے آبا سے ملا۔ پیر رومی کو اپنے راستے کا رفیق بنالو تاکہ خدا اس کا سوز وگداز تجھے بخش دے۔ پیر رومی مغز اور پوست میں فرق کو خوب سمجھتا ہے۔ اس لیے اس کا قدم دوست کے کوچہ کا راستہ جانتا ہے۔ مگر اس کے کلام کی شرح لکھنے والے سب سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔
اقبال مغربی ادبیات سے پور ے طور پر آگاہ تھے۔ انہوں نے ''بانگ درا'' میں درجن بھر امریکی اور برطانوی شعرا: جیسے لانگ فیلو' ایمرسن' ولیم کوپر' ٹینی سن' براؤننگ' سیموئیل راجرز اور دوسروں کی نظموں سے اخذ و ترجمہ کیا ہے۔ ورڈز ورتھ کا انہوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا اور 1910ء میں اپنی انگریزی بیاض میں لکھا تھا کہ ورڈز ورتھ نے انھیں الحاد سے بچایا۔ اسی طرح ملٹن کا بھی ذوق و شوق سے مطالعہ کیا۔ اپنے ایک مکتوب محررہ مارچ 1911ء میں یہ بات درج کی کہ ''ملٹن کی تقلید میں کچھ لکھنے کا ارادہ مدت سے ہے اور اب وہ وقت قریب معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ان دنوں وقت کا کوئی لحظہ خالی نہیں جاتا جس میں اس کی فکر نہ ہو۔'' شیکسپیئر کو انہوں نے منظوم خراج تحسین پیش کیا ہے۔ گوئٹے سے بھی اقبال کا گہرا تعلق ہے۔
کیا مغربی ادبیات کے اس حصے سے آگاہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اقبال پر مغربی جدیدیت کے اثرات تھے؟ جواب نفی میں ہو گا۔ اس لئے کہ ان تمام شعرا کو ماڈرن کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا تعلق ( زیادہ کا تعلق انیسویں صدی سے ہے) ماڈر ینٹی (ہمہ گیر جدیدیت) کے عہد سے ہے... مگر ماڈرن اسٹ نہیں کہہ سکتے۔ ماڈرن اور ماڈرن اسٹ میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ٹینی سن اور ایلیٹ میں یا تھیکر ے اور جیمز جوائس میں ہے۔ دراصل اقبال نے مغربی ادبیات سے اخذ و استفادے کا عمل اپنے ابتدائی دور میں شروع کیا اور 1910ء تک ان کا شعری مائنڈ سیٹ متشکل ہو چکا تھا۔ اپنے ابتدائی دور میں اقبال کا مغربی ادیبات سے تعلق تقلیدی ہے' انہوں نے کئی مغربی نظموں کو پورے کا پورا اور کہیں مغربی نظموں کے کچھ مصرعوں کو ترجمہ کیا ہے۔ جیسے ''کوپر'' کے اس مصرعے:
And, while the wings of fancy still are free
کو نظم ''مرزا غالب'' کا یہ مصرع بنا دیا ہے:
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
مگر 1910ء کے بعد ان کی نظر انتخابی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے شعری مائنڈ سیٹ کی راہ نمائی میں معاصر مغربی ادبیات اور تحریکوں سے ربط ضبط قائم کرتے ہیں۔ جو ادبی تحریکیں اور رجحانات انہیں اپنے مائنڈ سیٹ سے متصادم یا مختلف محسوس ہوتی ہیں انہیں وہ خاطر میں نہیں لاتے ۔ یوں بھی جن دنوں ماڈرن ازم کی تحریک زور شور سے جاری تھی' اقبال مغربی تہذیب پر تنقید کا آغاز کر چکے تھے۔ اور ماڈرن ازم مغربی تہذیب ہی کا جمالیاتی مظہر ہے۔ چنانچہ جن دنوں مغرب میں ''ویسٹ لینڈ'' اور ''یولی سس'' چھپتے ہیں ' انہی دنوں اقبال اردو میں نظم ''طلوع اسلام'' (1922ء) اور فارسی میں ''پیام مشرق'' (1923ء) منظرعام پر لاتے ہیں۔ ان کا فرق ظاہر ہے۔ اقبال' ایلیٹ اور جوائس کے نہ صرف موضوعات' ہیئتیں اور اسالیب مختلف تھے بلکہ جمالیاتی مقاصد بھی مختلف تھے۔
ہر چند اقبال نے ماڈرن ازم سے راست ربط ضبط نہیں رکھا اور اس لئے نہیں رکھا کہ وہ ایک مختلف تصور کائنات اور مائنڈ سیٹ کے علم بردار تھے' مگر ماڈرن ازم کے بعض تصورات اور اقبال کی شاعری کے بعض پہلو وں سے تقابل و تماثل دلچسپی سے خالی نہیں ۔ ماڈرن ازم کی تجربہ پسندی' روایت شکنی' انفرادیت پسندی' تاریخی و جمالیاتی عدم تسلسل اقبال کے یہاں اپنے مغربی سیاق کے ساتھ موجود نہیں۔ مثلاً یہی دیکھئے کہ اقبال نے نئی ہیتؤں کی تلاش کے بجائے روایتی ہیتٔوں کو اپنے ہی لئے موزوں سمجھا ہے۔ اس طرح روایت سے اپنا تعلق قائم رکھاہے' جسے توڑنے میںجدیدیت افتخار اور لذت ہی محسوس نہیں کرتی' اپنے شعریات کے اظہار کے لئے لازم بھی سمجھتی ہے۔ جدیدیت کی نظر میں ہر فن پارہ مواد اور ہیئت پر مشتمل تو ہوتا ہے' مگر دونوں میں رشتہ ناخن اور گوشت کا ہوتا ہے۔ نئے مواد کو پرانی ہیئت میں پیش کرنے کا مطلب ' نئے مواد کو روایت سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ہیئت روایت کے وسیع منطقے کا ایک جزہے۔ تاہم اسلوبی سطح پر اقبال نے تجربہ پسندی اور روایت شکنی کا مظاہرہ ایک خاص مفہوم میں بہ ہر حال کیا ہے۔ اقبال نے اردو شاعری میں قطعی منفرد ڈکشن ہی متعارف نہیں کروایا بلکہ اسے بے مثال تخلیقی شان کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کچھ اس طور کہ یہ ناقابل تقلید ہے۔ اتنی شدید اور فقید المثال انفرادیت شاید ہی کسی دوسرے اردو شاعر کے یہاں موجود ہو' جس کا مظاہرہ اقبال نے کیا ہے۔ ماڈرن ازم میں بھی انفرادیت پر زور ملتا ہے۔ کیا اقبال کی انفرادیت کاوہی مفہوم ہے جو مغربی جدیدیت میں ہے؟ بالکل نہیں' اقبال کی انفرادیت اس کی اپنی انفرادیت ہے' تاہم ایک سطح پر یہ انفرادیت مشرقی شعریات میں قابل فہم ہے اور دوسری سطح پر اقبال کے شعری وژن میں۔
مشرق شعریات میں انفرادیت کے مظاہرے کو جدت کا نام دیا گیا ہے۔ جدت کے ضمن میں حسن ادا' اپج' معنی آفرینی' مضمون آفرینی' نکتہ سنجی' نازک خیالی ایسی اصطلاحات کا بھی ذکر ہوا ہے۔ جدت ان سب کو محیط ہے۔ یہ سب جدت کی فروع ہیں' اس طور جدت کا تعلق معنی اور اسلوب ہر دو سے ہے۔ جدت بہ قول ڈاکٹر عنوان چشتی' ''مانوس اشیا کے مخفی امکانات کی دریافت کا عمل ہے... جدت روایت کے بطن سے نمودار ہوتی ہے' مگر روایت پرستی سے انحراف کرتی ہے۔'' گویا جدت انحراف ہے مگر جدیدیت کاانحراف نہیں۔ جدیدیت کا انحراف کلی ہوتا' جب کہ جدت کاجزوی ہوتا ہے۔ جدت کاانحراف روایت کے حدود کے اندر ہوتاہے اور اس محتاط انداز میں ہوتا ہے کہ روایت کی بنیاد کو اس انحراف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔
دوسرے لفظوں میں جدت کے انحراف اس وقت ممکن ہے جب روایت کا علم موجود ہو۔ اس علم کی سطح اور درجے کی مناسبت سے ہی انحراف کی سطح اور درجہ متعین ہوتا ہے۔ لہٰذا جس تخلیق کار کا روایت کا تصور وسیع ' گہرا اور سرایت گیر ہوتا ہے اس سے انحراف بھی اتنا ہی بڑا ہوتاہے۔ اقبال کی انفرادیت دراصل جدت ہے۔ جدت کا مظاہرہ ہر چند اور بھی کئی اردو شعرا نے کیا ہے مگر روایت کا جتنا وسیع اور گہرا تصور اقبال کا تھا' اتنا کسی دوسرے اردو شاعر کا مشکل سے ہو گا۔ اقبال کی انفرادیت ناقابل تقلید تو ہے مگر اپنی مشرقی روایت میں قابل فہم بہرحال ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اقبال نے مشرقی ادبیات کی روایت کو کھو جا ہی نہیں تھا اسے مرتب بھی کیا۔ اقبال نے فارسی' عربی ' اردو ' سنسکرت ' ادبیات کو ایک روایت ٹھہرایا اور اسے اپنی شاعری کی روح رواں بنایا۔ان کے یہاں فارسی شعرا ملا عرشی' ابو طالب کلیم' فیضی' صائب' مرزا بیدل' عرفی' خاقانی' انوری' سنائی' حافظ' سعدی اور سب سے بڑھ کر فکر رومی کے اثرات بالواسطہ اور بطور تضمین ملتے ہیں۔ عربی ادبیات سے انہوںنے ہر چند کسی مخصوص شاعر کے اثرات نہیں لئے مگر عربی شعریات کے اصول سادہ بیانی اور صحرائیت پسندی ضروری قبول کئے۔ مولانا غلام رسول مہر نے جب طلوع اسلام پر تنقید کی تو اقبال نے جواب دیا کہ ''میں عربی شاعری کی روش پر بالکل صاف صاف اور سیدھی سیدھی باتیں کہہ رہا ہوں۔''
اسی طرح انہوںنے متعدد قرآنی آیات کو راست یا ان کے ترجمے کو اپنی شاعری میں پیش کیا۔ اقبال کا تصور روایت اگرچہ ایلیٹ کے تصور روایت سے مختلف ہے مگر دونوں میں یہ مماثلت موجود ہے کہ ایلیٹ نے تمام مغربی ادب: ہومر سے بائرن تک کو ایک روایت قرار دیا۔ اقبال نے روایت کی تنقید ی تھیوری پیش نہیں کی ' مگر ادبی روایت کو مسلسل جاری روایت کی صورت میں اپنی شاعری میں مرتب' دریافت اور پیش کیا ہے۔ اقبال کی روایت مشرقی اسلامی روایت ہے۔ عبدالمغنی کا یہ کہنا وزن رکھتا ہے کہ ''اقبال کی شاعری درحقیقت مشرقی ادبیات کی تمام شاعرانہ روایات کا نقطۂ عروج ہے۔''
اقبال کا تصور روایت' مابعد جدید تنقیدی اصطلاح میں بین المتونی (Intertextual) ہے۔ فارسی' عربی' اردو اور سنسکرت ادبیات مختلف متون ہیں' جنہیں اقبال نے باہم ممزوج کیا ہے۔ اقبال نے مختلف مشرقی روایات کو ایک نئے متن میں منقلب کر دیا ہے۔ یعنی یہ روایات اقبال کے شعری متن کے میکانکی اجزا نہیں' نامیاتی عناصر ہیں۔ اقبال کا شعری متن ایک زندہ متن ہے اور ایک زندہ وجود کی طرح ہی نہ صرف حسی تحریک کا حامل ہے بلکہ مخصوص زاویۂ نظر اور آئیڈیالوجی بھی رکھتاہے۔
اقبال کے اسلوب کو جو بات ناقابل تقلید بناتی ہے' وہ ان کا شعری وژن ہے۔ ان کا اسلوب ان کے وژن کی تجسیم ہے۔ کسی تخلیق کار کے وژن کی تفہیم کی جا سکتی ہے' تقلید نہیں۔ اس لئے کہ وژن 'ایک مسلسل نموئی عمل سے وجود میں آنے والی باطنی حقیقت ' ہے۔
جدید ادب کا فرد ایلی نیشن کا شکار ہے۔ ایلی نیشن کا تصور مارکسیت میں بھی ملتا ہے مگر جدیدیت اور مارکسیت کی ایلی نیشن ایک جیسی نہیں ہیں۔ مارکسی ایلی نیشن یہ ہے کہ فرد اپنی محنت کے وسائل اور ثمرات سے بوجوہ اجنبی ہو جاتا ہے۔ جب کہ جدید فرد کی ایلی نیشن ایک خاص فلسفیانہ تصور کی پیدا کردہ ہے۔ اس فلسفے (وجودی) کی رو سے فرد تنہا ہے۔ وہ دوسروں سے اور کائنات سے علاحدہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال کے یہاں بھی فرد موجود ہے۔ یہاں اشارہ اقبال کے مرد مومن کی طرف نہیں۔ مرد مومن ایک آدرش ہے' جس میں وہ تمام بہترین خصوصیات یک جا ہو گئی ہیں جنہیں اسلامی تاریخ میں پیش کیا گیا ہے۔ مرد مومن ایک ''غیر شخصی'' تصور ہے۔ یہ بشری تقاضوں سے بلند اور اعلیٰ انسانی مقاصد کا علمبردار ہے۔ اقبال کی شاعری میں' بالخصوص بال جبریل کی غزلوں میں ایک اور فرد ظاہر ہوا ہے۔ یہ ایک شخصی وجود ہے۔ اس کا اپنا نقطۂ نظر اور اپنے سوالات ہیں۔ ہر چند اس کا لہجہ پرتمکین اور کہیں جلالی ہے' مگر یہ ایک حقیقی فرد ہے اور اسی لئے تنہا بھی ہے۔ یہ چند اشعار اسی فرد کا اظہار ذات ہیں:
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدہ صفات میں
تو نے یہ کیا غضب کیا' مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں
اگر گج رو ہیں انجم' آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو' جہاں تیرا ہے یا میرا؟
اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟
تو ہے محیط بے کراں میں ہوں ذرا سی آب جو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
یہ مشت خاک' یہ صرصر' یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد د!
مذکورہ بالا اشعار میںایک ایسا فرد آشکار ہے جو تنہا ہے مگر ایک اور ہستی کے روبرو بھی ہے۔ بہ ظاہر یہ پیراڈاکس ہے کہ 'اقبال کافرد تنہا' مگر ایک اور ہستی کے روبرو بھی' کیا وہ اس ہستی سے ایلی نیشن کا شکار ہے؟ اصل یہ ہے کہ اقبال کے فرد کی تنہائی ہی اسے اس ہستی کے روبرو لے جاتی ہے کہ وہ اپنے وجود کی معنویت دریافت کر سکے۔ حقیقتاً اس فرد کو اپنی بے معنویت کا نہیں' اپنی معنویت کے از سر نو تعین کے سوال کا سامنا ہے۔ چنانچہ یہ اس بے چارگی اور لغویت کا شکار نہیں جو جدیدیت کے فرد کو اس کی تقدیر کی صورت درپیش ہے۔ حالانکہ اقبال کا فرد بھی زندگی کا مستند اور حقیقی تجربہ کر رہا ہے جسے جدیدیت کا فرد اپنے لئے لازم ٹھہراتا ہے۔ اقبال کے بعض ناقدین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اقبال کی شاعری میں جدید فرد کہیں موجود نہیں۔ اقبال نے فرد کا پرعظمت تصور پیش کیا مگر جدید انسان جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ' جس بے چارگی میں مبتلا اور جس تنہائی کے کرب سے دو چار ہے' اقبال نے اسے اپنی شاعری میں کہیں پیش نہیں کیا۔ ان ناقدین کے نزدیک اقبال نے حقیقی فرد کو نہیں فرد کے مثالی اور Glorified تصور کو پیش کیا ہے۔
ان نقادوں نے غالباً مرد مومن کے تصور کو سامنے رکھا ہے اور اس فرد کی آواز نہیں سنی جس کی زبانی چند اشعار اوپر درج کئے گئے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اقبال کا فرد اپنے وجود کے باطنی سرچشمے سے منقطع نہیں ہوا' تاہم اس سے ایک ایسے فاصلے پر ضرور ہوا ہے' جس میں وہ اپنی معنویت کے سوال کو تشکیل دے سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے وجود کی معنویت کا تعین نئے سرے سے اور مستند طریقے سے چاہتا ہے مگر معنویت کے گم ہو چکنے یا ''بے معنی'' ہونے کے بحران کا اسے سامنا نہیں ہے۔ نئے سرے سے معنویت کی طلب پر ماڈرینٹی کی عقلیت پسندی کی پیدا کردہ تشکیل کا ہلکا سا سایہ موجود ہے مگر یہ طلب باطنی اور مابعد الطبیعیاتی سرچشمے پر سوالیہ نشان نہیں لگاتی۔ جدیدیت میں یہ سوالیہ نشان جلی طور پر موجود ہے۔
لہٰذا جدیدیت اور اقبال کے فرد میں جو بنیادی فرق پیدا ہوا ہے وہ دونوں کے جدا گانہ ''ورلڈویو'' کی وجہ سے ہے۔ جدیدیت کے فرد کا ''ورلڈویو'' روایت اور مابعد الطبیعیات کی نفی پر استوار ہے' مگر اقبال کے فرد کا ''ورلڈ ویو'' ان دونوںکے اثبات پر مبنی ہے۔ ایک کی محرومی دوسرے کی قوت ہے۔
یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جدید فرد نے بیسویں صدی کے عظیم سانحات ( عالمی جنگیں' اقتصادی بدحالی وغیرہ) کو جھیلا' اس لئے وہ بے بسی اور بے معنویت کے احساس میں مبتلا ہوا۔ کیا اقبال کے یہاں ان سانحات کی گونج موجود ہے؟ یہ موضوع الگ تفصیلی مطالعے کا متقاضی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ کسی سانحے کو جھیلنے میں فرد کا ''ورلڈ ویو'' (worldview) اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک مذہبی آدمی کسی المیے کا سامنا جس طور کرتا ہے' مذہب بے زار فرد اسی المیے کو کسی اور طریقے سے محسوس کرتا ہے۔
ماڈرن ازم کا تعلق اگر اقبال کی شاعری سے ہے تو ماڈرینٹی اور ماڈرنائزیشن (جدید کاری) کا تعلق اقبال کی فکر سے ہے۔ واضح رہے کہ اقبال کی فکر بہ یک وقت ان کی نثر اور شاعری میں ظاہر ہوئی ہے۔ سلیم احمد نے اقبال کی شاعری کا امتیاز ہی فکر کو قرار دیا ہے۔ اور اس فکر کو اقبال کی انفرادی فکر بھی قرار دیا ہے۔ سلیم احمد نے جذبے' تصور اورجبلت سے تو فکر کو ممیز کیا ہے مگر فکر کی قسموں اور سطحوں میں فرق نہیں کیا اور نہ یہ بتایا کہ کہاں ان کی شاعری خالص فکر کو اور کہاں شاعرانہ فکر کو پیش کرتی ہے۔ مثلاًاقبال کے یہاں متعدد اشعار ایسے موجود ہیں جو خالص فکر کو پیش کرتے ہیں۔' فقط دو شعر دیکھئے:
عشق اب پیروی عقل خداداد کرے
آبرو کوچہ جاناں میں نہ برباد کرے
کہنہ پیکر میں نئی روح کو آباد کرے
یا کہن روح کو تقلید سے آزاد کرے
ان اشعار کو اقبال کے فکری مؤقف کا ترجمان سمجھا جا سکتا ہے اور یہی خالص فکر کی نشانی ہے۔ جب کہ اس قسم کے اشعار ان کی شاعرانہ فکر کی علمبردار ہیں:
پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے
جو مشکل اب ہے یارب! پھر وہی مشکل نہ بن جائے
مذکورہ بالا شعار جو اقبال کے فکری مؤقف کے ترجمان کے طور پر پیش کئے گئے ہیں' ماڈرینٹی سے متعلق اقبال کے تصور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماڈرینٹی کا اہم داعیہ عقلیت ہے اور اقبال نے بھی عشق کو عقل کی برتری تسلیم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس شعر کو اقبال کے عشق و عقل کے تصورات کے تناظر میں بھی اگرچہ دیکھا جا سکتا ہے مگر اقبال نے ان اشعار کو ''ادبیات'' کے عنوان کے تحت لکھا ہے اور ''ضرب کلیم'' میں انہیں درج کیا ہے جو عہد جدید کے خلاف اقبال کے اعلان جنگ یعنی اقبال کے فکری مؤقف کی علم بردار ہے۔ عقل کی اہمیت کا دوسرا مطلب عقلی وسائل کی مدد سے مذہبی و معاشرتی تجدید ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ اقبال تجدید یا ماڈرنائزیشن کے قائل تھے' جو عشق سے نہیں عقل سے ہی ممکن ہے۔
اقبال کے اس تصور جدیدیت کا سرچشمہ ایک طرف سرسید کا اصول تطبیق ہے(سرسید نے کہا تھا کہ ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو حکمت جدیدہ کا بطلان کر دیا جائے یا اس سے ہم آہنگ ہوا جائے۔ سرسید نے ہم آہنگ ہونے کو ترجیح دی) اور دوسری طرف اقبال کے عہد کا سماجی اور علمیاتی تناظر ہے۔ ڈاکٹر منظور احمد کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ اقبال کی فکر کو ان کے عہد کے تناظر میں دیکھا جائے کہ اقبال نے ماڈرینٹی کے ضمن میں جو مؤقف اختیار کیا وہ اسی تناظر میںانہیں سوجھا اور اسی تناظر میں وہ موزوں اور Validبھی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اقبال کا مؤقف اپنی اصل میں 'تاریخی' ہے' حتمی اور آفاقی کلیہ نہیں ہے۔ اب جب کہ دنیا پوسٹ ماڈرینٹی میں داخل ہو چکی ہے۔ اقبال کے 'تاریخی مؤقف' پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
حقیقتاً ماڈرینٹی اور ماڈرنائزیشن تمام غیر مغربی اقوام اور بالخصوص اسلامی ممالک کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا مستقل اور ہر سطح پر قابل قبول حل اب تک پیش نہیں ہو سکا۔ اور مختلف ممالک میں جو حل تجویز کئے گئے ہیں وہ ان ممالک کے سماجی' تاریخی تناظر کے زائیدہ ہیں۔ نیز ایک ہی ملک میں مختلف اوقات میں مختلف حل سامنے آئے ہیں۔ مثلاً ترکی اور مصر میں ابتدا میں ماڈرنائزیشن سے مراد مغرب کی عسکری تکنیک کا حصول تھا اور ہندوستان میں ابتداً ماڈرنائزیشن کا مطلب جدید مغربی انگریزی تعلیم سے بہرہ مند ہونا تھا۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ محکوم ممالک میں ماڈرنائزیشن بڑی حد تک ویسٹرنائزیشن کے مترادف سمجھی گئی ہے۔ اس لئے کہ مغرب نے غیر مغربی اقوام کو اپنی تہذیب کے جس پہلو سے زیادہ متاثر یا مغلوب کیا وہی پہلو محکوموں کا آدرش بنا۔ غالباً اسی لئے اقبال نے کہا تھا:
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا
چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ غلام اقوام نے ماڈرینٹی کا بالعموم سطحی تصور قائم کیا ہے۔ انہوں نے ماڈرینٹی کو اس کے ہمہ گیر تناظر میں نہیں دیکھا' اس پراسس کو سمجھنے کی سعی نہیں کی' جس نے ماڈرینٹی کو ممکن بنایا۔ ٹیکنالوجی یا علوم تو ماڈرینٹی کے آئس برگ کا وہ معمولی سا حصہ ہیں جو سمندری پانی سے باہر ہوتا ہے۔ ماڈرینٹی کے پورے پراسس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی بیش تر مسلم ممالک میں ماڈرینٹی ممکن نہیں ہوئی۔ یہ ایک تلخ مگر نا قابل تردید حقیقت ہے کہ مسلم ممالک مغربی ماڈرینٹی کے ''صارف'' بن کر رہ گئے ہیں۔ کسی شے کی خالق اور صارف میں جو فرق ہوتا ہے' اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں۔ اقبال کو اس امر کا آرزومندانہ احساس تھا' انہوں نسے سید سلیمان ندوی کے نام خط میں لکھا کہ ''مسلمان ذہنی انقلاب کے اسی مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں جس سے یورپ لوتھر کے زمانے میں گزرا تھا۔'' ( مگر کیا واقعی؟) اقبال اس نوع کا ذہنی انقلاب لانے کی غرض سے ہی اسلامی فقہ کی تدوین نو کرنا چاہتے تھے۔ صوفی تبسم اور غلام السیدین کے نام مکاتیب میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے۔
اب ایک نظر اقبال کے تصور جدیدیت کے حدود اور امکانات پر!
اقبال عقلیت اور جمہوریت کے مخصوص تصورکے قائل تھے۔ آمریت' شہنشاہیت اور ملائیت کے خلاف تھے۔ اس ضمن میں ان کے یہاں درجنوں فارسی اور اردو اشعار موجود ہیں۔ اسی طرح ذہنی جمود کے نکتہ چیں اور متحرک نظام فکر میں یقین رکھتے تھے ۔
ہر چند اقبال نے شاعری میں معاشی سماجی عوامل کا ذکر کیا ہے' تاہم ایک تھیوری کے طور پر اقبال نے اسے پیش بہ ہر حال نہیں کیا۔ اس لئے کہ اقبال کا مطمح نظر مذہب و سائنس کے مطابق تھا۔ اصولی طور پر جب دو چیزوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو ایک کو لازماً برتر اور دوسرے کو ثانوی اور اس پر منحصر قرار دیا جاتا ہے۔ اقبال نے مذہب' سائنس یا عقل ووجدان کے ضمن میں جو درجہ بندی کی' اس میں اولیت مذہب اور وجدان کو دی' اورعقل اور سائنس کو مذہب کی تعبیر نو کا وسیلہ بنایا۔ دوسرے لفظوں میں عقل اور سائنس کو ان کی آزاد حیثیت میں قبول کرنے کے بجائے انہیں مذہبی صداقتوں کے تابع رکھا۔ انہیں مقصد نہیں' وسیلہ قرار دیا' جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انہوں نے آزادانہ سائنسی تحقیقات کے حق میں آواز بلند کرنے کے برعکس ''ہو چکی سائنس تحقیقات'' سے (ایک خاص مقصد کے تحت) استفادے پر زور دیا۔ہر چند بعض مقامات پر اقبال نے عقل کی برتری کا دعویٰ کیا ہے مگر بالعموم عشق کے مخصوص و محدود و تصور کے مقابلے میں ایسا کیا ہے۔
سائنس کی برتری کو تسلیم کرنا شاید اقبال کے لئے ممکن نہ تھا کہ سائنس نے جس ماڈرینٹی سے جنم لیا ہے' وہ اپنی اصل میں ''بشر مرکزیت'' ہے۔ اقبال عالم گردوں کو بشریت کی زد میں ٹھہرانے کے باوجود بشر مرکز فلسفے کو قبول نہیں کر سکتے تھے کہ اسے قبول کرنے کا مطلب ماڈرینٹی کو پورے کا پورا قبول کرنا تھا۔ صاف لفظوں میں یہ کہ علم کا سرچشمہ وحی کے بجائے انسانی عقل کوتسلیم کرنا تھا۔ اقبال ماڈرینٹی کو تنقیدی اور انتخابی طور پر قبول کرنے کے حق میں تھے۔ اقبال ماڈرینٹی کے نکتہ چیں بھی تھے اور مداح بھی۔ اقبال دراصل اپنی اسلامی ثقافتی نہاد کو قائم و برقرار رکھتے ہوئے مغربی جدیدیت سے اخذ و استفادے کے قائل نظر آتے ہیں۔ ایک خاص مفہوم میں یہ ایک جدید اور ترقی پسندانہ نقطہ نظر تھا۔
نئی نسل کے جوانوں سے باتیں
جاویداقبال کے قلم سے اقبال کی تخلیق خطاب بہ جاوید کا نثری ترجمہ
منظر: مسند پر زندہ رود کے روبرو اس کا فرزند جاوید ادب سے دوزانو بیٹھا ہے۔ تاریکی کے عالم میں صرف باپ اور بیٹے پر روشنی پڑ رہی ہے۔
زندہ رُود: (افسردگی سے) میری تمام نصیحتیں تیرے لیے بیکار ہیں۔ کیونکہ جو میرے دل کی گہرائیوں میں چھپا ہے، میری زبان پر نہیں آرہا۔ میں نے کئی مشکل نکتے سلجھا دیئے لیکن ایک نکتہ ایسا ہے جو تجھے کسی کتاب میں نہ ملے گا۔ اسے بیان کرنے کی کوشش کروں تو وہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ میری آواز یا الفاظ کی وسعتوں میں گم ہوجاتا ہے۔ پھر بھی تو اس کی تپش کو میری نگاہ یا میری آہ صبح گاہ میں محسوس کر۔
ماں کی آغوش میں تجھے توحید کا پہلا سبق ملا۔ اس کی باد نسیم ہی سے تیرا غنچہ کھلا۔ تیرا رنگ روپ، سرمایہ، قدرو قیمت اسی کے دم سے ہے۔ کیونکہ ماں نے تجھ سے لاالٰہ کہلواکر تیرے دامن کو ایسی دولت سے بھر دیا جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ لیکن اسے پسر! لاالٰہ کے معانی جاننے کا ذوق ہے تو میری نگاہ سے جان۔ لاالٰہ کی آگ میں جلنے کا شوق ہے تو میرے دل کی دھڑکن سن۔ لاالٰہ کہنا ہے تو دل و جان سے کہہ تاکہ تیرا سارا جسم اس کی خوشبو سے مہک اٹھے۔ سورج اور چاند کی گردش لاالٰہ ہی کے سوز کی مرہون منت ہے بلکہ میں تو اسی کے سوز کی بدولت کاہ و کہسار کو قائم دیکھتا ہوں۔ یہ دو حرف محض کہہ دینا کافی نہیں۔ لاالٰہ کی حیثیت تیری حیات میں ایک تیغ بے زنہار کی سی ہے۔ لاالٰہ کے سوز ہی کے سبب تیری زندگی میں قہاری ہے۔ یاد رکھ! لاالٰہ کی ضرب قوی ہے اور کاری بھی ہے۔
افسوس ہے، مومن ہو اور غیروں کے روبرو کمر میں ٹپکا باندھے کھڑا ہو؟ ارے، مومن کبھی غلام، بھکاری، ایک دوسرے سے نفرت کرنے والا یا اپنی ملت کا غدارنہیں ہوسکتا۔ مگر ہم نے اپنا ایمان کوڑیوں کے مول بیچ ڈالا اپنے گھر اور اس کے سازوسامان کو آگ لگادی۔ اسی سبب اب ہماری نماز لاالٰہ کے سوز سے بے نصیب ہے۔ اس کے ناز کے انداز میں نیاز نہیں رہا۔ مسلمان کی نمازیں اور روزے سب بے نور ہیں۔ اس کی کائنات تجلیوں سے محروم ہے۔ اس کے پاس اللہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن اب دولت سے محبت اور موت کے خوف ایسے فتنوں پر حاوی ہوسکنا اس کے بس میں نہیں رہا۔ ذوق و شوق، مستی و سرور سب اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ خود تو زندہ درگور ہوا۔ اس کا دین بھی کتابوں میں بند کردیا گیا۔
عصر حاظر کی دنیاداری کے زیر اثر وہ دو نئے پیغمبروں پر ایمان لے آیا۔ جن میں سے ایک کا تعلق تو ایران سے ہے اور دوسرا ہندی نژاد ہے۔ ایک حج کا منکر ہے اور دوسرا جہاد کا۔ اگر حج اور جہاد دین اسلام کے واجبات نہ رہے تو اسلام کے صوم و صلوات کے پیکر سے جان نکل جائے گی۔ نتیجہ میں فرد ناہموار ہوجائے گا اور معاشرہ بے نظام۔ پس اگر مسلمان کے سینے میں قرآن کی گرمی نہ رہے تو اس سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟ ہائے افسوس! مرد مسلمان نے اپنی خودی کو الوداع کہی اور دیدہ دانستہ گم کردہ راہ ہوگیا۔ اے بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھانے والے خضر!! ہماری دست گیری کرکہ اب پانی سر سے گزرچکا ہے۔
ایک وہ زمانہ تھا جب مسلمان کے سجدہ سے زمین لرزہ براندام ہوتی تھی۔ گردش ایام اس کی منشا کے مطابق ہوتی تھی۔ اگر کسی پتھر پر بھی اس کے سجدہ کا نقش پڑتا تھا تو وہ دھویں کی مانند فضا میں دیوانہ وار جھومتے لگتا۔ لیکن عصر نو میں اس کے نصیب میں ذلت و خواری یا ضعف پیری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اے خداوند!! اب ربی الاعلیٰ کی شان و شوکت کہاں گئی؟ اس تنزل کا ذمہ دار کون ہے؟ قدما قصور وار ہیں یا یہ ہماری کوتاہی کا نتیجہ ہے؟ ہر کوئی اپنے اپنے متعین راستے پر رواں دواں ہے۔ لیکن ہماری اونٹنی بے لگام اور سست رو کیوں ہے؟ اے وائے، اگر صاحب قرآن بے ذوق طلب ہوجائے تو اس سے زیادہ حیرت کی بات اور کیا ہوسکتی ہے!!
اے پسر! اگر خدا تجھے صاحب نظر بن سکنے کی توفیق عطا کرے تو آنے والے دور کو سمجھنے کی کوشش کر۔ جب عقل بے خوف اور دل بے گداز ہوجائیں جب نگاہیں شرم و حیا کو طاق پر رکھ کر مجاز کے اندر ڈوب جائیں۔ تو علم و فن، دین و سیاست، عقل و دل سب کے سب آب و گل کا طواف کرنے لگتے ہیں۔ ایشیا کی پہچان طلوع آفتاب سے تھی۔ مگر اب غیر اس پر حاوی ہیں اور وہ بجائے خود اندر حجاب ہے۔ اس کا دل نت نئی وارداتوں سے محروم ہے۔ اس کے حاصل کی اب کوئی قدرومنزلت نہیں۔ مرہون غیر ہونے کے سبب وہ ساکن یخ بستہ اور بے حس ہے۔ یہاں کا مسلمان ملاؤں کا شکار ہے یا بادشاہوں کا نخچیر۔ وہ اس بدحواس ہرن کی مانند ہے جس کے سب اندیشے خلط ملط ہوچکے ہیں۔ اسے اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں رہی۔ اس کی عقل، دین، دانش، ناموس اور نام سب کے سب لردان افرنگی کے قابو میں ہیں۔ میں ان غاصبوں کے ارادوں کو خوب سمجھتا ہوں۔ اسی بنا پر ان کے اسرار کا پردہ چاک کرنے کے درپے ہوں۔ میں نے سینے میں اپنے دل کا خون ان کے جہان کو دگرگوں کرنے کی خاطر کیا ہے۔
اے پسر! میری طرف متوجہ ہو!! میں موجودہ زمانے کی طبیعت کے مطابق دو باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ دراصل میں نے دو دریاؤں کو دو کوزوں میں بند کررکھا ہے۔ ایک بات تو پیچیدہ ہے اور دوسری نوک دار۔ مقصد ہر ایک کے عقل و دل کو مرعوب کرنا ہے۔ ایک دلیل تو افرنگ کے انداز کے مطابق تہہ دار ہے۔ اور دوسری اس نالہ مستانہ کی طرح ہے جو کسی ساز میں پنہاں ہو۔ ایک کا تعلق فکر سے ہے اور دوسری کا ذکر سے میری دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دونوں یعنی فکر و ذکر کی نعمتوں سے نوازے۔ میں چونکہ بہتی ہوئی آبجو کی مانند ہوں، میری وابستگی دونوں دریاؤں سے ہے۔ فراق کا تصور میرے یہاں بیک وقت فراق بھی ہے اور وصال بھی۔ بہرحال چونکہ عصر حاضر کا مزاج مختلف ہے لہٰذا میں نے ہنگامہ برپا کرنے کا نیا انداز اپنایا ہے۔
میں نوجوانوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے روشن دماغ ہونے کے باوجود تشنہ لب، خالی ایاغ، شستہ رو اور تاریک جان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی کم نگاہی، بے یقینی اور ناامیدی سے مجھے یوں لگتا ہے گویا انہوں نے اس جہان میں کچھ بھی نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے وہ منکر خود، ناکس اور غیر کے ممنون ہیں۔ یعنی ان کی خاک سے دیر کے معمار اینٹیں بناتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ مکتب ان کی منزل مقصود سے شناسا نہیں۔ اہل مدرسہ کی جانوں میں فطرت کا نور موجود نہیں۔ ایسی صورت میں جذب اندروں کا راستہ کیونکر مل سکتا ہے؟! یہی سبب ہے کہ مکتب و مدرسہ کی شاخوں سے ایک بھی گل رعنا نہیں پھوٹا۔ جب کوئی معمار اینٹ ٹیڑھی رکھ کر دیوار علم اٹھائے تو سمجھ لو! وہ شاہین بچوں کو بطخ بننے کے آداب سکھا رہا ہے۔ علم اگر حیات کے سوز سے بیگانہ رہے تو طالب علم میں ذوق واردات پیدا نہیں ہوتا۔ علم تجھ پر تمہارے بلند مقامات ظاہر کرتا ہے۔ تمہاری پوشیدہ آیات، رجحانات، خصوصیات تم پر آشکار کرتا ہے۔ اپنے احساس کی آگ میں جلنا جب تم سیکھوگے تو تبھی اپنے بھلے اور برے میں تمیز کرسکو گے۔ حقیقی علم کی ابتدا تو حواس سے ہوتی ہے لیکن آخر تک پہنچنے کے لیے حضوری کی کیفیت لازمی ہے کیونکہ شعور کی وہاں تک رسائی نہیں۔
اہل ہنر سے تم سینکڑوں کتب کا علم حاصل کرسکتے ہو لیکن یقین رکھو! خوب تر سبق وہی ہے جو نظر سے ملے۔ جو شراب نظر سے حاصل ہوتی ہے وہ ہر کسی کو اور ہی انداز میں مست کرتی ہے۔ یاد رکھو! صبح کی ہوا کا جھونکا جو جلتا چراغ بجھاتا ہے اسی سے لالہ کھل کر سرخ صہبا کا ایاغ بنتا ہے۔ میری نصیحت یہی ہے زندگی میں کم کھایا کرو، کم سویا کرو اور کم باتیں کیا کرو لیکن اپنی ذات کے گرد پرکار کی طرح ہر لمحہ گردش کرتے رہو تاکہ تم اپنے آپ کو جان سکو۔
یاد رکھو! مُلاّ کے نزدیک منکر حق کافر ہے۔ مگر میرے نزدیک منکر خود کافر سے بھی بڑا کافر ہے۔ جو وجود حق سے انکار کرے وہ تو صرف عاجل ہے۔ لیکن جو اپنے آپ کو نہ جانے وہ عاجل بھی ہے۔ ظالم بھی ہے اور جاہل بھی ہے۔ بس تم ہر کسی کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤ اوراپنے آپ کو سلطانوں اور حکمرانوں کے خوف سے محفوظ رکھو۔ قہر و رضا کے اوقات میں عدل کو ملحوظ خاطر رکھو اور فقر و غنا کی صورتوں میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ حکم الٰہی اگر مشکل دکھائی دے تو اپنے مطلب کی تاویل سے چھٹکارہ حاصل مت کرو۔ بلکہ اپنے ضمیر کی روشنی میں اس کی تعبیر کرو۔ اس کے علاوہ کسی اور قندیل کی تلاش مت کرو۔
یاد رکھو! ذکر و فکر جاری رکھنے سے جان اسی طرح پائیدار ہوتی ہے جیسے جوانی میں ضبط نفس سے بدن توانا رہتا ہے۔ اس جہان پست و بالا میں جان و تن صحت مند ہوں تب ہی حاکمیت ملتی ہے۔ اگر سیر کی لذت حاصل کرنا تمہارا مقصد ہے تو بے شک سفر کا ارادہ کرو۔ لیکن اگر گھر پر بیٹھے رہنا پسند ہے تو اڑنے کی خاطر اپنے پر مت کھولو۔ جس طرح چاند گردش کے باعث صاحب مقام ہے اسی طرح آدمی کی سیر مسلسل میں کوئی منزل نہیں، یعنی تغیر میں ہی اس کی ثبات ہے۔ زندگی لذت پرواز کے سوا کوئی معانی نہیں رکھتی۔ کسی ایک مقام پر ٹھہرجانا اس کی فطرت کے خلاف ہے۔ کوے اور گدھ قبروں کی خاک میں خوراک تلاش کرتے ہیں لیکن شاہینوں کو رزق تو افلاک کی وسعتوں میں ہی ملتا ہے۔
دین کا راز سچ بولنا اور حلال کھانا ہے۔ اس کے ساتھ خلوت اور جلوت میں محسوس کرنا ہے کہ رب ذوالجلال کے سامنے ہو۔ پس دین کے معاملہ میں ہیرے کی طرح سخت رہو۔ اور اللہ سے دل لگا کر بے خوف و خطر زندگی بسر کرو۔
دین کا مطلب دراصل طلب کی آگ میں سدا جلتے رہنا ہے۔ اس کی ابتدا تو ادب سے ہوتی ہے لیکن انتہا عشق ہے۔ پھول کی قدرو قیمت اس کے رنگ و بو کی بدولت ہے۔ پس دنیا بھر میں جو رنگ و بو سے عاری ہے بے ادب اور بے آبروہی سمجھا جائے گا۔میں جب بھی کسی بے ادب نوجوان کو دیکھتا ہوں تو افسردگی سے میرا دن رات کی طرح تاریک ہوجاتا ہے۔ مجھے عہد مصطفیﷺ کی یاد آنے لگتی ہے اور میری بے قراری اور اضطراب بڑھ جاتے ہیں۔ میں جب بھی اپنے عہد پر نگاہ ڈال کر پریشان ہوتا ہوں تو قرون رفتہ کی یادوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہوں۔ مسلم خاتون کا پردہ، اس کا شوہر ہے یا قبر کی خاک۔ لیکن مرد کا پردہ برے دوست سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ اپنے لبوں کو الفاظ بد سے آلودہ کرنا غلط ہے۔ یاد رکھو! کافر اور مومن سب اللہ ہی کے بندے ہیں۔ انسانیت سے مراد دراصل احترام انسان ہے۔ اس لیے جان لو! کہ دنیا میں انسان کا کیا مقام ہے۔ دراصل ربط باہم رکھنے ہی میں آدمیت کی بقا ہے۔ اس لیے انسان دوستی کا اصول اپنانا ضروری ہے۔ بندہ عشق کو اپنے رب کا طریق اختیار کرنا چاہیے جو کافر و مومن دونوں کے حق میں شفیق ہے۔ کافر یا مومن ہونے کا تعلق دل سے ہے جو سراپا محبت و شفقت ہے۔
دل اگر دل ہی سے بیزار ہوجائے تو دل کے لیے افسوس کا مقام ہے۔ دل اگرچہ آب و گل کا قیدی ہے لیکن اس کے باوجود آفاق کی وسعتیں اس میں سماجاتی ہیں۔ اگر بستی میں تو زمینداروں کا سرغنہ ہے تو فقر اور غریب نوازی کو کبھی اپنے ہاتھ سے جانے نہ دینا۔ دراصل ابھی تیری روح میں وہ سوز خوابیدہ ہے جو تجھے اپنے اسلاف سے ملا۔ پس اس جہاں میں اپنے درد دل کے ماسوا کوئی سامان تلاش نہ کر۔ نعمتیں مانگنی ہیں تو اللہ سے مانگ، سلطان کے دروازے پر مت جا۔ میں نے ایسے بہت سے روشن دماغ اور بصیر لوگ دیکھے ہیں جو نعمتیں جمع کرتے اندھے ہوگئے۔ کثرت نعمت دلوں سے گداز چھین لیتی ہے۔ اس شوق سے رعونت آتی ہے اور عجز چلا جاتا ہے۔ میں نے سالہا سال جہاں گردی میں گزارے لیکن اہل دولت کی آنکھوں میں کبھی نم نہیں دیکھا۔ میں فدا ہوتا ہوں اس پر جو درویشانہ طریق اپنائے۔ مگر حیف ہے ان پر جو اپنے رب سے دور رہ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔
آج کا مسلمان ذوق و شوق کی دولت سے محروم ہے اس میں نہ جذبہ عشق ہے، نہ یقین، نہ حسن کردار۔ علما علم قرآن سے بے نیاز ہیں اور صوفیا بے رحم بھیڑیوں کی طرح خون کے پیاسے ہیں۔ اگرچہ خانقاہوں میں ہاؤ ہوکا شور ہے لیکن ایسا کوئی جواں مرد نظر نہیںآتا جس کا سبو مئے عرفان سے لبریز ہو۔ ہمیں مغرب کی نقالی نے خراب کر ڈالا۔ اسی سبب چشمۂ کوثر کو سراب میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ دین کے راز سے ہر کوئی بے خبر ہے۔ ہم اہل دین کہلانے کے لائق نہیں۔ ہم سب تو اہل کیں ہیں اہل کیں! ہمارے خواص میں کوئی خیرو خوبی موجود نہیں۔ البتہ صدق و صفا کہیں نظر آتی ہے تو عوام میں۔ تو اہل دین اور اہل کیں میں جو امتیاز ہے اسے ہمیشہ پیش نظر رکھ۔ اور اسی کو اپنا دوست بنا جو مرد حق ہو۔ آخر گدوں کے رسوم و دستور کا مقابلہ پرواز شاہین کی شان و شوکت سے کیونکر کیا جاسکتا ہے؟
مرد حق آسمان سے بجلی کی مانند کوندتا ہے اور شہر و صحرا، مشرق و غرب کو جلا کر راکھ کردیتا ہے۔ ہم کائنات کے ساکن اور تاریک حصہ میں ہیں۔ مگر وہ کائنات کو متحرک و متغیر رکھنے کے اہتمام میں شریک ہے۔ وہی اہل دل کے افلاک کا آفتاب ہے۔ اسی کی شعاؤں کی آب و تاب سے اہل دل زندہ ہیں۔ پہلے تو تجھے وہ اپنی آگ میں جلاتا ہے۔ پھر حکمرانی کے اُسلوب میں طاق کردیتا ہے۔ اسی کے سوز کا فیض ہے کہ کچھ اہل دل باقی ہیں۔ ورنہ ہماری خاک و خون تو محض نقش باطل ہے۔ حیف ہے اس زمانے پر جس میں تم پیدا ہوئے، کیونکہ یہ زمانہ جان سے غافل، بدن میں ڈوباہے۔ مگر جان کے قحط اور بدن کی ارزانی کی کیفیت ہو تو مرد حق نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔
تم اسے ڈھونڈ نہیں سکتے حالانکہ وہ تمہارے سامنے ہوتا ہے۔ بہرحال تم اس کی تلاش جاری رکھو خواہ تمہیں کتنی ہی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اگر ساری تگ و دو کے باوجود تجھے کسی مرد خبیر کی صحبت میسر نہیں آتی۔ تو میں تجھے وہ سکھانے کی کوشش کرتا ہوں جو میراث کے طور پر مجھے اپنے آبا سے ملا۔ پیر رومی کو اپنے راستے کا رفیق بنالو تاکہ خدا اس کا سوز وگداز تجھے بخش دے۔ پیر رومی مغز اور پوست میں فرق کو خوب سمجھتا ہے۔ اس لیے اس کا قدم دوست کے کوچہ کا راستہ جانتا ہے۔ مگر اس کے کلام کی شرح لکھنے والے سب سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔