صدارتی اختیارات کیخلاف آئینی درخواست پردوبارہ نوٹس جاری
کسی فریق نے کمنٹس داخل کیے نہ سیاسی پارٹیوں نے نوٹس وصول کیا،درخواست گزار
درخواست میں موجودہ ووٹرلسٹوں کومعطل کرنے، اسلامی نظام کے نفاذ سے متعلق بھی استدعا۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے صدر کے استثنیٰ اور سزائوںکی معافی کے اختیارات سے متعلق آئین کے آرٹیکل 248اورآرٹیکل45کالعدم قرار دینے سمیت دیگر آئینی امور کیخلاف حاجی گل کی آئینی درخواست پردوبارہ نوٹس جاری کردیے ہیں۔
درخواست گزار نے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سراہی میں دو رکنی بینچ کو بتایاکہ تاحال کسی فریق نے اس آئینی درخواست میں کمنٹس داخل نہیں کیے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے کراچی میں واقع دفاتر نے نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
فاضل بینچ نے اسٹیڈنگ کونسل دلاور سے کہا کہ کسی ایک بھی فریق کی جانب سے کمنٹس فائل کردیں جس پراسٹیڈنگ کونسل نے کہا کہ درخواست میں بہت زیادہ فریق بنائے گئے ہیں اس لیے ہمیں دشواری ہے،کچھ وقت دیا جائے درخواست میں موجودہ ووٹرلسٹوں کومعطل کرنے، اراکین پارلیمنٹ و چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے دہری شہریت کے متعلق لیے گئے حلف نامے کوکالعدم قرار دینے، اراکین پارلیمنٹ وصوبائی اسمبلیوں کونااہل قراردینے اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ سے متعلق بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں وفاق پاکستان،اسپیکر قومی اسمبلی،چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف،چیف الیکشن کمشنر، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام،تحریک انصاف،متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل،آل پاکستان مسلم لیگ ودیگرکومدعاعلیہ بنایا گیا ہے۔
درخواست گزارنے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ اس ملک کا سپریم قانون قرآن اور شریعت ہے اورآئین کے آرٹیکل227،229اور230 میں واضح کردیاگیا تھاکہ ملک کے تمام قوانین قرآن اورشریعت کے مطابق ڈھالے جائینگے جس کیلیے ساڑھے سات سال کا عرصہ رکھاگیاتھا لیکن سینتیس (37)سال گزرنے کے باوجود آج تک ایسا نہیں کیا گیا۔تمام اراکین پارلیمنٹ واسمبلیوں کا حلف قرآن سنہ سے متصادم ہے اورالیکشن نامزدگی فارم میں دیاگیا حلف بھی قرآن وسنہ سے متصادم ہے جس سے تمام اراکین توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں۔
درخواست گزار نے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سراہی میں دو رکنی بینچ کو بتایاکہ تاحال کسی فریق نے اس آئینی درخواست میں کمنٹس داخل نہیں کیے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے کراچی میں واقع دفاتر نے نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
فاضل بینچ نے اسٹیڈنگ کونسل دلاور سے کہا کہ کسی ایک بھی فریق کی جانب سے کمنٹس فائل کردیں جس پراسٹیڈنگ کونسل نے کہا کہ درخواست میں بہت زیادہ فریق بنائے گئے ہیں اس لیے ہمیں دشواری ہے،کچھ وقت دیا جائے درخواست میں موجودہ ووٹرلسٹوں کومعطل کرنے، اراکین پارلیمنٹ و چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے دہری شہریت کے متعلق لیے گئے حلف نامے کوکالعدم قرار دینے، اراکین پارلیمنٹ وصوبائی اسمبلیوں کونااہل قراردینے اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ سے متعلق بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں وفاق پاکستان،اسپیکر قومی اسمبلی،چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف،چیف الیکشن کمشنر، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام،تحریک انصاف،متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل،آل پاکستان مسلم لیگ ودیگرکومدعاعلیہ بنایا گیا ہے۔
درخواست گزارنے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ اس ملک کا سپریم قانون قرآن اور شریعت ہے اورآئین کے آرٹیکل227،229اور230 میں واضح کردیاگیا تھاکہ ملک کے تمام قوانین قرآن اورشریعت کے مطابق ڈھالے جائینگے جس کیلیے ساڑھے سات سال کا عرصہ رکھاگیاتھا لیکن سینتیس (37)سال گزرنے کے باوجود آج تک ایسا نہیں کیا گیا۔تمام اراکین پارلیمنٹ واسمبلیوں کا حلف قرآن سنہ سے متصادم ہے اورالیکشن نامزدگی فارم میں دیاگیا حلف بھی قرآن وسنہ سے متصادم ہے جس سے تمام اراکین توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں۔