کراچی میں امن و امان کیس آئی جی سندھ ڈرتے ہیں تو عہدہ چھوڑدیں سپریم کورٹ
پولیس کوبھی اسکواڈچاہیے توہرشہری کودیاجائے،پوراشہر نوگو ایریا بنا دیا گیا، ایجنسیاں
بلاول ہائوس کیلیے دیواریں کھڑی کردیں،خطرہ ہے توسڑک خریدلیں،کراچی بدامنی کیس میں ججز کے ریمارکس ،چیف سیکریٹری اور ڈی جی رینجرز کی عدم حاضری پر برہمی۔ فوٹو: راشد اجمیری/فائل
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں امن وامان کی صورت حال کے سلسلے میں عدالتی حکم پرعملدرآمد کے سلسلے میں سندھ حکومت اورقانون نافذ کرنیوالے اداروںکی اب تک کی کارکردگی کومایوس کن قرار دیتے ہوئے مکمل عدم اطمینان کااظہارکیاہے۔
بینچ نے آبزرویشن دی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو 13ماہ گزرچکے لیکن آج بھی حکومت سندھ کی جانب سے شہرمیں قیام امن کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیںکیاگیابلکہ بتایاجارہاہے کہ اقدامات پائپ لائن میں ہیں،سیکیورٹی کے نام پرغریب آدمی کیلیے پورے شہرکونوگوایریابنادیاگیاہے۔امن وامان سے متعلق کارروائی کے موقع پرچیف سیکریٹری سندھ اورڈائریکٹر جنرل رینجرزموجودنہیں کیایہ قانون سے بالاترہیں،کوسٹ گارڈ،رینجرزہیڈآفس اوربلاول ہائوس کے سامنے دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں۔
ایوان صدرکوخطرہ ہے تو سڑک خرید لیں ، اشرافیہ کے لیے خصوصی ماحول پیداکرکے عام شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجا رہاہے،غریب آدمی شام کے بعدگھرسے نہیں نکل سکتا،پولیس کواسکواڈکی ضرورت نہیں،اگرپولیس کو بھی اسکواڈچاہیے توہرشہری کواسکواڈ دیاجائے،اگرآئی جی سندھ کوڈرلگتاہے توعہدہ چھوڑدیں،حکومت اپنے مفادکا قانون گھنٹوں میں بنالیتی ہے مگر مفاد عامہ کیلیے قانون سازی میں تاخیرکی جاتی ہے،عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کی عدم حاضری پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری،ڈی جی رینجرز،ڈی جی نادرااورسینئر ممبربورڈآف ریوینیوکو(آج)بدھ کو طلب کرلیا ہے۔
عدالت نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور انسداددہشت گردی کے مقدمات سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے ممبرانسپکشن ٹیم II سے رپورٹ طلب کرلی ہے، جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس سرمد جلال عثمانی،جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس گلزارپر مشتمل5رکنی بینچ نے کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کے فیصلے پرعملدرآمدکاجائزہ لینے کیلیے کیس کی سماعت کی۔اس موقع پرایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک،ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ)وسیم احمد،آئی جی سندھ فیاض لغاری،ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود،ایڈیشنل آئی جی(لیگل)علی شیرجکھرانی اورکراچی کے تمام تھانوںکے ایس ایچ اوزپیش ہوئے۔ عدالت نے 13ماہ گزرجانے کے باوجودعدالتی فیصلے پرعمل درآمدنہ ہونے پرشدیدبرہمی کااظہار کیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کی ہدایت پرازخود نوٹس کیس کے فیصلے کاایک حصہ پڑھ کرسنایاجس میں عدالت نے ہدایت کی تھی کہ شہرمیں لسانی تقسیم کوختم کرنے کیلیے الیکشن کمیشن کی مددسے اقدامات کیے جائیں اورنئی حلقہ بندیاں کی جائیں،جسٹس انورظہیرجمالی کے استفسارپرایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ کراچی ایک بڑا شہر ہے یہاں ملک بھرسے لوگ آتے ہیں جن میں جرائم پیشہ افرادبھی چھپ جاتے ہیں،فاضل بینچ نے ان کے موقف پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ اگر کراچی فلڈگیٹ بناہواہے تویہاں مجرموںکے داخلے کوروکنے کی ذمے داری کس کی ہے،عبدالفتاح ملک نے کہاکہ شہرمیں امن قائم رکھنے کے لیے خود پولیس والے مررہے ہیں۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ ہم آپ کامؤقف تسلیم کرلیںگے آب صرف ایک بات کاجواب دیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدامن وامان کے حوالے سے صورتحال بہتر ہوئی ہے یاخرابی کی جانب جارہی ہے اگرصورتحال بہتری کی جانب جارہی ہوتوہمیں آپ کامؤقف تسلیم کرنے میں کوئی عارنہیں،جسٹس خلجی عارف حسین نے پوچھاکہ شہرمیں کتنی ایجنسیاں امن وامان کی صورتحال کی ذمے دارہیں اوریہ محفلیں سجانے کے علاوہ کیاکرتی ہیں،جسٹس انورظہیرجمالی نے ریمارکس میں کہاکہ صرف خانہ پری چلی آرہی ہے اگرعملی اقدامات ہوتے توآج سماعت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ،شہر میں قتل عام بڑھ گیاہے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ دستور کی دفعہ9 کے تحت عوام کے جان ومال کاتحفظ ریاست کی ذمے دارہے، اسکول جانے والے بچوں اوردفاترجانے والے لوگوںکا گھر سے نکلنادوبھر ہو گیاہے،اشرافیہ کے بچوںکوتحفظ حاصل ہوگا، آئی جی سندھ اتنا بڑااسکواڈ لے کر گھومتے ہیں۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس والے شہنشاہ کی طرح گھومتے ہیںاور عام شہری کو کم تر درجے کاشہری سمجھ کر سائڈ مارکرنکل جاتے ہیں،جسٹس سرمدجلال عثمانی نے کہا کہ گزشتہ روز ایک پولیس اسکواڈکی گاڑی ان کی گاڑی سے بھی ٹکرانے لگی تھی،ڈرائیور نے بروقت گاڑی کارخ موڑ دیا ورنہ حادثہ ہوسکتا تھا،پولیس کی گاڑیاں سگنلزپربھی نہیں رکتیں،ججز ہر سگنل رکتے ہیں مگر پولیس افسران خود قانون پر عمل نہیں کرتے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ یہ محبت کرنیوالوں کی دھرتی ہے،سندھ دھرتی کو بدنام نہ کیاجائے، پولیس افسران اپنارویہ درست کریں۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بلاول ہائوس کے اطراف میں بلند دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں،روڈ کے وسط میں دیوار کھڑی کرنے کا کیا جواز ہے ، ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وہ صدارتی کیمپ ہائوس ہے اور صدر کی سیکیورٹی کی وجہ سے یہ اقدامات کیے گئے ہیں،جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ اگر صدر کو اتنی سیکیورٹی چاہیے تو سڑک خریدلیں،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ پولیس الیکشن کمیشن سے مل کرجلداپنا کام مکمل کرلے گی، جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہاکہ ہمیں کاغذی کارروائی نہیں چاہیے ،یہ بتایاجائے کہ عمل اقدامات کیاکیے گئے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق شہر میں نوگوایریاز ختم کردیے گئے ہیں،جسٹس انور ظہیر جمالی نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سہراب گوٹھ اور بخاری کالونی جیسے علاقوں میں جاکر دکھائیں ، پہلے کچھ علاقوں میں نوگوایرازتھے اب پورا شہرنو گوایریا ہے، بعض علاقوں میں مخصوص گروپس کاقبضہ ہے وہاں مخالف گروپ کافرد چلا جائے تواس کی بوری بندلاش واپس آتی ہے،یوم عشق رسولؐ پرشہر کے وسط میں بینک اورسنیما جلادیے گئے،اس سے پہلے گھنٹوں لوٹ مارہوتی رہی قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے ؟۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ اسلحے کی نمائش اور غیر قانونی اسلحے کے حوالے سے قانون موجودہے،ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ)وسیم احمدنے بتایا کہ 10لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں ،غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کی سزاسات سال سے بڑھا کر دس سال کرنے کی سفارش کی ہے،بڑی تعداد میں ملزمان گرفتار ہوئے مگرانھوں نے عدالتوں سے ضمانت حاصل کرلی ہے،جسٹس امیرہانی مسلم نے کہاکہ اگر قابل ضمانت الزام ہوگاتوعدالت ضمانت منظورکرے گی،اس حوالے سے قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی ،جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ مفاد عامہ کے لیے قانون سازی نہیں ہوتی مگر پانے مفاد کیلیے گھنٹوں میں قانون بنالیاجاتا ہے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ حاکم وقت نے تو عدالت پر الزام لگادیا مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ قانون میں گنجائش ہے تو عدالت ضمانت دینے سے کیسے انکار کرسکتی ہے وسیم احمد نے بتایا کہ ان کے محکمے نے غیرقانونی اسلحہ رلھنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کی بھی سفارش کی ہے،لائسنس یافتہ اسلحے کو رجسٹرڈ کرنے کیلیے نادرا سے معاہدہ کرلیا گیا ہے ،کمپیوٹرائزڈ سسٹم نافذ کیا جارہا ہے،اس حوالے سے ہر ضلع میں کیمپ لگایا جائے گا تاکہ انہیں رجسٹرڈ کیاجاسکے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ایس ایچ او کو معلوم ہوناچاہیے کہ اس کے علاقے میں کہاں جرم ہوا ہے ، وسیم احمد نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پولیس اہلکاربھی قتل کئے گئے ہیں۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا اس میں فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہونیوالوںکی تعددکم اور ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل ہونے والے بھی شامل ہیں،جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے آبزرو کیا کہ پولیس میں 80فیصدغیر پیشہ ورافراد بھرتی کرلیے گئے ہیں جنہیں ایس پی کی وردیاں پہنا دی گئیں ہیں،پولیس میں سروس بُک تک نہیں ہوتی ،بتایا جائے کہ سروس بک ہے یانہیں،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ 412 پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ بدقسمتی سے ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوگا،ورنہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس میں کہاکہ صرف گلستان جوہر اور سچل کے سروے ہی کرلیے جائیں تو 80فیصد مسائل حل ہوجائیں گے، پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں انسداددہشت گردی کی 11خصوصی عدالتیں کام کررہی ہیں اور اس حوالے سے رپورٹ ایم آئی ٹی۔IIکو بھیج دی گئی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کیلیے دو لاکھ روپے اور پولیس اہلکاروں کیلئے 20لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا ہے ۔جس پر جسٹس انور ظہیرجمالی نے آبزرو کیا کہ اس حوالے یکساں پالیسی ہونی چاہیے۔
وسیم احمد نے بتایا کہ جسٹس (ر)زاہد قربان علوی کی سربراہی میں قائم ٹربیونل کی سفارش پر 476افراد کے لواحقین کیلیے معاوضہ ادا کیا جانا ہے جن میں سے 328افراد کو معاوضہ ادا کردیا گیاہے۔رینجرز کے لاافسر میجراشفاق نے رینجرز کی جانب سے رپورٹ پیش کی ،جس میں بتایاگیاکہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے ہر علاقے میں کاررروائی کرتے ہیں اسلیے کوئی نوگو ایریا نہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسارکیاکہ چیف سیکریٹری کہاں ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وہ اسلام آبادگئے ہوئے ہیں۔عدالت نے ہدایت کی انھیں کل پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہاں پانچ رکنی بینچ ہے مگر وہ اسلام آباد کیوں چلے گئے؟عدالت نے سماعت (آج)کیلیے ملتوی کردی۔
بینچ نے آبزرویشن دی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو 13ماہ گزرچکے لیکن آج بھی حکومت سندھ کی جانب سے شہرمیں قیام امن کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیںکیاگیابلکہ بتایاجارہاہے کہ اقدامات پائپ لائن میں ہیں،سیکیورٹی کے نام پرغریب آدمی کیلیے پورے شہرکونوگوایریابنادیاگیاہے۔امن وامان سے متعلق کارروائی کے موقع پرچیف سیکریٹری سندھ اورڈائریکٹر جنرل رینجرزموجودنہیں کیایہ قانون سے بالاترہیں،کوسٹ گارڈ،رینجرزہیڈآفس اوربلاول ہائوس کے سامنے دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں۔
ایوان صدرکوخطرہ ہے تو سڑک خرید لیں ، اشرافیہ کے لیے خصوصی ماحول پیداکرکے عام شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجا رہاہے،غریب آدمی شام کے بعدگھرسے نہیں نکل سکتا،پولیس کواسکواڈکی ضرورت نہیں،اگرپولیس کو بھی اسکواڈچاہیے توہرشہری کواسکواڈ دیاجائے،اگرآئی جی سندھ کوڈرلگتاہے توعہدہ چھوڑدیں،حکومت اپنے مفادکا قانون گھنٹوں میں بنالیتی ہے مگر مفاد عامہ کیلیے قانون سازی میں تاخیرکی جاتی ہے،عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کی عدم حاضری پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری،ڈی جی رینجرز،ڈی جی نادرااورسینئر ممبربورڈآف ریوینیوکو(آج)بدھ کو طلب کرلیا ہے۔
عدالت نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور انسداددہشت گردی کے مقدمات سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے ممبرانسپکشن ٹیم II سے رپورٹ طلب کرلی ہے، جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس سرمد جلال عثمانی،جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس گلزارپر مشتمل5رکنی بینچ نے کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کے فیصلے پرعملدرآمدکاجائزہ لینے کیلیے کیس کی سماعت کی۔اس موقع پرایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک،ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ)وسیم احمد،آئی جی سندھ فیاض لغاری،ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود،ایڈیشنل آئی جی(لیگل)علی شیرجکھرانی اورکراچی کے تمام تھانوںکے ایس ایچ اوزپیش ہوئے۔ عدالت نے 13ماہ گزرجانے کے باوجودعدالتی فیصلے پرعمل درآمدنہ ہونے پرشدیدبرہمی کااظہار کیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کی ہدایت پرازخود نوٹس کیس کے فیصلے کاایک حصہ پڑھ کرسنایاجس میں عدالت نے ہدایت کی تھی کہ شہرمیں لسانی تقسیم کوختم کرنے کیلیے الیکشن کمیشن کی مددسے اقدامات کیے جائیں اورنئی حلقہ بندیاں کی جائیں،جسٹس انورظہیرجمالی کے استفسارپرایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ کراچی ایک بڑا شہر ہے یہاں ملک بھرسے لوگ آتے ہیں جن میں جرائم پیشہ افرادبھی چھپ جاتے ہیں،فاضل بینچ نے ان کے موقف پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ اگر کراچی فلڈگیٹ بناہواہے تویہاں مجرموںکے داخلے کوروکنے کی ذمے داری کس کی ہے،عبدالفتاح ملک نے کہاکہ شہرمیں امن قائم رکھنے کے لیے خود پولیس والے مررہے ہیں۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ ہم آپ کامؤقف تسلیم کرلیںگے آب صرف ایک بات کاجواب دیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدامن وامان کے حوالے سے صورتحال بہتر ہوئی ہے یاخرابی کی جانب جارہی ہے اگرصورتحال بہتری کی جانب جارہی ہوتوہمیں آپ کامؤقف تسلیم کرنے میں کوئی عارنہیں،جسٹس خلجی عارف حسین نے پوچھاکہ شہرمیں کتنی ایجنسیاں امن وامان کی صورتحال کی ذمے دارہیں اوریہ محفلیں سجانے کے علاوہ کیاکرتی ہیں،جسٹس انورظہیرجمالی نے ریمارکس میں کہاکہ صرف خانہ پری چلی آرہی ہے اگرعملی اقدامات ہوتے توآج سماعت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ،شہر میں قتل عام بڑھ گیاہے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ دستور کی دفعہ9 کے تحت عوام کے جان ومال کاتحفظ ریاست کی ذمے دارہے، اسکول جانے والے بچوں اوردفاترجانے والے لوگوںکا گھر سے نکلنادوبھر ہو گیاہے،اشرافیہ کے بچوںکوتحفظ حاصل ہوگا، آئی جی سندھ اتنا بڑااسکواڈ لے کر گھومتے ہیں۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس والے شہنشاہ کی طرح گھومتے ہیںاور عام شہری کو کم تر درجے کاشہری سمجھ کر سائڈ مارکرنکل جاتے ہیں،جسٹس سرمدجلال عثمانی نے کہا کہ گزشتہ روز ایک پولیس اسکواڈکی گاڑی ان کی گاڑی سے بھی ٹکرانے لگی تھی،ڈرائیور نے بروقت گاڑی کارخ موڑ دیا ورنہ حادثہ ہوسکتا تھا،پولیس کی گاڑیاں سگنلزپربھی نہیں رکتیں،ججز ہر سگنل رکتے ہیں مگر پولیس افسران خود قانون پر عمل نہیں کرتے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ یہ محبت کرنیوالوں کی دھرتی ہے،سندھ دھرتی کو بدنام نہ کیاجائے، پولیس افسران اپنارویہ درست کریں۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بلاول ہائوس کے اطراف میں بلند دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں،روڈ کے وسط میں دیوار کھڑی کرنے کا کیا جواز ہے ، ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وہ صدارتی کیمپ ہائوس ہے اور صدر کی سیکیورٹی کی وجہ سے یہ اقدامات کیے گئے ہیں،جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ اگر صدر کو اتنی سیکیورٹی چاہیے تو سڑک خریدلیں،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ پولیس الیکشن کمیشن سے مل کرجلداپنا کام مکمل کرلے گی، جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہاکہ ہمیں کاغذی کارروائی نہیں چاہیے ،یہ بتایاجائے کہ عمل اقدامات کیاکیے گئے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق شہر میں نوگوایریاز ختم کردیے گئے ہیں،جسٹس انور ظہیر جمالی نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سہراب گوٹھ اور بخاری کالونی جیسے علاقوں میں جاکر دکھائیں ، پہلے کچھ علاقوں میں نوگوایرازتھے اب پورا شہرنو گوایریا ہے، بعض علاقوں میں مخصوص گروپس کاقبضہ ہے وہاں مخالف گروپ کافرد چلا جائے تواس کی بوری بندلاش واپس آتی ہے،یوم عشق رسولؐ پرشہر کے وسط میں بینک اورسنیما جلادیے گئے،اس سے پہلے گھنٹوں لوٹ مارہوتی رہی قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے ؟۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ اسلحے کی نمائش اور غیر قانونی اسلحے کے حوالے سے قانون موجودہے،ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ)وسیم احمدنے بتایا کہ 10لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں ،غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کی سزاسات سال سے بڑھا کر دس سال کرنے کی سفارش کی ہے،بڑی تعداد میں ملزمان گرفتار ہوئے مگرانھوں نے عدالتوں سے ضمانت حاصل کرلی ہے،جسٹس امیرہانی مسلم نے کہاکہ اگر قابل ضمانت الزام ہوگاتوعدالت ضمانت منظورکرے گی،اس حوالے سے قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی ،جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ مفاد عامہ کے لیے قانون سازی نہیں ہوتی مگر پانے مفاد کیلیے گھنٹوں میں قانون بنالیاجاتا ہے۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ حاکم وقت نے تو عدالت پر الزام لگادیا مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ قانون میں گنجائش ہے تو عدالت ضمانت دینے سے کیسے انکار کرسکتی ہے وسیم احمد نے بتایا کہ ان کے محکمے نے غیرقانونی اسلحہ رلھنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کی بھی سفارش کی ہے،لائسنس یافتہ اسلحے کو رجسٹرڈ کرنے کیلیے نادرا سے معاہدہ کرلیا گیا ہے ،کمپیوٹرائزڈ سسٹم نافذ کیا جارہا ہے،اس حوالے سے ہر ضلع میں کیمپ لگایا جائے گا تاکہ انہیں رجسٹرڈ کیاجاسکے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ایس ایچ او کو معلوم ہوناچاہیے کہ اس کے علاقے میں کہاں جرم ہوا ہے ، وسیم احمد نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پولیس اہلکاربھی قتل کئے گئے ہیں۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا اس میں فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہونیوالوںکی تعددکم اور ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل ہونے والے بھی شامل ہیں،جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے آبزرو کیا کہ پولیس میں 80فیصدغیر پیشہ ورافراد بھرتی کرلیے گئے ہیں جنہیں ایس پی کی وردیاں پہنا دی گئیں ہیں،پولیس میں سروس بُک تک نہیں ہوتی ،بتایا جائے کہ سروس بک ہے یانہیں،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ 412 پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ بدقسمتی سے ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوگا،ورنہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس میں کہاکہ صرف گلستان جوہر اور سچل کے سروے ہی کرلیے جائیں تو 80فیصد مسائل حل ہوجائیں گے، پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں انسداددہشت گردی کی 11خصوصی عدالتیں کام کررہی ہیں اور اس حوالے سے رپورٹ ایم آئی ٹی۔IIکو بھیج دی گئی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کیلیے دو لاکھ روپے اور پولیس اہلکاروں کیلئے 20لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا ہے ۔جس پر جسٹس انور ظہیرجمالی نے آبزرو کیا کہ اس حوالے یکساں پالیسی ہونی چاہیے۔
وسیم احمد نے بتایا کہ جسٹس (ر)زاہد قربان علوی کی سربراہی میں قائم ٹربیونل کی سفارش پر 476افراد کے لواحقین کیلیے معاوضہ ادا کیا جانا ہے جن میں سے 328افراد کو معاوضہ ادا کردیا گیاہے۔رینجرز کے لاافسر میجراشفاق نے رینجرز کی جانب سے رپورٹ پیش کی ،جس میں بتایاگیاکہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے ہر علاقے میں کاررروائی کرتے ہیں اسلیے کوئی نوگو ایریا نہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسارکیاکہ چیف سیکریٹری کہاں ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وہ اسلام آبادگئے ہوئے ہیں۔عدالت نے ہدایت کی انھیں کل پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہاں پانچ رکنی بینچ ہے مگر وہ اسلام آباد کیوں چلے گئے؟عدالت نے سماعت (آج)کیلیے ملتوی کردی۔