غیر پیشہ ورافراد پولیس کی کارکردگی خراب کرتے ہیں بینچ
کسی ادارے میںگورنرکاآدمی ہواورکہیں وزیرکاتوجوابدہی کاعمل کیسے ہو؟استفسار
کسی ادارے میںگورنرکاآدمی ہواورکہیں وزیرکاتوجوابدہی کاعمل کیسے ہو؟استفسار فوٹو: فائل
کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایات پرعملدرآمد کے سلسلے میں ہونے والی سماعت کے موقع پرمتعددسیاسی معاملات بھی زیربحث آئے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے بعض معاملات پرقانون سازی میں التواکی ایک وجہ یہ بیان کی گئی کہ کراچی اورسندھ میں ملک کے دیگرحصوں سے علیحدہ قانون بنانے پربعض سیاسی دوستوں کوتحفظات ہیں،اس جوازکے جواب میں بینچ کے سربراہ جسٹس انورظہیر جمالی نے کہاکہ سب کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں،جس علاقے میں جیسی ضرورت ہووہاں ویسے ہی قانون بنائے جائیں اورشہریوں کو امن فراہم کیاجائے،میرٹ کاخیال رکھاجائے،ایسانہ ہوکہ محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کوپولیس میں لاکرانسپکٹر بنادیاجائے اوروہ بعدمیں ڈی ایس پی،ایس پی اورپھرڈی آئی جی بن جائے۔
ایسے غیر پیشہ ور افراد پولیس کی کارکردگی خراب کرتے ہیں،کسی ادارے میں گورنر کاآدمی ہے اورکہیں کوئی وزیرکسی کی پشت پناہی کررہاہوتووہاں جوابدہی کاعمل کیسے ہو،پرچیوں والے ملازمتیں حاصل کرلیتے ہیں اورمیرٹ پرمقابلہ کرنے والے خوارپھرتے ہیں ،اے آئی جی کراچی اقبال محمودنے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے تمام تھانے امن وامان کے مسئلے سے دوچارنہیں بلکہ103میں سے صرف45 پولیس اسٹیشن متاثرہیں،ان میں سے بھی اگرکوئی ایس ایچ اومثبت پرفارمنس ظاہرنہیںکرتاتواس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اورتنزلی کردی جاتی ہے۔
تاہم بینچ کے استفسارپرجب انھوں نے ایس ایچ اوزکیخلاف کارروائی کامعیار بیان کیاتوجسٹس امیرہانی مسلم نے کہاکہ اس طرح تو کراچی کے 80فیصد ایس ایچ اوز کو گھروں میں ہوناچاہیے۔ جسٹس گلزار احمدنے کہاکہ پولیس کے پاس شہرکی سیکیورٹی کاکوئی پلان ہی نہیں۔جسٹس انورظہیر جمالی نے کہاکہ یہاں ہمیں اور آپ کسی کو ہمیشہ نہیں رہناتاہم وہی قومیں باقی رہتی ہیں جو اداروں کو مستحکم کرتی ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے بعض معاملات پرقانون سازی میں التواکی ایک وجہ یہ بیان کی گئی کہ کراچی اورسندھ میں ملک کے دیگرحصوں سے علیحدہ قانون بنانے پربعض سیاسی دوستوں کوتحفظات ہیں،اس جوازکے جواب میں بینچ کے سربراہ جسٹس انورظہیر جمالی نے کہاکہ سب کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں،جس علاقے میں جیسی ضرورت ہووہاں ویسے ہی قانون بنائے جائیں اورشہریوں کو امن فراہم کیاجائے،میرٹ کاخیال رکھاجائے،ایسانہ ہوکہ محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کوپولیس میں لاکرانسپکٹر بنادیاجائے اوروہ بعدمیں ڈی ایس پی،ایس پی اورپھرڈی آئی جی بن جائے۔
ایسے غیر پیشہ ور افراد پولیس کی کارکردگی خراب کرتے ہیں،کسی ادارے میں گورنر کاآدمی ہے اورکہیں کوئی وزیرکسی کی پشت پناہی کررہاہوتووہاں جوابدہی کاعمل کیسے ہو،پرچیوں والے ملازمتیں حاصل کرلیتے ہیں اورمیرٹ پرمقابلہ کرنے والے خوارپھرتے ہیں ،اے آئی جی کراچی اقبال محمودنے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے تمام تھانے امن وامان کے مسئلے سے دوچارنہیں بلکہ103میں سے صرف45 پولیس اسٹیشن متاثرہیں،ان میں سے بھی اگرکوئی ایس ایچ اومثبت پرفارمنس ظاہرنہیںکرتاتواس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اورتنزلی کردی جاتی ہے۔
تاہم بینچ کے استفسارپرجب انھوں نے ایس ایچ اوزکیخلاف کارروائی کامعیار بیان کیاتوجسٹس امیرہانی مسلم نے کہاکہ اس طرح تو کراچی کے 80فیصد ایس ایچ اوز کو گھروں میں ہوناچاہیے۔ جسٹس گلزار احمدنے کہاکہ پولیس کے پاس شہرکی سیکیورٹی کاکوئی پلان ہی نہیں۔جسٹس انورظہیر جمالی نے کہاکہ یہاں ہمیں اور آپ کسی کو ہمیشہ نہیں رہناتاہم وہی قومیں باقی رہتی ہیں جو اداروں کو مستحکم کرتی ہیں۔