مودی فاشزم کو روکنے کی ضرورت ہے
مودی حکومت بھی دعویٰ یہی کررہی ہے کہ وہ بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
KARACHI:
بھارت میں مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد مذہبی انتہا پسندی کی جو لہر اٹھی تھی وہ اب بھارتی سرحدوں سے نکل کر پڑوسی ملکوں تک پہنچ رہی ہے۔ نیپال میں ایک سیکولر حکومت قائم ہے اور نیپالی حکومت نے ملک کے لیے جو آئین تیار کیا ہے وہ بھی سیکولر ہے، بھارتی آئین بھی سیکولر ہے اور بھارتی دانشوروں کا خیال ہے کہ بھارت کو متحد رکھنے میں سیکولرزم بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
مودی حکومت بھی دعویٰ یہی کررہی ہے کہ وہ بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت کی ڈائریکٹر آر ایس ایس بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانے کے درپے ہے اور اس حوالے سے ایسے بنیادی اقدامات کررہی ہے جو بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے میں معاونت ثابت ہوں گے مثلاً بھارت کے شعبہ تعلیم میں نصاب کو تبدیل کرکے ہندو میتالوجی کو متعارف کرایا جارہاہے، بھارتی شعبہ نشر و اشاعت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسی طرح انصاف اور قانون کے شعبوں میں آر ایس ایس کے جنونی لوگوں کو اختیارات دیے جارہے ہیں ان اقدامات سے بھارت مستقبل قریب میں ایک کٹر ہندو ریاست بننے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
نیپال ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے لیکن بھارتی حکومتوں نے نیپال سمیت اپنے چھوٹے اور کمزور پڑوسی ملکوں کو اپنے تابع رکھنے کی کوشش کی ہے نیپال کو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے جس قسم کا چاہے آئین بنائے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی سرحدوں سے منسلک انتہا پسند ہندو نیپال کے سیکولر آئین کی منسوخی اور ایک ہندو آئین کی تشکیل کا ناقابل عمل مطالبہ کررہے ہیں اور نیپالی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ سڑکیں بند کردی ہیں جن کے ذریعے دونوں ملکوں میں تجارت ہوتی ہے اور نیپالی معیشت کا زیادہ انحصار تجارت پر ہی ہے دو ماہ سے جاری اس غنڈہ گردی کے خلاف جب نیپال پولیس نے ایکشن شروع کیا تو انتہا پسند ہندو تشدد پر اتر آئے جس کے جواب میں نیپالی پولیس نے گولی چلائی اور اس سے ایک بھارتی باشندہ ہلاک ہوگیا۔ بھارت نے ایک شرپسندانہ حکمت عملی کے تحت نیپال میں رہنے والے ہندوؤں کو استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
نیپال اور ہندوستان کی سرحد پر مارے جانے والے ایک ہندو شہری کو اتنا بڑا مسئلہ بنادیاگیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نیپالی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر دھمکی آمیز گفتگو کی جس کا جواب نیپالی وزیراعظم نے اینٹ کا جواب پتھر کی طرح دیا، مودی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، بھارت میں مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج شدت پکڑتا جارہاہے۔46 ادیبوں کی طرف سے ایوارڈ واپس کرنے کے بعد زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اکابرین فنکار بڑی تعداد میں ایوارڈ واپس کررہے ہیں یہ احتجاجی سلسلہ اب فلم انڈسٹری تک پہنچ گیا ہے اور امکان یہ ہے کہ بھارتی عوام کی سیکولر اکثریت مودی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شامل ہوجائے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ انتخابات میں بھارتی عوام نے بی جے پی کو برسر اقتدار لاکر ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے لیکن اس کی وجہ بی جے پی کی انتہا پسندی کی حمایت نہیں تھی بلکہ بھارتی عوام لبرل جمہوری حکومتوں کی کارکردگی سے مایوس ہوکر بی جے پی کو آزمانا چاہتے تھے، عوام کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی حکومت نے اپنے ہندو قوم کے منشور پر عمل در آمد شروع کردیا جس پر بھارت کا دانشورانہ طبقہ اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اکابرین سخت احتجاج کررہے ہیں۔
بھارتی بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل رام داس نے اس حوالے سے حکومت کو ایک سخت احتجاجی خط لکھا ہے، رام داس کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ وہ بھارت جیسے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کی بحریہ کے سربراہ رہ چکے ہیں انھوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کی اقلیت دشمن اور انتہا پسندانہ پالیسی جاری رہی تو ملک کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ رام داس نیوی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے دن رات کام کررہے ہیں، اس حوالے سے وہ اکثر پاکستان آتے رہتے ہیں یہ انکشاف بڑا دلچسپ اور سبق آموز ہے کہ رام داس کی ایک بیٹی کی شادی ہمارے ایک پاکستانی دوست ڈاکٹر افتخار کے بھائی سے ہوئی ہے، رام داس اس رشتے کو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔
نیپال میں بھارت نواز سیاسی پارٹیاں ماضی میں نیپالی حکومتوں کے خلاف تحریکیں چلاتی رہیں جس کا مقصد نیپالی حکومتوں کو اپنے تابع رکھنا رہا ہے لیکن اس بار نیپالی دستور کے حوالے سے جو مہم چلای جارہی ہے وہ اس قدر شرمناک اور خود مختار ملکوں کی خود مختاری کے لیے اتنا سنگین خطرہ ہے کہ دنیا خصوصاً جمہوریت پسند سیکولر طاقتوں کو بھارتی مذہبی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانا چاہیے۔
بھارت کا صرف چھوٹے پڑوسی ملکوں کے خلاف ہی جارحانہ رویہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی 68 سالوں سے اس کا رویہ جارحانہ ہے، دلچسپ بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بھارت پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے سخت خلاف ہے اور بار بار مطالبہ کررہاہے کہ وہ دہشت گردوں کو قابو کرے، دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی کا ایک خطرناک پروڈکٹ ہے آج پاکستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں پر اعتراف کرنے والی بھارتی قیادت کو یہ احساس نہیں ہے کہ دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی کے پیٹ ہی سے جنم لیتی ہے اور آج بھارت اپنے ملک کے اندر اور ملک کے باہر جس مذہبی فاشزم کا مظاہرہ کررہاہے یہ ہٹلری فاشزم ہی کی ایک برانڈ ہے۔
نیپال ایک چھوٹا سا پسماندہ مملک ہے جس کی معیشت کا دار و مدار تجارت پر ہے چوں کہ نیپال زمینی اور سمندری راستوں سے محروم ہے اور اس حوالے سے بھارت کا محتاج ہے اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کا حکمران طبقہ نیپال پر بالادستی کا مظاہرہ کرتا آرہاہے لیکن اب دنیا کے ممالک ایک دوسرے سے اس قدر لا تعلق بھی نہیں ہیں کہ کسی طاقت ور ملک کو کمزور ملک کے خلاف مذہبی جارحیت کا ارتکاب کرتے دیکھ کر لا تعلق رہیں۔
یہ مسئلہ جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزی کا نہیں کہ دنیا اسے برداشت کرلے یہ سنگین مسئلہ مذہبی فاشزم کا ہے جسے اگر نہ آج روکا گیا تو کل یہ فاشزم داعش، القاعدہ کا روپ دھارسکتا ہے یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ بھارت کے اہل دانش اور سیکولرزم کی حامی طاقتیں مودی حکومت کی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سینہ سپر ہورہی ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ مذہبی فاشسٹ مودی کو پڑوسی ملکوں پر ہندو ازم تھونپنے کی غیر انسانی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائیں۔
بھارت میں مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد مذہبی انتہا پسندی کی جو لہر اٹھی تھی وہ اب بھارتی سرحدوں سے نکل کر پڑوسی ملکوں تک پہنچ رہی ہے۔ نیپال میں ایک سیکولر حکومت قائم ہے اور نیپالی حکومت نے ملک کے لیے جو آئین تیار کیا ہے وہ بھی سیکولر ہے، بھارتی آئین بھی سیکولر ہے اور بھارتی دانشوروں کا خیال ہے کہ بھارت کو متحد رکھنے میں سیکولرزم بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
مودی حکومت بھی دعویٰ یہی کررہی ہے کہ وہ بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت کی ڈائریکٹر آر ایس ایس بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانے کے درپے ہے اور اس حوالے سے ایسے بنیادی اقدامات کررہی ہے جو بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے میں معاونت ثابت ہوں گے مثلاً بھارت کے شعبہ تعلیم میں نصاب کو تبدیل کرکے ہندو میتالوجی کو متعارف کرایا جارہاہے، بھارتی شعبہ نشر و اشاعت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسی طرح انصاف اور قانون کے شعبوں میں آر ایس ایس کے جنونی لوگوں کو اختیارات دیے جارہے ہیں ان اقدامات سے بھارت مستقبل قریب میں ایک کٹر ہندو ریاست بننے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
نیپال ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے لیکن بھارتی حکومتوں نے نیپال سمیت اپنے چھوٹے اور کمزور پڑوسی ملکوں کو اپنے تابع رکھنے کی کوشش کی ہے نیپال کو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے جس قسم کا چاہے آئین بنائے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی سرحدوں سے منسلک انتہا پسند ہندو نیپال کے سیکولر آئین کی منسوخی اور ایک ہندو آئین کی تشکیل کا ناقابل عمل مطالبہ کررہے ہیں اور نیپالی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ سڑکیں بند کردی ہیں جن کے ذریعے دونوں ملکوں میں تجارت ہوتی ہے اور نیپالی معیشت کا زیادہ انحصار تجارت پر ہی ہے دو ماہ سے جاری اس غنڈہ گردی کے خلاف جب نیپال پولیس نے ایکشن شروع کیا تو انتہا پسند ہندو تشدد پر اتر آئے جس کے جواب میں نیپالی پولیس نے گولی چلائی اور اس سے ایک بھارتی باشندہ ہلاک ہوگیا۔ بھارت نے ایک شرپسندانہ حکمت عملی کے تحت نیپال میں رہنے والے ہندوؤں کو استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
نیپال اور ہندوستان کی سرحد پر مارے جانے والے ایک ہندو شہری کو اتنا بڑا مسئلہ بنادیاگیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نیپالی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر دھمکی آمیز گفتگو کی جس کا جواب نیپالی وزیراعظم نے اینٹ کا جواب پتھر کی طرح دیا، مودی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، بھارت میں مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج شدت پکڑتا جارہاہے۔46 ادیبوں کی طرف سے ایوارڈ واپس کرنے کے بعد زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اکابرین فنکار بڑی تعداد میں ایوارڈ واپس کررہے ہیں یہ احتجاجی سلسلہ اب فلم انڈسٹری تک پہنچ گیا ہے اور امکان یہ ہے کہ بھارتی عوام کی سیکولر اکثریت مودی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شامل ہوجائے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ انتخابات میں بھارتی عوام نے بی جے پی کو برسر اقتدار لاکر ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے لیکن اس کی وجہ بی جے پی کی انتہا پسندی کی حمایت نہیں تھی بلکہ بھارتی عوام لبرل جمہوری حکومتوں کی کارکردگی سے مایوس ہوکر بی جے پی کو آزمانا چاہتے تھے، عوام کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی حکومت نے اپنے ہندو قوم کے منشور پر عمل در آمد شروع کردیا جس پر بھارت کا دانشورانہ طبقہ اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اکابرین سخت احتجاج کررہے ہیں۔
بھارتی بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل رام داس نے اس حوالے سے حکومت کو ایک سخت احتجاجی خط لکھا ہے، رام داس کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ وہ بھارت جیسے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کی بحریہ کے سربراہ رہ چکے ہیں انھوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کی اقلیت دشمن اور انتہا پسندانہ پالیسی جاری رہی تو ملک کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ رام داس نیوی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے دن رات کام کررہے ہیں، اس حوالے سے وہ اکثر پاکستان آتے رہتے ہیں یہ انکشاف بڑا دلچسپ اور سبق آموز ہے کہ رام داس کی ایک بیٹی کی شادی ہمارے ایک پاکستانی دوست ڈاکٹر افتخار کے بھائی سے ہوئی ہے، رام داس اس رشتے کو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔
نیپال میں بھارت نواز سیاسی پارٹیاں ماضی میں نیپالی حکومتوں کے خلاف تحریکیں چلاتی رہیں جس کا مقصد نیپالی حکومتوں کو اپنے تابع رکھنا رہا ہے لیکن اس بار نیپالی دستور کے حوالے سے جو مہم چلای جارہی ہے وہ اس قدر شرمناک اور خود مختار ملکوں کی خود مختاری کے لیے اتنا سنگین خطرہ ہے کہ دنیا خصوصاً جمہوریت پسند سیکولر طاقتوں کو بھارتی مذہبی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانا چاہیے۔
بھارت کا صرف چھوٹے پڑوسی ملکوں کے خلاف ہی جارحانہ رویہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی 68 سالوں سے اس کا رویہ جارحانہ ہے، دلچسپ بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بھارت پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے سخت خلاف ہے اور بار بار مطالبہ کررہاہے کہ وہ دہشت گردوں کو قابو کرے، دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی کا ایک خطرناک پروڈکٹ ہے آج پاکستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں پر اعتراف کرنے والی بھارتی قیادت کو یہ احساس نہیں ہے کہ دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی کے پیٹ ہی سے جنم لیتی ہے اور آج بھارت اپنے ملک کے اندر اور ملک کے باہر جس مذہبی فاشزم کا مظاہرہ کررہاہے یہ ہٹلری فاشزم ہی کی ایک برانڈ ہے۔
نیپال ایک چھوٹا سا پسماندہ مملک ہے جس کی معیشت کا دار و مدار تجارت پر ہے چوں کہ نیپال زمینی اور سمندری راستوں سے محروم ہے اور اس حوالے سے بھارت کا محتاج ہے اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کا حکمران طبقہ نیپال پر بالادستی کا مظاہرہ کرتا آرہاہے لیکن اب دنیا کے ممالک ایک دوسرے سے اس قدر لا تعلق بھی نہیں ہیں کہ کسی طاقت ور ملک کو کمزور ملک کے خلاف مذہبی جارحیت کا ارتکاب کرتے دیکھ کر لا تعلق رہیں۔
یہ مسئلہ جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزی کا نہیں کہ دنیا اسے برداشت کرلے یہ سنگین مسئلہ مذہبی فاشزم کا ہے جسے اگر نہ آج روکا گیا تو کل یہ فاشزم داعش، القاعدہ کا روپ دھارسکتا ہے یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ بھارت کے اہل دانش اور سیکولرزم کی حامی طاقتیں مودی حکومت کی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سینہ سپر ہورہی ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ مذہبی فاشسٹ مودی کو پڑوسی ملکوں پر ہندو ازم تھونپنے کی غیر انسانی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائیں۔