دودھ کی طلب و رسد کا فرق 36ارب لیٹرہوگیااسٹیٹ بینک
چوتھے بڑے پیداواری ملک میں سپلائی سالانہ5 اورطلب 15فیصدبڑھ رہی ہے
چوتھے بڑے پیداواری ملک میں سپلائی سالانہ5 اورطلب 15فیصدبڑھ رہی ہے فوٹو: فائل
پاکستان میں دودھ کی طلب و رسد کا فرق 3.6ارب لیٹر تک پہنچ چکا ہے، دودھ کی سپلائی میں سالانہ بنیادوں پر 5فیصد جبکہ طلب میں 15فیصد اضافہ ہورہا ہے، دودھ کو محفوظ کرنے کے لیے سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے 48ارب لیٹر کی سالانہ پیداوار میں سے 172ارب روپے مالیت کا 9.6ارب لیٹر دودھ ہر سال ضائع ہورہا ہے۔
پاکستان دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے بھارت، چین اور امریکا کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے تاہم دودھ کی طلب و رسد کا فرق پورا کرنے کے لیے خشک دودھ کی درآمد پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں ڈیری انڈسٹری کی ویلیو سپلائی چین کے تحقیقی جائزے میں پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے امکانات اور چیلنجز پر غور کرتے ہوئے جامع سفارشات پیش کی ہیں، ڈیری انڈسٹری کے جائزے کے لیے کراچی کی لانڈھی کیٹل کالونی کو بنیاد بنایا گیا ہے جو ایشیا میں سب سے بڑی کیٹل کالونی قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی کی کیٹل کالونی ساڑھے6 لاکھ سے 7لاکھ مویشیوں پر مشتمل ہے، 50 فیصد فارمز50 سے 100 مویشیوں پر مشتمل ہیں جبکہ 200 سے 500 بھینسوں کے حامل باڑوں کا تناسب 25 فیصد، 500 سے 1000 مویشیوں پر مشتمل فارمز کا تناسب 15 فیصد اور اس سے زیادہ تعداد کے مویشیوں کے فارمزکا تناسب 10 فیصد ہے، لانڈھی کیٹل کالونی میں دودھ کی یومیہ پیداوار 50سے 60لاکھ لیٹر ہے۔
پاکستان کی ڈیری انڈسٹری بشمول لانڈھی کیٹل کالونی میں بھینسوں اور گائے کے دودھ کی مکسنگ کا تناسب 10فیصد ہے، ڈیری فارمرز کو سرمائے کی طلب پوری کرنے کا واحد ذریعہ مڈل مین یا پے کار ہیں جنہوں نے ڈیری فارمز پر پیدا ہونیو الے دودھ کے ہر قطرے کی ایڈوانس ادائیگی کررکھی ہے۔
پیکاروں کی جانب سے ڈیری فارمرز کو 1من دودھ کے لیے 1لاکھ روپے کے حساب سے یومیہ پیداوار کی پیشگی ادائیگی کی جاتی ہے جو یومیہ پیداوار کی ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر ادائیگی کے ساتھ برقرار رکھی جاتی ہے، ڈیری فارمرز مویشیوں کی خریداری، ناگہانی صورتحال یا ضرورت پڑنے پر ادھار بھی ان ہی پیکاروں سے حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت سمیت دنیا بھر میں bovine somatotrophin (بی ایس ٹی) اور آکسی ٹاکسن پر پابندی کے باوجود مضرصحت ہارمونز پاکستان میں زیر استعمال ہیں، مضر اثرات بالخصوص کینسر کا سبب سمجھے جانے کے باعث بھارت میں ان کے استعمال پر 40سال قبل پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ایگری کلچر کریڈٹ اینڈ مائیکروفنانس ڈپارٹمنٹ نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ڈیری سیکٹر میں دودھ کو ٹھنڈا رکھنے والی مشینوں، دودھ کی ترسیل پر مامور ریفریجریٹڈ گاڑیوں دودھ ذخیرہ کرنے کیلیے بڑے اسٹوریج کے لیے فنانسنگ کی اشد ضرورت ہے، ڈیری سیکٹر میں 80فیصد فنانسنگ مڈل مین، پیکاروں کے ذریعے کی جاتی ہے، اس لیے ان پیکاروں کی وساطت سے ڈیری سیکٹر کی فنانسنگ کی طلب پوری کرنے کے لیے اختراعی پروڈکٹ تیار کی جائیں بالخصوص ڈیری سیکٹر کی فنانسنگ کے لیے بینکاری کی شرعی خدمات کو فروغ دیا جائے کیونکہ ڈیری سیکٹر سے وابستہ افراد کی اکثریت بلاسودی بینکاری کو ترجیح دیتی ہے۔
پاکستان دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے بھارت، چین اور امریکا کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے تاہم دودھ کی طلب و رسد کا فرق پورا کرنے کے لیے خشک دودھ کی درآمد پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں ڈیری انڈسٹری کی ویلیو سپلائی چین کے تحقیقی جائزے میں پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے امکانات اور چیلنجز پر غور کرتے ہوئے جامع سفارشات پیش کی ہیں، ڈیری انڈسٹری کے جائزے کے لیے کراچی کی لانڈھی کیٹل کالونی کو بنیاد بنایا گیا ہے جو ایشیا میں سب سے بڑی کیٹل کالونی قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی کی کیٹل کالونی ساڑھے6 لاکھ سے 7لاکھ مویشیوں پر مشتمل ہے، 50 فیصد فارمز50 سے 100 مویشیوں پر مشتمل ہیں جبکہ 200 سے 500 بھینسوں کے حامل باڑوں کا تناسب 25 فیصد، 500 سے 1000 مویشیوں پر مشتمل فارمز کا تناسب 15 فیصد اور اس سے زیادہ تعداد کے مویشیوں کے فارمزکا تناسب 10 فیصد ہے، لانڈھی کیٹل کالونی میں دودھ کی یومیہ پیداوار 50سے 60لاکھ لیٹر ہے۔
پاکستان کی ڈیری انڈسٹری بشمول لانڈھی کیٹل کالونی میں بھینسوں اور گائے کے دودھ کی مکسنگ کا تناسب 10فیصد ہے، ڈیری فارمرز کو سرمائے کی طلب پوری کرنے کا واحد ذریعہ مڈل مین یا پے کار ہیں جنہوں نے ڈیری فارمز پر پیدا ہونیو الے دودھ کے ہر قطرے کی ایڈوانس ادائیگی کررکھی ہے۔
پیکاروں کی جانب سے ڈیری فارمرز کو 1من دودھ کے لیے 1لاکھ روپے کے حساب سے یومیہ پیداوار کی پیشگی ادائیگی کی جاتی ہے جو یومیہ پیداوار کی ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر ادائیگی کے ساتھ برقرار رکھی جاتی ہے، ڈیری فارمرز مویشیوں کی خریداری، ناگہانی صورتحال یا ضرورت پڑنے پر ادھار بھی ان ہی پیکاروں سے حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت سمیت دنیا بھر میں bovine somatotrophin (بی ایس ٹی) اور آکسی ٹاکسن پر پابندی کے باوجود مضرصحت ہارمونز پاکستان میں زیر استعمال ہیں، مضر اثرات بالخصوص کینسر کا سبب سمجھے جانے کے باعث بھارت میں ان کے استعمال پر 40سال قبل پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ایگری کلچر کریڈٹ اینڈ مائیکروفنانس ڈپارٹمنٹ نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ڈیری سیکٹر میں دودھ کو ٹھنڈا رکھنے والی مشینوں، دودھ کی ترسیل پر مامور ریفریجریٹڈ گاڑیوں دودھ ذخیرہ کرنے کیلیے بڑے اسٹوریج کے لیے فنانسنگ کی اشد ضرورت ہے، ڈیری سیکٹر میں 80فیصد فنانسنگ مڈل مین، پیکاروں کے ذریعے کی جاتی ہے، اس لیے ان پیکاروں کی وساطت سے ڈیری سیکٹر کی فنانسنگ کی طلب پوری کرنے کے لیے اختراعی پروڈکٹ تیار کی جائیں بالخصوص ڈیری سیکٹر کی فنانسنگ کے لیے بینکاری کی شرعی خدمات کو فروغ دیا جائے کیونکہ ڈیری سیکٹر سے وابستہ افراد کی اکثریت بلاسودی بینکاری کو ترجیح دیتی ہے۔