عدالتی کمیشن بنانے کا لیگی مطالبہ غلط ہے وکیل اصغرخان
ایف آئی اے کوتفتیش کا اختیار حاصل ہے، سلمان اکرام راجا کا برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو
سیاستدان وقتی مفادات اورذاتی چپقلش میں سپریم کورٹ کے اہم پہلو کو نظرانداز کر رہے ہیں فوٹو: فائل
ممتاز قانون دان اوراصغر خان کیس میں ایئرمارشل (ر) اصغر خان کے وکیل سلمان اکرام راجہ نے کہا ہے کہ ن لیگ کا سیاستدانوں کے رقوم لینے کی تحقیقات کیلیے عدالتی کمیشن کا مطالبہ غلط ہے،ایف آئی اے کو اس معاملے کی تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔
سپریم کورٹ نے صاف کہاہے کہ ہرفوجی افسراپنے غیرآئینی اور غیرقانونی فعل کا خود جواب دہ ہو گا، سیاست دان وقتی مفادات اورذاتی چپقلش میں سپریم کورٹ کے اہم پہلو کونظر اندازکررہے ہیں جس کے سیاست پردیر پا اورمثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیںمستقبل میں کسی کی آئین کو پامال کرنے میں حوصلہ شکنی ضرور ہوگی۔منگل کو برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کوایک تاریخی اورانقلابی فیصلہ قراردیتے ہوئے ان اعتراضات کوردکردیا ہے کہ ایف آئی اے کواس معاملے کی تفتیش کااختیارحاصل نہیں ہے۔
سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ فوج کے ایک سابق سربراہ اور آئی ایس آئی کے خلاف فیصلہ دیا جانا پاکستان کی65 سالہ تاریخ کے پس منظر میں ایک تاریخی اور انقلابی فیصلہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف پر بھی الزام ہے کہ انھوں نے آئی ایس آئی سے رقوم وصول کیں۔اس سوال پرکہ سیاست دانوں کا کیا رد عمل ہونا چاہیے انھوں نے کہا کہ اگر تو مسلم لیگ ن نے ایف آئی اے کی تحقیقات اور تفتیش میں تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔اگر قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو سپریم کورٹ نے ان کی توقعات سے بڑھ کر فیصلہ سنایا ہے۔
سپریم کورٹ نے صاف کہاہے کہ ہرفوجی افسراپنے غیرآئینی اور غیرقانونی فعل کا خود جواب دہ ہو گا، سیاست دان وقتی مفادات اورذاتی چپقلش میں سپریم کورٹ کے اہم پہلو کونظر اندازکررہے ہیں جس کے سیاست پردیر پا اورمثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیںمستقبل میں کسی کی آئین کو پامال کرنے میں حوصلہ شکنی ضرور ہوگی۔منگل کو برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کوایک تاریخی اورانقلابی فیصلہ قراردیتے ہوئے ان اعتراضات کوردکردیا ہے کہ ایف آئی اے کواس معاملے کی تفتیش کااختیارحاصل نہیں ہے۔
سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ فوج کے ایک سابق سربراہ اور آئی ایس آئی کے خلاف فیصلہ دیا جانا پاکستان کی65 سالہ تاریخ کے پس منظر میں ایک تاریخی اور انقلابی فیصلہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف پر بھی الزام ہے کہ انھوں نے آئی ایس آئی سے رقوم وصول کیں۔اس سوال پرکہ سیاست دانوں کا کیا رد عمل ہونا چاہیے انھوں نے کہا کہ اگر تو مسلم لیگ ن نے ایف آئی اے کی تحقیقات اور تفتیش میں تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔اگر قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو سپریم کورٹ نے ان کی توقعات سے بڑھ کر فیصلہ سنایا ہے۔