فکسنگ الزامات دنیائے کرکٹ میں کرس کینز ’اچھوت‘ بن گئے

مارش نے دستخط کے حامل بیٹ پرآٹوگراف دینے سے انکارکردیا تھا، عدالت میں انکشاف

مارش نے دستخط کے حامل بیٹ پرآٹوگراف دینے سے انکارکردیا تھا، عدالت میں انکشاف۔ فوٹو: فائل

فکسنگ الزامات کی وجہ سے دنیائے کرکٹ میں کرس کینز کے 'اچھوت' بننے کا انکشاف ہوا ہے، لندن کی سائوتھ ورک کرائون کورٹ میں بتایا گیا کہ سابق آسٹریلوی وکٹ کیپرروڈنی مارش نے اس بیٹ پر آٹو گراف دینے سے صاف انکار کردیا جس پر کینز کے دستخط موجود تھے۔

تفصیلات کے مطابق کینز پر جھوٹے بیان حلفی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کے کیس کی سماعت جاری ہے، گذشتہ روز کٹہرے میں ان کے وکیل دوست فٹچ ہالینڈ آئے، ان پر بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کا الزام ہے، پراسیکیوشن کی جانب سے دعویٰ کیا گیاکہ فٹچ ہالینڈ نے سابق آئی پی ایل چیئرمین للت مودی کے خلاف ہرجانہ کیس میں سابق کیوی کرکٹر لوونسنٹ کو جھوٹی گواہی دینے کیلیے تیار کیا، اس سلسلے میں اسکائپ ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔


پراسیکیوٹر ساشا واس نے عدالت کو بتایا کہ 2009 میں آسٹریلیا کے سابق وکٹ کیپر روڈنی مارش نے ایک ایسے بیٹ پر آٹو گراف دینے سے انکار کردیا جس پر پہلے سے کینز کے دستخط موجود تھے، انھوں نے اس موقع پر کہا کہ انھیں آئی سی سی کی جانب سے کیوی کرکٹر کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

جب اس بارے میں فٹچ ہالینڈ سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہاکہ اس واقعے کے بعد میں نے کونسل سے پوچھا کہ کیا وہ کینز کے خلاف تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے مگرکوئی جواب نہیں آیا۔ ساشا نے سوال کیا کہ للت مودی نے آخر کیوں کینز پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا؟ اس پر فٹچ ہالینڈ نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ انھیں کسی نے غلط بتایا تھا مگر بعد میں وہ حقیقت جان گئے۔اس موقع پر ساشا اور فٹچ ہالینڈ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس پر جج کو مداخلت کرنا پڑی۔

پراسیکیوٹر نے استفسار کیا کہ انھوں نے کرکٹرز کے ایک گروپ کے سامنے یہ کیوں کہا کہ کینز قصور وار ہیں؟اس پر جواب دیا کہ میرے ذہن میں میچ فکسنگ نہیں تھی۔ اس موقع پر ایک قانونی پہلو کھڑا ہوا جس پر جج سوینی نے جیوری کو مقررہ وقت سے 2گھنٹے قبل ہی گھر بھیج دیا، اب اگلے روز سماعت میں فٹچ ہالینڈ بدستور کٹہرے میںہوںگے۔
Load Next Story